نائجر کی صورتحال

آئیوری کوسٹ کے صدر السین اوتارہ نے اپنے یوم جمہوریہ کی تقریبات کو منانے کے سلسلے میں کی گئی ایک تقریر میں واضح پیغام دیا کہ وہ اس بغاوت کی شدید مخالفت کرتے ہیں اور اپیل کی کہ محمد بازوم کو فوری بحال کیا جائے۔ ادھر برکینا فاسو اور مالی نے اس بغاوت کی شدید مذمت کی گئی ہے جبکہ وہاں بھی اس وقت فوجی جنتا کا راج ہے نائجر کا انسداد دہشتگردی میں 2012 سے بڑا اہم کردار رہا ہے اس سلسلے میں 1500 امریکی فوجی اور 1000 فرانسیسی فوجی دستے تعینات ہیں۔ جو نائجر کی افواج کے شانہ بشانہ کارزار عمل میں مصروف عمل ہیں اب اگر اس عمل میں کسی طور خلل پڑا تو یہ دہشت گردی کے خلاف ایک بڑی ناکامی ہوگی۔ اس وقت ان دہشت گردوں کو خلا ملنے کا موقع مل جائے گا اور وہ پھر سے تروتازہ ہو کر ایک مرتبہ پھر منظم ہو سکتے ہیں۔ بدامنی کا سب سے بڑا فائدہ ہی ایسے ناسور ہمیشہ اٹھاتے ہیں۔
ایک مضبوط حکومت ہی ایسے عناصر کی سرکوبی کر سکتی ہے۔ فرانس نے اس انقلاب کے بعد اپنے فوجی واپس بلانا شروع کر دیے ہیں اور اٹلی اور امریکہ نے بھی کچھ فوجی دستے واپس بلا لیے ہیں۔ نائجر چونکہ دنیا کا غریب ترین ملک ہے۔ اس کا بڑا سہارا غیر ملکی امداد کی صورت میں ہے وہاں اس وقت فضا فرانس کے خلاف بنی ہوئی ہے جبکہ روسی عمل دخل خاصا بڑھ گیا ہے اگرچہ یہ سب کچھ ویگنائر گروپ کے ذریعہ ہی ہو رہا ہے۔ روسیوں نے بھی کسی غیر ملکی مداخلت کی مخالفت کی ہے۔ نائجیریا نے اپنے ہمسایہ غریب ملک نائجر کی بجلی منقطع کردی ہے۔ دیگر ہمسایوں نے اپنی سرحدیں بند کر دی ہیں خوراک کی عدم دستیابی کی بنا پہ ادھر ایک انسانی المیہ جنم لے سکتا ہے۔ اب یہ سب کچھ کب اور کیسے درست ہو سکتا ہے آنے والا وقت ہی واضح کرے گا مگر حالات کی سنگینی کی وجہ سے بیچارے عوام کچلے جائیں گے۔ وہ بنیادی اشیائے خور و نوش اور بجلی سے محروم ہیں۔ اب ان کی آزمائش کب تک طویل ہوگی۔ اس کا انحصار فوجی جنتا کے لائحہ عمل سے معلوم ہو گا۔ عموماً تو یہ شب ظلمت خاصی کربناک اور جانگسل ہوتی ہے اور طوالت اختیار کرتی جاتی ہے۔ افریقی مسائل حل ہوتے نظر نہیں آتے۔

