آئیں ہنر کی برآمدات کریں
دنیا بھر میں لوگ فری لانسنگ کے ذریعے اپنی آمدن میں اضافہ کر رہے ہیں اور اپنے ہنر کے ذریعے گھر بیٹھ کر اپنی مالی حالت کو بہتر کرنے کے ساتھ ساتھ اپنے ملک کی بھی خدمت کر پا رہے ہیں۔ دنیا میں اس وقت 1.57 بلین لوگ فری لانسنگ سے منسلک ہیں جو کہ عالمی افرادی قوت کا 47 فیصد ہے۔
فری لانسنگ کے ذریعے پیسہ کمانے والے ممالک میں گزشتہ سال 78 فیصد اضافے کے ساتھ امریکہ پہلے نمبر پر موجود ہے جبکہ پاکستان اسی لسٹ میں 47 فیصد اضافے کے ساتھ چوتھے نمبر پر موجود ہے۔ ہمارا پڑوسی ملک انڈیا 29 فیصد اضافے کے ساتھ ساتویں نمبر پر اور بنگلہ دیش 27 فیصد اضافے کے ساتھ آٹھویں نمبر پر موجود ہے۔ اسی لسٹ میں برطانیہ، برازیل، یوکرین، فلپائن، روس اور سربیا بھی موجود ہیں۔
دنیا میں پچپن سال سے زائد عمر کے لوگوں کی فری لانسنگ کے لئے صرف 5 فیصد نمائندگی موجود ہے جبکہ فری لانسنگ سے کمائی جانے والی دولت میں 4.9 فیصد حصہ ان کا موجود ہے۔ پینتالیس سے چون سال کی عمر رکھنے والے لوگوں کی نمائندگی 9 فیصد موجود ہے جبکہ دولت میں 9.4 فیصد حصہ بنا پاتے ہیں۔ پینتیس سے چوالیس سال کی عمر رکھنے والے لوگوں کی فری لانسنگ کے لئے نمائندگی 23 فیصد موجود ہے جبکہ فری لانسنگ سے کمائی جانے والی دولت میں 32.5 فیصد حصہ ان کا موجود ہے۔ پچیس سے چونتیس سال کی عمر رکھنے والے لوگوں کی نمائندگی 48 فیصد جبکہ دولت میں 46.2 فیصد حصہ موجود ہے۔ اٹھارہ سے چوبیس سال کی عمر رکھنے والے لوگوں کی فری لانسنگ کے لئے نمائندگی 16 فیصد موجود ہے جبکہ دولت میں وہ صرف 6.9 فیصد حصہ ہی بنا پاتے ہیں۔
پاکستان میں فری لانسنگ سے کمائی جانے والی دولت میں 77 فیصد حصہ پینتیس سال سے کم عمر لوگوں کا ہے، لیکن غور طلب بات یہ ہے کہ اٹھارہ سے چوبیس سال کی عمر رکھنے والے لوگ 16 سے 20 فیصد تک نمائندگی رکھنے کے باوجود فری لانسنگ سے کمائی جانے والی دولت میں بہت محدود حصہ رکھ پاتے ہیں۔ اسی کی وجوہات کیا ہیں؟
پاکستان میں اٹھارہ سے چوبیس سال کی عمر رکھنے والے نوجوانوں کی کثیر تعداد یونیورسٹیز اور کالجز میں طالب علم ہے، اس کے علاوہ کچھ تو ٹیکنیکل سکلز سیکھنے (رنگ ساز، مکینک) میں مشغول ہیں یا پھر جسمانی مشقت کرنے پر معمور ہیں۔ فری لانسنگ میں اپنی عمر کے لوگوں کی نمائندگی رکھنے والے نوجوان اکثر یونیورسٹیز اور کالجز میں سے ہیں۔ پاکستان میں یونیورسٹیز اور کالجز میں کتابی نصاب پر ضرورت سے زیادہ توجہ کا ہونا طلبا کو عملی سرگرمیوں سے محروم رکھتا ہے جبکہ طلبا کے ہاں ٹیکنیکل سکلز کی اہمیت کو بھی نقصان پہنچاتا ہے۔
پاکستان میں طلبا کو اپنی مالی ضروریات کو خود پورا کرنے کو ترجیح دینے کے بجائے یہ کہہ کر کہ آپ پڑھائی کی عمر میں پڑھائی کریں ہم زندہ ہیں آپ کے اخراجات اٹھانے کے لئے، انہیں مالی معاملات کی بروقت سمجھ سے محروم رکھا جاتا ہے، جس کے باعث وہ اپنی ترجیحات میں وہ ہنر سیکھنے کو نہیں رکھ پاتے جس کے ذریعے وہ آمدن بنا پائیں۔
فری لانسنگ آمدن بنانے کا وہ موثر راستہ ہے جو کسی بھی سرحد کا محتاج نہیں۔ فری لانسنگ بین الاقوامی درجے پر کی جاتی ہے اور ہر ایک کاروبار یا معاملات کی طرح یہاں بھی انٹر پرسنل کمیونیکشن کا کردار انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو بین الاقوامی زبان انگلش کی سمجھ بوجھ انتہائی اگر نہیں بھی تو درمیانے درجے کی ضرور ہونی چاہیے۔ لیکن پاکستان میں اٹھارہ سے چوبیس سال کی عمر رکھنے والے نوجوان عملی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ اس صلاحیت سے بھی محروم رہتے ہیں، جس کی وجوہات بے شمار ہیں۔
پاکستان آپ کو ان ممالک کی لسٹ میں ضرور ملے گا جہاں بڑے بڑے پلیٹ فارمز اور کمپنیاں اپنی خدمات پیش کرنے سے کتراتی ہیں۔ اس کی سب سے بڑی مثال پے پال اور ایمازون جیسی کمپنیوں کا پاکستان میں موجود نہ ہونا ہے۔ اس کی بڑی وجہ پاکستانی عوام کا رویہ اور پاکستانی اداروں کا ناقص معیار ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ خطرات سے بچنے کے لئے اپنی سروسز ہی فراہم نہیں کرتے۔
پاکستان ایک سیکیورٹی اسٹیٹ ہے۔ ہمیں بے شمار خطرات لاحق ہیں جس کا بخوبی اندازہ ہے۔ پاکستان کے پاس یہ صلاحیت بھی ضرور موجود ہے کہ وہ خود ایسی ایپلیکیشنز بنائے جو ہماری ضروریات کو پورا کر سکیں اور انہیں اس معیار تک لے جائے کہ ہمیں کسی بھی تیسری قوت کا محتاج نہ رہنا پڑے۔
پاکستان نے گزشتہ سال فری لانسنگ کے ذریعے 0.5 بلین ڈالر کمائے اور یہ 47 فیصد اضافے کے ساتھ تھے۔ پاکستان اگر یونیورسٹیز اور کالجز کے طلبا کو سہولیات کے ساتھ ساتھ فری لانسنگ کی جانب راغب کرنے کی اگر معیاری کوشش بھی کرے تو اس آمدن کو تقریباً 150 فیصد کے اضافے کے ساتھ بڑھایا جایا جا سکتا ہے۔
پاکستان پر اس وقت 126 بلین ڈالر سے بھی زائد کا قرض موجود ہے، جبکہ 2059 تک پاکستان نے تقریباً 94 بلین ڈالر کی رقم ادا کرنی ہے۔ پاکستان محض فری لانسنگ کے ذریعے اپنے ہنر مند نوجوان کے ہنر کو استعمال کرتے ہوئے مزید قرض سے اپنی جان چھڑوا سکتا ہے اور پہلے سے موجود قرض کی ادائیگی بھی کر سکتا ہے۔ ”سوچنا نہیں، کر گزرنا لازم ہے“


