آ کہ اس حسن کی یادیں ہیں وابستہ تجھ سے۔۔
یہ بیتے دنوں کی بات ہے جب راوی ہمارے حق میں چین ہی چین لکھتا تھا۔ ہم کہ ثھہرے سیاست سے نابلد و نا آشنا۔ لڑائی جھگڑوں اور بحث مباحثوں سے کوسوں دور بھاگنے والے ۔ ہماری روش ہی یہ کہ کسی کے مسلک کو چھیڑو نہیں اور اپنا مسلک چھوڑو نہیں ۔ اور خدا شکر خوروں کو شکر ہی دیتا ہے ۔ صد شکر کہ مجازی خدا بھی مزاجی خدا نہ ثابت ہوے تھے اور ہم سو جان سے ان پر فدا ہو گیے۔۔۔۔۔۔
تفریح طبع کے لیے کمرے میں دھیمے سروں میں میوزک بجا کرتا۔ انگلش موویز دیکھی جاتیں۔ موقع محل کے مطابق اشعار بولے جاتے۔ ٹینس اور سکواش کے میچز دیکھے جاتے۔ لطیف پیراے میں گپ شپ ہوتی ۔ کوئی ہلکا پھلکا سنیک لے لیا جاتا، وہ بھی بڑی نفاست سے۔۔۔
لانگ ڈراویز پر بھی میوزک سےخوب لطف اندوز ہوا جاتا۔ حسن و خوبی کے استعاروں کو سراہا جاتا۔ گائیک کی آواز کے زیر و بم کے ہم آواز ہونے کی کوشش ہوتی اور کسی قدر کامیابی بھی حاصل کر لی جاتی۔ اعلی برانذ کا سگریٹ اور کوی چینوگم وغیرہ۔ آپ غلط سمجھے یہ صرف ان کی بات ہو رہی ہے ۔۔ہمارا اتنا اعلی ذوق کہاں؟ ہم تو بقدر جثہ کھانے پینے والی چیز وں کو ہی عزت بخشتے رہتے۔۔۔۔۔
ہم تو گوڈے گوڈے راضی تھے اپنی خوشگوار ازدواجی زندگی سے کہ کسی کی نظر ہی لگ گیی۔ ہم قبول صورت سے تو ان کے رعب حسن سے شدید مرعوب ہوئے جا رہے تھے کہ ہونہار بروا نے چکنے چکنے پات بھی دکھانے شروع کر دیے ملک کی ایک ابھرتی ہوی سیاسی جماعت نے صاحب کی سوئی ہوئی رگ سیاست پھڑکا دی۔ اور پھر ایک بھر پور انگڑائی لے کے بیدار ہو گیی۔ سب ملیامیٹ ہو گیا۔ خوابوں کے محل زمین بوس ہونے لگے ۔ دھیمی موسیقی بلند بانگ نعروں کی شکل اختیار کرنے لگی۔ انگلش موویز کی جگہ جلسے جلوسوں اور دھرنوں کی میڈیا کوریج نے لے لی۔ میچز کی بجاے اینکرز کی دھواں دار ہرزہ سرائی کی مدح سرائی ہونے لگی۔ دھیما لہجہ سیاسی مقابلہ بازیوں اور تقابلی جایزوں میں کہیں کھو سا گیا۔ ۔۔۔۔
ہم ٹھہرے شروع سے ہی معتدل مزاج اور اپنے ہی من میں مگن ۔ساست سے کوسوں دور۔ کوئی آے کوئی جائے، کوئی آ کر چلا جائے ہماری بلا سے ۔ ہم قرابت داری کو زیادہ اہم گردانتے سیاست سے اور ہر کسی کا موقف تحمل مزاجی سے سنا کرتے ۔ ہمارا موقف ہمیشہ یہی رہا کہ کسی ایک کو ٹھیک کہہ دینے کا ہر گز یہ مطلب نہیں ہے کہ دوسرا برا ہو گیا۔ مگر ہم سے تقاضا کیا جاتا کہ صحیح کو صحیح اور غلط کو غلط کہا جائے اور ببانگ دہل کہا جاے مگر ہائے۔۔۔۔۔۔۔ ہم سے الفت کے تقاضے نہ نبھاہے جاتے۔۔۔۔۔ اور محترم کی اپنی بھی یہی پالیسی تھی کہ جو ہو گا سب ڈنکے کی چوٹ پر ہو گا۔۔۔۔۔۔۔
ان سارے ارتقائی مراحل میں جو چیز ان کے دل کے قریب رہی وہ تھا ان کا موبائل اور یہی ان کی متاع عزیز جسے وہ صبح شام سینے سے لگائے رکھتے۔ ایک پل کی جدائی گوارا نہ تھی۔ موبائل ہی ملجا و ماوا کہ محبوب لیڈر کی کتھا کہانی سناتا۔ ہزار بار کی براہ راست سنی گئی تقاریر کو اینکرز نئے معنی و مطالب پہناتے اور اس گلدستے کو سو رنگ سے باندھتے۔ أور جناب ہر طرح کی نیرنگی خیال سے ہولی کھیلتے۔ حالات حاضرہ سے ہماری سمع خراشی بھی فرمائی جاتی۔ اور ہم نا چاہتے ہوے بھی سارے تجزیات سے روشناس کروائے جاتے۔ جب ہمارے لیے سب کچھ نا قابل برداشت ہو چکتا تو ہماری طرف سے مودبانہ انداز میں ٹوٹیاں (ہینڈز فری) ان کو پیش کی جاتیں جنہیں کبھی وہ قبول کر لیتے کبھی بے اعتنای سے سائیڈ پر ڈال چھوڑتے تاکہ ہمارے کانوں میں بھی یہ سیاسی امرت رس ٹپکایا جا سکےاور ہم اپنے اگلے پچھلے جنموں کے کردہ و نا کردہ گناہوں کی سزا پا سکیں ۔۔۔۔
اب ان کا موبایل ہمیں اپنے چھوٹے موٹے رقیب رو سیاہ کی مانند دکھائی دینے لگا مگر کیا کرتے وہی سہاگن جسے پیا من چاہے۔۔۔۔
اور کرنا خدا کا ایسا ہوا کہ آج کے تاریخی دن میں موبائل نے ان کے ہاتھ سے اپنا دامن چھڑا لیا اور زمین بوس ہوا۔ اور ہماری ہنسی فلک بوس تھی ۔۔۔
مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی ۔؟ موبایل تو نیا آ ہی جاے گا وہی انجمن ستایش باہمی کے شب و روز ہوں گے مگر۔۔۔ موبائل پسند کرنے کے لیے چند دن لگ ہی جاییں گے نا۔۔۔۔۔۔سو لمحہ موجود سے جی بھر کے محظوظ ہو رہے ہیں۔ …


