جالیاں

(یہ تحریر بے وقت، بے موت، نامعلوم پولیس اہلکار کی اندھی ریاستی گولی کا شکار بننے والے منظور بھائی اور ان کی صابر بہن کے نام) لالو کھیت کے گھر میں بیرونی دیوار پہ لگی جالیاں اور ان جالیوں سے جھانکتی ہماری آنکھوں نے کیا کچھ دیکھا! کھیل کھیل میں یونہی دیکھنے کے لیے دیکھا تو کیا دیکھا، ہنگام میں حالات جاننے کے لیے دیکھا تو کیا دیکھا؛ اگر کوئی جالیوں کی دوسری طرف سے ہماری آنکھوں میں جھانک سکتا

Read more

نزہت تائی

نہ فیصل کا قتل ہوتا، نہ بیٹے کے جنازے پر تائے میاں نزہت تائی پر غصہ ہوتے، نہ نزہت تائی سفید سپاٹ چہرے، خالی خشک آنکھیں لیے بھولے بھولے انداز میں انہیں تکتیں، نہ ان کا یہ چہرہ میرے حافظے کی البم پر چپکتا اور نہ میں نزہت تائی پر کچھ لکھتی۔ کاش! اے کاش کہ یہ سب کچھ نہ ہوا ہوتا اور اس کے لیے ضروری تھا کہ بہت کچھ ویسا نہ ہوتا جیسا کہ تھا۔ یہ موت کا

Read more

جامعہ اُردو اور گورنر سندھ

جامعہ اُردو کا جلسۂ تقسیم اسناد، اس کے ساتھ۔ ’سالانہ‘ ضرور لکھا جاتا ہے کیوں کہ جامعات میں اس کا انعقاد ہر سال کیا جاتا ہے لیکن جامعہ اُردو اس سے بوجوہ محروم رہی اس لیے لفظ ’سالانہ‘ بھی اس کے لیے مرحوم ہو گیا۔ 28 ِ جنوری 2025ء کو جب کہ اُردو کالج کو جامعہ کا درجہ ملے تقریباً23 برس ( 2002ء سے ) ہو گئے یہ پانچ واں جلسہ تقسیم اسناد تھا، مقام گورنر ہاؤس۔ اس میں 2013ء

Read more

اُف! یہ 235 گھس بیٹھیے

شاعر سے دست بستہ معذرت کے ساتھ کہ : وہ بات ( 235 گھس بیٹھیے ) کالم میں جس کا ذکر تھا وہ بات بہت ناگوار ( گزری ) ہے اس بات کی ناگواری بڑھ گئی جب ہم نے سنت ِ یوسفی پر عمل کرتے ہوئے ’گھس بیٹھیے‘ کے معنی آن لائن لغت ریختہ اور فرہنگِ آصفیہ میں پڑھے، املا بھی درست ہوا کہ لفظ بیٹھیے نہیں بلکہ بیٹھیے ہے۔ ریختہ کے مطابق یہ ہندی اسم ِ مونث ہے، معنی

Read more

ہر خبر سے باخبری یا نِری بے خبری

مائی نیم از کرسچن، یو آر واچنگ کینگرو انگلش؛ یہ انگلش سکھانے کا یوٹیوب چینل ہے جس میں سر کرسچن پڑھاتے ہیں۔ ان کے پڑھانے کا غیر روایتی انداز، باغیانہ بھی کیوں کہ انگریزی زبان سیکھنے سکھانے کے روایتی انداز کے چینلوں کے اساتذہ نے انہیں تنقید کا نشانہ بنایا کہ ہمارے قدیم طریقہ تدریس کو غلط کیوں کہتے ہو، حالانکہ سر کرسچن جو بھی ثابت کرتے ہیں وہ علم لسانیات کے تحقیقی مضامین کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ یہ

Read more

بنام صدرِ مملکت بہ حیثیت چانسلر وفاقی جامعہ اُردو

پاکستان پیپلز پارٹی نے تاریخ سے اتنا سبق تو سیکھا کہ ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے نام سے جامعات قائم کر دیں۔ یہ وہ سبق ہے جو مغل بادشاہ شاہ جہاں کے اتالیق نے بھی نہیں پڑھا تھا کہ اگر پڑھا ہوتا اور مغل شہزادے کو پڑھایا ہوتا تو تاج محل کی جگہ ممتاز بیگم کے نام پر کوئی تعلیمی ادارہ جگمگ جگمگ کر رہا ہوتا۔ تاج محل جس کو دیکھنے والوں کے منہ سے بیک وقت

Read more

جنسی استحصال

یک طرفہ محبت اور یک طرفہ نفرت کی طرح جنسی استحصال بھی یک طرفہ و دوطرفہ ہوتا ہے فرق اس میں یہ ہے کہ یک طرفہ میں استحصال ایک فریق کا ہوتا ہے جو عام طور پر اور زیادہ تر معاملات و حالات میں عورت ہوتی ہے۔ دوطرفہ میں استحصال فریقین میں سے کسی کا نہیں ہوتا، الٹا وہ مزے کرتے کراتے ہیں اور دور رس (معاشی و اختیاراتی) فائدے حاصل کرتے ہیں۔ تو پھر سوال یہ ہے کہ یہاں

Read more

گروہی حرکیات

شعبہ ابلاغ ِ عامہ کے اساتذانِ کبراء خبر کی اہمیت، پروپیگنڈا تکنیک اور شخصیت سازی کے فن کا استعمال کمالِ مہارت سے کرتے۔ ایک دن خان صاحب نے مجھ سے پوچھا کہ آپ بلوچستان یونیورسٹی شعبہ ابلاغ ِ عامہ کی بیگم طاہر کو جانتی ہیں؟ ہم نے کہا نہیں، کہنے لگے کمال ہے آپ انہیں نہیں جانتیں جیسے بیگم طاہر کوئی جانی مانی معروف شخصیت ہوں۔ یہ کراچی سے تعلق رکھتی تھیں اور ہیں، جامعہ کراچی کی فارغ التحصیل کوئٹہ

Read more

حاضری رجسٹر کی گت

جو دیکھتا ہوں وہی بولنے کا عادی ہوں میں اپنے شہر کا سب سے بڑا فسادی ہوں یہ جان ایلیا کا مقام اور جرات ہے، میری نہیں، یہ میرے اطراف موجود افراد کی بصیرت کا فقدان ہے کہ انہوں نے مجھے خاموش تماشائی بننے کی راہ نہیں دی۔ وہ اپنا کام کرتے رہتے مجھے میری راہ پر چلنے دیتے، لیکن نہیں۔ ہم نے دیکھا کہ لوگ تین تین مہینے غیر حاضر رہتے تھے، امتحان سے پہلے آ کر حاضری لگاتے،

Read more

سرکار کے خدام خود سرکار

وفاقی اُردو کالج پرویز مشرف کے دور میں سال 2002ء میں یونیورسٹی کے درجے پر فائز ہوا۔ نوکری کی ابتدا میں کالج میں سالانہ نظام کے تحت ہونے والے داخلوں کے طالب علم بھی تھے اور نصاب بھی وہی تھا۔ مبادیاتِ اُردو کے نام سے کالج کا نصاب بہت وقیع تھا۔ سالانہ نصاب کے مقابلے میں چھے ماہ کا میقاتی نظام نصاب کے معیار و مقدار دونوں کو متاثر کرتا ہے، کیسے؟ فی الحال یہ موضوع نہیں اور ایسا بھی

Read more

خراب امپائرنگ اور سلیکشن بورڈ

ہر کھیل کے اپنے اصول ہوتے ہیں خواہ اکھاڑے میں کھیلا جانے والا کبڈی کبڈی ہو یا گلی کوچوں میں لڑکوں بالوں کے درمیان گلی ڈنڈا ؛ مار دھاڑ سے بھرپور کھیلوں کے بھی قواعد ہیں جیسے فری ریسلنگ۔ اصول اور قواعد کیوں؟ سلیکشن بورڈ 2013 کے تناظر میں تو یہی کہا جاسکتا ہے کہ اصول اور قواعد فیصلوں کو متنازعہ ہونے سے بچانے کے لیے بنائے جاتے ہیں۔ ہر شعبے کے فیصلوں کی درستگی اور شفافیت کو یقینی بنانے

Read more

انجمن اساتذہ کے انتخابات

نوکری کی ابھی ابتدا تھی، بہ حیثیت جز وقتی استاد اور کسی بھی قسم کی دفتری کارروائی سے محرومی کے ساتھ، اپریل 2005ء سے نومبر 2005ء تک بغیر تنخواہ کے گزارا، اس دوران جو خیال ذہن میں گھر کر گیا وہ یہ کہ یہاں جو جگہ مل گئی ہے وہ چھوڑنی نہیں ہے، پھر نومبر2005ء کے آخر میں دوبارہ سلیکشن بورڈ ہوا اور جنوری 2006ء میں پہلی تنخواہ ملی۔ لیکن اپریل کے بعد اور نومبر سے قبل ایک بار انجمن

Read more

غیر پیشہ ورانہ سیاسی روّیے بمقابلہ پیشہ ورانہ غیر سیاسی روّیے

پیشہ ورانہ روّیے غیر سیاسی ہوں گے اور سیاسی روّیے غیر پیشہ ورانہ ہوں گے، بیک وقت دو کشتیوں میں سواری ممکن نہیں۔ پیشہ ورانہ روّیوں کو سمجھنا مشکل نہیں اور سیاسی روّیوں کو سمجھنا آسان نہیں۔ مجھے بہت وقت لگا۔ سمجھ میں یہ آیا کہ سیاسی نظریہ رکھنا ایک بات ہے اور اس نظریے کی بنیاد پر سیاست کرنا الگ بات ہے۔ یہ بھی سمجھ میں آیا کہ جب سیاسی مفادات وابستہ ہوتے ہیں تو نظریہ کہیں پیچھے رہ

Read more

اُفتادِ طبع

اسے اُفتادِ طبع کا نام ہی دیا جاسکتا ہے کہ سماجی نفسیات پر انفرادی نفسیات غالب رہی۔ پہلی باقاعدہ نوکری، ایک نیا سماجی ادارہ اور گروہ جس کا مجھے حصہ بننا تھا۔ میرے لیے اگر کچھ نیا ہی پریشان کُن ہوتا تو ۔ نہیں ایسا تو نہیں۔ جو سفر جامعہ کراچی سے ہوتا ہوا گزرا وہ میرے لیے نئے نظریات و تصورات کا سفر ہی تھا۔ تو اس نئے سماجی ادارے سے منسلک ہونا پریشان کن کیوں ہوا؟ کیوں رہا؟

Read more

ڈاکٹر ضابطہ شنواری، جامعہ اردو کے باضابطہ شیخ الجامعہ

االلہ اللہ کر کے وفاقی جامعہ اردو کے لیے پنج سالہ شیخ الجامعہ کا تقرر عمل میں آیا۔ ڈاکٹر ضابطہ شنواری اسم بامسمٰی یعنی نام کی طرح شخصیت بھی منفرد۔ عبدالحق کیمپس تشریف لائے اور سیمینار ہال میں اساتذہ سے غیر رسمی خطاب کیا۔ اساتذہ کے سوالوں کے جواب دیے، تجاویز اور اقدامات کو سراہا اور مسائل کے حل کی یقین دہانی کرانے کے ساتھ ساتھ وہ وعدے بھی نہیں کیے جنہیں فی الحال ترجیہی بنیادوں پر توجہ دینا ممکن

Read more

خبر، افسانہ اور شاعری

خبر غیر معمولی واقعات کا بیانیہ ہے۔ افسانہ بھی غیر معمولی واقعات کا بیانیہ ہے۔ فرق حقیقی اور غیر حقیقی کاہے لیکن اس فرق کی دھجیاں افسانے کی اس تعریف نے اڑا دیں کہ افسانے کے واقعات و کردار غیر حقیقی ہوتے ہوئے بھی حقیقی اور حقیقی ہوتے ہوئے بھی غیر حقیقی ہوتے ہیں۔ شعر کی جس تعریف نے حال ہی میں دماغ کو چھوا وہ یہ کہ شاعری ضابطۂ حیات ہے یہ جینے کی اصول سکھاتی ہے۔ اس تعریف

Read more

تقریب رونمائی سلیکٹر سے سلیکٹڈ تک

سنگھاسن پر کون؟ عام انتخابات سے گیارہ روز قبل پاکستانی سیاسی تاریخ و حالات حاضرہ پر عالمی شہرت کے حامل تجزیہ نگار مظہر عباس کے سیاسی کالموں کے مجموعے کی اشاعت، کراچی آرٹس کونسل میں اس کی تقریب رونمائی، پاکستان کی نمائندہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں، سیاسی علمیات سے وابستہ اور عملی صحافت سے پیوستہ مقررین کی شرکت۔ صاحب کتاب کی کرامت کہ سیاست و صحافت کے ساتھ علم و ادب بھی ایک چھت تلے تھے۔ اس تقریب میں کسی

Read more

سولہویں عالمی اردو کانفرنس 2023 : پشتو زبان و ادب کے مشاہیر

گل فام کاکڑ ایڈووکیٹ نے اجلاس کا آغاز کیا اور حاضرین کی سماعتیں گلابی لہجوں، دل قومی محبتوں اور اذہان فکری گفتگو سے فیض یاب ہونے لگے۔ پروفیسر نور الامین کی کتاب ”پختون دانش“ کی رونمائی ہوئی۔ ڈاکٹر اباسین یوسف زئی کے تعارفی کلمات : ”دو سو صفحات پر مبنی اس کتاب کا پہلا حصہ پختون کلچر کی پانچ ہزار سالہ تاریخ اور دوسرا اقوال اور حکایات پر مشتمل ہے۔ پشتو کے عظیم شاعر غنی خان پر ڈاکٹر عرفان اللہ

Read more

سولہویں عالمی اردو کانفرنس 2023ء : مقامی زبان و ادب کے مشاہیر (حصہ اول)

سرائیکی زبان و ادب کے اجلاس کی روداد اس اجلاس کی روداد لکھنے میں زیادہ وقت لگنے کی وجہ ہمارے خیال کی کروٹ ہے کہ اگر کشید فکر نہیں تو بھی اردو دان طبقے کو سرائیکی مشاہیر سے متعارف کرانے کے لیے ان کا جو تعارف پیش کیا جا رہا ہے وہی قلم بند کروں کہ شاید کوئی ان کے تفکر کا جویا پیدا ہو کہ ابھی چند دن قبل کہیں پڑھا تھا کہ باہر کی کسی جامعہ میں ایک

Read more

سولہویں عالمی اردو کانفرنس 2023ء : مقامی زبان و ادب کے مشاہیر (حصہ اول)

پنجابی اور سندھی زبان کے اجلاس کی کارروائی اس کانفرنس میں اتنے ہمہ جہتی موضوعات پر اجلاس ہوئے ہیں کہ کسی ایک تحریر میں ان کو سمونا ان موضوعات کے ساتھ نا انصافی ہوگی۔ اس نا انصافی کا گلہ کہیں کہیں مقررین نے بھی کیا۔ اس کانفرنس پر پہلی تحریر کا موضوع وہ اجلاس ہیں جو مقامی زبان و ادب سے اردو اور اردو دان طبقے کے پہلے سے قائم روابط کو مضبوط، مستحکم اور مستقل کرنے کی محبانہ حکمت

Read more

زندگی تماشا، بقول زردشت

”زندگی تماشا“ ’کھوسٹ فلمز ”کی پیش کش، خدائی فوج داروں کی جانب سے لے دے، حسن نثار صاحب کی ان خدائی فوج داروں کی کھلی مذمت، یہ سب ایک طرف لیکن یہ تحریر ایک دوسرے زاویے سے ہے۔ فلم نے ذہن میں ایک سوال اٹھایا اور جواب سرہانے دھری فریڈرش نیتشے کی کتاب (مترجم ڈاکٹر ابوالحسن منصور، پروفیسر مسلم یونیورسٹی علی گڑھ، انجمن ترقی اردو (ہند ) دہلی 1940صفحات 58 تا 60) میں ملا۔ ہاتھ میں موبائل لے کر یوٹیوب

Read more

سماجی علوم کا بھوت میرا محبوب (تیسری قسط)

تیسری قسط لکھنے میں تاخیر ہوئی۔ صاحب سلامت شاعر پر کہ اس زبان زد خاص و عام مصرعے کی سچائی دل سے تسلیم ہوئی ”ہوئی تاخیر تو کچھ باعث تاخیر بھی تھا“ ۔ دوسری قسط میں کتاب ”نظریات ابلاغ“ مرتب پروفیسر متین الرحمن مرتضیٰ باب چہارم تک کی تلخیص پیش کی گئی تھی۔ اس کے بعد کے چار ابواب ”محدود اثرات کا نظریہ“ ، ”رویے کی تبدیلی کے نظریات“ ، رویوں میں تبدیلی کے نظریات ”اور“ محدود اثرات کے نمونے

Read more

سوشل سائنسز کا بھوت ہمارا محبوب (دوسری قسط)

کچھ ان مضامین کا تذکرہ ہو جائے تو شعبہ ابلاغ عامہ کراچی یونیورسٹی میں پڑھے پھر کچھ ان مضامین کاجو شعبہ ابلاغ عامہ اردو یونیورسٹی میں پڑھائے۔ کراچی یونیورسٹی میں ایک مضمون ”سماجی علوم اور ذرائع ابلاغ“ تھا جو ڈاکٹر نثار احمد زبیری نے پڑھایا جن کا پہلا ایم اے علم نفسیات میں ہے۔ امتحان میں سر زبیری نے یہ سوال دیا کہ ’ایک صحافی کے لیے سماجی علوم سے واقفیت کیوں ضروری ہے؟‘ یہ سوال اس منطقی ربط کی

Read more

سوشل سائنسز کا (بھوت) ، ہمارا محبوب (پہلی قسط)

میرے لیے سماجی علوم (سوشل سائنسز) بھوت بن گیا ہے۔ میں تو با خوشی راضی با رضا اس بھوت سے بغل گیر ہوئی لیکن دوسروں سے جیسے یہ چمٹ گیا ہے۔ آئیے چلتے ہیں اس داستان کی طرف جس میں میرے لیے اس بھوت کے اسرار کھلتے اور دوسروں کے لیے اس کے بھیانک سائے پھیلتے ہیں۔ صحافی بننے کا خبط کسی ڈرامے کے کردار نے میرے اندر ڈال دیا جس میں کسی سوچ سمجھ کا دخل نہیں تھا اور

Read more

کراچی سکول کا سکینڈل اور صحافتی اخلاقیات

روزنامہ ایکسپریس میں کالم بعنوان ”جنسی اسکینڈل اور ضابطہ اخلاق۔“ مورخہ 14 ستمبر 2023ء بروز جمعرات شائع ہوا۔ کالم نگار توصیف صاحب کے ساتھ شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ اردو میں ساتھ رہا اس لیے ان کے خیالات و نظریات سے واقفیت ہے جس کی بنا پر ان کی تحریر کو سمجھنے میں مدد مل جاتی ہے۔ ایسے خیالات و نظریات جن کا اس معاشرے میں برملا اظہار مشکل ہے انہیں جب ضبط تحریر میں لایا جاتا ہے تو وضاحت بیان

Read more

’بہانہ‘ نہیں صبر کا ’پیمانہ‘

کبھی خیال گزرا تھا کہ تجزیوں کے بھی تجزیے کیے جا سکتے ہیں اور کیے جانے چاہئیں۔ آج اس خیال ِنا تمام کو مہمیز دی مشہور صحافی و اینکر عاصمہ شیرازی صاحبہ کے کالم بعنوان۔ ”بجلی تو بس بہانہ ہے“ جو بی بی سی اردو کی ویب سائیٹ پر 29 اگست 2023 ء کو لگا۔ یہ بھی محض اتفاق ہے کہ میں نے اسی دن اپنی سہیلی ارم عاصم جس کے لیے ادب پڑھنا پڑھانا آکسیجن ہے، تذکرہ کیا تو

Read more

میگنا کارٹا، حبیث کارپس ایکٹ اور سول جیوری

ہندوستان ایک سو نوے سال (بہ مطابق 1757 تا 1947 ) برطانوی نو آبادی رہا، پاکستان کی آئینی تاریخ بھی مخدوش رہی، قیام پاکستان کے تقریبا پچیس برس میں دو تاریخی واقعات اس ملک کو نصیب ہوئے اول آدھا ملک گنوایا دوم آئین۔ ( ترامیم و اضافے اپنی جگہ ) لیکن آئین پاکستان اور قوانین پاکستان کا ماخذ و منبع برطانوی نو آبادیاتی قوانین ہیں۔ اس میں خوب و معیوب دونوں ہیں۔ خوب کی طرف آتے ہیں۔ وہ ملکی برطانوی

Read more

لسانی تکنیک ’بہ مقابلہ‘

لسانی تکنیک کے ضمن میں ’میں /ہم، وہ /دوسرے‘ پران کی انفرادی حیثیت میں بات کی جا چکی ہے۔ اجتماعی حیثیت میں ’ہم اور وہ‘ لسانی تکنیک کا استعمال مشترکہ معاملے /مسئلے پر سامنے آتا یا لایا جاتا ہے ۔ یہ اخبار کی پالیسی اور اس کے رجحان پر منحصر ہے۔ فریقین کے بیانات پر مبنی سرخیاں برابر برابر چھاپی جاتی ہیں۔ ’بالمقابل‘ سیاست دان اردو صحافت کی سرخیوں میں ’بہ مقابلہ‘ ہوتے ہیں۔ ایک بیانیے میں بیک وقت کئی

Read more

یہ صحافت نہیں، سنسنی خیزی ہے

پاکستان کی عدالتی تاریخ میں کتنے مقدمات ہیں جنہوں نے قومی، سیاسی اور سماجی دھارے کا رخ بدل دیا اور کس سمت میں؟ جواب ہے ہمارا قومی، سیاسی اور سماجی زمانۂ حال۔ ان مقدمات کے فیصلے عدالتی نظائر کی تاریخ مرتب کرتے ہیں اور عدالتی کاروائی کی تفصیلات، منصفین کے تبصرے، سوالات، نکات اور بالآخر فیصلہ؛ان کی گونج کبھی ختم نہیں ہوتی، ہمیشہ سنی جا سکتی ہے بلکہ پیچھا بھی کرتی ہے۔ زمانہ ء حال میں ایک اہم مقدمہ عدالت

Read more

میں میں میں… ہم ہم ہم

اس سے قبل کی تحریر لسانی آلہ تکنیک ’وہ یا دوسرے‘ Them پر مبنی تھی، آج کی ’میں یا ہم‘ I، We or Us پر مشتمل ہے۔ اس تکنیک کے مطابق فاعل یا متکلم اپنے آپ کو ، اپنے لوگوں کو ، اپنی پارٹی کو یا اپنے اقدامات کو راست اور درست بیان کرتا یا قرار دیتا ہے۔ انہوں نے خود کیا کیا کام کیے یا کرنے کا ارادہ یا دعوی یا اپنی کامیابیوں کا بیان نیز ان کی حکومت

Read more

بارے ’ہجو نگاری‘ کا کچھ بیاں ہو جائے

Critical Discourse Analysis  (بیانیے کا تنقیدی تجزیہ ) کے آلات تکنیک میں ایک  We and Them or Us and Othersہے یعنی ’ہم اور وہ یا ہم اور دوسرے‘ ۔ اس تکنیک کے مطابق افراد ( بزعم خود) اپنے آپ کو نیک، اچھا، صحیح اور اسی ترتیب سے دوسرے کو (بہ زبان خود ) بد، برا اور غلط کہہ رہے ہوتے ہیں۔ سیاسی بیانیے یا اخبارات میں چھپنے والے سیاسی بیانات کو اس آلہ تکنیک کے آئینے سے دیکھتے ہیں۔ اس

Read more

بیانیے کا تنقیدی تجزیہ

وہ موضوع جو ’تحقیقی مقالے‘ کا بنتا ہے، میں اس پر کالم کیوں لکھ رہی ہوں؟ یہ سوال میرا خود سے تھا ؛ اندر سے ہی جواب آیا ’گفتگو پر مجھے عوام سے ہے‘ ۔ کالم نے مقالے کی کتنی کلفتوں سے بچا لیا یعنی کون سا اخبار اور کیوں؟ کن تاریخوں کا اخبار اور کیسے؟ وغیرہ۔ نظریہ نہ ایک دن میں بنتا ہے اور نہ ایک شخص کے ہاتھوں ؛ اگر ترکی الاصل ’قورمہ‘ پکانے کی ترکیب پر بھی

Read more

سیاسیوں کے بیانیوں پر کون سے نظریے کا اطلاق ہوتا ہے؟

علم ِ نفسیات کا ’علم اور عمل میں عدم مطابقت‘ کا نظریہ بڑا دل چسپ نظریہ ہے بشرطیکہ اس کو دوسروں پر لاگو کیا جائے اور ایک بدصورت آئینہ ثابت ہوتا ہے اگر اس میں اپنا عکس نظر آئے۔ یہ دنیا ہی نہیں اپنا آپ بھی سمجھ سے بالا ہے اگر نظریاتی تناظر نہ ہو۔ جہاں سے ایک نظریے کی کارفرمائی ختم ہو جائے وہاں سے دوسرے نظریے کا آغاز ہوتا ہے۔ یہ میری سمجھ میں تب آیا جب میں

Read more