ہم دیکھیں آزاد تجھے


وطن عزیز پاکستان نے اپنی زندگی کے 76 برس مکمل کر لیے۔ یہ 76 سال اس وقت اہمیت اختیار کر جائیں گے جب لمحے لمحے اور قطرے قطرے کا حساب کیا جائے گا مہلت عمر برف کی مانند پگھل رہی ہے ہر سال یوم آزادی سوالیہ نشان ہے، ہر شہری سے، ہر فرد سے، وطن کے نام لیواؤں سے کیا ہم آزاد ہیں؟

ماہ مبارک کی ستائیسویں شب، جس میں رب کائنات نے مسلمانوں کو ٓزاد اسلامی ریاست کی صورت میں نعمت عظمیٰ سے نوازا تھا۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان انگریزوں کی غلامی، ہندو اکثریت کی بالا دستی سے آزادی اللہ کا معجزہ تھا کیوں کہ بر صغیر کے مسلمانوں سمیت دنیا بھر کے مسلمان جس کمزوری کا شکار تھے، اس وقت ایک آزاد مسلم ریاست کی بات کرنا سورج کو چراغ دکھانے کے مترادف تھا لیکن رب کا احسان عظیم کہ اس نے بر صغیر کے منتشر مسلمانوں کو قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں ایک لڑی میں پرو دیا۔

مسلمانوں کے اتحاد کا سبب وہ روح پرور نعرہ پاکستان کا مطلب کیا لا الہ اللہ، جس کو بلند کر کے اپنے رب سے عہد لیا تھا الگ خطہ زمین پر حکم الہٰی کے مطابق نظام حکومت تشکیل دیں گے یہ مملکت مسلم امہ کے لیے نظریاتی تجربہ گاہ ہوگی جہاں مسلمانوں کے نظریہ حیات کا نفاذ ہو گا اور عقیدہ و نظریہ ہی مسلمانوں کے اقتصادی سیاسی معاشی معاشرتی سماجی حقوق کے تحفظ کا ضامن ہو گا۔ یوں 14 اگست یوم تجدید عہد ہے جو 76 سال قبل وطن کے حصول کے لیے کیا گیا تھا۔

14 اگست۔ 1947 کو ایک آزاد مسلم ریاست پاکستان کے وجود میں آتے ہی وطن عزیز کے مسلمانوں کا امتحان شروع ہو گیا کہ وہ مسلم ریاست کو اسلامی ریاست میں تبدیل کرتے ہیں یا نہیں۔ آج آزادی کے 76 سال اس امتحان میں ناکامی کا ثبوت ہیں، ایک ایک لمحہ ایک ایک ساعت اس نعمت عظمی کی ناقدری و ناشکری کی داستان سنا رہا ہے۔ آزادی کے پہلے 24 سالوں میں سقوط ڈھاکہ کا المیہ ہوا اور ایک بازو مشرقی پاکستان بنگلہ دیش بن کر اس طعنے کی نذر ہو گیا کہ نظریہ پاکستان خلیج بنگال میں غرق ہو گیا ہے۔ مزید طرہ کہ وقت کے آلہ کار حکمرانوں کا طرز عمل کہ صرف ایک ٹیلی فون کال پر بچی کھچی آزادی کا بھی سودا کر لیا اور رہی سہی آزادی و خود مختاری و اقتدار اعلیٰ سے بھی پاکستان دست بردار ہو گیا۔

11 ستمبر کے بعد سے آج تک کا ہر دن ماضی کی غلامی سے بد تر ہوتا جا رہا ہے۔ نجانے کتنی سعید روحیں امریکی تعذیب خانوں میں ظلم و ستم کا شکار ہو کر رب کے پاس پہنچ چکی ہیں۔ لا قانونیت قانون بن شکی ہے اور فوجی آمریت نے قومی اداروں کو تباہ کرنے کے ساتھ بد عنوان سیا ست دانوں کی بھی پرورش کی جن کے تسلط کے زیر اثر آج پاکستان کی شناخت بد عنوان ملک کی بن گئی ہے۔ جمہوریت اور آئین توڑنے والوں کے گٹھ جوڑ نے ملک ہی کو توڑ ڈالا ہے۔

آئین کا احترام تو ہر شہری پر واجب ہے لیکن فوجی آمریت نے سرزمین پاکستان کو بے آئین بنانے میں کسر نہیں چھوڑی۔ نظریاتی و شعوری لحاظ سے تہی دامن مفاد پرست، بد دیانت و مغرب کے آلہ کار حکمرانوں نے عملاً عوامی تقاضوں کو پامال کر کے آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کی غلامی میں جکڑ کر اقتصادی بحران میں مبتلا کر دیا ہے بھوک افلاس بے روزگاری آسمان کو چھوتی مہنگائی سے تنگ آ کر خود کشی کے واقعات روز افزوں ہیں مہنگائی کے ہوشربا طوفان نے عوام کو زندگی سے نالاں کر دیا ہے لوگ ضروریات زندگی بجلی گیس پانی کے لیے ترس رہے ہیں جبکہ اربوں روپے محض غیر ملکی دوروں حکمرانوں کی عیاشیوں اور بے معنی پروٹوکول کی نظر ہو جاتے ہیں

لمحہ فکریہ ہے کہ با اثر شخصیات کے نہ صرف اربوں کے قرضے معاف کر دیے گئے بل کہ ارباب اختیار کے ساتھ گھپلے کر کے ملکی دولت کو خوب لوٹا گیا اور ان سب کے باوجود آج بھی ان با اثر شخصیات کا شمار ملک کی وی آئی پی اشرافیہ میں ہے۔ عوام پس رہی ہے، علاج معالجہ کی سہولیات میسر نہیں، امن ندارد ہے، رہ زنی لوٹ مار قتل و غارت گری لوٹ مار ٹارگٹ کلنگ، کی وارداتوں نے کتنے ہی معصوم غنچوں کو یتیم، نوجوان سہاگنوں کو بیوہ اور لاکھوں والدین کے بڑھاپے کے جوان سرمائے کو ختم کر کے معاشرے کو خاکستر کر دیا ہے۔

نا عاقبت اندیش حکمرانوں کی غلط پالیسیوں نے حالیہ بارشوں میں عوام کو ان کی جان و مال سے محروم کر دیا ہے۔ ٹوٹی سڑکیں، جابجا کچرے کے ڈھیر، گندے ابلتے گٹر، کھلے مین ہول نے بھی معصوم جانوں کو نگلنے میں کسر نہیں چھوڑی ہے۔ روشنیوں کا شہر کراچی جو عروس البلاد کہلا تا تھا آج اس پر ماحول کی آلودگیوں کی گرد پڑ چکی ہے اسلامی تاریخ ایسے کتنے ہی واقعات سے پر ہے جہاں وقت کے حکمران سادہ زندگی بسر کرتے تھے لیکن اپنی رعایا کی فلاح و بہبود سے غافل نہ تھے۔ حضرت عمر فاروق کا مشہور قول کہ اگر فرات کے کنارے کوئی کتا بھی پیاسا مر جائے تو عمر اس کا ذمہ دار ہے۔

پاکستان کے مطالبے کا جذبہ محرک اسلام کی زندہ قوت تھی، اسی میں مسلمانوں کی قومی شناخت، ترقی، تہذیب، تعلیم میں مضمر تھی۔ لیکن افسوس اسلام سے دوری، مغربی چکاچوند، عقیدے و عمل کی گمراہی، اور تعلیمات نبوی سے دوری نے سوھنی دھرتی کی آزادی کو مسخ کر دیا ہے۔ اب بھی وقت ہے جب تک جسم و روح کا رشتہ باقی ہے۔ مہلت عمل بھی باقی ہے۔ اسلام سے وابستگی امانت و دیانت دار سیاسی قیادت کا انتخاب، عادل حکمرانوں کا چناؤ، سرحدوں پر تعینات آمریت سے پاک فوج جو پوری یکسوئی کے ساتھ ایمان پروری، پاکیزہ اقدار و روایات اور اسلاف کی بیش بہا قربانیوں کے نتیجے میں حاصل ہونے والے وطن کی نگہبانی کر سکیں، نیز نسل نو کو عریانی و فحاشی سے پاک معاشرہ بنانے میں ارباب اختیار سمیت والدین و اساتذہ اپنا کلیدی کردار ادا کریں تو انشااللہ سوھنی دھرتی ضرور حقیقی آزادی سے ہمکنار ہو گی۔

Facebook Comments HS

One thought on “ہم دیکھیں آزاد تجھے

  • 14/08/2023 at 11:01 صبح
    Permalink

    نوحہ آزادی

Comments are closed.