میگنا کارٹا، حبیث کارپس ایکٹ اور سول جیوری


ہندوستان ایک سو نوے سال (بہ مطابق 1757 تا 1947 ) برطانوی نو آبادی رہا، پاکستان کی آئینی تاریخ بھی مخدوش رہی، قیام پاکستان کے تقریبا پچیس برس میں دو تاریخی واقعات اس ملک کو نصیب ہوئے اول آدھا ملک گنوایا دوم آئین۔ ( ترامیم و اضافے اپنی جگہ ) لیکن آئین پاکستان اور قوانین پاکستان کا ماخذ و منبع برطانوی نو آبادیاتی قوانین ہیں۔ اس میں خوب و معیوب دونوں ہیں۔ خوب کی طرف آتے ہیں۔ وہ ملکی برطانوی قوانین جو سیاسی و شخصی آزادی کے لیے طویل جدوجہد کا نتیجہ ہیں۔ انہیں ہمیں جاننا اور لاگو کرنا ہو گا اگر ہم اخلاص سے پاکستان میں جمہوری نظام، قدریں اور رویے چاہتے ہیں۔

عدالتی نظام جمہوری معاشرے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے۔ قوانین بننا ایک قدم ہے اور اس پر درست طریقے سے عمل درآمد کٹھن ؛یہ پاکستانی معاشرے کی کٹھنائیاں نہیں ہیں لیکن انسانی معاشرے ان کٹھنائیوں سے صدیوں پہلے گزر چکے ہیں، تو کیا وجہ ہے کہ ہم سمت کھوتے جا رہے ہیں؟ زمیں پر آخری دروازہ عدالت کا ہے ؛ہم ماضی سے گزرتے ہوئے حال میں آ کر اسی دروازے پر ٹھہریں گے۔ سفر کا آغاز کرتے ہیں میگنا کارٹا سے۔

”عظیم منشور آزادی“ المعروف میگنا کارٹا جس پر اس وقت کے شاہ برطانیہ جان نے 15 جون 1215 میں دستخط کیے بادشاہ کے مقتدرانہ اختیارات کی حدود اور فرد کی سیاسی آزادی کا قانون ہے۔ یہ پہلی دستاویز تھی جس میں یہ اصول تحریر کیا گیا تھا کہ بادشاہ اور اس کی حکومت قانون سے بالاتر نہیں ہے۔ اس نے بادشاہ کو اپنی طاقت کا استحصال کرنے سے روکنے اور اپنے آپ میں ایک طاقت کے طور پر قانون قائم کر کے شاہی اختیار کی حدود مقرر کیں۔

میگنا کارٹا نے جس اہم قانون کی بنیاد رکھی وہ تھا حبیث کارپس ایکٹ 1679۔ یہ ایک قانونی رٹ یا حکم ہے، جس میں مجاز اتھارٹی کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ کسی زیر حراست شخص کو عدالت یا جج کے سامنے پیش کرے۔ اس قانون کے تحت زیر حراست شخص عدالت میں حراست کی قانونی حیثیت کا جائزہ لینے کے لیے درخواست دائر کرتا ہے۔ اگر عدالت اس درخواست کی سماعت کے بعد اس نتیجے پر پہنچتی ہے کہ حراست کی کافی اور معقول بنیاد نہیں ہے تو وہ اس شخص کو رہا کرنے کا حکم جاری کر سکتی ہے۔ (بحوالہ کالم بیرسٹر حمید باشانی روزنامہ دنیا 21 جولائی 2023 )

پاکستان میں حبیث کارپس ایکٹ کا اطلاق و نظائر کی چند مثالیں :

1۔ کسی شخص کو بینک قرض کی رقم ادا کرنے پر مجبور کرنے کے لیے بیعانہ کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ہائی کورٹ نے ایسی صورت میں حبیث کارپس کی درخواست کو قبول کیا اور زیر حراست کو آزاد کر نے کا حکم جاری کر دیا۔

NLR 2001 CrLJ 308

2۔ حبیث کارپس کی درخواست ضمانت کی درخواست میں تبدیل ہو سکتی ہے۔
1993 پی سی آر ایل جے 2065

3۔ حراست میں لیے گئے شخص کے خلاف کوئی مقدمہ نہیں تھا اور نہ ہی اسے ایف آئی آر میں نامزد کیا گیا تھا، طبی معائنے کے بعد معلوم ہوا کہ حراست میں پولیس کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حراست میں لیا جانا غیر قانونی پایا گیا اور اس طرح کی غیر قانونی حراست اور تشدد کے ذمہ دار پولیس افسران کو بھاری جرمانے کیے گئے اور مذکورہ پولیس افسران کے خلاف فوجداری مقدمات درج کرنے کا حکم دیا گیا۔

2001 ایم ایل ڈی 1769

4۔ لوگوں کی حراست غیر قانونی ہوگی جب ان کا نام ایف آئی آر میں نہ ہو، انہیں پولیس نے حراست میں لیا اور انہیں کبھی مجسٹریٹ کے سامنے پیش نہیں کیا گیا اور پولیس کی طرف سے تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔

NLR 2001 CrLJ 344

سیاسی و شخصی آزادی کی ان دو مضبوط بنیادوں کے بعد جمہوری اقدار و تہذیب کے سفر میں تصور آتا ہے سول جیوری کے قیام کا ۔ ”ہمارا نوآبادیاتی طرز کا عدالتی نظام ہمیشہ ملک کو ناکام بناتا ہے۔ اس کا علاج ایک غیر جانبدار جیوری کا قیام ہے۔ جب امریکیوں نے اپنا آئین بنایا تو اس میں جیوری سسٹم کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ 10 سال کے اندر انہوں نے محسوس کر لیا کہ غیر جانبدار جیوری کے ذریعے مقدمے کی سماعت کے بغیر کوئی انصاف نہیں ہو سکتا کیونکہ پرتشدد معاشرے میں ایک جج ہمیشہ زبردست دباؤ میں رہتا ہے۔

اس مقصد کے لیے امریکی آئین میں ترمیم کر کے ہر شہری کو غیر جانبدار جیوری کے ذریعے ٹرائل کا حق دیا گیا۔ اب وقت آ گیا ہے کہ ہم جیوری کا نظام متعارف کرائیں۔ یہ بات قابل غور ہے کہ مجرم اور غیر مجرم کا فیصلہ جیوری دیتی ہے اور جج اسے مسترد نہیں کر سکتا۔ یہ صرف جیوری کا نظام ہے جو ٹرائل جج کو تحفظ فراہم کرتا ہے اور وہ فیصلہ سنانے کے بعد ملک سے فرار ہونے کی ضرورت محسوس نہیں کرے گا۔“ (بہ شکریہ ڈان)

پاکستان میں آزادی کے بعد سے عدالتی اور عوامی عدم اطمینان کی وجہ سے جیوری ٹرائلز کو مرحلہ وار ختم کر دیا گیا۔ ایک پاکستانی جج نے جیوری ٹرائلز کو ”شوقیہ انصاف“ کہا تھا۔

Facebook Comments HS