پاکستان اور آئی ایم ایف قرضہ
انٹر نیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایف ایم) اپنے 190 ممبرز ممالک کے ساتھ مل کر پائیدار پیداوار کے لئے کام کرتا ہے۔ اس کے مقاصد میں اپنے ممبرز کی مالیاتی پالیسیوں کے تحت ان کے ساتھ مل کر کام کرنا اور امداد مہیا کرنا ہوتا ہے۔ جس سے ملکی مصنوعات و نوکریوں میں اضافے کے علاوہ اقتصادی ترقی مقصود ہوتی ہے۔ یہ ادارہ اپنے ممبرز ممالک کے سامنے جواب دہ ہے اور وہی اس کی پالیسیاں مرتب کرتے ہیں۔ اس ادارے کے تین بنیادی مشن ہیں۔
پہلا اس کے کام کو مزید وسعت دینا، دوسرا تجارت بڑھانا اور اقتصادی ترقی، تیسرا ان پالیسیوں کے خلاف عمل درآمد کرنا جن سے ان ممالک کی خوشحالی کو نقصان کا احتمال ہو۔ اس بنیاد پر اس کے ممبران دوسرے ملکوں کے ساتھ اور بین الاقوامی مالیاتی اداروں کے ساتھ مل کر کام کرتے ہیں۔ اس ادارے کے سبھی ملک ممبر ہیں ماسوائے کیوبا، لچینسٹین، موناکو، تائیوان، ویٹیکن سٹی، مشرقی ٹیمور اور شمالی کوریا۔ انڈورہ 2020 ء میں اس کا 190 واں ممبر بنا۔ آئی ایم ایف کی فنڈنگ دو ذرائع سے حاصل ہوتی ہے۔
1، ممبرز ممالک کا کوٹہ
2، کثیراتی اور ایک دوسرے سے ادھار لینے دینے کے معاہدے
لیکن سب سے مقدم ممبر ممالک کے فنڈنگ کا کوٹہ ہی بنیادی عنصر ہے۔ جو اس ملک کے رقبے اور دنیا میں اس کی اقتصادی ترقی اور مالیاتی پوزیشن پر منحصر ہوتی ہے۔
آئی ایف ایم سے سب سے زیادہ قرضہ لینے والا ملک ارجنٹائن جس نے 46 بلین ڈالرز کا قرضہ حاصل کیا ہوا ہے۔ جس کی آئی ایف ایم کے ساتھ قرضہ لینے اور بیل آؤٹ پیکیج کی ایک تاریخ ہے جس میں ان کے درمیان تناؤ اور تعاون دونوں شامل ہیں۔ برطانیہ بھی کسی دور میں آئی ایف ایم کا مقروض رہا ہے۔ اس ملک نے 1976 ء میں 4 بلین ڈالرز کا قرضہ حاصل کیا تھا اس قرضے کی شرائط میں ایک شرط حکومتی خرچ میں کٹوتی تھی۔ جو اس کی اقتصادیات اور سوشل پالیسیوں پر اثر انداز ہو رہی تھی۔
اب یہ ملک آئی ایف ایم کے فنڈز میں تقریباً 10 بلین ڈالرز کی رقم مہیا کرتا ہے۔ عمومی طور آئی ایف ایم کے قرضے پر شرح سود انتہائی کم ہے۔ اس کے علاوہ اس کے پروگرامز میں غربت مکاؤ اور پیداوار کی شرح میں اضافہ کے بلا سود قرضے مہیا کیے جاتے ہیں۔ اگر بین الاقوامی قرضوں پر نظر دوڑائیں تو اس دوڑ میں متحدہ امریکہ سر فہرست ہے جس پر 305 ٹریلن ڈالرز کا قرضہ ہے۔
اب ذرا نظر دوڑاتے ہیں آئی ایف ایم کے قرضوں کے اثرات پر۔ اس کے قرضوں کے دست نگر ممالک کو قرضہ کی کئی کڑی شرائط کی پابندیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ جس کے اثرات ان ممالک کی اقتصادی پالیسیوں پر نمایاں نظر آتے ہیں۔ خاص کر پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک کی اقتصادیات پر۔ آئی ایف ایم کے مخالفین کے نزدیک اس ادارے کے قرضے، قرض خواہ ممالک کی اقتصادی حالت اور ان کی خراب اقتصادی پالیسیوں کے بدولت، گہرے اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
یہ ممالک جانتے ہیں کہ قرض ادا نہ کرنے کی ضرورت میں ہمیں آئی ایف ایم بیل آؤٹ پیکیج دے گا۔ جس کی وجہ سے اقتصادی حالت کو بہتر بنانے کے لئے یہ ممالک کوئی خاص توجہ نہیں دیتے۔ اور نہ ہی اپنی اقتصادی پالیسیوں کو ازسر نو مرتب کرتے ہیں تا کہ ملکی معاملات سدھر سکیں۔ اس کے علاوہ آئی ایف ایم کے قرضے کی پالیسیاں تمام ممالک کے لئے یکساں ہونے کی صورت میں ان سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ ہر ملک کی اپنی علیحدہ شناخت اور وہ اپنی اقتصادیات رکھتا ہے۔ جسے سمجھنا ازحد ضروری ہے اور اسی کے تحت اس ملک کی بری اقتصادی حالت کا مقامی حل تلاش کیا جانا چاہیے اور پھر اسے سدھارا جائے۔ لیکن ایسا نہیں ہو رہا۔
آئی ایف ایم کے بورڈ نے نو ماہ کے لئے حکومت پاکستان سے اس کی اقتصادی حالت کو سہارا دینے کے لئے تقریباً تین ارب ڈالرز کا ایک سٹینڈ بائی معاہدہ کیا ہے۔ جس کی بنیادی شرائط میں معیشت کی ترقی، اندرونی و بیرونی قرضہ جات کی ادائیگی کو سہارا دینا، جہاں جہاں حکومت پاکستان سبسیڈیز دے رہی ہی اس کا خاتمہ وغیرہ شامل ہیں۔ لامحالہ اس کا اثر عوام پر پڑنا ہے۔ ہماری اقتصادی حالت، پیداوار، ٹیکسوں کی چوری اور ہمارے ذمے قرضوں پر عائد سود کی ادائیگی وغیرہ سب ہی ہماری معیشت پر برے اثرات ڈالے ہوئے ہے۔
آسان زبان میں بات کی جائے تو ہمارے ذرائع آمدن سے خرچ زیادہ ہے۔ جسے ہر سطح پر قابو پانا، تجارت و پیداوار میں اضافہ، ہر ایک کو اپنے حصہ کا ٹیکس ادا کرنا، رشوت کا خاتمہ اور محنت کے ساتھ ایک نئے عزم کے ساتھ ان چیلنجوں سے نبرد آزما ہونے کے لئے اٹھ کھڑے ہونا۔ ملک میں سیاسی و جمہوری استحکام، لاقانونیت و دہشت گردی کا خاتمہ از حد ضروری ہے۔ اقوام عالم میں دوستی اور دشمنی صرف اپنے اپنے مفادات کے گرد گھومتی ہے۔
کل کے دوست آج کے دشمن۔ یہ ہی فارمولہ ہر طرف یکساں لاگو ہے۔ ہم ایک زراعتی ملک ہوتے ہوئے اس سیکٹر سے کوئی خاص فائدہ اٹھا نہیں پا رہے۔ اور نہ ہی ہم نے نوجوانوں کے انسانی وسائل سے کوئی فائدہ اٹھایا۔ ایک ایسا ملک جس کی آبادی کی اکثریت جوان نسل پر مشتمل ہے۔ اگر ہم نے ان کو ہر شعبہ میں فنی ٹریننگ دی ہوتی تو یہ نہ صرف ملک بلکہ اپنے خاندان کی کفالت بھی شاندار طریقے سے کر رہے ہوتے اور ملک میں بیروزگاری شرح بھی کم ہوتی۔
اس کے علاوہ اب ہمیں اپنے وسائل کے اعتبار سے اخراجات کو کم کرنا ہو گا۔ وہ دن لد گئے جب متحدہ امریکہ اور اس کے اتحادی اپنے مطلب کے لئے ڈالرز کی بارش کیا کرتے تھے۔ اب ہر سطح پر حکومتی خرچ کو کم کرنا، وقت کے ضیاع کی روک تھام، دفتری کام میں سرعت پسندی، جہاں جہاں اور جن اداروں میں کمپیوٹر نسب ہیں وہاں کام کی رفتار کے علاوہ مانیٹرنگ بھی ازحد ضروری ہے۔ ہم وہ بدقسمت قوم ہے جس نے آج تک وقت کی پابندی کی عادت نہیں ڈالی۔
خدارا اپنا احتساب ہر ایک خود کرے اور ٹھنڈے دل سے سوچے ہم سے کہاں کہاں کوتاہی ہو رہی ہے۔ دنیا میں صرف اس قوم کو عزت و احترام سے دیکھا جاتا ہے جو ترقی کی منازل طے کرتے ہوئے بین الاقوامی برادری میں صف اول کھڑی ہوتی ہے۔ انگریزی کا محاورہ ہے ”Beggers are not choosers“ جس کا ترجمہ میری نظر میں کچھ یوں ہے۔ ”بھکاری پسندیدہ شے کو چننے والے نہیں ہوتے“ ۔ یہ ہم سب پر منحصر ہے کہ ہم اپنے لئے دنیا میں کیا مقام منتخب کرتے ہیں۔
ایک تحقیقی سروے جو 81 ترقی پذیر ممالک پر ہوا جنہوں نے آئی ایم ایف سے 1986 ء تا 2016 ء کے دوران قرضہ لیا۔ ان کے بارے پتہ چلا کہ ان ممالک کی عوام بنیادی اصلاحات کی پابندی کے زیر اثر اکثریت غربت کی لکیر سے نیچے چلے گئے۔ جس کے نتیجے میں بیروزگاری میں اضافہ، حکومتی محصولات میں کمی اور بنیادی سروسز کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا چلا گیا۔ پاکستان کی مہنگائی کی شرح مئی میں 38.0 فیصد سے گر کر 29.4 فیصد ہو گئی ہے جو ایک اہم سنگ میل ہے۔ اس پر مزید محنت درکار ہے کہ مہنگائی کی شرح میں اضافہ نہ ہونے پائے بلکہ اس کا گراف نیچے کی طرف جائے اور عوام کو ریلیف ملے۔
اب ہم سب کو سوچنا ہو گا کہ ہم کس طرح اس قرض سے جلد از جلد نجات حاصل کرتے ہیں اور اقوام عالم میں اپنا کھویا ہوا مقام دوبارہ حاصل کرتے ہیں۔ خدارا خواب غفلت سے جاگ جائیں۔


