رضوانہ ، ثومیہ اور ایک فرانسیسی عورت!
رضوانہ کے حوالے سے کی گئی ہر بات کو جھوٹ سمجھا جا سکتا تھا اگر اس کی تصاویر منظر عام پر نہ آتیں۔ اگر اس کی گھائل آنکھیں، زخمی ہونٹ، مسخ چہرہ اور مجروح جسم چیخ چیخ کر سچ نہ بتا رہا ہوتا۔
ثومیہ کی ہر بات کو سچ مانا جا سکتا تھا اگر وہ اس ماحول اور معاشرے کی پر وردہ نہ ہوتی جہاں اپنی غلطی تسلیم کرنا، بزدلی، اپنی لغزش، مان لینا، ہار اور کسی بھول چوک کا اعتراف، کم زوری سمجھا جاتا ہو۔ جہاں ہر روز، ہر محفل میں ہر فرد کی طرف سے، طبقات ( اور درجات) سے بالا ہونے کا بلند بانگ دعوی کیا جاتا ہو اور ساری زندگی شد و مد سے طبقات کے آداب (اور فرق)، نبھاتے، گزرتی ہو۔
وہ ثومیہ، جس نے ساری زندگی اپنے گردونواح میں صرف جھوٹ اور جھوٹ ہی دیکھا (اور سنا ہو) اور اپنے بزرگوں کو، اہل خانہ کو، دوستوں کو اسی سانچے میں ڈھلا دیکھا ہو، اس سے سچ ( یا صاف گوئی) کی توقع سراسر زیادتی ہے۔
اس وقت، رضوانہ اور ثومیہ کے درمیان، جانے کیوں ایک فرانسیسی عورت کا وجود در آیا ہے جس کا اس تنازعے سے بہ ظاہر کوئی تعلق نہیں، مگر وہ اس تنازعے کو سمجھنے (اور سمجھانے) کے لئے، کچھ کہنے کے لئے بضد ہے۔
فرانسیسی عورت سے ملنے سے پہلے آپ کا تعارف ایک صاف گو شخصیت سے، جن کا تعلق فیصل آباد سے رہا مگر اب وہ برسوں سے پیرس میں مقیم تھے۔ وہ، ان دنوں فرانس سے آئے ہوئے تھے اور ان کا لکھنے لکھانے کے طرف رجحان تھا۔ ان کی یہاں آمد کی غرض و غایت بھی اپنی اس دلچسپی کے حوالے سے ہی تھی۔ گفتگو، لباس اور تمام تر طرزعمل سے ان کی سادگی نمایاں تھی، شاید اسی لئے انھیں ایک اجنبی ماحول میں بھی، ہر معاملے میں تصنع اور بناوٹ کی بہ جائے سچ بولنے اور سچ بتانے میں کوئی عار نظر نہ آتا تھا۔ ان کی شخصیت کا یہ پہلو اس مختصر ملاقات میں ان کے اظہار خیال کے ساتھ مسلسل نکھرتا جا رہا تھا۔
تحریری اور ادبی موضوعات سے ہوتے ہوئے جب بات چیت غیر رسمی مرحلے میں داخل ہوئی تو سمندر پار سے آنے والے کے، سمندر پار کے مشاہدات، خود بہ خود سامنے آنے لگے۔ ان ہی میں وہ فرانسیسی عورت بھی موجود تھی جس کا احوال رضوانہ اور ثومیہ کے سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ان کے رشتہ داروں کی گاڑی ہائی وے پر ایک دوسری کار سے ٹکرا گئی۔ دونوں گاڑیوں کی رفتار ہائی وے کے مقررہ حدود میں رہتے ہوئے بھی بہت تیز تھی اس لئے حادثے کی وجہ سے دونوں گاڑیوں کو شدید نقصان پہنچا اور گاڑیوں میں موجود افراد بھی بری طرح زخمی ہوئے۔ تمام زخمیوں کو ہسپتال میں داخل کر دیا گیا۔ دوسری گاڑی میں ایک فرانسیسی جوڑا سوار تھا اور وہ دونوں ہی زخمی تھے۔ شوہر کو سارے جسم پر شدید چوٹیں آئی تھیں اور وہ ہی ڈرائیونگ سیٹ پر تھا۔ گہری چوٹوں کی وجہ سے اس کی طبیعت بھی سنبھل نہیں پا رہی تھی۔ بیوی کی صورت حال مقابلتاً بہت بہتر تھی۔
ادھر ہمارے مریضوں کی حالت خطرے سے باہر تھی اور ان کا علاج ہنگامی بنیاد پر جاری تھا۔ قاعدے کے مطابق ڈاکٹر اور پولیس کا عملہ متواتر ہمارے رابطے میں تھا۔
فرانسیسی مرد کی بگڑتی حالت کا جان کر ہمیں افسوس بھی تھا اور اس حوالے سے اندیشے بھی سر اٹھاتے تھے کہ نہیں معلوم اب پولیس کی کارروائی کون سا رخ اختیار کرتی ہے اور ہمارے رشتہ داروں کے ساتھ اس حادثے کے حوالے سے کیا رویہ اختیار کیا جاتا ہے۔ خوف اور اندیشوں کی اس فضا میں زخمیوں کا علاج جاری رہا جس سے ان کی صحت میں بتدریج بہتری آتی گئی، تاہم فرانسیسی مرد کی حالت میں کوئی افاقہ نہ تھا۔ اسے انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں رکھا گیا تھا اور ڈاکٹرز اس کے لئے شب و روز مصروف عمل نظر آتے تھے۔ ہم سب بھی اس کے لئے دعاگو تھے کہ اسے اس ناگہانی آزمائش سے نجات ملے اور وہ پھر سے پہلے کی طرح تندرست ہو۔ اس کی بیوی کی طبیعت البتہ اب بہت بہتر ہو چکی تھی۔
ہسپتال میں داخل ہوئے اب کافی دن ہوچکے تھے اور اس دوران ٹریفک پولیس اور طبی عملہ تمام متعلقین کو صورت حال سے برابر باخبر رکھتے تھے۔ اپنی ہر آمد پر مریضوں کی حوصلہ افزائی کرتے ہوئے ضروری معلومات جمع کی جاتی تھی۔ اتنے دن گزرنے کے بعد بھی فرانسیسی مرد کی حالت جوں کی توں تھی جو ہمارے لیے نہایت تشویش کا باعث تھی کہ خدانخواستہ اگر وہ زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ گیا تو یہ کیس اور بگڑ جائے گا اور اس کے نتیجے میں کتنی قانونی پیچیدگیاں کھڑی ہو جائیں گی، کسے معلوم۔
ہر دن، اس دعا اور امید کے ساتھ گزرتا کہ خدا اس کی حالت میں بہتری لائے تاکہ حادثے کے معاملات میں مزید الجھاؤ نہ پیدا ہو، اور ہر روز، یہ دعائیں بے اثر نظر آتیں جب ڈاکٹرز اس کی صحت کے حوالے سے منفی رپورٹ دیتے۔ وہ گھڑی اور وہ خبر ہم سب کا دل دہلانے کے لئے کافی تھی جب ہمیں ہسپتال کے عملے نے اس کے انتقال کا بتایا۔ اس اطلاع میں ایک انسان کے بچھڑنے کا دکھ بھی تھا اور یہ احساس جرم بھی کہ یہ جان لیوا خطا ہم سے ہوئی ہے۔ شرمساری ہم سب پر پوری شدت سے طاری ہو چکی تھی۔ طرح طرح کے وسوسے ذہنوں میں گھر بنا رہے تھے۔ کسی کے گھر کے اجڑنے میں آپ کا کردار رہا ہو، یہ سوچ ہی اس قدر تکلیف دہ تھی کہ ہم سب اپنے آپ سے کترا رہے تھے۔
اس دن پولیس کے عملے کی آمد بھی ہمیں ہر روز سے مختلف دکھائی دے رہی تھی۔ ہم سب خود کو مشکل سے مشکل سوالات اور ان دکھے امکانات کے لئے تیار کر رہے تھے۔ ہم سبھوں کو یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے ہمارے پاس کسی سوال کا جواب ہی نہ ہو۔ ہمیں یہ پوری طرح احساس تھا کہ کسی کا کسی کی گاڑی سے مر جانا، کوئی ایسا واقعہ نہیں کہ اس سے چشم پوشی کی جا سکے یا اسے درگزر کر دیا جائے۔ ایسے ہی خیالات کے ساتھ، ہم سب نے خود کو پولیس کا سامنا کرنے کے لئے تیار کیا۔ مگر آگے جو ہوا، وہ ہماری توقعات کے قطعی برعکس تھا۔ پولیس نے سب سے پہلے انتقال کی تصدیق کی اور پھر ہمارے لئے یہ حیران کن ہدایت کی کہ ہم صحتیابی پر ہسپتال چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔
ہمارے لئے، یہ ہدایت بھی کم تعجب خیز نہ تھی مگر اس کے بعد ان کی طرف سے جو کچھ کہا گیا، وہ ہماری سماعت کے لئے یکسر ناقابل یقین تھا۔ پولیس نے بتایا کہ فرانسیسی شخص کی بیوہ نے یہ بیان دیا ہے کہ حادثے میں آپ لوگوں کا کوئی قصور نہیں، یہ حادثہ سراسر اس کے شوہر کی غلطی سے ہوا تھا کیوں کہ وہ اس دن سارے راستے بہت غیر ذمہ داری اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ کر رہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا ہے، اعتراف، اخلاقی اعتبار سے کم زور لوگوں کے لئے کم زوری اور اخلاقی اعتبار سے توانا لوگوں کے لئے اعلی ظرفی کی علامت ہو جاتا ہے!



The words you wrote are connecting those souls who understand that fabric of our society is tarnished with lies and deceit
Your words are pictorial and beautifully arranged, and most of all they tell the forgotten truth