یومِ آزادیِ پاکستان یا یومِ سازشِ تقسیمِ مسلمان


یہ کرۂ ارض خشکی کے 7 بڑے قطعات، جنہیں ”برِ اعظم“ کہا جاتا ہے، پر محیط ہے۔ اور بوجہ حُجّم، تاجِ برطانیہ کے تسلط کے خاتمے تک، اس خطہ کو ہندوستان کے ساتھ ساتھ ”برِ صغیر ہند“ بھی کہا جاتا تھا۔ دستیاب انسانی تاریخ کے اوراق بتاتے ہیں کہ اس ”برِ صغیر ہند“ پر انسان کا وجود حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی آمد سے بھی کم و بیش 58 سو سال قبل سے ہے۔ جبکہ یہاں پہلا ”مسلمان“ 28 ویں ہجری سال یا 649 ء (حضرت عیسیٰ علیہ سلام کو عرش پر اٹھائے جانے کے 649 سال بعد) پہنچا۔

649 سنِ عیسوی میں پہلا مسلمان برِصغیر پہنچا، اور پھر سن 1858 ء میں ”ایسٹ انڈیا کمپنی“ کی آمد تک، کم و بیش 1000 سال، اس خطہ ہندوستان یا برِصغیر ہند پر مختلف مسلمان خاندانوں کی حکومت رہی۔ 58 سو سال سے مقیم ”باسیوں“ پر کم و بیش 1 ہزار سال ”خارجیوں“ یا باہر سے آئے ہوؤں نے، حکمرانی کی! مسلمان خاندانوں کی حکومت ایسی سر زمین پر رہی جہاں ”ہندو“ یا ”غیر مسلم“ کم و بیش 58 سو سال سے آباد تھے، بلا شرکت غیرے حکمران اور تمام سیاہ و سفید کے مالک تھے!

چونکہ ہندو 1 ہزار سال پہلے سے ہی محکوم اور مسلمانوں کی رعایا تھے، تو جب آخری مسلمان حکمران سے سلطنت ہند چھینی گئی تو تاجِ برطانیہ کے اصل ”محکوم“ صرف اور صرف ”مسلمان“ بنے، ہندؤوں کے لیے یہ معاملہ محض ”حاکم کی تبدیلی“ کا تھا۔

اب چونکہ تاجِ برطانیہ نے برِصغیر ہند کی سلطنت اور حکمرانی مسلمانوں سے چھینی تھی، تو لہٰذا انسانی جِبلّت کے تقاضوں کے عین مطابق اپنی چھینی گئی ”سلطنت اور حکمرانی“ کی تاجِ برطانیہ سے واپسی کے حُصول کی تمام تر کوشش، طاقت، حکمت اور مزاحمت بھی صرف اور صرف مسلمانوں نے ہی کرنی تھی۔

اس انسانی جِبلّت کا توڑ انگریز نے اُس حکمتِ عملی سے کیا جس کا ذکر اللّٰہ تعالی نے سورت النمل میں واقعہ حضرت سلیمان علیہ السلام بیان کرتے ہوئے فرمایا:

قَالَتۡ اِنَّ الۡمُلُوۡکَ اِذَا دَخَلُوۡا قَرۡیَۃً اَفۡسَدُوۡہَا وَ جَعَلُوۡۤا اَعِزَّۃَ اَہۡلِہَاۤ اَذِلَّۃً ۚ وَ کَذٰلِکَ یَفۡعَلُوۡنَ (سورۃ النمل آیت 34 )

ترجمہ: ”اس (ملکہ) نے کہا کہ بادشاہ جب کسی شہر میں داخل ہوتے ہیں تو اس کو تباہ کر دیتے ہیں اور وہاں کے عزت والوں کو ذلیل کر دیا کرتے ہیں اور اسی طرح یہ بھی کریں گے“

قابض انگریز نے بھی برِصغیر کے اس وقت کی باعزت، باوقار اور با اثر ایسی مسلمان شخصیات، جو کہ مسلمانوں میں سلطنتِ ہند کی واپسی کے حصول اور اس سلسلے میں درکار اجتماعی مِلّی طاقت و مزاحمت کی تحریک پیدا کر سکتی تھیں، کو ذلیل و رسوا کیا۔ اور جن شخصیات نے مسلمانوں کی اجتماعی مِلّی سوچ اور کوشش و طاقت کو منتشر کیا، بجائے مکمل ”سلطنتِ ہند“ کے حصول کے، ایک چھوٹے ٹکڑے (مُلک) کے حُصول کی سوچ دی اور ان کی کوشش کو چھوٹے ٹکڑے ہی کے حصول تک محدود کیا۔ تاجِ برطانیہ نے اُن شخصیات پر اِن خدمات کے صِلّے میں مختلف طرح اور طریقوں سے ”انعامات“ کی بارش کی۔

ایسی شخصیات کی عوام کی نظر میں اہمیت کو بڑھایا، بطور مسلمانوں کے ہمدرد کے ان کے ناموں اور کرداروں کی تشہیر کی۔ گھوڑوں کے دوڑنے تک زمینیں عطا کیں، ”سَر“ جیسے القابات سے نوازا!

تقسیمِ ہند ”کی نتیجے میں وجود میں آئی ریاستوں یا ممالک میں آج مسلمانوں کی تعداد 60 کروڑ اور ہندو 1 ارب 20 کروڑ کے لگ بھگ ہیں۔

سیکنڑوں سال قبل بھی یقیناً آبادی کا تناسب یہی رہا ہو گا، بلکہ شاید مسلمان اور بھی کم تناسب میں ہوں گے۔

اعداد کا یہ شمار چیخ چیخ کر بتا رہا ہے کہ خطہ برِصغیر ہند پر مسلمانوں نے خود سے دُگنی یا شاید اس سے بھی بڑی تعداد کے ہندوؤں یا غیر مُسلموں پر 1 ہزار سال تک حکمرانی کی، برسرِ اقتدار رہے!

آج اُسی خطے میں کبھی کے حکمران مسلمانوں کے معاشی، معاشرتی و اخلاقی احوال پر ایک نظر ملاحظہ فرمائیے اور پھر خود ہی فیصلہ کیجیئے کہ آیا 14 اگست 1947 ء *یومِ آزادی پاکستان* تھا یا *یومِ سازشِ تقسیمِ مسلمان! *

Facebook Comments HS