یہ ریئلٹر کتنی آسانی سے اتنا پیسہ کماتے ہیں؟
صبح 7 بجے اٹھیں۔ نہائیں، مرد ہیں تو شیو کریں، عورت ہیں تو گھر کے کام سمیٹ کر ریڈی ہوں۔ آفس میں میٹنگ ہے یا کوئی ٹرانسفر پلاٹ کی، کسی اوورسیز کلائنٹ کے پلاٹ کی انسٹالمنٹ جمع کروانی ہے تو سوسائٹی ٹائم سے پہلے پہنچیں۔ سوسائٹی کا ٹائم 9 بجے ہے تو 9 بجے سے پہلے۔ ایک ہی دن مختلف سوسائٹیوں میں ایسے کام ہوتے ہیں جن میں خود جانا ضروری ہوتا ہے تو پھر پلان کرنا کہ کیسے مینیج کرنا ہے۔ پہلے کون سی سوسائٹی میں اور بعد میں کہاں۔
سوسائٹی کے جھمیلوں سے فارغ ہوں تو پھر آفس کی مینجمنٹ ایچ آر اکاؤنٹنٹ کو حساب دینا اور اگلے دن کے لیے کام میں لگ جانا۔
اتنی گرمی اور اسکارف گاؤن اور اوپر سے ماسک۔
صبح گھر سے نکلتے ہیں تو فریش اور خوشبوئیں اٹھ رہی ہوتی ہیں۔ جوتے چمک رہے ہوتے ہیں۔ تین یا چار بجے کے قریب سوسائٹیز سے خوار ہو کر واپس پہنچتے ہیں تو پسینے سے شرابور اور جوتے ایسے جیسے پھیری لگا کر آئے ہوں۔ پھر صاف کریں۔
آفس آ کر جان چھوٹ جاتی ہے؟
نہیں۔ اب اگلے دن کی پلاننگ کی تیاری۔ کسی کلائنٹ سے میٹنگ کے لئے جانا یا دوست کو ٹائم دیا ہوا ہے تو اس سے ملاقات یا کہیں ڈنر پر انوائیٹڈ ہیں تو وہاں جانا۔
زیادہ تر متوقع کلائنٹس بھی ایسے جیسے ہم ونڈو شاپنگ کے لئے نکلے ہوں۔ دکاندار سے کپڑے کے سارے تھان کھلوانے کے بعد ، اوہ میں واش روم سے ہو کر آیا یا میں اپنا بٹوا گھر بھول آیا ہوں۔ کل آ کر لے لوں گا۔ دکاندار کی کیا حالت ہوتی ہوتی گی۔ ہمیں اندازہ ہے۔
کافی ٹائم لینے کے بعد ، اچھا جی پھر ہم آپ کو بعد میں بتائیں گے۔ سارے مشورے وغیرہ لے کر، او جی ہمارا ایک کزن ڈیلر نکل آیا ہے یا میرے ابو یا بھائی وغیرہ کا قریبی دوست ڈیلر نکل آیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس کے ساتھ انویسٹمنٹ کریں صحیح اور اچھا مشورہ دے گا ڈسکاؤنٹ بھی اچھا دے رہا ہے۔ سر/میڈم معذرت آپ کا اتنا قیمتی وقت لیا۔
بھائی مشورے لینے سے پہلے اس ”قریبی رشتہ دار“ دوست ڈیلر کا کیوں نہیں پتہ تھا۔ باریکیاں ہم سے لے لیں اور پھر دوسرے ڈیلروں کو جا کر خود سمجھائیں کہ ہمیں پتہ ہے اس کے بارے میں یہ ہے، یہ کرنا ہے، ہمیں پہلے ہی سب پتہ ہے وغیرہ وغیرہ۔
لیکن کیا کریں۔ کرنا پڑتا ہے۔ کچھ طبیعت ایسی ہے کہ کوئی بات نہیں ہمارے مشورے یا گائیڈنس سے کسی کا بھلا ہوتا ہے تو یہ بھی نیکی ہی ہے۔ اور کچھ یہ بھی کہ اس طرح ڈسکس کرنے والوں میں سے ہی کچھ سے کام ملتا ہے اور روزی روٹی چلتی ہے۔
اس سارے دن کی جسمانی اور ذہنی مشقت سے فارغ ہو کر اب شام کو جان چھوٹ گئی؟ نہ جی۔
دفتر سے شام کو فری ہوں تو کوئی ایسا کلائنٹ مل جاتا ہے جس کی صبح ٹرانسفر کے لئے نمبر لگا ہوا ہے اور بہت ضروری ہے اس کی فائل مکمل کرنی ہے سیلر کو ری مائینڈر کال کرنی ہے۔ حالات حاضرہ سے اپڈیٹ رہنا ہے۔ اخبار، میگزین، خبریں سوشل میڈیا۔ کوئی ڈیل نہیں بھی ہے تو نئے رولز پڑھنے ہیں۔ نوٹس رکھنے ہیں۔ کتاب پڑھنی ہے۔ نئی چیزیں سیکھنی ہیں۔ کسی پروگرام یا انٹرویو کے لئے وقت نکالنا۔
اور اکثر لوگ کہتے ہیں ڈیلرز لوٹ مار کرتے ہیں۔
بہت آسانی سے پیسہ کماتے ہیں۔ واقعی؟
مقدمے میں پھنسے ہوں تو پولیس والے نہ بھی پیسے مانگیں تو اسے زبردستی دیتے ہیں۔ او رکھ لیں جی۔ یہ آپ کے لئے ہی الگ کر کے رکھے تھے۔ رئیلٹر اپنی محنت کا کمیشن مانگے تو فورا، لو جی لوٹنے لگا ہے۔ یا کوئی انتہائی جذباتی بہانہ لگا کر پھر پر ٹال دیں۔
کچھ لوگ مفت مشوروں پر ایسے لگتے ہیں کہ ہر دوسرے دن وقت بے وقت ڈائریکٹ کال اور میسج۔ اپنا ڈیلر ہونے کے باوجود مشورے کسی اور سے۔ کچھ بار تو چل جاتا ہے۔ زیادہ تنگ ہوتی ہوں تو مشورہ فیس مانگتی ہوں، دوبارہ پھر کال نہیں اتی۔
تاہم اس سب مشقت کے باوجود یہ پروفیشن بہت مزے کا اور بہت مطمئن رکھنے والا ہے۔ میرے نزدیک شاید دنیا کا بہترین پروفیشن۔
*دعا اور بھروسا*
اپنے حصے کا کام کیے بغیر دعا پر بھروسا کرنا حماقت ہے اور اپنی محنت پر بھروسا کر کے دعا سے گریز کرنا تکبر ہے۔

