چمپی ،چمپو اور شیمپو

کوئی سوا دو سو سال پہلے 1794 میں برطانیہ میں ایک کتاب منظر عام پر آئی، کتاب کا نام تھا ”The Traveler Of Shake Dean Mahomet“ یہ کتاب انگریزی زبان میں تھی اور ایک ہندوستانی جس کا نام شیخ دین محمد تھا، کی ہندوستان کے مختلف شہروں کی سفری یادداشتوں پر مشتمل تھی۔ شیخ دین محمد 1759 میں بہار کے دارالحکومت پٹنہ کے قریب واقع شہر بکسر میں پیدا ہوئے تھے۔ بہار اس وقت بنگال پریزیڈنسی کا ہی حصہ تھا اور بنگال کے نواب سراج الدولہ کو انگریزوں نے دو سال قبل یعنی 1757 میں ہی شکست دی تھی اور پورے بنگال پر غلبہ حاصل کر کے وہاں کے حاکم بن بیٹھے تھے۔ شیخ دین محمد کی جائے پیدائش بکسر، کا مقام بھی تاریخی اہمیت کا حامل ہے اس مقام پر 1764 میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے بکسر کی جنگ میں مغل فوج کو بھی شکست فاش دے کر دنیا کو حیران کر دیا تھا اور اس فتح کے ساتھ ہی انگریزوں نے پورے ہندوستان پر نظریں جما دیں تھیں۔
شیخ دین محمد کا تعلق حجاموں کے خاندان سے تھا۔ ہندوستان کے حجام چھوٹی موٹی جراحی کا کام بھی کر لیا کرتے تھے اس میں سب سے اہم، مسلمان بچوں کی ختنہ کرنے کا فریضہ انجام دینا تھا اس لیے یہ لوگ جراح (سرجن ) بھی کہلاتے تھے۔ شیخ دین محمد گیارہ سال کی عمر میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج میں شامل ہو گئے تھے۔ واضح رہے اپنے عروج کے زمانے میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی فوج کی تعداد تین لاکھ افراد تک پہنچ گئی تھی اور اس میں 96 فیصد افراد ہندوستانی تھے۔
شیخ دین محمد اپنے پیشے کی مناسبت سے ایسٹ انڈیا کمپنی میں مختلف خدمات انجام دیتے رہے مثلاً سر کے بالوں کی حجامت، جراحی، مالش اور سر کی چمپی وغیرہ۔ دین محمد بطور حجام سر دبانے اور چمپی مالش کرنے کے ماہر مانے جاتے تھے۔ وہ بہت چھوٹی عمر سے ہی انگریزوں کے ساتھ تھے اور ان کی خدمت پر معمور رہے یہی وجہ تھی کہ انگریزوں کے ساتھ رہتے ہوئے انگریزی بولنے اور لکھنے میں بھی کچھ شد بد حاصل کر لی، حالانکہ انہوں نے اپنی زندگی میں ابھی تک اسکول یا مدرسے کی شکل تک نہ دیکھی تھی لیکن اپنی ذاتی صلاحیت اور ہنر مندی کی وجہ سے وہ ایسٹ انڈیا کمپنی میں ترقی کے مراحل طے کرتے کرتے ایک مناسب عہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے۔
جب شیخ دین محمد کا انگریز افسر 1783 میں ایسٹ انڈیا کمپنی کی ملازمت چھوڑ کر انگلستان جانے لگا تو ان کو بھی اپنے ساتھ لے گیا۔ شیخ دین محمد کی زندگی میں یہ بہت بڑا انقلاب تھا وہ ایک نئی اور قدرے ترقی یافتہ دنیا سے روشناس ہونے جا رہے تھے۔ انگلستان پہنچ کر انہوں نے باقاعدہ اسکول میں داخلہ لے کر انگریزی سیکھی بعد ازاں اپنی محنت اور ذہانت سے وہ انگریزی زبان میں اتنے ماہر ہو گئے کہ انہوں نے انگریزی میں وہ کتاب لکھ ڈالی جس کا ہم نے اوپر ذکر کیا ہے۔ اس کے ساتھ ہی وہ انگریزی زبان میں کتاب لکھنے والے پہلے ہندوستانی کے اعزاز سے بھی سرفراز ہوئے۔
شیخ دین محمد کے لیے انگلستان ایک بالکل نئی دنیا تھی اور یہاں ان کو کوئی ملازمت بھی نہیں مل سکتی تھی البتہ انہوں نے انگلستان پہنچ کر ایک آئرش خاتون جین ڈیلی سے شادی کرلی اور مذہب اسلام ترک کر کے عیسائیت اختیار کرلی۔ اب سب سے اہم اور نازک مسئلہ روزگار کی تلاش تھا۔ انہوں نے لندن میں ہندوستانی کھانے اور ذائقے متعارف کرانے کا فیصلہ کیا۔ اس طرح لندن میں پہلا ہندوستانی ریستوران 1810 میں ”انڈیا کافی ہاؤس“ کے نام سے قائم کر لیا۔
انگلستان کے لوگ سگریٹ، سگار اور پائپ کے ذریعے تو تمباکو نوشی کرتے تھے لیکن وہ حقے سے واقف نہیں تھے۔ شیخ دین محمد نے اپنے ریستوران میں حقہ پینے کی سہولت بھی فراہم کردی۔ یوں ریستوران کا کام اچھا چلنے لگا انگریزوں کو ہندوستانی ذائقوں سے روشناس کرانے کے ساتھ ساتھ شیخ دین محمد نے اپنے خاندانی کام کو بھی ایک نئی جدت دیتے ہوئے آگے بڑھایا انہوں نے لندن میں حمام کھول لیا۔ جس میں جڑی بوٹیوں سے ملا ہوا پانی غسل کے لیے استعمال کیا جاتا تھا اور ساتھ ہی مساج کے لیے خاص قسم کا تیل استعمال ہوتا تھا۔
انگریزوں کے لیے تو یہ ایک بالکل نئی چیز تھی، پہلے جڑی بوٹیاں ملے پانی سے غسل اور پھر تھکے ہوئے جسموں کو ترو تازہ کرنے کے لیے مساج۔ شیخ دین محمد کا یہ کام بھی کامیاب ہوا۔ پھر جلد ہی شہر کی اشرافیہ بھی شیخ دین محمد کی خدمت سے مستفید ہونے لگی۔ لوگوں کے رجحان کو دیکھتے ہوئے شیخ دین محمد نے اخبارات میں اشتہار شائع کروائے جس میں اسٹیم باتھ کے پانی اور جلد کے تیل میں مخصوص قسم کی جڑی بوٹیوں کا دعویٰ کیا جاتا تھا۔
شیخ دین محمد سر کی چمپی کرنے کے ماہر تھے لفظ چمپی اور چمپو قدیم سنسکرت کے لفظ چمپیسج Champissage سے ماخوذ ہیں۔ تقریباً 600 سال قبل مسیح میں ہندوستان کی آیورویدک کتابوں میں اس لفظ کا ذکر ملتا ہے کہ کس طرح جڑی بوٹیوں اور روغنوں ( تیلوں ) کے ذریعے سر کی مالش کر کے مختلف دردوں کا علاج کیا جاسکتا ہے۔ اس کے ساتھ ریٹھے، آملہ اور سکاکائی کو ملا کر اس سے سر دھویا بھی جاسکتا ہے۔ سر دھونے کے عمل کو چمپو اور مالش کرنے کے عمل کو سنسکرت زبان میں چمپی کہا جاتا ہے۔
بنیادی طور پر چمپو کا سب سے پہلے ذکر وادی سندھ کی تہذیب میں ملتا ہے۔ ان مالشوں کے ذریعے سر کے بال مضبوط بھی بنائے جا سکتے ہیں۔ جلد ہی ان کی چمپی اور چمپو کی شہرت دور دور تک پھیل گئی، یہاں تک کہ شاہی خاندان کے بعض افراد ان کے باقاعدہ گاہک بن گئے۔ یہ ان کی چمپی ہی کی شہرت تھی کہ شیخ دین محمد کی رسائی برطانیہ کے بادشاہ جارج چہارم اور بادشاہ ولیم کے شاہی محل تک ہو گئی۔ اور پھر دیکھتے ہی دیکھتے ان کا یہ کاروبار اتنا کامیاب ہوا کہ انہیں اپنے حمام کی کئی شاخیں کھولنا پڑیں تب ہی سنسکرت زبان کا لفظ چمپی یا چمپو انگریزی زبان کی ڈکشنری میں شیمپو بن کر شامل ہو گیا۔ آج شیمپو کی عالمی تجارت کا حجم 39 ہزار ملین ڈالر ہے جو مسلسل بڑھ رہا ہے اور 2028 تک اس تجارت کا حجم 48 ہزار ملین ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے۔ شیخ دین محمد کا انتقال 1851 میں 90 سال کی عمر میں ہوا۔

