نائجر کی صورتحال


افریقہ کا ایک ملک ہے نائجر۔ یہ نائیجیریا کا ہمسایہ ملک ہے۔ ساحلی افریقی مملکت میں جمہوریت کی جد و جہد کی داستان بھی خاصی کربناک اور طویل ہے۔ 26 جولائی کو ایک شب خون کے ذریعے ملک کے مقبول عام صدر محمد بازوم کو بزور بازو اپنے صدارتی محل کی حفاظت پہ مامور عسکری دستے نے ہی گرفتار کر لیا اور معزول کر کے صدارتی محل میں ہی زیر حراست رکھ لیا ہے۔ ادھر عوام نے اس عمل پہ ملے جلے ردعمل کا اظہار کیا مگر مغربی افریقی ممالک کے بڑے طاقتور اتحاد عیکوواس ECOWAS نے اس شب خون کو یکسر مسترد کر دیا ہے اور فوجی جنتا سے اپیل کی کہ وہ اتوار مورخہ 6 اگست شب بارہ بجے تک اقتدار سے الگ ہوجائیں اور اگر ایسا نہ کیا گیا تو شدید ردعمل دیا جائے گا۔ لیکن جن جیالوں نے اقتدار پہ بزور شمشیر قبضہ کیا ہے کسی صورت کوئی ایسی بات ماننے سے یکسر انکار کر دیا ہے۔ اور اتوار کو اعلان کیا کہ وہ ملکی ہوائی حدود بند کر رہے ہیں اب اگر کسی نے ان کی جانب میلی آنکھ سے بھی دیکھا تو وہ آنکھ پھوڑ دیں گے۔ ساحلی افریقی ممالک کے اتحاد کے جرنیلوں کی ایک کانفرنس جمعہ کو منعقد کی گئی اور پھر زور دے کر یہ بات کہی گئی کہ نائجر کی حکمرانی کا حق صرف جمہوری صدر بازوم کا ہے لیکن جرنل محمد تومبا نے صاف انکار کر دیا کہ وہ کسی صورت کسی دھمکی کی پرواہ نہیں کریں گے اور اپنے ارادوں سے سرمو انحراف نہیں کریں گے۔ ادھرعبدل الفتع موسیٰ جو مغربی اتحادی فوجی گروپ کے ترجمان ہیں نے کہا کہ ہم ان جرنیلوں کو ایک موقع دے رہے ہیں کہ وہ پرامن طور پہ اقتدار واپس محمد بازوم کو سونپ دیں۔

آئیوری کوسٹ کے صدر السین اوتارہ نے اپنے یوم جمہوریہ کی تقریبات کو منانے کے سلسلے میں کی گئی ایک تقریر میں واضح پیغام دیا کہ وہ اس بغاوت کی شدید مخالفت کرتے ہیں اور اپیل کی کہ محمد بازوم کو فوری بحال کیا جائے۔ ادھر برکینا فاسو اور مالی نے اس بغاوت کی شدید مذمت کی گئی ہے جبکہ وہاں بھی اس وقت فوجی جنتا کا راج ہے نائجر کا انسداد دہشتگردی میں 2012 سے بڑا اہم کردار رہا ہے اس سلسلے میں 1500 امریکی فوجی اور 1000 فرانسیسی فوجی دستے تعینات ہیں۔ جو نائجر کی افواج کے شانہ بشانہ کارزار عمل میں مصروف عمل ہیں اب اگر اس عمل میں کسی طور خلل پڑا تو یہ دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی ناکامی ہوگی۔ اس وقت ان دہشت گردوں کو خلا ملنے کا موقع مل جائے گا اور وہ پھر سے تروتازہ ہو کر ایک مرتبہ پھر منظم ہو سکتے ہیں۔ بدامنی کا سب سے بڑا فائدہ ہی ایسے ناسور ہمیشہ اٹھاتے ہیں۔
ایک مضبوط حکومت ہی ایسے عناصر کی سرکوبی کر سکتی ہے۔ فرانس نے اس انقلاب کے بعد اپنے فوجی واپس بلانا شروع کر دیے ہیں اور اٹلی اور امریکہ نے بھی کچھ فوجی دستے واپس بلا لیے ہیں۔ نائجر چونکہ دنیا کا غریب ترین ملک ہے۔ اس کا بڑا سہارا غیر ملکی امداد کی صورت میں ہے وہاں اس وقت فضا فرانس کے خلاف بنی ہوئی ہے جبکہ روسی عمل دخل خاصا بڑھ گیا ہے اگرچہ یہ سب کچھ ویگنائر گروپ کے ذریعہ ہی ہو رہا ہے۔ روسیوں نے بھی کسی غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔ نائجیریا نے اپنے ہمسایہ غریب ملک نائجر کی بجلی منقطع کردی ہے۔ دیگر ہمسایوں نے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں خوراک کی عدم دستیابی کی بنا پہ ادھر ایک انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ اب یہ سب کچھ کب اور کیسے درست ہو سکتا ہے آنے والا وقت ہی واضح کرے گا مگر حالات کی سنگینی کی وجہ سے بیچارے عوام کچلے جائیں گے۔ وہ بنیادی اشیائے خور و نوش اور بجلی سے محروم ہیں۔ اب ان کی آزمائش کب تک طویل ہوگی۔ اس کا انحصار فوجی جنتا کے لائحہ عمل سے معلوم ہو گا۔ عموماً تو یہ شب ظلمت خاصی کربناک اور جانگسل ہوتی ہے اور طوالت اختیار کرتی جاتی ہے۔ افریقی مسائل حل ہوتے نظر نہیں آتے۔

 

Facebook Comments HS