چوہدری فضل اور میں: امید کا سفر


فجر کی نماز اور قاری صاحب کے مختصر مگر مفید درس قرآن کے بعد کچھ دیر کی سیر کے بعد ہمارے جیسے تھک کر آرام کی جگہ تلاش کرنے والوں کے لیے رکھے گئے ایک بنچ پر بیٹھا میں کوئل کی کوں کوں، کووں کی کاں کاں، چڑیوں کی چڑ چڑ اور اپنے ناشتے کی تلاش میں دوسرے پرندوں کی آوازوں اور انہیں پھدکتے، ادھر ادھر آتے جاتے دیکھ کر اندر ہی اندر خوشی محسوس کر رہا تھا۔ کچھ اور سر پھرے جو اپنی پھیلتی ہوئی توندوں، بڑھتی شوگر کے علاج کے لئے اپنی بیگمات کے دباؤ اور ان کے ہی کہنے پر ڈاکٹر کے مشورے پر صبح کی سیر کے ساتھ ساتھ نگران حکومت کے قیام، مہنگائی پر بات چیت اور ناتمام سیاسی عدم استحکام پر بات کر رہے تھے۔

عین اس لمحے محلے کے لمبے تڑنگے چوہدری فضل کا گزر وہاں سے ہوا۔ مجھے دیکھ کر سلام کر کے میرے ساتھ بنچ پر بیٹھ گئے۔ کہنے لگے تم بھی خوشی کے ہارمون سیروٹونن کی تلاش میں سورج کی پہلی کرنوں میں بیٹھے ہو، میں نے بھی وہی پڑھا ہے جو تم نے پڑھا یعنی سورج طلوع ہونے سے لے کر ساڑھے نو بجے تک سورج کی کرنوں میں سیروٹونن ہارمون ملتا ہے۔ عرصے کے بعد میں نے ان کی بات پر قہقہہ لگایا کہ جیسے کوئی چوری پکڑی جاتی ہے ورنہ تو اب کم ہی ایسا موقع ملتا ہے کہ کھل کر ہنسا جائے۔ میں نے سورج کی طرف سے آنے والی کرنوں میں سے سیروٹونن جسم میں اترتا ہوا محسوس کیا اور شعوری طور پر خوشی کا اظہار بھی کیا۔ اچانک چوہدری صاحب نے ایک سوال کیا کہ تمہاری نظر میں سب سے بڑا خوف کیا ہے؟
میں نے کہا ان ہونی کا خوف،
یہ نہ ہو جائے، ، وہ نہ ہو جائے۔ اگر ایسا ہو گیا تو؟
کہنے لگے اس میں رزق کے ختم یا چھن جانے کا خوف بھی شامل کرلو اور پھر اس سے بھی بڑا خوف نوکری جانے کا خوف ہے۔ زندگی میں موت سے پہلے اس سے بڑا خوف کوئی اور نہیں کہ موت کو بھگتنے والا کبھی واپس نہیں آیا کہ وہ بتا سکے کہ یہ کیا چیز ہے۔ بس رزق کا خوف ہمیں مار دیتا ہے۔ ہماری صلاحیتوں کو کھا جاتا ہے۔ ہمیں گیدڑ بنا دیتا ہے۔ جب کہ اللہ کا وعدہ کہ ہمیں ہمارے حصے کا رزق ضرور دے گا اور ہمارا حال یہ ہے کہ ہم اللہ پر ہی اعتماد نہیں کرتے۔ کہنے لگے کہ زندگی بھر کا نچوڑ یہ ہے کہ اپنا کام صحیح سمت میں کرنے کی بھر پور کوشش کرو، صبر کرو اور نتیجہ اللہ پر چھوڑ دو۔ اللہ کو یہ کائنات چلانے کا کھربوں سال کا تجربہ ہے، وہ بہترین جاننے والا ہے اور ہمیں بہترین دینے والا ہے۔

کہنے لگے، یہ جو سامنے پرندے اپنی خوراک تلاش کر کے کھا رہے ہیں ان کی کوئی جاب نہیں، کوئی بزنس نہیں، پھر بھی کس قدر خوش ہیں، خوش نہیں بھی ہیں تو انسانوں کی طرح اداس نہیں، کم از اس وقت تو بالکل نہیں۔ یہ سب اس لئے ہے کہ انہیں رزق چھن جانے کو خوف نہیں، انہیں نوکری یا کاروبار ختم ہونے کا خوف نہیں۔ سوچو ذرا کہ

ہم انسان تو عقل و شعور والے ہیں، ہمیں تو اللہ نے ہر طرح سے منفرد پیدا کیا ہے۔ پھر بھی ہم خوف زدہ ہوتے ہیں کہ ہائے یہ کیا ہو گیا۔

خدارا خوف کے بت توڑ دو، بس نماز پڑھتے ہوئے صراط مستقیم کی گہرائی اور وسعت کو سمجھو، زندگی سورج کی ان کرنوں کی مانند خوب صورت ہو جائے گی جو لینے کے لئے تم اس بنچ پر بیٹھے ہو۔ وہ اٹھے اور لمبے لمبے قدموں سے میری نظروں سے اوجھل ہوتے چلے گئے۔

میں نے ابھرتے ہوئے سورج کو دیکھا، ہلکی ٹھنڈی ہوا میں، سورج کی پھیلتی کرنوں کو ایک بار پھر اپنے اندر اترتا محسوس کیا، سیروٹونن کو اپنے اندر جذب کرتا، بنچ سے اٹھا، شبنمی گھاس کی تہ سے اپنا ہاتھ تر کر کے اپنے چہرے کو تروتازہ کیا اور اپنے آپ سے وعدہ کیا کہ سب سے بڑے خوف سے نجات کی کوشش تو کرو۔

Facebook Comments HS