ایشیا بحر الکاہل کا خطہ موسمیاتی بحرانوں کی زد میں
اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ ایشیا بحرالکاہل کے خطے کو موسمیاتی آفات کے خلاف اپنے دفاع کو مضبوط بنانے کے لیے ایک اہم وقت کا سامنا ہے۔ اقوام متحدہ کے اقتصادی اور سماجی کمیشن برائے ایشیا و بحرالکاہل (ایس کیپ) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق 2022 میں خطے میں 140 سے زائد آفات رونما ہوئیں جن کے نتیجے میں 7500 ہلاکتیں ہوئیں اور 57 ارب ڈالر کا معاشی نقصان ہوا۔
ایشیا پیسفک ڈیزاسٹر رپورٹ 2023 میں پیش گوئی کی گئی ہے کہ دو ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت میں اضافے کے تناظر میں خطے کو سالانہ ایک ٹریلین امریکی ڈالر یا جی ڈی پی کے تین فیصد کے قریب نقصان اٹھانا پڑ سکتا ہے۔ اس تباہی کو روکنے اور سخت محنت سے حاصل کردہ ترقیاتی فوائد کی حفاظت کے لئے فوری اقدامات انتہائی اہم ہیں کیونکہ آفات کا خطرہ مطابقت پذیر صلاحیتوں سے تجاوز کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کی انڈر سیکریٹری جنرل اور ایس کیپ کی ایگزیکٹو سیکریٹری ارمیڈا سالسیا علیسجہبانا نے کہا ہے کہ جیسے جیسے درجہ حرارت میں اضافہ جاری ہے، آفات کے نئے ہاٹ اسپاٹ ابھر رہے ہیں اور موجودہ ہاٹ اسپاٹس شدت اختیار کر رہے ہیں۔
انہوں نے مزید کہا، ”قدرتی آفات کی ہنگامی صورتحال جاری ہے، اور ہمیں لچک پیدا کرنے کے لئے اپنے نقطہ نظر کو بنیادی طور پر تبدیل کرنا ہو گا۔ ایس کیپ نے کثیر خطرات والے پیشگی انتباہ کے نظام میں سرمایہ کاری میں اضافے کی ضرورت پر روشنی ڈالی، جس میں آفات کے نقصانات کو 60 فیصد تک کم کرنے کی صلاحیت ہے۔ بیان میں خطے پر بھی زور دیا گیا ہے کہ وہ 2027 تک سب کے لیے پیشگی انتباہ حاصل کرنے کے لیے علاقائی حکمت عملی کے ساتھ ساتھ تبدیلی لانے والے اقدامات کی حمایت کریں۔
عالمی ادارہ موسمیات نے جولائی کے اوائل میں پیش گوئی کی تھی کہ 2023 کی دوسری ششماہی میں النینو کے جاری رہنے کے 90 فیصد امکانات ہیں، جس سے درجہ حرارت کے ریکارڈ ٹوٹ جائیں گے اور سمندروں سمیت دنیا کے بہت سے حصوں میں شدید گرمی پڑ سکتی ہے۔
فضائی اور آبی آلودگی سمیت مٹی میں نباتات کی کمی، جنگلات کی کٹائی اور مستقبل میں اس کی کمی، آبادی میں اضافہ، قدرتی وسائل میں کمی اور گلوبل وارمنگ جیسے بڑے مسائل سے نمٹنا ساری دنیا کے لیے ضروری ہے۔ عالمی سطح پر گلوبل وارمنگ کے ساتھ ساتھ آبی، فضائی اور مٹی میں ہونے والی آلودگی دنیا بھر میں بسنے والے اربوں انسانوں کی صحت اور غذا کو جس انداز میں متاثر کر رہی ہے وہ بھی خطرے کی وہ گھنٹی ہے جو اب بج چکی ہے۔ اس خطرے سے ایسے وقت میں نمٹنا اور بھی مشکل ہے جب ماحولیاتی تبدیلی، آبادی میں اضافہ، جنگلات میں کمی سمیت قدرتی وسائل میں کمی جیسے بڑے مسائل دنیا کے سامنے نہ عبور ہونے والی رکاوٹوں کے طور پر کھڑے ہوں۔
ایسے حالات میں ماحولیاتی تحفظ کا مسئلہ عالمی دنیا کی توجہ کا مرکز ہے اور اس ضمن میں کئی اقدامات بھی گزشتہ چند برسوں میں کیے گئے ہیں لیکن جس رفتار سے ماحولیات کا مسئلہ شدت اختیار کر رہا ہے اس کے مطابق کوششیں کم محسوس ہوتی ہیں


