کھلی آنکھوں کا خواب۔ پہلا حصہ
فلائی بغداد کا چھوٹا سا طیارہ
بالآخر عراق اور دوبئی کا ویزا لگ کر آیا تو تیاری کے لیے ہمارے پاس محض دو چار دن تھے۔ ہم نے فٹافٹ بیگ تیار کیے اور کپڑوں کے بیچ اپنی پسندیدہ کتابیں رکھیں اور کچھ وہ کتابیں بھی بیگ میں ڈال دیں جنہیں پڑھ کر ان پر تبصرہ لکھنا تھا۔ مجھے کسی بھی سفر پر جانا ہو، چاہے مختصر ہو یا طویل، کتابیں لازماً ساتھ رکھتی ہوں۔ طویل اسفار میں اکثر جب وزن کا مسئلہ پیش آتا ہے تو کچھ کپڑے نکال دیتی ہوں مگر کتابیں نہیں بلکہ چپکے سے اپنے نصف بہتر کے بیگ میں بھی کچھ کتابیں رکھ دیتی ہوں جس پر وہ کڑھ کر رہ جاتے ہیں۔
اس دفعہ چوں کہ ہمیں عراق جانا تھا تو ہماری فلائٹ لاہور سے تھی۔ لاہور جانا اپنی جگہ ایک مسئلہ تھا مگر اب کیا ہو سکتا تھا۔ جانا تو تھا۔ سو ڈائیو سے سیٹیں بک کروائیں اور 7 جولائی کو روانہ ہوئے۔
رات بارش ہوئی تھی۔ موسم خوشگوار تھا اور درخت نکھرے نکھرے سے لگ رہے تھے۔ باہر موسم اچھا تھا تو گاڑی کا اے سی بھی برا لگ رہا تھا۔ سو وقفے وقفے سے اسے بند کرتے رہے۔ کلر کہار پر گاڑی رکی تو جمعہ کی نماز پڑھی۔ تازہ وضو کیا اور بس میں آ کر بیٹھے تو بھوک کا احساس ہوا۔ لوگ کے ایف سی اور میکڈونلڈ سے گرما گرم برگر لے کر آئے تھے اور اب سب ہی لوگ کھانے میں مصروف تھے۔ ہم نے بھی اپنا بیگ اٹھایا۔ قیمے کے سینڈوچ میرے لئے اور نسیم کے لئے بغیر گھی کے چھوٹا گوشت بھنا ہوا ہماری بہو افشین نے ساتھ کر دیا تھا کہ میں چکن اور برگر وغیرہ نہیں کھا سکتی۔ نسیم کو بھی ڈاکٹر نے چکنائی کھانے سے منع کر رکھا ہے، اس لئے ہم نے اپنا کھانا کھایا۔ بھوک میں اس کھانے کا بہت مزہ آیا بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ سواد آ گیا۔
کلر کہار کے خوبصورت مقام سے نکلے تو غنودگی نے آ لیا۔ سوتے جاگتے درود شریف پڑھتے سفر کٹا۔ مغرب سے کچھ پہلے لاہور ٹرمینل پر اُترے۔ ایک باریش ٹیکسی والے قریب آئے۔ انہوں نے متعلقہ مقام کا کرایہ ہزار روپے بتایا۔ ہم نے حسبِ عادت کہا اتنا زیادہ۔ ہماری جگہ تو قریب ہے۔ گوگل والی آنٹی کے مطابق دس پندرہ منٹ کا فاصلہ ہے۔ جی ایک تو نئی گاڑی ہے۔ پھر رات کے وقت رش ہوتا ہے اور سگنلز پر کافی دیر رکنا بھی پڑتا ہے۔ بات تو معقول تھی۔ اس نے جلدی جلدی بیگ رکھے۔ روانہ ہوئے تو پندرہ منٹ کے اندر اندر اپنی مطلوبہ جگہ پر پہنچ گئے۔ نہ کہیں سگنلز آئے، نہ کہیں ٹریفک جام والی سڑک آئی۔ ہم بہت آسانی سے جلدی پہنچ گئے تھے۔
اسے تو کچھ نہیں کہا مگر دل میں سوچا کہ اپنے لیڈروں کو کیا دوش دیں۔ عام آدمی کو بھی جہاں موقع ملتا ہے، وہ زیادتی کرتے ہوئے دریغ نہیں کرتا۔ خیر ایک شاندار گھر میں ملازم ہمارا منتظر تھا۔ دراصل یہ میرے بھائی تمثیل کے بہت امیر کبیر دوست کا گھر تھا جو زیادہ تر مہمانوں کے لئے مختص تھا۔ اندر داخل ہو کر ملازم نے سیڑھیوں کی طرف اشارہ کیا تو ہماری اوپر کی سانس اوپر اور نیچے کی نیچے رہ گئی کہ سفر سے پہلے ہی ٹانگوں کی بری حالت تھی۔
اب تو دوچار قدم چلتا ہوں تھک جاتا ہوں
زندگی تجھ سے بھی رفتار زیادہ تھی کبھی
کبھی میں دو دو سیڑھیاں پھلانگتی ہوئی چھت پر جایا کرتی تھی اور اب کہیں سیڑھیاں دیکھ کر ہی دل بیٹھ جاتا ہے۔ بہرحال مرتی کیا نہ کرتی کے مصداق ریلنگ کا سہارا لے کر سیڑھیاں چڑھ ہی گئی۔ سیڑھیوں پر دبیز قالین بچھا تھا۔ ساتھ لکڑی کی مضبوط ریلنگ نے اس مشکل کو آسان کیا۔ پُر آسائش خواب گاہ میں جا کر پہلے نماز پڑھی۔ پھر دن بھر کی تھکن کے بعد پاؤں پسارے تو اللہ کا شکر ادا کیا۔ ملازم نے کھانے کا پوچھا تو اتنی تھکاوٹ تھی کہ اسے کہا ایک کپ چائے لے آئے کھانا نہیں کھائیں گے۔ سخت تھکاؤٹ کے بعد گرم چائے کے ایک کپ کی بھی کیا طمانیت اور سرور ہے۔
کل صبح ساڑھے دس بجے فلائٹ تھی اور ہمیں 6 بجے گھر سے نکلنا تھا۔ اس لئے جلدی سو گئے۔ صبح نماز فجر کے بعد ناشتہ کیا اور دوائیاں کھا کر تیار ہوئے۔ نیچے آئی تو رم جھم بارش ہور ہی تھی۔ موسم بہت سہانا ہو رہا تھا۔ گھر کے برآمدے میں رکھے گملے، بیلیں اور درخت بارش میں نہا کر جیسے کھل کھلا رہے تھے۔ برستی بوندوں کی پھوار اور سوندھی خوشبو نے سرشار کیا۔ خالق کی حمد و ثنا سے روح کو آسودگی ملی مگر یہ سرشاری اور آسودگی فکر مندی میں بدل گئی۔ جب ملازم نے کہا کے اس وقت کوئی ٹیکسی نہیں مل سکی۔ کریم کو فون ملاتے رہے مگر بے سود۔ ملازم بے چارا دوبارہ ٹیکسی تلاش کرنے گیا اور اتنی دیر لگائی کہ ہاتھ پاؤں پھول گئے۔ پھر پریشان سا واپس آیا کہ ٹیکسی نہیں ملی۔ سوزوکی ڈبہ ہے۔ 2000 روپے مانگ رہا ہے، لے آؤں؟
نسیم نے مجھے دیکھا اور استفہامیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے کہا سوزوکی ڈبے میں چڑھ سکیں گی؟ مجبوری ہے۔ میں آگے بیٹھ جاؤں گی۔ ڈرائیور نے سامان رکھا اور روانہ ہوئے۔ ادھر گاڑی روانہ ہوئی ادھر ڈرائیور صاحب کی زبان نے بھی فراٹے بھرے۔ آج ہفتہ ہے اور صبح کا وقت ہے، اس لئے رش نہیں ہے ورنہ یہاں بہت دیر لگتی۔ اب جلدی پہنچ جائیں گے۔ آپ فکر نہ کریں۔ ائر پورٹ پہنچے تو وہ لپک کر ٹرالی لے آیا۔ بیگ اتار کر رکھے۔ تین ماہ پیشتر ہی نسیم کی انجیو پلاسٹی ہوئی ہے۔ ڈاکٹر نے وزن اٹھانے سے منع کر رکھا ہے۔ اس لئے بیٹی نے کہہ رکھا تھا کہ ائر پورٹ پر بندہ آپ کو لاؤنج تک لے جائے گا۔ تھوڑی دیر میں متعلقہ اہلکار نے آ کر ٹرالی پکڑ لی اور تیزی سے تمام مراحل طے کروائے اور سامان بک کروا کر آخری امیگریشن کاؤنٹر پر چھوڑ کر اجازت چاہی۔
ائر پورٹ اور ریلوے اسٹیشن ہمیشہ سے مجھے زندگی اور موت کا استعارہ لگتے ہیں۔ امیگریشن کے مراحل سے گزرتے دخول اور خروج کی مہریں لگواتے پل صراط کا خیال آتا ہے۔ جنت میں داخلے کے کیا کیا مرحلے ہوں گے۔ یا اللہ وہاں تو اپنے خاص فضل وکرم سے بغیر حساب کتاب کے لے جانا۔ الھم حاسبنی حسابا یسرا یا اللہ آسان حساب لینا۔ ان بندوں میں شامل کر لینا جو بجلی کی رفتار سے پل صراط پر سے گزر جائیں گے۔ میں حسب معمول ربنا کی دعاؤں کا ورد کرتی اور دعائیں مانگتی رہی۔ سفر کی خوشی کے ساتھ ساتھ ایک نامعلوم سی اداسی اور دل گرفتگی بھی ساتھ ساتھ رہتی ہے۔
تمام مراحل سے گزر کر اوپر لاؤنج میں پہنچے۔ نسیم نے پیسے دیے جا کر کچھ لے آئیں۔ کھانے پینے اور برگر ناشتے کی بہت سی دکانیں تھیں مگر چکن نہ کھانے کی وجہ سے میرے لئے سوائے چپس کے کچھ نہ تھا۔ سو ڈیڑھ سو کا چھوٹا ساٹن اور دس بیس روپے والا چپس کا پیکٹ سو روپے میں خرید کر کھانا شروع کیا تو چپس میں بھی نمک تیز لگا۔ وضو تازہ کر کے نفل پڑھے ہی تھے کہ بورڈنگ شروع ہو گئی۔
اندر داخل ہوئے تو جہاز بہت چھوٹا سا لگا۔ یہ فلائی بغداد کا چھوٹا سا طیارہ تھا جس میں زیادہ تر زائرین تھے۔ (جاری ہے )

