یہ بڑے کرم کے ہیں فیصلے

ہمارے حج پر جانے کا قصہ بھی بہت دلچسپ ہے۔ نسیم کو تو کب سے حج پر جانے کا شوق تھا اتنا کہ اسی شوق میں ڈبل سٹوری گھر اونے پونے بیچ ڈالا اور معاہدے کی پہلی شق شرط یہی رکھی کہ اس سال تمثیل حج کے لیے پیسے جمع کروائیں گے مگر با وجوہ یہ معاہدہ پایہ تکمیل تک نہ پہنچ سکا مجھے حج سے پہلے عمرہ کرنے کا شوق تھا اب سوچتی ہوں تو اپنی نادانی پہ ہنسی

Read more

مشکلیں اتنی پڑی مجھ پہ کہ آساں ہو گئیں (5)

بیٹا  اور بہو میرے ساتھ تھے اور وہ ہر طرح سے میری خبر گیری کر رہے تھے مجھے جو کچھ کھانے کو دیتے وہ چیز مجھ سے کھائی ہی نہیں جاتی۔ خدا خدا کر کے وہ رات گزری۔ رات بھاری سہی کٹے گی ضرور دن کڑا تھا مگر گزر کے رہا دوسرے دن پھر وہی  ایکسرے، وہی سارے مراحل جن  سے پہلے گزر چکی تھی۔ ان ساری تکالیف کو برداشت کیا، نرس نے شام سے پہلے آ کر پٹیاں تبدیل

Read more

مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ آساں ہو گئیں (4)

جب آپ بیمار ہوتے ہیں تو بہت سے خیال، بہت سی سوچیں بہت سے ادھورے کام یاد آتے ہیں جو آپ نے پورے کرنے تھے لیکن نہیں کر سکے۔ پرامید ہونے کے باوجود بھی کبھی کبھی خیال آتے ہی ہیں، جب میں سوچتی تھی تو اطمینان ہوتا تھا کہ میں نے اپنا وصیت نامہ لکھ رکھا ہے۔ یہ وصیت نامہ برسوں پہلے جب پہلے عمرے پہ جا رہی تھی تو میں نے فرحت ہاشمی کی کتاب ”میرا جینا میرا مرنا

Read more

مشکلیں مجھ پر پڑیں اتنی کہ آساں ہو گئیں

لیکن فری جب یہاں آئی تو میری ٹانگ کا انفیکشن اور مرہم پٹی چل رہی تھی ہر دوسرے دن صبح وہ مجھے سی ایم ایچ جانے کے لئے تیار کرتی پھر بہت مشکل سے گاڑی میں بیٹھاتی، گاڑی سے اترنا مشکل، اتر کر ویل چیئر میں بیٹھنا، آپریشن تھیٹر میں جانا اور اونچی آپریشن ٹیبل پر چڑھنا ایک اور مشکل کام تھا مگر سی ایم ایچ کے ڈریسر اور نرس بہت پیار اور توجہ سے سہارا دے کر آپریشن ٹیبل

Read more

”مشکلیں اتنی پڑی مجھ پہ کہ آساں ہو گئیں“ قسط نمبر 2

  تو میں ہسپتال کے بستر پر تھی اور میرے ارد گرد بچے، بہن بھائی سب اکٹھے کھڑے تھے۔ نیم غنودگی کی حالت میں میری بھتیجی ڈاکٹر مشال میرے ماتھے پہ بوسہ دے کر گلو گیر آواز میں بار بار پوچھ رہی تھی، پھپھو طبیعت کیسی ہے میں نے کہا میں ٹھیک ہوں کینیڈا میں میری بڑی بیٹی فری اور دبئی میں عائشہ سخت پریشان تھیں، وہ اسد کے ساتھ فون پر لمحہ بہ لمحہ میری حالت پوچھ رہی تھیں۔

Read more

مشکلیں اتنی پڑیں مجھ پر کہ

یہ 2023 کی آخری سہ ماہی تھی، جب دبئی سے پاکستان کی طرف رخت سفرِ باندھا تو یادوں کی پوٹلی میں کربلا، نجف، بصرہ، بغداد کی حسین یادیں اور ان یادوں پر مشتمل سفر نامے کا مسودہ شامل تھا۔ اس کے علاوہ بچوں کے ساتھ گزارے گئے شب و روز دبئی کے ساحل، دبئی فریم، پام جمیرہ اور طرح طرح کی تفریحات کی حسین یادیں بھی اس پوٹلی کا حصہ تھیں۔ سفرنامہ ایک ماہ رات دن بیٹھ کر مکمل کیا

Read more

رنگ باتیں کریں اور باتوں سے خوشبو آئے

ماہ اپریل پھولوں رنگوں اور خوشبوؤں سے عبارت ہے۔ اپریل کی آخری تاریخ تھی جب ہم صبح سویرے پشاور روانہ ہوئے موٹروے پر دو رویہ سرسبز درختوں نے نظروں کو تراوٹ بخشی تو نگاہوں کے ساتھ ساتھ دل میں بھی مسرت کی لہر دوڑ گئی کہ آج دو سال بعد کسی ادبی محفل میں شریک ہونے جا رہی تھی، دل میں مسرت کے پھول یوں کھلے کہ سب سے پہلے مجھے گندھارا ہندکو اکیڈمی جانا تھا جہاں اس کے ڈائریکٹر

Read more

یادوں کی پٹاری سے ایک پچاس سالہ پرانا خط

ہاجرہ اور میں دونوں ہم جماعت، ہم ذوق، ہم مذاق دوست تھے اور ہیں۔ فرنٹیئرکالج کے نیو ہاسٹل میں ہمارے کمرے آمنے سامنے تھے لیکن سارا وقت ہم ایک دوسرے کے کمروں میں رہتے، صبح اکٹھے نکلتے، اکٹھے واپس آتے۔ ہاجرہ چیف پراکٹر تھی اور میں مجلس اردو کی صدر۔ اردو کی اولین افسانہ نگار اور تحریک پاکستان کی مجاہدہ فہمیدہ اختر اردو اختیاری کی جماعت میں ہماری پسندیدہ استانی تھیں، اور دوسری طرف وہ مجھے اور ہاجرہ کو یکساں

Read more

بہار آئی کہ جیسے یک بار کھل اٹھے ہیں گلاب سارے

شاہدہ سردار کا میسج آیا کہ روٹری کلب کی جانب سے عید ملن گالا کا اہتمام کیا گیا ہے جو اس دفعہ میجر عامر کے فارم ہاؤس میں ہونا قرار پایا ہے۔ میں، جو بوجہ بیماری دو ڈھائی سال سے کاروانِ حوّا کی ساتھیوں اور ایسی تمام محفلوں سے دور رہی لیکن اب دل نے کہا کہ چلو چلو نیسا پور چلو کچھ بہار کے رنگ دیکھو، چلتے ہو تو چمن کو چلیے کہتے ہیں کہ بہاراں ہے پھول کھلے

Read more

ملنے کے نہیں نایاب ہیں ہم

کچھ لوگوں سے خون کا رشتہ نہیں ہوتا مگر دلی اور روحانی ایسی نسبت ہوتی ہے کہ جو سب رشتوں سے بڑھ کر ہوتی ہے خاص طور پر جب اس رشتے کی بنیاد اللّٰہ اور اس کے حبیب کی محبت پر رکھی جائے۔ اس رشتے کی پائیداری و خلوص کے بھی کیا کہنے، بی گل سے میرا ایسا ہی رشتہ تھا کئی سال پہلے جب میری بہن اس مدرسے میں داخل ہوئیں، تب ان سے ملاقات ہوئی۔ بی گل کا

Read more

فرشی شلوار اور یادیں کچھ خاص ملبوسات کی

آج کل جہاں دیکھو، جہاں سنو فرشی شلوار کے چرچے ہیں، نئے فیشن کی دھوم مچی ہے، فرشی شلوار کی تصویریں دیکھ کر ہمیں بھی ماضی کے فیشن، کچھ ملبوسات اور ان سے جڑی یادوں نے آ لیا۔ فیشن بھی بار بار دہرائے جاتے ہیں اور وہی پرانے فیشن نئے ناموں سے پکارے جاتے ہیں۔ جہاں تک مجھے یاد ہے میرے بچپن میں میری خالائیں اس طرح کے کھلے پائنچوں کی شلواریں اور لمبی قمیضیں پہنا کرتی تھیں۔ پھر میں

Read more

روشنی کے ساتھ رہئیے روشنی بن جائیے

این بی ایف سے نکلے تو موسم کی دلربائی اور سبزہ و گل کی زیبائی قلب و نظر کے لئے باعث تسکین بنی۔ ابھی ہمیں اپنے شہر کے ایک نامور سپوت، فرزند کوہاٹ کموڈور محمود الرحمن کے گھر جانا تھا، ان کا دو دفعہ فون آ چکا تھا کہ ہم کہاں ہیں۔ محمود الرحمن صاحب کی خود نوشت ”پہاڑی لڑکے سے تباہ کن کپتان“ تک شائع ہو چکی ہے جس کی شاندار تقریب پذیرائی میں بوجوہ شریک نہیں ہو سکی۔

Read more

خلوص کی مہکار اور پھوار میں بھیگے ابر آلود دن کی کتھا

صبح سویرے جب گھر سے نکلے تو رات بھر برسنے والی بارش تھم چکی تھی۔ موسم ابر آلود دھند میں لپٹا، صاف ستھرا نکھرا نکھرا، سرسبز و شاداب رسالپور نظروں کو بہت بھلا لگ رہا تھا۔ بادل، کہر آلود موسم اور بارش یہ ساری چیزیں مجھے بے حد پسند ہیں۔ بیماری سے پہلے اکثر ایسے موسم میں جوگرز پہن کے گھر کے سامنے واکنگ ٹریک پر چہل قدمی کے لئے نکل پڑتی تھی۔ ہلکی ہلکی پھوار میں، اپنی سوچوں میں

Read more

ذرا عمر رفتہ کو آواز دینا

ایک عرصہ ہوا کہ میں نے ٹی وی اور ڈرامے دیکھنے چھوڑ رکھے ہیں۔ لہٰذا ڈراموں یا اداکاروں کی شادیوں وغیرہ سے نہ مجھے دل چسپی ہوتی ہے اور نہ ہی کچھ آگاہی، لیکن کل میری بہو افشین میرے پاس ماورا اور امیر گیلانی کی شادی کی ویڈیو اور تصویریں لے کر آئی۔ مجھے تھوڑی سی حیرانی ہوئی اور پوچھا کہ مجھے کیوں دکھا رہی ہیں۔ انہوں نے دکھاتے ہوئے کہا کہ یہ افتخار گیلانی کا پوتا ہے۔ مجھے کچھ

Read more

دورہ سندھ کی کچھ اور یادیں اور باتیں

اس سفر میں ڈسٹرکٹ کونسل مردان کی خاتون کونسلر بیگم علی اکبر میرے ہمراہ تھیں۔ ہم دونوں کا یہ پہلا ہوائی سفر تھا۔ کہ 83 میں ہوائی سفر بھی امیر امرا ہی کرتے تھے۔ ہمارے جیسے متوسط طبقے کے لوگ عمرے اور حج پر ہی پہلا ہوائی سفر کرتے تھے۔ سو ہم نے بھی اپنے اس پہلے ہوائی سفر سے خوب لطف اٹھایا۔ کہ تب ”باکمال لوگ لاجواب سروس“ والی اس ایر لائن میں دم خم باقی تھا۔ ہوا کے

Read more

ایک روشن و دلربا دن کی کتھا

مہر عالم تاب نے اپنے جلوے بکھیرے اور پوری آب و تاب سے چمکنے لگا تو اپنے نصف بہتر کے ہمراہ گھر سے نکلے۔ حسب معمول اپنے سفر کا آغاز دعاؤں اور مناجات سے کرتے ہوئے موٹر وے پر آئے تو دل مسرت سے لبریز تھا۔ سال بھر کی علالت، چلنے پھرنے سے معذوری، کہیں آنے جانے سے لاچاری تو آج جب میں پشاور جا رہی ہوں۔ کسی ڈاکٹر کے پاس نہیں تو یہ بات باعث مسرت بھی ہے اور

Read more

مشرف مبشر کی کتاب: ”سرگزشت فرنٹیئر کالج“

مشرف مبشر سے میری پہلی ملاقات ہوم اکنامکس کالج کی تقریب پذیرائی میں ہوئی۔ ان کی ملنساری اور مشفق شخصیت نے متاثر کیا۔ دوسری ملاقات گندھارا ہندکو بورڈ میں ہوئی جہاں میں نے انہیں اپنی کتاب ”بیتے ہوئے کچھ دن ایسے ہیں“ دی تو کہنے لگیں میں بڑی سخت ممتحن رہی ہوں۔ تمہاری خود نوشت پڑھ کر تنقید کروں تو خفا مت ہونا۔ میں نے کہا جیسے دل چاہے لکھو۔ پھر دو دن بعد ان کا فون آیا۔ ایک سرشاری

Read more

”یہ جو چین کو علم سے نسبت ہے“ تسنیم جعفری کے سفرنامۂ چین پر تبصرہ

تبصرہ نگار: نصرت نسیم بہت سندر نام اور بہت پیارے انتساب کے ساتھ تسنیم کی طرف سے یہ گراں قدر تحفہ موصول ہوا۔ کتاب کے پبلشر پریس فار پیس فاؤنڈیشن یوکے کے ساتھ ایسا قلبی تعلق ہے کہ اسے ہم اپنا ہی ادارہ سمجھتے ہیں۔ اس کے روح رواں برادر مکرم ظفر اقبال صاحب عزت و احترام سے نوازتے ہیں اور کتابوں کے تحفے ان کی طرف سے موصول ہوتے رہتے ہیں مگر چین کا یہ سفرنامہ تسنیم جعفری نے

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب (اٹھارہواں حصہ)

بغداد میوزیم الحمدللہ کربلا اور نجف کے بعد بغداد کی تمام زیارات کر لیں تو ارادہ اور خواہش تو یہ تھی کہ عراق کے عام گلی کوچے دیکھوں۔ عام لوگوں کی زندگی رہن سہن دیکھ کر مشاہدہ کروں۔ ابھی ہمارے پاس دو دن باقی تھے۔ زیارات ہم کرچکے تھے اور ہمارا خیال تھا کہ باقی کے ان دو دنوں میں اصل عراق دیکھ سکیں گے۔ گرین زون کا الرشید ہوٹل ہو یا کربلا کا ہوٹل بیرن یا دنیا کا کوئی

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب (سترہ واں حصہ)

امام ابو حنیفہ: ہماری اگلی منزل ہے در امام اعظم، امام ابوحنیفہ جن کی علمیت کو ان کے مخالف بھی تسلیم کرتے ہیں۔ ہم امام ابو حنیفہ کے مزار اقدس پر پہنچے۔ بڑا سا صحن ایک طرف بلند و بالا مینار اس پر بڑا سا گھڑیال لگا ہوا اور جگمگاتی روشنیاں بہت بھلی لگ رہی تھیں۔ ٹائلیں لگی ہوئی صاف ستھرے برآمدے سے گزر کر ہم اس ہال میں پہنچے جو خواتین کے لئے مختص تھا۔ نماز مغرب ہو چکی

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب  (سولہواں حصہ)

در کاظمین پر اب ہماری گاڑی ایک نئی منزل کی طرف روانہ ہوئی۔ بغداد کی سڑکوں اور ان دیکھے راستوں سے گزرتے ہوئے ہم کاظمین کے سلام کو جا رہے تھے۔ دلچسپی سے باہر کے مناظر دیکھتے، دعائیں کرتے جب ایسی سڑک پر آئے جس کے دو رویہ کھانے پینے، تبرکات اور تحائف کی دکانیں تھیں۔ زائرین گروہ در گروہ مزار کی طرف رواں دواں تھے۔ آج شدید حبس اور گرمی تھی۔ خواتین کالے عبائے میں ملفوف تیز تیز قدم

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب: (15)

یہ بڑے نصیب کی بات ہے : واپس آ کر طعام گاہ گئے جہاں بوفے میں پھر ہر چیز کی کثرت ہی کثرت تھی مگر میرا مسئلہ اپنی جگہ برقرار کہ چکن نہیں کھانا۔ تو لیکن یہاں ہر ڈش میں چکن موجود تھی اور چاول بھی نہیں کھانے کہ بعد میں تکلیف دیتے ہیں۔ رہ گئی مچھلی وہ ہمیں پسند ہے مگر یہاں اس سے بھی جی اوب گیا تھا۔ اب لے دے کہ میٹھی چیزیں رہ گئیں اور میٹھا

Read more

اہل علم اور صوفیا کے در پر

چودہواں حصہ بغداد کی سجری سویر دریچے سے لگ کر صبح کے مناظر دیکھے۔ تسبیح اور دعائیں کیں۔ نسیم نے کمرے میں رکھے چائے کے سامان سے چائے بنائی۔ خود پی اور مجھے پکڑائی۔ چائے پیتے ہوئے میں باہر کے نظارے کرتی رہی۔ ہو ٹل کے لان اور روشیں چپ کی ردا اوڑھے ہوئی تھیں، جب کہ سڑکوں پر زندگی جاگ اٹھی اور گاڑیوں کی جلتی بجھتی روشنیاں اور آمدورفت اس کی مظہر تھیں۔ دس بجے ہم ناشتے کے لئے

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب (تیرہواں حصہ)

سوئے بغداد ہم گاڑی میں آ کر بیٹھ گئے۔ شکر کے ایک گہرے احساس کے ساتھ کربلا کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اس سوچ کے ساتھ کہ جانے زندگی میں پھر ایسا موقع ملے یا نہیں۔ سوئے بغداد روانہ ہوئے۔ گاڑی کربلا سے نکل کر سوئے بغداد روانہ ہوئی۔ ہم نے حسب عادت شکر کے بے پایاں احساس کے ساتھ شکر کے سجدے کیے ۔ اللہ کی ایسی شاندار میزبانی پر سراپا شکر ہوئے تو بیٹی اور داماد کے لیے دعا

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب (بارہواں حصہ)

تھوڑا سا آگے گئے تو ایک عالی شان عمارت کے باہر گاڑی کھڑی کر کے اندر داخل ہوئے۔ منتظم مزاحم ہوئے کہ اس وقت ہم اندر نہیں جا سکتے۔ سفارت خانے کے لوگ آگے بڑھے۔ عربی میں انہیں سمجھایا۔ اتنے میں متولی یا مجاور منتظم جو بھی کہہ لیں آگے آئے۔ احمد سے مصافحہ کیا اور اہل کاروں کو اشارہ کیا کہ انہیں اندر جانے دیں۔ حیدر لپک کر وہیل چئیر اٹھا لایا کہ کافی ساری سیڑھیاں تھیں۔ کرسی پر

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب (11)

رات گئے نجف اشرف سے کربلائے معلیٰ اپنے ہوٹل پہنچے تو پہلے سیدھا ڈائننگ ہال کی طرف گئے کہ بوفے کا وقت ختم ہو چلا تھا۔ اندر گئے، جلدی سے کچھ نمکین چیزیں لے کر میز پر آئے اور انہیں کہا کہ میٹھا چھوڑ کر باقی چیزیں اٹھا لیں۔ کھانا کھا کر اوپر آئے تو نماز پڑھ کر جلدی سونے کی کوشش کی کہ کل صبح یہاں سے بغداد جانا تھا۔ صبح روانگی کا وقت بتا کر عائشہ نے مژدہ

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب (دسواں حصہ)

آل رسول ﷺ کے در پر : یہاں سے آگے بڑھے تو برآمدے سے ہوتے ہوئے ایک کشادہ ہال میں داخل ہوئے۔ سرخ قالین بچھے ہوئے اور ان پر بیٹھی خواتین مصروف عبادت نظر آئیں۔ ہم آگے بڑھے اور عائشہ مجھے مسجد کی محراب تک لے گئی۔ مسجد کوفہ کی وہ محراب جہاں شقی القلب ابن ملجم نے انیس رمضان المبارک فجر کی نماز کے دوران زہر آلود تلوار سے حضرت علی علیہ السلام کو زخمی کر دیا تھا۔ علی

Read more

جاگتی آنکھوں کا خواب: نواں حصہ

اسلام کی چوتھی بڑی مسجد، مسجد کوفہ سلام کر کے واپس باہر آ کر وہیل چئیر شکریے کے ساتھ واپس کی۔ اتنے میں جنازہ اٹھائے ہوئے لوگ نظر آئے۔ پتہ چلا کہ کوئی فوت ہو جائے تو تدفین سے پہلے اسے یہاں لے کر آتے ہیں۔ پھر باہر نکلتے ہوئے اس شاندار مسجد کو نظروں میں سمونے کی کوشش کی۔ باہر گاڑی میں آ کر بیٹھے اور اب ہمارا رخ مسجد کوفہ کی جانب تھا۔ کوفہ عراق کے جنوب میں

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب (آٹھواں حصہ)

وادیٔ سلام کم از کم چھ مربع کلومیٹر پر محیط ہے۔ یہ پورا قبرستان ایک ہزار چار سو پچاسی ایکڑ سے زیادہ رقبے پر پھیلا ہوا ہے اور اس میں چھ ملین سے زیادہ قبریں موجود ہیں۔ اسے یونیسکو نے ورلڈ ہیریٹیج سائٹس میں شامل کیا ہے۔ اس وسیع و عریض قبرستان کو دیکھنے کے لیے ایک دن کیا دو دن بھی ناکافی ہیں۔ ہم بس چلتے چلتے دیکھتے چلے گئے۔ گاڑیاں نجف اشرف امیر المؤمنین حضرت علی رضی اللہ

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب (ساتواں حصہ)

سوئے نجف: رات ڈیڑھ بجے واپس آئے تو سوتے سوتے دو بج گئے۔ اٹھ کر فجر کی نماز پڑھی اور دوبارہ لیٹ گئے۔ عائشہ نے رات کو ہی بتا دیا تھا کہ دس بجے ناشتہ کرنے چلیں گے، اس سے پہلے میں نہیں اٹھ سکتی۔ میری آنکھ تو نو بجے ہی کھل گئی۔ اٹھ کر پردے سرکائے۔ دریچے کے شفاف شیشے سے نیچے وادیٔ کربلا نظر آ رہی تھی اور 9 جولائی کی گرم سرخ دھوپ اس پر یوں پھیلی

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب (6)۔

ہر دور میں حسین کا غم لازوال ہے : حضرت عباس علمدار کے روضہ انور سے نکل کر صحن میں آئے تو بالکل سامنے سید الشہداء، امام عالی مقام کے روضۂ مبارک کی روشنیاں نظر آ رہی تھیں۔ احمد نے بتایا کہ ان دونوں کے درمیان اتنا فاصلہ ہے جتنا صفا و مروہ کے درمیان ہے۔ ہم سعی کے ایک چکر جتنا چلے۔ مسجد کے اندر تو ٹھنڈک تھی، باہر صحن میں آئے تو گرمی کی شدت کا اندازہ ہوا

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب پانچواں حصہ

پیکر مہر ووفا حضرت عباس علمدار کے روضہ اقدس پر: ہوٹل بیرن (Baron) کا یہ روم ایک خوب صورت خواب گاہ اور اس سے متصل ڈرائنگ ڈائنگ پر مشتمل تھاجہاں چائے، کافی اور قہوے کا سامان موجود تھا۔ ڈائننگ ٹیبل پر خوش رنگ پھلوں کی پلیٹ بے موسم کے پھلوں سے سجی ہوئی آنکھوں کو بھلی لگی۔ انگور کے چند دانے لئے اور پھر وہی ٹیپ کا فقرہ کلمۂ شکر اوردعا۔ یہ دعا تو میں گھر میں بھی پھل کھاتے

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب (4)

نجف اشرف: ائر ہوسٹس شبانہ، مصری تھی۔ پیاری اور خوش خلق سی۔ جہاز سے نکلتے ہوئے اس نے خداحافظ کہا اور سیڑھی پر پہلا قدم رکھا تو گرم لو کے تھپیڑے نے استقبال کیا۔ سیڑھیاں شکر ہے زیادہ نہ تھیں، اس لئے آرام سے اتر گئی۔ سامنے ہی بس اور ایک وی آئی پی گاڑی کھڑی تھی۔ ہم بس کی طرف بڑھے تو گاڑی کا ڈرائیور لپک کر ہمارے پاس آیا اور گاڑی کا دروازہ کھولا مگر اونچی گاڑی پر

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب (3)

ہوا کے دوش پر ماضی کی یادیں : فلائی بغداد کا چھوٹا سا طیارہ بالآخر عراق اور دوبئی کا ویزا لگ کر آیا تو تیاری کے لیے ہمارے پاس محض دو چار دن تھے۔ چار گھنٹے کی فلائٹ تھی اور میں یادوں کے رتھ پر سوار بچپن، لڑکپن، جوانی کن کن وادیوں اور جزیروں کی سیر کرتی رہی۔ ضیاء الحق کا زمانہ ہے۔ 1983 ء میں پہلی بار خواتین کونسلرز کی سیٹیں اناؤنس ہوئی ہیں۔ میں پہلی بار الیکشن جیت

Read more

(2) کھلی آنکھوں کا خواب

بچپن کا محرم اور اہل بیت سے محبت کا بیج: کالے عبائیے میں ملبوس خواتین اور بچے تھے۔شکر ہے شروع کی دو سیٹیں ملیں۔ جہاں پاؤں لمبے کرکے رکھے جاسکتے تھے۔ جہاز رن وے پر دوڑنا شروع کرے تو سفر اور حفاظت کی دعاؤں میں تیزی آجاتی ہے اور جب جہاز زمین کو چھوڑ کر فضا میں بلند ہوتا ہے تو گھبراہٹ سی ہونے لگتی ہے۔ مگر دیکھا تو آج نسیم گھبرائے گھبرائے سے لگ رہے تھے۔ خیر ہے، طبیعت

Read more

کھلی آنکھوں کا خواب۔ پہلا حصہ

فلائی بغداد کا چھوٹا سا طیارہ بالآخر عراق اور دوبئی کا ویزا لگ کر آیا تو تیاری کے لیے ہمارے پاس محض دو چار دن تھے۔ ہم نے فٹافٹ بیگ تیار کیے اور کپڑوں کے بیچ اپنی پسندیدہ کتابیں رکھیں اور کچھ وہ کتابیں بھی بیگ میں ڈال دیں جنہیں پڑھ کر ان پر تبصرہ لکھنا تھا۔ مجھے کسی بھی سفر پر جانا ہو، چاہے مختصر ہو یا طویل، کتابیں لازماً ساتھ رکھتی ہوں۔ طویل اسفار میں اکثر جب وزن

Read more

زندگی اک سفر ہے

زندگی کا سفر ہے یہ کیسا کوئی سمجھا نہیں کوئی جانا نہیں زندگی اک سفر ہے۔ مگر کیسا سفر ہے کہ نہ ابتدا کی خبر ہے، نہ انتہا معلوم۔ ہمارے چچا غالب کا زندگی کے اس سفر کے حوالے سے کیا خوبصورت شعر ہے : رو میں ہے رخش عمر کہاں دیکھئے تھمے نے ہاتھ باگ پر ہے، نہ پا ہے رکاب میں سرپٹ اپنی منزل کی جانب دوڑتا ہوا عمر کا گھوڑا جس کی لگام ہمارے ہاتھ میں نہیں،

Read more

بچپن کی یادیں اور پھپھو اماں

اولین سفر کی کچھ دھندلی دھندلی سی تصویریں، کچھ مٹے مٹے نقوش نظر آتے ہیں۔ تانگے کا آنا جس کے آگے پیچھے سفید چادریں یوں لگی ہوتیں کہ جب میری خالائیں اپنے ہوش ربا حسن کو کالے فیشنی برقعے میں چھپائے ان تانگوں میں بیٹھتیں تو آگے پیچھے تنی ہوئی چادروں سے انہیں باہر کا کوئی نظارہ نظر نہ آتا۔ اس پر بھی وہ خوشی سے پھولے نہ سماتیں کہ گھر کی چاردیواری سے باہر کہیں آنے جانے کا مشکل

Read more

شام زندگی

عصر کی نماز پڑھتے ہی وہ تیز تیز قدم اٹھاتے واکنک ٹریک پر آ گئی، یہ وقت اور مقام دونوں اس کے پسندیدہ تھے۔ جب وہ طویل اور تھکا دینے والی دن بھر کی مصروفیات کے بعد سکون کا سانس لیتی، ذکر کرتے ہوئے تیز قدم اٹھاتی، کبھی خود سے محو گفتگو، کبھی رب سے سرگوشیاں کرتے کرتے وقت بہت تیزی سے بیت جاتا اور دن جلد ہی شام کا لبادہ اوڑھ لیتا، تب وہ گھر لوٹ آتی۔ حسب معمول

Read more

جب اترتی ہیں میرے دل میں پرانی یادیں

جب اترتی ہیں میرے دل میں پرانی یادیں کتنی بچھڑی ہوئی کونجوں کی صدا آتی ہے دو دن پیشتر چائے کا عالمی دن دوستوں نے بڑی چاہ سے منایا اور طرح طرح کے بڑے بڑے باتصویر کپ اور چینکوں کی تصویریں لگائیں۔ ہم دیکھتے رہے لطف اندوز ہوتے رہے۔ کچھ لکھنے کا ارادہ ہرگز نہ تھا مگر آج دوپہر بیٹھے بٹھائے کتنی یادوں نے در دل پر دستک دی۔ چائے کے ساتھ چاہت اور محبت والے کتنے رشتے، کتنے مہربان

Read more

پت جھڑ کے رنگ خزاں

دھند، بادل، ملگجا سا اندھیرا اور ٹنڈ منڈ درخت یوں جیسے خالی ہاتھ جا بجا بکھرے پاؤں تلے چرچراتے پتے۔ زندگی موت ملنے بچھڑنے کے کتنے استعارے کتنے اشارے کتنے اسباق پوشیدہ ہیں اس میں گویا چرمراتے پتے پیغام دے رہے ہوں۔ کہ دیکھو مجھے جو دیدہ عبرت نگاہ ہو کبھی پھولوں کی سنگت میں سر سبز شاخوں پر خوشی سے جھولتے تھے اور اب قدموں تلے روندے جا رہے ہیں یہ استعارہ یہ کہانی فتح و شکست کی بھی

Read more