جاٹوں کا عروج اور دہلی پر ان کا قبضہ

(میں نے بھارت کے سفر 1999 ء کے دوران جو دیکھا، جو سنا، جو سمجھا، اس کا ذکر) ایک زمانہ تھا جب مغلیہ سلطنت کا سکہ چلتا تھا اور بھرت پور کے جاٹ اُن کے ظلم و ستم کا شکار تھے۔ پھر وقت نے کروٹ لی، اور 1753 ء میں مہاراجہ سورج مل نے دہلی پر حملہ کر دیا۔ اُس نے دہلی کے نواب، غازی الدین، کو شکست دی اور شہر پر قبضہ کر لیا۔ اب دہلی اور اہلِ دہلی

Read more

مہاراجہ سورج مل جاٹ: تاریخ کا ایک دلچسپ کردار

مہاراجہ سورج مل جاٹ کی پہلی بڑی جنگ سورج مل نے اپنی پہلی بڑی لڑائی 1745 ء میں چانڈوس میں لڑی۔ اس لڑائی کا پس منظر یہ تھا کہ مغل بادشاہ محمد شاہ، علی گڑھ کے نواب فتح علی خان سے کسی بات پر ناراض ہو گیا تو اس نے اسے سزا دینے کے لیے ایک افغان سردار اسد خان کو بھیجا۔ فتح علی خان کو محسوس ہوا کہ وہ ایک چھوٹا جاگیردار ہے اس لیے اسے کسی کی مدد

Read more

مہاراجہ سورج مل جاٹ: بھرت پور ریاست کا مہاراجہ جو ناقابلِ شکست رہا

جب ہم کوٹہ سے گزرے تو اس وقت صبح کے چار بج رہے تھے۔ ریلوے کی طرف سے فراہم کی گئی معلومات کے مطابق بھرت پور ہمارے راستے میں تو آتا تھا لیکن وہاں ہمارا سٹاپ نہیں تھا۔ یہ جان کر مجھے شوق پیدا ہوا کہ میں بھرت پور کو دیکھوں، بھلے چلتے چلتے ہی صحیح۔ بھرت پور اور بھرت پور کے مہاراجہ سورج مل جاٹ کا ذکر میں نے بے شمار دفعہ سن رکھا تھا۔ میرے پاس موجود کتاب

Read more

ریاست الور: جس کے راجہ نے چھ رولز رائس کاریں خرید کر صفائی پر لگا دی تھیں

جب میں سوہن لال صاحب سے باتیں کر رہا تھا تو اس وقت ہم ایک مرتبہ پھر اترپردیش میں داخل ہوچکے تھے اور آگرہ کے مغرب سے گزر رہے تھے۔ ہمارے مشرق میں اتر پردیش کا شہر آگرہ اور مغرب میں ایک امیر ریاست الور واقع تھی۔ الور کو الوار بھی لکھا جاتا ہے۔ الور شہر، بھرت پور سے سو کلو میٹر سے زائد فاصلے پر واقع ہے۔ الور شہر کا ذکر بارہا سنا تھا۔ ہمارے پاکستان میں ایک مشہور

Read more

کوٹہ: ایک انوکھی وجہ شہرت کا حامل قدیم اور جدید شہر

پرانے وقتوں میں کوٹہ شہر کو کوٹاہ بھی کہا جاتا تھا۔ یہ راجستھان کے جنوب مشرق میں واقع ایک قدیم شہر ہے۔ دریائے چنبل کے کنارے جے پور سے اڑھائی سو کلومیٹر کے فاصلے پر جنوب میں واقع ہے۔ اس کی آبادی بارہ لاکھ سے زائد ہے۔ جے پور اور جودھ پور کے بعد یہ راجستھان کا تیسرا سب سے زیادہ آبادی والا شہر ہے کوٹہ کی وجہ شہرت اس شہر میں موجود اہم کوچنگ سنٹر ہے جہاں بھارت کی

Read more

راجھستان

راجستھان شمالی بھارت کی ایک اسٹیٹ ہے جس کا رقبہ ساڑھے تین لاکھ مربع کلومیٹر ہے۔ ( پاکستان کے صوبہ پنجاب کا رقبہ دو لاکھ مربع کلومیٹر کے قریب ہے۔ ) یہ اسٹیٹ بھارت کے کل جغرافیائی رقبے کا دس فیصد ہے اور یوں رقبے کے لحاظ سے بھارت کی سب سے بڑی ریاست بھی ہے لیکن آبادی کے اعتبار سے اس کا ساتواں نمبر ہے۔ اس کا ایک بڑا حصہ غیر آباد اور صحرائی علاقوں پر مشتمل ہے۔ اسی

Read more

چتوڑ جسے چٹورگڑھ بھی کہا جاتا ہے

میری معلومات کے مطابق اس علاقے میں چتوڑ نامی ایک قلعہ بھی موجود ہے جو اپنی وسعت کی بنیاد پر ایک خاص اہمیت کا حامل ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ یہاں پیار اور محبت کی ایک لوک داستان بھی مشہور ہے۔ حال ہی میں اس موضوع پر پدماوت نامی ایک فلم بھی بنی ہے۔ یہ قلعہ کوٹا سے دو سو کلومیٹر مغرب میں واقع ہے۔ اس علاقے کی تاریخ انتہائی دلچسپ ہے اور اپنے اندر بے پناہ کشش رکھتی ہے۔

Read more

اشوک نگر: عظیم شہنشاہ اشوکا کی یاد میں بسایا گیا شہر

اشوک نگر دریائے سندھ (سندھ نام کا ایک چھوٹا ساتھ دریا اس علاقے میں بھی ہے ) اور بٹوا کے درمیان، مدھیہ پردیش کے شمال میں واقع ہے۔ یہ علاقہ سطح مرتفع مالوا کا بھی ایک حصہ ہے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ عظیم شہنشاہ اشوکا یوجین فتح کرنے کے سفر کے دوران ایک رات کے لیے اس جگہ ٹھہرا تھا اس وجہ سے اس علاقے کا نام اشوک نگر رکھا گیا۔ اس بات میں کہاں تک صداقت ہے۔

Read more

چاند باؤلی: جہاں ایک ہزار سال پرانا کنواں اب بھی موجود ہے

چاند باؤلی: ایک ہزار سال پرانا کنواں، راوات بھاٹا بھارت کے ایٹم بجلی گھر، منڈل قلعہ جس کی اپنی ہی شان ہے مجھے 1999 میں بھارت کا یک طویل سفر کرنے کا موقع ملا۔ اس سفر میں جو دیکھا اس کا احوال پیش خدمت ہے۔ اس علاقے کی تاریخ پڑھتے ہوئے یہ جانا کہ یہاں ایک ایسا قصبہ بھی موجود ہے جو کوٹہ سے زیادہ دور نہیں ہے وہاں پر ایک ہزار سال پرانا ایک کنواں پایا جاتا ہے۔ اس

Read more

رانا سانگا اور سلاطین دلی کا میدان جنگ: گڑگاؤں

مجھے 1999 میں بھارت کا یک طویل سفر کرنے کا موقع ملا۔ اس سفر میں جو دیکھا اس کا احوال پیش خدمت ہے۔ دہلی سے پہلے ہم ایک ایسے علاقے سے گزر رہے تھے جس کا تاریخ میں بارہا ذکر آیا ہے۔ موجودہ دور میں بھی اس کی اہمیت میں بے حد اضافہ ہوا ہے۔ میرے ایک انتہائی پیارے دوست یاسین خان صاحب کے آبا و ٔ اجداد کا تعلق بھی اسی علاقے سے تھا۔ اس علاقے کے بارے میں

Read more

جنگ میں شکست کی صورت میں ہندو خواتین کی اجتماعی خودکشی اور ریاست جھال

ہندو دھرم میں ایسی اجتماعی خودکشی کو جوہر کہتے ہیں۔ یہ ستی کی طرح ایک رسم ہے۔ تاریخی کتب میں اس بارے میں مختلف روایات ملتی ہیں۔ کچھ لوگوں نے لکھا ہے کہ یہ رسم اس وقت شروع ہوئی جب یونانیوں نے ہندوستان پر حملہ کیا تھا۔ کچھ نے یہ لکھا کہ یہ رسم صرف اس صورت میں ادا کی جاتی تھی جب مسلمان اور ہندو راجپوتوں کی لڑائی ہوتی تھی۔ ایک مؤرخ یہ بھی لکھتا ہے کہ یہ رسم

Read more

ریاست جاورہ

ریاست جاورہ ( Joara) ہندو مسلم دوستی کے لیے مشہور پختون نواب کی ریاست جہاں کئی سو سال پرانا تعزیہ بھی موجود ہے۔ جنوں اور بھوتوں سے نجات حاصل کرنے کی ایک درگاہ ہماری ٹرین رتلم سے روانہ ہوئی تو اس وقت رات کے بارہ بج چکے تھے۔ میرے سوا سب لوگ سو رہے تھے۔ میں بھی کتاب پڑھنے میں مصروف تھا۔ میں نے پڑھا کہ اس علاقہ میں ایک ریاست ایسی بھی تھی جس کے حکمران افغان تھے۔ اس

Read more

اندور: مہارانی اہلیا بائی ہلوک، مرہٹے، جاٹ اور مغل حکمران

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے, جب ہماری گاڑی رتلم سے نکلی تو میں نے نقشے میں دیکھا کہ ہم مدھیہ پردیش میں داخل ہو رہے ہیں۔ یاد رہے کہ ہم دلی سے چنائی جاتے ہوئے مدھیہ پردیش کے مشرق سے گزرے تھے اور اب ہم اس کے مغرب سے گزر رہے تھے۔ ہمارے بائیں طرف راجستھان جب کہ دائیں طرف مدھیہ پردیش تھا۔ میں نے کتاب

Read more

ایک بہادر راجپوت جنرل رتن سنگھ کا شہر، مست ہاتھی اور شاہجہاں

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے میں نے اپنے زیرِ مطالعہ کتاب میں پڑھا کہ رتلم جو کہ وسطی بھارت کا ایک قصبہ ہے کے رہنے والے ایک بہادر راجپوت رتن سنگھ نے شاہجہاں اور اس کے درباریوں کو ایک مست ہاتھی کے ہاتھوں مرنے سے بچایا تھا۔ اس کی بہادری سے خوش ہو کر شاہجہاں نے اسے رتلم میں ایک بڑی جاگیر دے دی۔ اس کے

Read more

موڈاسا

موڈاسا: لاہوری صوفی کے ہاتھوں ایک ہندو راجہ کا مسلمان ہونا۔ تاتہ ٹوپے۔ جنگِ آزادیٔ کا ہیرو۔ اورنگزیب کی جائے پیدائش۔ اس پورے سفر میں مجھے جس بات کا مسلسل احساس ہو رہا تھا وہ یہ تھی کہ اب شاید ہی کبھی دوبارہ ان علاقوں کا دورہ کرنے کا موقع ملے۔ اس لیے میں کوشش کرتا تھا کہ زیادہ سے زیادہ علاقے دیکھوں۔ میں سونے کی ناکام کوشش کرنے کے بعد دوبارہ ریل کے دروازے کے پاس کھڑا ہو کر

Read more

قدیم ہندوستانی شہر دوارکا

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے چند سال پہلے اس علاقے کے سمندر سے کچھ آثار قدیمہ ملے جن کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ یہاں پر کبھی ایک عظیم شہر ہوا کرتا تھا۔ اس کا نام کیا تھا، وہ لوگ کون تھے، یہ ابھی تک کسی کو معلوم نہیں ہو سکا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان آثار میں کوئی بھی ایسی چیز

Read more

تاریخ کا دوسرا صفحہ

ڈیورنڈ لائن : جسے آج تک افغانستان نے تسلیم نہیں کیا جو قیامِ پاکستان کی وجہ بھی بنی ڈیورنڈ لائن بارے بہت سی کتابیں اور مقالے لکھے گئے ہیں۔ ان میں ایک European Foundation for South Asian Studies (EFSAS) , Amsterdam نے بھی شائع کیا ہے جس کا عنوان ہے ؛ The Durand Line – A razor ’s edge between Afghanistan & Pakistan اس کے علاوہ ایک مقالہ جسے ارکا بسواس نے Durand Line: History, Legality & Future کے عنوان

Read more

دوارکا: ہندوؤں کاایک متبرک مقام

دوارکا ، شمال مغربی بھارت  میں گجرات کا ایک صدیوں پرانا شہر ہے۔ یہ شہر دریائے گومتی کے دائیں کنارے پر اوکھمنڈل جزیرے کے مغربی کنارے پر واقع ہے۔آبادی کے لحاظ سے یہ ایک چھوٹا شہر ہے۔ ہندوؤں کے مذہبی نقطۂ نظر سے یہ شہر ایک اہم مقام  رکھتاہے۔ دوارکا کا  ایک تعارف قدیم دور میں  لارڈ کرشنا کی وجہ سے بھی ہے۔ تاریخی حوالوں کے مطابق اسے  گجرات کا پہلا دارالحکومت مانا جاتا ہے۔اس شہر کے نام کا لفظی

Read more

دوارکا: ایک اڑھائی ہزار سال پرانا مندر، سمندر میں ڈوبا ہوا نو ہزار سال پرانا شہر

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ میرے پاس موجود کتاب میں بھارت کے بارے لکھا تھا کہ بھارت کے مغرب میں دوارکا نامی ایک شہر ہے، جو احمد آباد سے کئی سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ اس شہر کی دو اہم خصوصیات ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں پر لارڈ کرشنا کا بنایا ہوا اڑھائی ہزار سال پرانا مندر ہے۔ جہاں ہر سال لاکھوں ہندو

Read more

احمد آباد: پہلی ہندوستانی ٹیکسٹائل مل مختلف طرز کی مساجد کا شہر

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے جب ہم بڑودا سے گزر رہے تھے تو اس وقت رات کے نو بج چکے تھے اور اکثر لوگ سونے کے لیے جا چکے تھے۔ میں نے بھارت کے نقشے میں دیکھا کہ بڑودا سے احمد آباد سو کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ ہمارے لیے اس شہر کو دیکھنا ممکن نہ تھا لیکن میں سمجھتا ہوں کہ اس کا

Read more

سومناتھ میں واقع ایک مسجد اور وہاں کا احوال

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے سومناتھ کا مندر گجرات کے مغربی ساحل پر سوراشٹر میں ویراول کے قریب واقع ہے۔ یہ علاقہ کبھی ریاست جوناگڑھ کا حصہ تھا۔ اس مندر کے بارے میں یہ خیال کیا جاتا ہے کہ شیو کے بارہ مندروں میں سے پہلا مندر ہے۔ یہ گجرات کا ایک اہم سیاحتی و مذہبی مقام ہے۔ متعدد حملہ آوروں اور حکمرانوں کے اسے بار

Read more

بڑودا کے گائیکواڈ حکمران مہاراجہ کھنڈراؤ، سیاسی رہنما بی آر امبیدکر اور کولمبیا یونیورسٹی

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے رات نو بجے کے قریب ہماری ٹرین بروڈ ترا ریلوے سٹیشن پر پہنچی۔ سب لوگ سونے کی تیاری کر رہے تھے لیکن میں اس شہر کی ایک جھلک دیکھنے کے لیے پلیٹ فارم پر اترا۔ میں نے دیکھا کہ وہاں ایک خاص وضع قطع والے بہت سے لوگ موجود تھے۔ پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ سب لوگ کسی مندر میں

Read more

بھروچ: بھارت کا دوسرا قدیم شہر

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے بھروچ شہر اور اس کے گردونواح کے علاقے قدیم زمانے سے آباد ہیں۔ نیشنل انفرمیشن سنٹر انڈیا (nic.in ) کے مطابق سمندر کے کنارے واقع ہونے کی وجہ سے اس شہر میں بحری جہاز بنائے جاتے تھے۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ فرعونوں کے دور میں بھی یہ علاقہ آباد تھا اور یہاں مصر سے بھی لوگ آتے تھے۔ یہ

Read more

ملک امبر: ایک حبشی غلام جس نے ہندوستان میں پہلی افریقی ریاست قائم کی

دکن کا تاج محل: جسے اورنگزیب نے اپنی بیوی کی یاد میں بنوایا 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے چاند بی بی کی موت 1600 ء میں ہوتی ہے جس کے بعد مغلوں نے احمد نگر فتح کر کے راجہ کو قید کر لیا لیکن ملک امبر اور احمد نگر کے دیگر عہدیداروں نے مغلوں کے خلاف اپنی جنگ جاری رکھی۔ انھوں نے ایک اور شہر کو

Read more

سلطانہ چاند بی بی

سلطانہ چاند بی بی: ہندوستان میں پہلی مسلمان خاتون حکمران، ملک عنبر: ایک حبشی غلام جس نے ہندوستان میں پہلی افریقی ریاست قائم کی، دکن کا تاج محل: جسے اورنگزیب نے اپنی بیوی کی یاد میں بنوایا سولہویں صدی کے آغاز میں ملک احمد شاہ کی موت کے بعد ، ان کے بیٹے برہان جس کی عمر صرف سات سال تھی کو تخت پر بٹھایا گیا۔ اس کے بعد تخت کے لیے کئی جنگیں ہوئیں۔ اس دوران بیجاپور سلطنت کے

Read more

نواساری: جہاں اکبر کی دی ہوئی زمین پر ایک قدیم لائبریری قائم ہے

اورنگ آباد سید مودودی کی جائے پیدائش، اورنگزیب کا دکنی تاج محل۔ سورت کے ساتھ ہی ایک اور شہر بھی ہے جسے سورت کا جڑواں شہر بھی کہتے ہیں۔ اس کا نام نوا ساری ہے۔ جب میں نے اس علاقے کی تاریخ پڑھی تو مجھے معلوم ہوا کہ یہاں دو اہم ترین واقعات رونما ہوئے جن کی وجہ سے نوا ساری ایک اہم شہر گردانا جاتا ہے۔ میں نے سوچا کہ ان واقعات کو آپ تک پہنچانا بھی ضروری ہے۔

Read more

گجرات اسٹیٹ، علا ؤالدین خلجی سے نریندر مودی تک

اب ہم دہلی سے چل کر ہریانہ، یوپی، سی پی، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کر ناٹکا اور مہاراشٹرا سے ہوتے ہوئے گجرات سے گزر رہے تھے، اس طرح یہ ساتویں اسٹیٹ تھی۔ سورت گجرات کا پہلا شہر تھا۔ آگے بڑھنے سے پہلے میں آپ کو گجرات کے ایک ایسے شہر کے بارے میں بتاؤں گا جہاں سینکڑوں کی تعداد میں مختلف کیمیکلز بنانے کے پلانٹ لگائے گئے۔ میرے علم کے مطابق کسی ایسے شہر میں جو بہت بڑا بھی نہ ہو

Read more

ایک لٹے پٹے ہندو خاندان کی نقل مکانی کی داستان

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے جب ہماری گاڑی سورت سے روانہ ہوئی اس وقت رات کے آٹھ بج رہے تھے۔ گاڑی میں موجود خدمت پر مامور صاحب نے کچھ دیر پہلے ہی ہم سے ہمارے کھانے سے متعلق پوچھ لیا تھا۔ سب نے اپنی پسند بتائی۔ کھانا کھاتے کھاتے تقریباً رات کے نو بج گئے تھے۔ ساتھ بیٹھے باقی لوگوں سے بھی ہماری گپ شپ شروع

Read more

کچھ ذکر سورت کا

سورت: ایک قدیم شہر جو دو دفعہ جلایا گیا، جہاں ستر فیصد لوگ انٹر نیٹ استعمال کرتے ہیں، جہاں سب سے پہلے انگریز آئے۔ 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے ممبئی میں ہمارا قیام بہت ہی مختصر مدت کا تھا۔ اس دوران مجھے اپنے کاروبار کے سلسلے میں بھی کچھ لوگوں سے ملنا تھا اس لیے ہم تفصیل سے ممبئی کو نہ دیکھ سکے۔ سن دو ہزار

Read more

ممبئی لوکل ٹرین میں ایک جان لیوا سفر۔ جو اب تک یاد ہے

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے اس سے پہلے کہ میں آپ کو ٹرین کے سفر کے بارے میں بتاؤں میں چاہوں گا کہ ممبئی ٹرین کی ایک مختصر تاریخ آپ کے سامنے رکھی جائے۔ ہندوستان میں ریل کی تاریخ پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ آنند کمار چوہدری اور ڈاکٹر سری نواس راؤ نے History of Rail Transportation and Importance of Indian Railways (IR) Transportation

Read more

ایک ٹیکسی ڈرائیور اور بھارت کا ٹیکس سسٹم

ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے 1999 ایک دن مجھے ایک صاحب سے ملنے کے لیے ہوٹل سے کافی دور جانا تھا۔ ہوٹل انتظامیہ سے راہنمائی حاصل کی۔ تو انھوں نے مجھے یہ کہا کہ اگر آپ ٹیکسی پر جاتے ہیں تو بہت وقت لگ سکتا ہے۔ راستے میں رش بھی ہوتا ہے لیکن سفر مشکل نہیں ہوتا۔ اگر آپ برداشت کر سکتے ہیں تو لوکل ٹرین پر

Read more

شیوا جی ریلوے سٹیشن جو کبھی وکٹوریہ ریلوے سٹیشن تھا

ممبئی کا مرکزی ریلوے سٹیشن جسے عام طور پر وکٹوریہ ریلوے سٹیشن کہا جاتا ہے مصطفی ہوٹل سے بہت ہی قریب تھا۔ ایک دن ہم اس کی سیر کے لیے چلے گئے۔ یہ سٹیشن بھارت کا قدیم ترین ریلوے سٹیشن ہے اور اس کا شمار دنیا کے مصروف ترین ریلوے سٹیشنز میں کیا جاتا ہے۔ گیان پرکاش نے اپنی کتاب Mumbai Fables میں اس ریلوے سٹیشن کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے۔ وہ لکھتے ہیں (صفحہ 47 ) کہ

Read more

کشور گپتا – بھارت میں رشوت سے بچنے کی ایک کہانی

کشور گپتا: ممبئی میں میرے میزبان کے والدین کی ایک دلچسپ کہانی۔ نیکی کا پھل تو میٹھا ہی ہوتا ہے۔ اس میں ہمارے لیے بھی ایک سبق ہے میں پاکستان میں کیمیکلز کی خرید و فروخت کا کام کرتا تھا۔ اس سلسلے میں، میں نے ممبئی میں واقع دیوی انڈسٹریز کے مالک کشور گپتا سے رابطہ کیا۔ مجھے ممبئی کے ویزے کے لیے ان کی طرف سے دعوتی خط درکار تھا جو انھوں نے بھجوا دیا۔ ان کے اس خط

Read more

ممبئی کے پاس سمندر میں واقع چھ سو سال پرانی حاجی علی کی قبر

ممبئی میں جو چند بہت مشہور جگہیں ہیں ان میں ایک حاجی علی کی درگاہ بھی ہے جو ممبئی کے مرکزی سٹیشن سے زیادہ دور نہیں ہے۔ یہ درگاہ کئی لحاظ سے بے حد اہم اور منفرد ہے۔ ازبکستان میں پندرہویں صدی کے آغاز میں ایک امیر آدمی رہتے تھے۔ خواب میں انھیں کوئی اپنی مدد کے لیے پکار رہا تھا۔ ایسا خواب انھیں بار بار آ رہا تھا۔ اس خواب کا ذکر انھوں نے اپنی والدہ محترمہ سے کیا

Read more

مصطفی ہوٹل بمبئی

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے اب تک ہم جن ہوٹلز میں بھی ٹھہرے ان میں سے کوئی بھی ہوٹل کسی مسلمان کا نہیں تھا۔ اس سے بظاہر کوئی فرق تو نہیں پڑتا لیکن اگر آپ کسی ایسے ہوٹل میں ٹھہرتے ہیں جن کے مالکان مسلمان ہوں تو وہاں پر آپ کو بہت ساری سہولیات خود بخود میسر آ جاتی ہیں مثلاً کھانے میں یقینی طور گوشت

Read more

ممبئی تقسیم ہند کے بعد : بھارت کا معاشی کیپیٹل

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے تحریک آزادی میں ممبئی کے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ اس بات کا تفصیلی ذکر اوشا ٹھاکر اور سندھیا مہتا نے اپنی کتاب Gandhi in Bombay: Towards Swaraj میں کیا ہے۔ ان کے مطابق اس ممبئی میں آزادی کی تحریک نے اس وقت زور پکڑا جب 1915 ء میں گاندھی جنوبی افریقہ سے واپس اس شہر آئے اور ان

Read more

ممبئی: جسے خوابوں کا شہر بھی کہتے ہیں

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے بھارت جانے سے پہلے میرا ممبئی کی ایک کیمیکل کمپنی سے رابطہ ہو گیا تھا۔ کمپنی کے مالک کشور گپتا نے ہمارے لیے مصطفی ہوٹل میں بکنگ کروا دی تھی۔ یہ ہوٹل ممبئی شہر کے مرکز میں واقع تھا اور ریلوے سٹیشن سے زیادہ دور بھی نہیں تھا۔ ہم ریلوے سٹیشن سے مصطفیٰ ہوٹل پہنچ گئے۔ مصطفی ہوٹل کے مالک ایک

Read more

جنوبی بھارت کا رہن سہن: ایک خاتون کی زبانی

ہمارے ہاں عام طور پر خواتین اپنے ہاتھوں میں انگوٹھیوں کا استعمال کرتی ہیں۔ میں نے پہلی مرتبہ دیکھا کہ ہمارے ساتھ سفر کرنے والی خاتون نے اپنے پاؤں کی انگلیوں میں بھی انگوٹھیاں پہن رکھی تھیں۔ اب انھیں انگوٹھی کہاں جائے یا کچھ اور معلوم نہیں لیکن میں نے یہ پہلی مرتبہ دیکھا اور اس کے بعد مجھے کبھی بھی ایسا دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔ میں نے خاتون سے بات کرتے ہوئے پوچھا ہے کہ ہمارے ہاں جب

Read more

کلیان: پہلی ہندوستانی ڈاکٹر خواتین کا شہر

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے دوپہر بارہ بجے کے قریب ہم پونا پہنچے۔ پونا کا تاریخ میں اہم مقام ہے۔ بھارت کے تیسرے دورے پر مجھے پونا آنے کا موقع ملا تھا۔ میں اس شہر کا تفصیلی تعارف میں اس سفرنامہ کے تیسرے حصہ میں کروں گا۔ اب میں آپ کو کلیان کے بارے میں کچھ بتانا چاہتا ہوں۔ ممبئی سے ساٹھ کلومیٹر پہلے کلیان نام

Read more

سولہ پور جس نے 1930 ء میں آزادی کا اعلان کر دیا تھا

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے صبح کے سات بج رہے تھے ہماری ٹرین سولہ پور پہنچ گئی۔ دن کی روشنی میں مجھے وہ شہر دیکھنا نصیب ہو رہا تھا جس کے ساتھ ہندوستان کی تاریخ کا ایک اہم منفرد اور جرات مندانہ واقعہ جڑا ہوا ہے۔ میرے ساتھی بھی بیدار ہو چکے تھے۔ ہمارے ساتھ سفر کرنے والی خاتون اور ان کے بچے بھی جاگ گئے

Read more

گلبر مسلمانوں کی عظمت کی ایک نشانی ہے

گلبر مسلمانوں کی عظمت کی ایک نشانی ہے، جہاں خواجہ بندہ نواز کا مزار بھی ہے، جہاں اب بھی چالیس فیصد سے زائد مسلمان رہتے ہیں۔ 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ آندھرا پردیش کا آخری ضلع کرنول تھا اور ہم نے اس کے ایک اہم شہر اڈونی سے گزر کر ریچر سے ہوتے ہوئے یاد گر کو بھی دیکھا۔ ریچر کرناٹک کا پہلا ضلع ہے اور

Read more

ہندوستان کا سفر: ریچر – جہاں اشوک نے بھی حکومت کی

ریچر : جہاں اشوک نے بھی حکومت کی رات کا ایک بج رہا تھا۔ سب لوگ گہری نیند سو رہے تھے۔ میں جاگنے کی کوشش میں مصروف تھا۔ میری صرف ایک ہی خواہش تھی کہ آگے آنے والے شہر ریچر کی ایک جھلک ضرور دیکھ لوں۔ ایسا کرنے کی سب سے اہم وجہ یہ تھی کہ مجھے بڑی دیر بعد ایک ایسا علاقہ دیکھنے کا موقع مل رہا تھا جہاں اشوک کے دور میں پتھروں پر لکھی ہوئی تحریریں موجود

Read more

جنوبی ہند میں واقع تین ہزار سال پرانا اڈونی قلعہ جہاں افریقی شیدی حکمرانی کرتے تھے

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے ہماری گاڑی رات بارہ بجے کے بعد اڈونی سے گزرنی تھی۔ ٹائم ٹیبل دیکھنے سے مجھے معلوم ہوا کہ ہماری ٹرین اڈونی سٹیشن پر کچھ دیر کے لیے رکے گی۔ اس علاقے کی تاریخ پڑھتے ہوئے جو چند باتیں مجھے بہت ہی عجیب و غریب لگیں ان میں سے کچھ کا تعلق اڈونی سے بھی تھا۔ یہ شہر دلی سے دو

Read more

سلطان ٹیپو : ریاست میسور کا آخری شہید حکمران

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے حیدر علی نے گورم کنڈا کے نواب کی بیٹی فخرالنسا ءسے شادی کی جن کے بطن سے ٹیپو سلطان کی پیدائش ہوئی۔ اس طرح چتور ٹیپو سلطان کا ننھیال بھی بنتا ہے۔ شام ہو چکی تھی اور اس وقت ہماری ٹرین ٹیپو سلطان کے ننھیال سے گزر رہی تھی۔ سب لوگ کھانے کا انتظار کر رہے تھے اور میں سلطان ٹیپو

Read more

حیدر علی: ایک دور اندیشں بہادر انسان جس نے انگریزوں کا تن تنہا مقابلہ کیا

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ ہم اس علاقے سے گزر رہے تھے جو کبھی حیدر علی کی ریاست میں تھا۔ میں تصور ہی تصور میں اس دور میں چلا گیا جب حیدر علی تن تنہا انگریزوں، مرہٹوں اور نظام حیدر آباد کا مقابلہ کر رہا تھا۔ حیدر علی کی زندگی کے بارے چند معلومات آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ حیدر علی کی تاریخ پیدائش سے

Read more

بالی وڈ اور کولی وڈ: فلم انڈسٹری کے دو بڑے مراکز جو ایک دوسرے کے مد مقابل بھی ہیں

چنائی سے ممبئی جاتے ہوئے ریل گاڑی میں میری ملاقات بھارتی فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب سے ہوئی۔ میں نے ان صاحب سے فلم انڈسٹری بارے کچھ معلومات حاصل کیں۔ ان کا خلاصہ پیش خدمت ہے۔ سب میں سے پہلے فلم انڈسٹری سے تعلق رکھنے والے انبوہ صاحب سے ہونے والی گفتگو کا خلاصہ بیان کرتا ہوں۔ عام طور پر تامل لوگوں کے نام کافی طویل ہوتے ہیں۔ میں انھیں انبوہ کے نام سے پکارتا تھا جو

Read more

خلیج بنگال پر واقع میرینا بیچ

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے کانفرنس کے اختتام پر شرکاء کے لیے انتظامیہ نے میرینا بیچ پر ایک یاد گار شام کا اہتمام کیا۔ اس کے ایک دن بعد ہماری روانگی تھی۔ ابھی بھی بہت کچھ دیکھنا باقی تھا کہ روانگی کا وقت بھی آن پہنچا۔ وقت ہمیشہ ہی کم ہوتا ہے۔ انتظامیہ کی طرف سے مہیا کی گئی سواری کے ذریعے ہم تینوں دوست مرینا

Read more

شمالی اور جنوبی ہندوستان : زمینی، معاشی و معاشرتی فاصلے

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے بھارت اٹھائیس ریاستوں اور آٹھ مرکزی علاقہ جات پر مشتمل ایک ملک ہے۔ آبادی کے لحاظ سے اس کی سب سے بڑی ریاست اتر پردیش ہے جس کی آبادی بیس کروڑ جبکہ رقبہ اڑھائی لاکھ مربع کلو میٹر ہے۔ اس کی آبادی پاکستان کے برابر اور رقبہ میں کم و بیش تین گنا کم۔ سب سے کم آبادی والی ریاستوں میں

Read more

مدراس کا ایک قدیم روایتی گیت اور رقص:  اعضا کی ناقابلِ فراموش شاعری

1999ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ ٹیکسٹائل کانفرنس چنائی کے ایک فائیو سٹار ہوٹل میں منعقد ہوئی جس میں چالیس ممالک سے سو کے قریب لوگ شریک ہوئے۔ پاکستان سے ہم تین لوگ تھے۔ جن میں عمر صاحب اور میرے علاوہ کریسنٹ گروپ کے ایک ڈائریکٹر بھی شامل تھے۔ انھوں نے ایک سیشن کی صدارت بھی کی ، جو ہمارے لیے ایک اعزاز تھا۔ کانفرنس میں بے شمار

Read more

مدراس: ہندوستان کا معاشی مرکز

میں آپ کو یہ بتانا چاہوں گا مدراس شہر کب آباد ہوا اور کن لوگوں نے اسے آباد کرنے میں اپنا کردار ادا کیا اس وقت یہ شہر کن باتوں کے لیے مشہور ہے اور بھارتی معاشی اور معاشرتی ترقی میں یہ کتنا اہم کردار ادا کر رہا ہے؟ ایک پرتگیزی سیاح، واسکوڈے گاما 1498 ء میں ہندوستان آیا۔ اس سے ہندوستان اور پرتگال کے درمیان ایک رابطہ قائم ہو گیا۔ ایم این پیرسن نے اپنی کتاب The Portuguese in

Read more

تامل ناڈو اور وادی سندھ: جہاں پچیس سو سال پرانا ایک کھیل اب تک مقبول ہے

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ حال ہی میں ہندوستان ٹائم اخبار نے ایک رپورٹ شائع کی ہے۔ جس کے مطابق جدید ترین تحقیق سے یہ بات ظاہر ہو رہی ہے کہ تامل ناڈو اور وادی سندھ کی تہذیبوں میں بے حد مماثلت پائی جا رہی ہے۔ اب اس پر عالمی سطح پر بھی تحقیق شروع ہو چکی ہے۔ تامل ناڈو میں حالیہ کھدائی کے دوران ایک

Read more

ملک کافور اور علا الدین خلجی

ملک کافور: تامل ناڈو کی تاریخ کا ایک انمول کردار اور سندھ تہذیب اور تامل ناڈو میں ایک گہری مماثلت 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ تامل ناڈو کی تاریخ سے ایک ایسے کردار کا پتہ چلتا ہے جس کا نام میں نے پہلی مرتبہ سنا۔ اس کا نام ملک کافور تھا۔ اسے عزت تاج بھی کہتے تھے۔ یہ صاحب کون تھے اور انھوں نے کیا کیا

Read more

کیلے کی پتوں کی پلیٹ اور ہم

کیلے کی پتوں کی پلیٹ اور ہم : جنوبی بھارت کی ایک قدیم روایت اور ٹی نگر ایک مصروف ترین مارکیٹ 1999ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ چنائی پہنچ کر ہوٹل آنے کے بعد ہم نے کچھ دیر آرام کیا۔ اس لیے کہ ٹرین بھی آرام دہ ہونے کی وجہ سے زیادہ تھکاوٹ نہیں تھی اور رات میں نیند پوری کرنے کا بھی موقع مل گیا تھا۔ دوپہر

Read more

چنائی میں ہمارا ہوٹل

چنائی میں ہمارا ہوٹل :جو ایک سکھ کی ملکیت تھا، جہاں ڈیڑھ سو سالہ پرانا ریلوے سٹیشن بھی ہے، جہاں جنگ عظیم دوم نے جرمنوں نے حملہ بھی کیا 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ چنائی میں ہوٹل میں قیام بھی ایک دلچسپ تجربہ تھا۔ ہوٹل کا مالک پنجاب کا رہنے والا ایک سکھ تھا جو اتنی دور آ کر ایک ہوٹل چلا رہا تھا۔ ہوٹل کے

Read more

چنائی ریل

چنائی آمد : جو کبھی مدراس تھا، جہاں قلی بھی چار زبانیں بول سکتا تھا اور ریلوے سٹیشن پر خواتین قلی بھی موجود ہوتی ہیں۔ 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ ہماری ٹرین بروقت چنائی پہنچ گئی۔ ہم نے اپنے بھارتی ہمسفروں کو خدا حافظ کہا۔ اس وقت موبائل فون کا اتنا رواج نہیں تھا، اس لیے رابطے کا کوئی ذریعہ موجود نہ تھا۔ میرا مشاہدہ ہے

Read more

نواب آف آرکوٹ : جس نے 77 سال کی عمر میں انگریز کے لئے فرانسیسیوں کے خلاف جنگ میں جان دی

نیلور جہاں صدیوں سے ایک روٹی میلہ بھی لگتا ہے۔ 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ ہم آندھرا پردیش کے آخری بڑے شہر نیلور سے گزر رہے۔ اس علاقے کی تاریخ کا مطالعہ کرتے ہوئے مجھے معلوم ہوا کہ نوابز آف آرکوٹ نے ڈیڑھ سو سال سے زائد عرصے تک اس علاقے پر حکومت کی۔ آرکوٹ اب تامل ناڈو کا ایک اہم شہر ہے۔ اس قصبے کے

Read more

تینالی دلی سے ہزاروں میل دور :کھدر اسماعیل اور ہاجرہ اسماعیل کا شہر

تینالی دلی سے ہزاروں میل دور :کھدر اسماعیل اور ہاجرہ اسماعیل کا شہر، جہاں کبھی مسلم لیگ کا دفتر بھی تھا۔ یہ شہر کبھی بھی مجوزہ پاکستان کا حصہ نہیں بن سکتا تھا، لیکن پھر یہاں مسلم لیگ کی سیاسی سرگرمیاں کیسی تھیں؟ 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ رات کافی بیت چکی تھی، سب لوگ سو رہے تھے اور میری جاگنے کی ہمت بھی ختم ہو چکی

Read more

تلنگانہ: جہاں اردو دوسری سرکاری زبان ہے

ایک دلچسپ بات۔ اردو جہاں سے شروع ہوئی وہاں اردو سرکاری زبان نہیں ہے 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ رات بہت زیادہ گزر چکی تھی اور میں کچھ نیند بھی پوری کر چکا تھا۔ ایک تو سفر میں مجھے نیند بھی کم آتی ہے اور دوسرا سیاحت کا شوق بھی مجھے سونے نہیں دیتا۔ اس لیے ایک ہزار سال پرانے شہر وجیا وادہ کو دیکھنے کے

Read more

ریاست حیدر آباد

ریاست حیدر آباد: مسلمانوں کی ایک شاندار ریاست جس نے ٹیپو سلطان کے مقابلے میں انگریزوں کا ساتھ دیا اور غلام ہندوستان کی بنیاد رکھی 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ دکن کو مغلیہ سلطنت کا حصہ بنانے کے لیے شاہ جہاں نے اپنے بیٹے اورنگزیب کو دکن فتح کرنے کا حکم دیا تھا۔ شاہجہاں کے حکم پر اورنگزیب نے یہاں کئی علاقے فتح کیے اور ان

Read more

وارنگل: کوڑے کو کارآمد بنانے والا بھارتی شہر

وارنگل : وسطی بھارت کا ایک ایسا شہر جہاں سو فیصد کوڑا کرکٹ اکٹھا کر کے اسے دوبارہ قابل استعمال بنایا جاتا ہے دہلی سے پندرہ سو کلو میٹر دور : جہاں کبھی مارکو پولو بھی آیا تھا، جسے سلاطین دہلی نے فتح بھی کیا ٹائم ٹیبل سے معلوم ہوا کہ ہم تقریباً نو بجے کے قریب وارنگل سٹی کے ریلوے سٹیشن پر دو منٹ کے لیے رکیں گے۔ یہ جان کر مجھے بہت خوشی ہوئی۔ اس کی کئی وجوہات

Read more

دکن کی مسلمان ریاستیں

دکن کی مسلمان ریاستیں : جن کا طرز حکومت مغلوں سے کہیں بہتر تھا۔ جس کی سب ہی قدر کرتے ہیں۔ 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ بھارت کے جنوب میں ایک بہت بڑا علاقہ ہے جسے دکن کہا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ اصل لفظ دکھن، جس کا مطلب جنوب ہوتا ہے اور اتر کا مطلب شمال ہے، جیسے اتر پردیش۔ اسی طرح سے پورب

Read more

بابا امتے: خدمت کا ایک نشان اور اس کا آنند وان

آنند وان، جہاں ہزاروں کوڑھ کے مریضوں کو رکھا جاتا ہے۔ اور ان سے ان کی استطاعت کے مطابق کام بھی لیا جاتا ہے 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ مہاراشٹرا ایک ایسا علاقہ ہے جہاں ہندو اکثریت میں ہیں اور ان کے قدیم شہر بھی اسی علاقے میں واقع ہیں۔ مہاراشٹرا سے متعلق معلومات حاصل کرتے وقت مجھے پتہ چلا کہ بلہار پور کے قریب وارورہ

Read more

سیوا گرام

سیوا گرام ایک چھوٹا سے گاؤں دہلی سے ہزاروں کلو میٹر دور جہاں مہاتما گاندھی نے زندگی کے آخری بارہ سال گزارے۔ ایسا وہاں کیا تھا 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ ناگپور سے اسی کلومیٹر کے فاصلے پر واردہ شہر کے ساتھ ایک گاؤں سیوا گرام واقع ہے۔ اس گاؤں کو دیکھنے کی میری شدید خواہش تھی۔ اس کی وجہ اس گاؤں کا مہاتما گاندھی سے

Read more

ناگپور: جہاں آر ایس ایس نے جنم لیا

ناگپور: ہندو قوم پرستوں کا ہیڈ کوار ٹر۔ جہاں آر ایس ایس نے جنم لیا جو آج مسلمانوں کی سب سے بڑی دشمن ہے 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ کھانے کے بعد سب لوگوں نے کچھ دیر آرام کیا اور پھر وہی کتاب، اخبار، رسالہ اور باتیں۔ ہماری ٹرین دو بجے کے قریب ناگپور پہنچ گئی۔ میں نے ناگپور سٹیشن سے متعلق پڑھا تھا کہ یہ

Read more

بھوپال جہاں پختون خواتین ایک عرصہ تک حکمران رہیں

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ ہم صبح کے وقت بھوپال پہنچے۔ میں نے بھوپال سے متعلق مختلف معلومات حاصل کیں، تو پتہ چلا کہ اس شہر میں 26 فیصد کے قریب مسلمان رہتے ہیں۔ شہر کی آبادی تقریباً ًپندرہ لاکھ ہے اور یہ ہندوستان کا سولہواں بڑا شہر ہے۔ اس طرح اس شہر میں چار لاکھ سے زائد مسلمان رہتے ہیں۔ اس شہر کی جھیلوں، باغات

Read more

رانی جھانسی: جنگ آزادی کی ایک ہیروئن، جسے مرنے کے بعد بھی کوئی انگریز چھو نہ سکا

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ اگر آپ کو یاد ہوتو جنگ آزادی میں انگریزوں کے خلاف جن لوگوں نے حصہ لیا ان میں ایک نام رانی جھانسی کا بھی تھا۔ اس وقت رانی جھانسی کا نام بہادری کی نشانی بن گیا اور اب تک ہے۔ بھارت میں ان کے نام پر متعدد ناول لکھے گئے اور کئی فلمیں بھی بنائی گئیں۔ جھانسی شہر میں ان کے

Read more

گوالیار قلعہ : ایک تاریخی قلعہ جہاں شیخ احمد سرہندی کو جہانگیر نے قید کیا

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔

دہلی سے چلتے وقت رنبیر صاحب نے ہمیں ریلوے سٹیشن کے ایک سٹال سے انڈین ریل کا ایک ٹائم ٹیبل لے کر دیا۔ جب انھوں نے ہمارے لیے یہ ٹائم ٹیبل خریدا تو مجھے یاد آیا کہ ہم اپنے بچپن میں کبھی کبھار ایسا ہی ٹائم ٹیبل خریدتے تھے جو پاکستان ریلوے شائع کرتا تھا۔ اب کیا صورت حال ہے؟ وہ معلوم نہیں۔ اس میں مختلف ٹرینوں کی آمدو رفت سے متعلق لکھا ہوتا تھا۔ جب میں نے انڈین ریل کے ٹائم ٹیبل کو دیکھا تو مجھے معلوم ہوا کہ ہماری ٹرین رات دو بج کر بتیس منٹ پر گوالیار میں تین منٹ کے لیے رکے گی۔ میں نے سوچا کہ دو ڈھائی گھنٹے کی نیند کے بعد میں سٹیشن پر کچھ دیر کے لیے اتروں گا۔

Read more

سردار دل جیت سنگھ پوٹھوہاری: کیمبل پور کے زمیندار کی بھارت نقل مکانی کی غمناک داستان

1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ ہم تینوں دہلی سے چنائی جانے کے لیے ایک ٹرین میں سوار ہوئے۔ ہمارے کیبن میں سردار دل جیت سنگھ پوٹھوہاری بھی تھے۔ سردار صاحب کے آبا و اجداد کا تعلق کیمبل پور ، موجودہ اٹک کے پاس کسی گاؤں سے تھا۔ سردار صاحب کی عمر لگ بھگ چالیس سال تھی۔ ان کے والدین تقسیم ہند کے وقت کیمبل پور سے

Read more

سمت کاشی سے چلا جانب متھرا بادل

متھرا: ہندوستان میں ہندوؤں کا ساتواں مقدس ترین شہر جسے اورنگزیب نے اسلام آباد کا نام بھی دیا تھا۔ 1999 ء میں ہندوستان کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ ہم تینوں دوست آگرہ کے قلعے سے باہر نکلنے کے بعد کافی دیر خاموش رہے، جس کی وجہ صرف شاہجہاں کا واقعہ تھا۔ بالآخر میں نے خاموشی توڑی اور کہا کہ وہ جو تخت کی خواہش مند نہیں تھی، اسی نے محبت

Read more

آگرہ قلعہ: جہاں ایک عظیم مغل بادشاہ نے قید میں آخری سانس لیے

1999 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ تاج محل کے شمال مغرب میں دریا کے ساتھ آگرہ کا قلعہ موجود ہے۔ تاریخ سے پتا لگتا ہے کہ سولہویں صدی کے آغاز میں سکندر لودھی نے اپنا پایہ تخت دلی سے آگرہ منتقل کیا تھا۔ جب بابر نے پانی پت میں لودھی کو شکست دی تو اس نے دلی میں رہنے کی بجائے آگرہ میں رہنے کو ترجیح دی۔

Read more

تاج محل : جسے محبت کرنے والے جوڑے اسے ایک خاص انداز سے دیکھتے ہیں

1999 ء میں بھارت کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ چند سال پہلے میں نے ایک یورپی سیاح کا ایک قول پڑھا جس نے کہا تھا کہ دنیا میں دو طرح کے لوگ رہتے ہیں، ایک وہ جنھوں نے تاج محل دیکھا ہے اور دوسرے وہ جنھوں نے تاج محل نہیں دیکھا۔ چند لمحوں کے بعد ہم ان لوگوں میں شامل ہونے جا رہے تھے جنھوں نے تاج محل دیکھا تھا۔

Read more

شاہ جہاں: مغلوں کا ایک عظیم شہنشاہ اور معمار جو قید میں مرا

1999ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ اکبر بادشاہ کی زندگی ہی میں 1592ء جہانگیر کے ہاں  تیسرے بیٹے کی ولادت ہوئی۔ اکبر نے اپنے اس پوتے کا نام شہاب الدین محمد خرم تجویز کیا۔ یاد رہے کہ شہاب الدین محمد خرم نے اپنے لیے شاہ جہاں جس کا مطلب ہے زمانوں کا بادشاہ کا لقب پسند کیا تھا اور اب وہ اسی نام سے جانا جاتا ہے۔ مغل

Read more

آگرہ: ایک شہر بے مثال، جہاں تاج محل بھی ہے اور اسے بنانے والا قید بھی رہا

سنہ 1999 ء میں ہندوستان کا ایک طویل سفر کیا جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ آگرہ کا تاج محل ہماری اصل منزل تھا۔ جیسے ہی ہم آگرہ پہنچے، اس شہر نے بھی ہمیں بے حد متاثر کیا۔ ہم تاج محل سے مناسب فاصلے پر بس سے اتر گئے۔ تاج محل کو آلودگی سے بچانے کے لیے ایک خاص مقام سے آگے کوئی گاڑی نہیں جاتی۔ وہاں پر ایک الیکٹرک گاڑی موجود تھی جو

Read more

تین مورتی: انگریز فوج کے سپہ سالار کی رہائش گاہ اور کناٹ پیلس انگریزوں کی یاد گار عمارتیں

1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ تین مورتی جب انگریزوں نے نئی دہلی کو آباد کیا تو انھوں نے وائسرائے کی رہائش گاہ کے ساتھ ساتھ برطانوی آرمی چیف کی رہائش گاہ بنانے کا بھی فیصلہ کیا اس مقصد کے لیے ایک بڑی عمارت بنائی گئی۔ اس عمارت کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس کے مرکزی دروازے پر تین سپاہیوں کے مجسمے بنائے گئے ہیں۔ بظاہر تو

Read more

قطب مینار اس دور کے فن تعمیر کا ایک شاہکار

کیا وجہ ہے کہ شمالی ہندوستان کی پہلی بڑی مسجد قوت الاسلام میں نماز کی اجازت نہیں ہے؟ 1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ قطب مینار آٹھ سو سال پرانا ایک تاریخی مینار ہے جو نیو دہلی کے مغرب میں علاقہ مہرولی میں بنایا گیا تھا۔ مہرولی میں قطب مینار کے ساتھ مسجد قوت الاسلام بھی موجود ہے۔ اس کے ساتھ وہاں پر اور بھی کئی پرانی

Read more

انڈیا گیٹ – ہندوستانی کس وجہ سے برطانوی فوج میں بھرتی ہوتے تھے؟

انگریز کی خاطر جان دینے والے ستر ہزار ہندوستانیوں، جنہیں میں کبھی بھی احترام نہ دے سکا، کی یاد میں بنایا گیا انڈیا گیٹ انڈیا گیٹ ان ستر ہزار ہندوستانی افراد کی یاد میں بنایا گیا ہے جنھوں نے 1914 ء سے 1921 ء تک جنگ عظیم اول اور اس کے ساتھ ساتھ افغانستان کے ساتھ انگریزوں کی لڑائیوں میں سلطنت برطانیہ کے پرچم کو بلند رکھنے کے لیے اپنی جانیں قربان کی تھیں۔ ان ستر ہزار افراد کا تعلق

Read more

حضرت نظام الدین اولیا، امیر خسرو اور مرزا غالب کے مزارات

1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ سید محمد نظام الدین اولیاء ان بزرگان دین میں سے ہیں جنھوں نے ہندوستان میں اشاعت اسلام میں بے حد اہم کردار ادا کیا ہے۔ انھیں محبوب الہی بھی کہا جاتا ہے۔ آپ بدایوں میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد محترم آپ کے بچپن میں ہی وفات پا گئے تھے۔ والد کی وفات کے بعد آپ کی والدہ آپ کو لے

Read more

ہمایوں کا مقبرہ: جہاں آخری مغل شہنشاہ کو اس کے بیٹوں کے سر پیش کیے گئے

آج کے دن میں نے دہلی میں موجود چند تاریخی مقامات پر جانے کا پروگرام بنایا۔ میری پہلی منزل ہمایوں کا مقبرہ تھا۔ ہمایوں کا پورا نام نصیر الدین محمد ہمایوں ہے۔ آپ کی پیدائش 1508 ء میں ہوئی۔ کہا جاتا ہے کہ آپ بچپن میں سخت بیمار ہو گئے تھے۔ آپ کے والد، ظہیرالدین بابر جو ہندوستان میں مغل سلطنت کے بانی ہیں، نے منت مانی کہ ان کی زندگی ان کے بیٹے کو لگ جائے۔ ظہیرالدین بابر بیمار

Read more

بہائی: وہ مذہب، جو انسانی اتحاد کو سب سے بڑی طاقت سمجھتا ہے

سنہ 1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے بہائی مذہب کی بنیاد انیسویں صدی کے وسط میں مرزا حسیان علی نوری نے رکھی تھی، جسے بہا اللہ، خدا کی شان، کے نام سے جانا جاتا ہے۔ بہائی عقیدے کے لوگ یہ یقین رکھتے ہیں کہ بہا اللہ اور اس کا پیش رو خدا کے مظہر تھے۔ اس مذہب کے مطابق، تمام مذاہب اور انسانیت کا اتحاد ہونا نہایت

Read more

گردوارہ سیس گنج صاحب: اورنگزیب کے ہاتھوں گرو تیغ بہادر سنگھ کا قتل

1996ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ چاندنی چوک کی سنہری مسجد کے قریب ایک تاریخی گردوارہ موجود ہے جس کا نام سیس گنج گردوارہ ہے۔ میری اگلی منزل یہی گردوارہ تھا۔ بھارت میں کسی بھی گردوارے میں جانے کا یہ میرا پہلا تجربہ تھا۔ لیکن اس سے پہلے کہ میں آپ کو گرودوارہ سیس گنج صاحب کے متعلق کوئی بات بتاؤں، میں آپ کو یہ بات واضح کرنا

Read more

لال قلعہ

لال قلعہ: جو کبھی قلعہ مبارک تھا، مغلوں کے سر کا تاج، جہاں بہادر شاہ ظفر بطور مجرم عدالت میں پیش ہوا۔ 1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ اردو بازار کے بعد میری اگلی منزل لال قلعہ تھا۔ لال قلعہ دیکھنے سے پہلے میں اس کے قریب سے گزرا تھا اور اس کی وسعت، بلند و بالا عمارت، بہترین ڈیزائن اور سرخ رنگ نے مجھے بے حد

Read more

دلی کا اردو بازار، ہندو کتاب فروش اور مسلمان کباب فروش

1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ اس وقت بھارت میں کتابیں شائع کرنے کے حوالے سے یہ سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ خاص طور پر اردو میں شائع ہونے والی زیادہ تر کتابیں اسی مارکیٹ سے ملتی ہیں۔ میں اپنے میزبان سے اجازت لے کر اردو بازار کی طرف چلا گیا تا کہ ایک تاریخی بازار کو قریب سے دیکھ سکوں۔ میرے اندازے کے مطابق یہ بازار

Read more

جامع مسجد دہلی، چاندنی چوک اور مرزا غالب کا محلہ بلی ماراں

1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک جب میں نے پہلی مرتبہ جامع مسجد کو دیکھا تو مجھے یوں لگا کہ جیسے میں لاہور کی بادشاہی مسجد کو دیکھ رہا ہوں۔ دونوں مساجد میں بہت زیادہ مماثلت پائی جاتی ہے۔ یہ مماثلت اس وجہ سے بھی ہے کہ دونوں ہی کے بنانے والے مغل بادشاہ تھے، یعنی شاہجہاں اور عالمگیر۔ ظہر کی نماز کے وقت مسجد کے شمال مشرقی کونے

Read more

پرانی دلی، میرا ایک رومانس: اندرون دلی اور اندرون لاہور دو جڑواں شہر

1996 ء میں دہلی کے سفر میں جو جانا، جو سنا، جو سمجھا، اس کی ایک جھلک پیش ہے۔ مجھے پرانے شہروں سے ایک فطرتی انس ہے۔ اسی لیے مجھے پرانی گلیوں اور محلوں میں گھوم پھر کر بے حد خوشی ہوتی ہے اور میں تصور میں خود کو صدیوں پیچھے لے جاتا ہوں۔ جب کبھی میں نے دہلی کے متعلق سوچا تو اسے دیکھنے کی خواہش حد سے زیادہ بڑھ گئی کیونکہ دہلی کی بات ہی کچھ اور ہے۔

Read more

دہلی یا دلی: مغلوں سے انگریزوں تک، جس کا حسن ہی اس کا قاتل ٹھہرا

بھارت کے چار سفروں میں جو کچھ دیکھا، سمجھا، سنا اس کی ایک جھلک دہلی ان شہروں میں سے ہے جس کے دو نام ہیں، دہلی اور دلی۔ انگلش میں لکھتے وقت اسے دہلی لکھا جاتا رہا ہے جبکہ پنجابی، ہندی، اردو میں اسے دلی لکھا جاتا رہا ہے۔ اب بھی عام بول چال میں لوگ اسے دلی ہی کہتے ہیں۔ اردو شاعری میں یہ بات بہت واضح ہے کہ اس شہر کو دلی ہی کہا جاتا رہا ہے۔ اب

Read more

قرول باغ دہلی: جہاں کبھی مسلمان اکثریت میں رہتے تھے

سنہ 1996 میں مجھے دہلی جانے کا موقع ملا۔ اس دورے میں میں دن قرول باغ بھی۔ وہاں کیا دیکھا، پیش خدمت ہے۔ قرول باغ نئی دہلی سے کچھ فاصلے پر واقع ہے۔ بیسویں صدی کے آغاز پر جب انگریزوں نے دلی کو پایہ تخت بنانے کا فیصلہ کیا تو اس کے ساتھ ہی انھوں نے اس علاقے کے اندر ایک بڑی مارکیٹ جس کا نام کناٹ پیلس ہے، کو بھی بنانے کا منصوبہ بنایا۔ کناٹ پیلس کے علاقہ میں

Read more

ایک عمر رسیدہ ہندو خاتون: جس کے دل میں اب تک ماڈل ٹاؤن بستا ہے

1996 میں مجھے دہلی جانے کا موقع ملا۔ اس دورے میں ایک عمر رسیدہ ہندو خاتون سے ملنے کا اتفاق ہو جس کا جم پل لاہور کا تھا۔ وہ ایک امیر خاندان سے تعلق رکھتی تھی۔ ان کی رہائش ماڈل ٹاؤن میں تھی۔ تقسیم ہند کے نتیجہ میں بے سرو سامان ایک مسلمان خاتون کی مہربانی سے اپنے خاندان کی جان بچا کر ہندوستان جانے میں کامیاب ہوئی۔ اس سے ملاقات کی روداد پیش خدمت ہے۔ شام چار بجے کے

Read more

بنی اسرائیل سے اسرائیل تک تین مذاہب کا مرکز : قسط نمبر 13

اوسلو معاہدہ اب تک ہونے والے معاہدوں میں اوسلو معاہدے کو ایک بڑا اور اہم ترین معاہدہ سمجھا جاتا ہے۔ یہ معاہدہ امریکی صدر بل کلنٹن کی موجودگی میں، پی ایل او کے چیئرمین یاسر عرفات اور اسرائیلی وزیراعظم اضحاک رابن کے درمیان اوسلو میں 1993 میں کیا گیا۔ اسی وجہ سے اسے اوسلو معاہدہ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کی سب سے اہم بات یہ ہے کہ پی ایل او کے صدر جناب یاسر عرفات نے اسرائیل کے وجود

Read more

بنی اسرائیل سے اسرائیل تک تین مذاہب کا مرکز: قسط نمبر 12

فلسطین کا نقطۂ نظر فلسطینیوں کا یہ کہنا ہے کہ ان کی سرزمین پر اسرائیل کا قیام کسی بھی شکل میں قابل قبول نہیں ہے لیکن اب ایسا ہو چکا ہے اسی لیے اب ان کی اس سوچ میں فرق بھی آیا ہے۔ یاد رہے فلسطین کے بہت سے گروہوں میں (جیسے پی ایل او اور حماس) میں بھی آپس میں ان معاملات پر اختلاف پایا جاتا ہے۔ فلسطین نے مختلف ادوار میں جو معاہدے کیے ان معاہدوں کے مطابق

Read more

فلسطینی مزاحمتی تنظیمیں: قسط نمبر 11

اسرائیل کے مقابلے کے لیے فلسطینیوں نے کئی تنظیمیں بھی بنائیں۔ جن میں سے تین تنظیمیں کافی مشہور ہوئیں۔ ان کے نام کچھ اس طرح سے ہیں : فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) ، فتح اور حماس۔ ان تینوں کا ایک مختصر تعارف پیش خدمت ہے۔ حماس: ایک اسلام پسند تنظیم حماس جس کا عربی میں پورا نام ”حرکۃ المقاومۃ الاسلامیۃ“ ہے، اس کا مخفف حماس بنتا ہے۔ اسے انگلش میں Islamic Resistance Movement بھی کہا جاتا ہے۔ بنیادی

Read more

بنی اسرائیل سے اسرائیل تک تین مذاہب کا مرکز : قسط 10

2019 میں کیے گئے ایک سروے کے مطابق ایسے لوگوں کی تعداد جو اپنی شناخت ایک یہودی کی حیثیت سے کرواتے ہیں، ان کی دنیا بھر میں تعداد 14.7 ملین ہے جو کہ دنیا کی کل آبادی کا صرف 0.2 فیصد ہے۔ انہیں (Core Jews) کہا جاتا ہے۔ کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کے والدین میں سے ایک یہودی تھا انہیں (Connected Jews) کہا جاتا ہے۔ ایسے یہودیوں کی تعداد 17.9 ملین بنتی ہیں۔ ایک تیسری طرح کے یہودی

Read more

عرب اسرائیل پہلی جنگ 1948- قسط نمبر 9

کسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں تھا کہ تقسیم فلسطین کے نتیجے میں اس خطے میں ایک جنگ کا آغاز ہو جائے گا۔ یہ سب کیسے ہوا اور اس دوران کیا کیا اہم واقعات پیش آئے، اس کا ایک مختصر تذکرہ پیش خدمت ہے۔ 29 نومبر 1947 کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے ایک قرارداد منظور کی جس میں فلسطین کے برطانوی مینڈیٹ کو دو ریاستوں ( ایک عرب اور ایک یہودی) اور یروشلم شہر میں تقسیم

Read more

بنی اسرائیل سے اسرائیل تک تین مذاہب کا مرکز: قسط نمبر 8

اقوام متحدہ اور اسرائیل میں نے پچھلے صفحات میں اس موضوع پر بات کی ہے کہ کس طرح جنگ عظیم اول اور دوم میں یہودیوں نے انگریزوں اور روسیوں کی مدد کی جس کے نتیجے میں انہوں نے ان کے لیے ایک الگ وطن کی کوششوں میں تعاون کا وعدہ کیا۔ اسی وعدے کی پاسداری کی خاطر برطانیہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے منعقدہ اجلاس میں 15 مئی 1947 کو ایک درخواست پیش کی جس میں کہا گیا

Read more

اسرائیل میں یہودیوں کی نقل مکانی: قسط نمبر 7

اب تک جو بات میں نے پچھلے صفحات میں کی ہے اس کا تعلق صہیونی تحریک سے تھا۔ اس تحریک کے آغاز سے قبل اور بعد میں کس طرح یہودی نقل مکانی کر کے اسرائیل میں آباد ہوئے، یہ بھی جاننے کے لائق ہے۔ اگر میں یہ کہوں کہ پچھلے دو ہزار سال سے یہودی کبھی بھی یروشلم کی محبت سے آزاد نہیں ہوئے تو یہ غلط نہ ہو گا۔ البتہ یہ بات کہی جا سکتی ہے کہ انیسویں صدی

Read more

صہیونی تحریک: آغاز سے اب تک قسط 6

عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ انیسویں صدی میں صہیونی تحریک کا آغاز ہوا۔ اس تحریک کا مقصد فلسطین کو تقسیم کر کے یہودیوں کے لیے ایک الگ ملک کا حصول تھا۔ جیسا کہ میں نے پچھلے صفحات میں ذکر کیا ہے کہ یہودی ایک عرصہ سے ایسا چاہتے تھے، وہ ایک الگ بات ہے کہ تھیوڈر (Theodor Herzl) کو موجودہ صہیونی تحریک کا بانی مانا جاتا ہے۔ اسرائیل کا قیام اسی تحریک کا ایک کار نامہ سمجھا

Read more

یہودیوں کی فلسطین میں آمد – قسط 5

اب تک ہم اس پر بات کر چکے ہیں کہ یہودیوں کو ایک عیسائی بادشاہ نے دوسری صدی عیسوی میں فلسطین سے نکالا اور وہ چوتھی صدی عیسوی میں ایرانیوں کی مدد سے ایک مختصر عرصے کے لیے فلسطین میں آئے لیکن انہیں جلد ہی یہاں سے رخصت ہونا پڑا۔ مگر پھر بھی وہ ایک قلیل تعداد میں یہاں موجود ضرور رہے۔ پھر انہوں نے یہاں آباد ہونے کے لیے ایک طویل مدتی منصوبہ بنایا۔ اس منصوبہ کے تحت وہ

Read more

بنی اسرائیل سے اسرائیل تک تین مذاہب کا مرکز : قسط نمبر 4

دور دوم :فلسطین، حضرت عیسیٰ علیہ السلام سے لے کر مسلمانوں کی آمد سے پہلے تک فارس کے حکمرانوں کے زوال کے بعد اہل یونان نے اس علاقے پر اپنا راج شروع کیا جس کا آغاز سکندر سے ہوا اس نے مصر کے بعد فارس پر بھی قبضہ کر لیا۔ پھر ایک وقت آیا کہ جب دوسری صدی عیسوی میں یہ خطے رومن سلطنت کا حصہ بن گیا۔ اس دوران ایک مرتبہ پھر یہود یہاں سے نقل مکانی کر گئے

Read more

بنی اسرائیل سے اسرائیل تک تین مذاہب کا مرکز: قسط نمبر 3

بیت اللحم فلسطین کا ایک اہم شہر (Bethlehem) بیت اللحم، ویسٹ بنک کا ایک بڑا شہر ہے۔ یاد رہے کہ یروشلم کا مشرقی حصہ بھی ویسٹ بنک میں شامل ہے۔ اس کی آبادی پچیس ہزار کے قریب ہے۔ یہاں پر عیسائیوں کے بھی کئی مقدس مقامات موجود ہیں۔ یہ بات بھی واضح ہونا بہتر ہے کہ یروشلم اور بیت اللحم کا درمیانی فاصلہ دس کلومیٹر سے بھی کم ہے۔ اس لیے یہ علاقے آپس میں ملے ہوئے ہیں۔ فرق صرف

Read more

بنی اسرائیل سے اسرائیل تک تین مذاہب کا مرکز قسط نمبر 2

تل ابیب: اسرائیل کا دارالحکومت اسرائیل کا دوسرا بڑا شہر تل ابیب ہے۔ اس کی آبادی قریباً پانچ لاکھ ہے۔ یہ شہر اسرائیل کی مغربی سرحد پر بحیرہ روم کے ساحل پر واقع ہے۔ اسے اسرائیل کا معاشی، معاشرتی، تعلیمی اور سیاسی کیپیٹل بھی کہا جاتا ہے۔ اس کا اندازہ آپ اس بات سے لگا سکتے ہیں کہ عالمی مالیاتی انڈیکس میں یہ شہر 25 ویں نمبر پر ہے۔ اس شہر میں واقع یونیورسٹی میں تیس ہزار سے زائد طلباء

Read more

تین مذاہب کا مرکز – قسط اول

ڈاکٹر مشتاق احمد مانگٹ کی کتاب ”بنی اسرائیل سے اسرائیل تک“ قسط وار مضامین کی صورت میں پیش کی جا رہی ہے۔ یہ کتاب اسرائیل کی قدیم تاریخ سے جدید دور تک کا ایک مختصر احاطہ کرتی ہے۔ حرف آغاز فلسطین ایک قدیم خطے زمین ہے جہاں انسان نے صدیوں پہلے رہنا شروع کیا تھا۔ اس خطے کی تاریخ اور موجودہ دور میں یہودیوں اور مسلمانوں کے درمیان پائے جانے والے مسائل کا ایک مختصر جائزہ پیش خدمت ہے۔ میں

Read more