خانہ جنگی کے نتائج

دنیا میں جن ممالک میں لوگوں کو برابری کےبنیادی حقوق ملتے ھیں وہ قدرتی طور پہ شاہراہ ترقی پہ گامزن ھو جاتے ھیں اس کے برعکس وہ بدنصیب خطے جہاں باھمی سرپھٹول کی وجہ سے ملکی ادارے اس قدر کمزور ھو جائیں تو پھر ھر طاقتور اپنی من مرضی پہ اتر آتا ھے اور ملک میں خانی جنگی شروع ھو جاتی ھے اس کے نتیجے میں ملک کے باسیوں اور بیرونی سرمایہ کار کا اعتماد کھو جاتا ھے ۔ بدامنی کا پہلا شاخسانہ معیشت بنتی ھے ۔ تعلیم و تربیت کے سارے سوتے خشک ھونے لگتے ھیں اور نوجوان قلم دوات کے بجاۓ ھتھیار بند اپنی جسمانی طاقت پہ اترانے لگتے ھیں قتل و غارت گری کے نتیجے میں ملک میں سب سے پہلا شاخسانہ سچ بنتا ھے ، عزتیں پامال ھونے لگتی ھیں ، خوراک و ادویات کی کمیابی کی بناء پہ لوگ دربدر بھٹکنے لگتے ھیں اور بے خانماں افراد ملک چھوڑنے اور ھجرت کا روگ پالنے لگتے ھیں ۔ ملک میں ناپسندیدہ عناصر تگڑے ھوجاتے ھیں اور یوں ترقیٔ معکوس کا ایک نہایت ناپسندیدہ عمل شروع ھو جاتا ھے پھر برسوں اور کئی دہائیوں کی طویل جدوجہد کے بعد حالات میں سدھار کا ایک لمبا سفر شروع ھوتا ھے ۔ بدقسمتی سے ھمارے مسلمان ممالک اسی صورتحال میں مبتلا نظر آتے ہیں ۔ملک شام ، لبنان اور اردن کو ھم مثال کے طور دیکھ سکتے ھیں ۔ شام میں خانی جنگی کو کم از کم بارہ سال مدت ھوچلی ھے ، لبنان کے خصوصی مسائل ھیں اور کی وجہ اردن میں بھی بدامنی نے ملکی تاریخ کا رخ بدل دیا ھے ۔ 21ویں صدی کی سب سے بڑی ھجرت شامی عوام کو کرنا پڑی ھے ۔ اقوام متحدہ کی ایجنسی برائے مہاجرین کے مطابق اب تک ایک کروڑ 40 لاکھ شامی مہاجرین مختلف ممالک میں پناہی گزین ھو چکے ھیں ۔ ھمسایہ ملک لیبنان میں کم از کم 15 لاکھ شامی مہاجرین موجود ہیں ، اس کے علاؤہ دیگر اقوام 13715 مہاجرین بھی لیبنان میں موجود ھیں ۔ اردن میں 675000 افراد بحیثیت مہاجرین موجود ھیں ۔ ان میں واضح 90٪ اکثریت انتہائی غریب ھے۔
اردن ،شام اور لبنان میں غربت اپنے پنجے گاڑ چکی ھے، لبنانی معیشت عالم۔نزع میں ھے۔ 2011 میں جب شامی بدامنی کا آغاز ھوا تو اس وقت اس کا ایک ڈالر کے مقابلے میں 47 شامی پونڈ تھا لیکن آج اس کی قدر 13000 شامی پونڈ کے برابر ھے۔
کسی خطے کے مسائل صرف سیاسی منظر نامے میں ھی درست کئے جا سکتے ھیں ۔ بندوق کی نالی سے جو گولی نکلتی ھے وہ تو اپنے ہدف کو تباہ کر دیتی ہے، اس خون آشامی کے نتائج تو سبھی دیکھ چکے اب امن و ترقی کو موقع دینا ھوگا ۔ باہمی سرپھٹول کو پرے کرنا ھوگا اور اپنے مسائل کا کوئی پائیدار حل نکال کر ملکوں میں امن و شانتی بحال کرنا ھوگا اور سعودی عرب کا ویژن 2030 اور دوبئی کے وژن 2031 کا طویل مدتی منصوبہ کو امثال بنا کر اپنے عوام کی خوشحالی اور اجتماعی بہبود کی منصوبہ سازی کرنا ھوگا ۔یہ ممکن ھے صرف ایک خلوص نیت کی ضرورت ھے ۔ تعلیم ،صحت ،سلامتی اور معیشت کے ذریعے ھی اقوام ترقی کرسکتی ھیں دوسرا کوئی طریقہ نہیں ۔

