کچھ ذکر سورت کا


سورت: ایک قدیم شہر جو دو دفعہ جلایا گیا، جہاں ستر فیصد لوگ انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں، جہاں سب سے پہلے انگریز آئے۔ 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے

ممبئی میں ہمارا قیام بہت ہی مختصر مدت کا تھا۔ اس دوران مجھے اپنے کاروبار کے سلسلے میں بھی کچھ لوگوں سے ملنا تھا اس لیے ہم تفصیل سے ممبئی کو نہ دیکھ سکے۔ سن دو ہزار میں مجھے دوبارہ ممبئی جانے کا موقع ملا اس دوران میں نے مزید جگہوں کا دورہ بھی کیا جس کا ذکر میں آئندہ صفحات میں کروں گا۔

میں نے دیکھا کہ طویل فاصلے کے لیے ریل گاڑیاں عام طور پر شام کے وقت چلتی ہیں اور رات بھر میں اپنا سفر طے کرتی ہے۔ پاکستان میں بھی ایسا ہی ہے۔ لاہور سے کراچی جانے والی ٹرینیں بھی عام طور پر شام کے وقت اپنا سفر شروع کرتی ہیں اور صبح تک کراچی پہنچ جاتی ہیں۔ ممبئی میں بھی ایسا ہی تھا۔ شام میں دلی کے لیے کئی ریل گاڑیاں چلتی ہیں۔ ان میں کچھ بہت ہی زیادہ وقت لیتی ہیں اور کچھ جلد ہی اپنی منزل پر پہنچ جاتی ہیں۔ ہم نے بھی ایک ٹرین کا انتخاب کیا جس کی روانگی شام ساڑھے چار بجے تھی اور اگلے دن صبح ساڑھے آٹھ بجے اسے دہلی پہنچنا تھا۔

یہ تقریباً سولہ گھنٹے کا سفر تھا۔ دلی سے ممبئی کے درمیان اسے 1384 کلومیٹر کا فاصلہ طے کرنا تھا۔ ان ٹرینوں میں وہ تمام تر سہولیات موجود تھیں جن کی وجہ سے ہمارا سفر نہایت آرام سے طے ہوا۔ ٹرین میں داخل ہونے کے فوراً بعد ہمیں شام کی چائے اور پھر رات کا کھانا، صبح کی چائے اور ناشتہ وغیرہ سب کچھ میسر تھا۔ ہمارے ہمراہی بھی بہت خوش اخلاق تھے اور ان کے ساتھ اچھی گپ شپ رہی۔ یہاں پر بھی ایک صاحب کے خاندان کی بنوں سے ہجرت کی داستان سنی۔ اس کا ذکر میں آئندہ صفحات میں کروں گا۔ ممبئی سے نکل کر پہلا سٹاپ بوریوالی تھا۔ بوریوالی ممبئی کا ہی حصہ ہے۔ اس سے متعلق مجھے بہت زیادہ معلومات تو نہ مل سکیں لیکن جو بھی معلومات ملیں ان کا تعلق ممبئی سے ہی تھا۔

ہمارا اگلا سٹاپ سورت تھا۔ ہم سات بجے کے قریب سورت پہنچ گئے۔ میں نے سفر کے لیے ہندوستان کے بارے میں ایک کتاب لے رکھی تھی اور دوران سفر اس کا مطالعہ بھی کر رہا تھا۔ عجیب اتفاق ہوا کہ جب ہم سورت پہنچے تو میں کتاب کے اس حصے کا مطالعہ کر رہا تھا جس کا تعلق سورت سے تھا۔ اس سے پہلے کہ میں آپ کو اپنے ہمراہیوں کا تعارف کرواؤں میں چاہوں گا کہ آپ کو سورت سے متعلق کچھ معلومات فراہم کروں۔

میں نے سورت کے بارے میں فلپ اینڈرسن کی کتاب

The English in Western India: Being the Early History of the Factory at Surat، of Bombay، and the Subordinate Factories on the Western Coast۔ From the Earliest Period Until the Commencement of the Eighteenth Century۔ Drawn from Authentic Works and Original Documents جس میں تفصیل سے انگریزوں کی ہندوستان میں آمد کے بارے میں لکھا گیا ہے بے حد مفید پایا ہے۔ یہ کتاب 1854 ء میں لکھی گئی تھی۔ زیادہ اچھی بات ہے کہ یہ کتاب نیٹ پر موجود ہے۔ اس کے علاوہ برٹانیکا انسائکلوپیڈیا میں سورت بارے میں مفید معلومات ملتی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سورت شہر کی اپنی ویب سائٹ پر سورت بارے کافی مواد موجود ہے۔

فلپ اینڈرسن کے مطابق تھامس سٹیفن پہلا انگریز تھا جو اکسفورڈ کا پڑھا ہوا تھا نے اپریل 1579 ء میں انگلینڈ سے سفر شروع کیا اور اسی سال اکتوبر میں گوا میں قدم رکھا۔ اس سے پہلے پرتگیزی ہندوستان آچکے تھے۔

ممبئی مہاراشٹرا میں واقع ہے جب کہ سورت گجرات اسٹیٹ کا ایک اہم ترین شہر ہے۔ گجرات اسٹیٹ کا کیپیٹل گاندھی نگر ہے۔ سمندر کے قریب ہونے کی وجہ سے سورت بہت بڑی اور مصروف بندرگاہ ہے۔ ممبئی کے ترقی کر نے کی وجہ سے سورت کی ترقی میں کمی واقع ہوئی ہے۔ سورت شہر ہیرے جواہرات کے لیے دنیا بھر میں مشہور ہے صرف اس شہر سے سالانہ بارہ ارب ڈالر کی ایکسپورٹ ہوتی ہے۔ یاد رہے پاکستان کی ٹوٹل ایکسپورٹ پچیس بلین ڈالر ہے جب کہ بھارت کے ایک شہر سے صرف ہیرے جواہرات کی ایکسپورٹ بارہ ارب ڈالر ہے۔ گاندھی نگر سے اس کا فاصلہ پونے تین سو کلومیٹر ہے۔ یہ شہر احمد آباد کے جنوب میں اڑھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ممبئی سے اس کا فاصلہ تین سو کلومیٹر ہے۔ یہ شہر دریائے تاپتی کے کنارے پر ہے جو بحر عرب سے بہت قریب ہے۔

برٹانیکا انسائکلوپیڈیا کے مطابق گوپی نام کے ایک صاحب نے اس شہر کو آباد کیا۔ شہر کے نام کے بارے میں مختلف دعوے کیے جاتے ہیں۔ ایک دعوے کے مطابق اس کا نام سورج پور تھا۔ کچھ لوگ کہتے ہیں کہ جب ڈچ یہاں آئے تو انھوں نے اس کا نام Sourratte رکھا جو کہ ایک ڈچ لفظ ہے لیکن اب اسے سورت ہی کہا جاتا ہے۔ ایک بین الاقوامی رپورٹ کے مطابق سورت شہر تیزی سے ترقی کرنے والے شہروں میں بہت نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔ بھارت میں ہونے والے ایک سالانہ سروے کے مطابق 2013 ء میں سورت کو بھارت کا بہترین شہر قرار دیا گیا۔

میں نے پچھلے صفحات میں بھارت کے ایک سو سمارٹ سٹی والے منصوبے کے بارے میں آپ کو بتایا تھا۔ اس منصوبے کے تحت سورت وہ پہلا شہر تھا جسے سمارٹ سٹی کا درجہ دیا گیا ہے۔ سورت سے متعلق ایک اور اہم بات کا بھی پتہ چلا کہ یہاں ستر فیصد لوگ انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں۔ ایسا کسی قریبی ملک میں بھی نہیں ہے۔ یہ شہر صفائی کے لحاظ سے بھی کسی سے پیچھے نہیں ہے۔ بھارت میں صفائی کے اعتبار سے بننے والی فہرست میں سورت کا دوسرا نمبر ہے۔

سورت شہر کی ویب کے مطابق پہلی فیکٹری 1612 ء میں انگریزوں نے قائم کی تھی اور سر تھامس رو ہی وہ شخص تھا جس نے جہانگیر سے تجارتی راہداری حاصل کی تھی۔ فلپ اینڈرسن نے یہ بھی لکھا ہے کہ انگریزوں کو آنے کی دعوت یہاں پر پہلے سے موجود حکمرانوں نے دی تھی اس کی وجہ پرتگیزیوں کا نامناسب رویہ تھا۔ انگریزوں نے 1826 ء میں اس شہر میں سکول قائم کیا تھا۔ پہلا انگلش سکول 1842 ء میں قائم کیا گیا۔ اس طرح ہندوستان میں انگریزی کی تعلیم کا آغاز ہوا۔

تیرہویں صدی میں سلاطین دلی نے اس علاقے میں اپنی حکومت قائم کی۔ یہاں پر ایک ریاست گجرات بھی قائم تھی۔ سلاطین گجرات نے مغلوں کے ڈر سے پرتگیزیوں کے ساتھ معاہدے کیے۔ بعد ازاں پرتگیزیوں نے اس علاقے پر قبضہ کر لیا اور انھوں نے ایک ایسا کام کیا جس کی مثال ملنا بے حد مشکل ہے۔ انھوں نے دو مرتبہ اس شہر کو فتح کرنے کے بعد آگ لگا دی اور یہ شہر جل کر راکھ ہو گیا۔

Facebook Comments HS