مذہب کے نام پر نفرت کی آگ بجھائی جائے
اہل ایمان نے جڑانوالہ میں متعدد چرچ تباہ کیے ہیں، بعض کو نذر آتش کر دیا گیا۔ عیسائیوں پر حملے کیے جا رہے ہیں اور ان کے گھر تباہ کر دیے گئے ہیں۔ حتی کہ اسسٹنٹ کمشنر کے دفتر پر بھی دھاوا بول دیا گیا کیوں کہ اس وقت وہاں ایک مسیحی افسر تعینات ہے۔ سیاسی لیڈر مذمتی بیانات جاری کر رہے ہیں جبکہ انتظامیہ کے عہدیدار فساد برپا کرنے والوں کی منت سماجت کر کے یقین دلا رہے ہیں کہ توہین قرآن کرنے والے شخص کے خلاف سخت قانونی کارروائی ہو گی۔
پاکستان جیسے اسلامی ملک میں قرآن کی توہین کرنے والا یا تو کوئی پاگل ہو گا یا پھر اس نے خود کشی کا ارادہ کیا ہو گا۔ کوئی صحیح العقل شخص کبھی کسی ایسی حرکت میں ملوث ہونے کا تصور بھی نہیں کر سکتا جس پر شدید اور دہشت ناک ردعمل اب مسلمہ حقیقت بن چکی ہے۔ توہین مذہب ایک ایسا نعرہ یا الزام بنایا جا چکا ہے جسے عائد کرنے کے لئے کسی ثبوت یا شواہد کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ ایک بار کسی کے منہ سے ایسی کوئی بات ادا ہوئی تو پھر گلی محلوں کی مساجد سے ’اسلام کی حفاظت‘ کے نعروں کا شور برپا ہوجاتا ہے اور مشتعل لوگوں کا ہجوم سامنے آنے والے کسی بھی شخص کو ہلاک کر کے یا تشدد کے ذریعے اپنے جذبہ ایمانی کو تازہ کرنا بنیادی اسلامی فریضہ سمجھتا ہے۔ آج جڑانوالہ میں بھی یہی صورت حال دیکھنے میں آئی۔
جڑانوالہ میں چرچ تباہ کرنے، عیسائیوں کے گھروں کو لوٹنے اور گرانے کا یہ پہلا واقعہ نہیں۔ اسلام کی حفاظت کے نام پر یہ طریقہ اکثر دیکھنے میں آتا ہے اور ایسے میں صرف املاک ہی نشانہ نہیں بنتیں بلکہ اگر کوئی ایسا شخص گمراہ کیے گئے مشتعل ہجوم کے سامنے آ جائے جس کے بارے میں شبہ ہو کہ وہ توہین مذہب میں ملوث ہے تو نعرہ تکبیر بلند کرنے والے عقل و شعور سے عاری لوگ اسے ہلاک کرنے، حتی کہ لاش پر بھی تشدد کرنے سے بھی باز نہیں آتے۔ اس جنونیت کو ابھی تک اسلام سے وفاداری، عشق رسولﷺ اور اللہ کی پاکیزہ کتاب کے احترام کا نام دیا جاتا ہے۔ لیکن جڑانوالہ کے وقوعہ کے بعد متعدد سیاسی لیڈروں اور سرکاری عمال نے جو بیانات جاری کیے ہیں، ان کی روشنی میں تو اسے لاقانونیت اور دہشت گردی ہی کہا جائے گا۔ ریاست پاکستان البتہ اس شدت پسندی کے سامنے بند باندھنے میں ناکام ہے۔ اس کی سادہ سی وجہ یہ ہے کہ اس ملک میں مذہبی شدت پسندی کو ایک سوچے سمجھے منصوبہ کے تحت عام کیا گیا اور عوام کو مذہبی جنونیت میں مبتلا کرنے کے لئے تعلیمی اداروں کے نصاب سے لے کر مولویوں کے خطبات تک بھرپور انداز میں استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
یہ کوئی غیر معمولی بات نہیں ہے کہ ملک کے کسی عالم دین یا اسلام کو امن کا پیامبر قرار دینے والے خطیبوں، مفتیوں و شیوخ کو کبھی ہجوم کے ہاتھوں اسلام کی اس توہین پر کوئی تشویش لاحق نہیں ہوتی بلکہ وہ بھی کسی بے گناہ کو ’کیفر کردار‘ تک پہنچانے کا مطالبہ ہی کرنے لگتے ہیں۔ کبھی یہ سننے میں نہیں آئے گا کہ کسی شہری کے خلاف توہین مذہب کا الزام لگنے کے بعد اس علاقے کے کسی مولوی نے قانون پر عمل کرنے کی تلقین کی ہو بلکہ مساجد کے لاؤڈ اسپیکروں کو قانون شکنی کرنے اور خود ہی ’انصاف فراہم‘ کردینے کی تلقین و تبلیغ کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔ پولیس اور انتظامیہ کے افسر و اہلکار بھی چونکہ اسی معاشرے کی پیداوار ہیں، اس لئے وہ بھی بدامنی و انتشار کی اس صورت حال میں قانون کو اپنے ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کارروائی کرنے کی بجائے، انہیں یقین دلاتے دکھائی دیتے ہیں کہ ان کے مطالبات پورے ہوں گے اور وہ جس شخص کی طرف انگلی اٹھا دیں گے، اسے توہین مذہب کے الزام میں سزا دلوائی جائے گی۔
پولیس تو یہاں تک مستعد و ہوشیار ہوتی ہے کہ وہ ملزم کے خلاف فوری طور سے ایسے ٹھوس شواہد بھی تلاش کر لیتی ہے جس سے کسی نامعلوم شخص کا جرم ثابت ہونے میں تاخیر نہ ہو۔ جیسا کہ جڑانوالہ کی پولیس نے مستعدی کا مظاہرہ کیا ہے۔ پولیس اہلکار علاقے کی مسیحی آبادی کو بچانے اور ان کی عبادت گاہوں کو تباہ ہونے سے روکنے کی بجائے اس چوک میں پہنچ گئے جہاں مبینہ طور سے صفائی کا کام کرنے والے ایک شخص نے قرآن کے اوراق کی نہ صرف توہین کی تھی اور انہیں پھاڑا تھا بلکہ ان پر توہین آمیز کلمات تحریر کر کے چوک ہی میں انہیں بکھیر دیا تھا۔ اور یہ مذموم حرکت کرنے کے بعد وہ نہایت صفائی سے وہاں سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔ اب پولیس نے نازیبا کلمات سمیت قرآن کے وہ اوراق برآمد کر کے اپنے قبضہ میں لے لئے ہیں۔ چند ہفتوں میں کوئی عدالت اس ٹھوس ثبوت کی بنیاد پر کسی نامزد شخص کو پھانسی کی سزا کا حکم دے دے گی۔ تاکہ ہوشیار شہری، مستعد مولوی اور مشتعل ہجوم کسی نئے شکار کو پھانسنے کا انتظار کریں۔
صدر بشپ آف چرچ آف پاکستان آزاد مارشل نے ٹویٹر پر ایک بیان میں دہائی دی ہے کہ ’اس مرحلے پر الفاظ میرا دکھ بیان کرنے سے قاصر ہیں۔ تمام بشپ اور پادری سخت کرب کا شکار ہیں۔ ہم جڑانوالہ میں رونما ہونے والے واقعات پر پریشان ہیں۔ میں جب یہ تحریر کر رہا ہوں وہاں مزید ایک چرچ کو نذر آتش کیا جا رہا ہے۔ انجیل مقدس کی توہین کی گئی ہے اور عیسائیوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ انہیں توہین قرآن کے جھوٹے الزامات میں ہراساں کیا جا رہا ہے۔ ہم انصاف کے لئے پکار ر ہے ہیں۔ ہماری استدعا ہے کہ قانون نافذ کرنے اور انصاف فراہم کرنے والے ادارے ملک کے سب شہریوں کو فوری تحفظ مہیا کریں۔ جڑانوالہ میں حالات بہتر بنانے کے لئے فوری مداخلت کی جائے اور ہمارے اپنے ہی وطن میں ہمیں جان و مال کی حفاظت کی یقین دہانی کروائی جائے‘ ۔
اس دہائی کے جواب میں یا تو مار دھاڑ ہے یا پھر قانون شکنوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا عزم۔ اس کا اظہار دو روز پہلے نگران وزیر اعظم کا عہدہ سنبھالنے والے انوار الحق کاکڑ نے بھی کیا ہے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ ایسے شرپسندوں کے خلاف سخت کارروائی کی جائے گی جنہوں نے قانون کو ہاتھ میں لیا ہے اور ہماری اقلیتوں کو نشانہ بنایا ہے۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے کہہ دیا گیا ہے کہ وہ ایسے تمام عناصر کی گرفت کریں۔ وزیراعظم نے یقین دلایا کہ ملک کے تمام شہری برابر ہیں۔ بدقسمتی سے یہ ایک ایسا وعدہ اور عزم ہے جسے وفا کرنے کی ضرورت محسوس نہیں کی جاتی۔ نہ ہی کبھی یہ جاننے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ایسا تشدد آمیز اور جابرانہ مزاج کیوں اور کیسے اس ملک میں عام ہو گیا ہے۔
اسی لئے میڈیا پر مذمتی بیانات کی طویل قطار تو دکھائی دے گی لیکن یہ مذمت کبھی کسی عالم دین کی طرف سے نہیں ہوگی۔ اقلیتوں کے ساتھ ان کی ہمدردیاں ہمیشہ ’مشروط‘ ہوں گی کہ پہلے توہین میں ملوث عناصر کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے، پھر امن بحال کرنے کی بات بھی کر لیں گے۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر اعظم کے اعلان اور سیاسی لیڈروں کی مذمت اور شدید ’دکھ‘ کے اظہار کے باوجود جڑانوالہ میں بھی توڑ پھوڑ کرنے اور مسیحیوں پر حملے کرنے والوں میں سے کسی کی نہ گرفت ہو سکے گی اور نہ ہی مذہب کے نام پر تشدد کو ناجائز قرار دیا جائے گا۔ اس کی جزوی وجہ یہ بھی کہ اس ملک میں صرف مولوی ہی مذہب کا چورن نہیں بیچتا بلکہ اب سیاسی لیڈر اور پارٹیاں بھی یہی کام کرتی ہیں۔ حال ہی میں پارلیمنٹ سے منظور ہونے والا توہین صحابہ پر سزا کا ترمیمی بل، اس مزاج اور حکمت عملی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
بدقسمتی سے یہ وہی مسلمان ہیں جو سویڈن اور ڈنمارک سے قرآن سوزی کو غیر قانونی قرار دینے اور اس قسم کی حرکت میں ملوث لوگوں کو گرفتار کرنے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق سوموار کو ایک بار پھر اسٹاک ہولم میں شاہی محل کے باہر انہی دو عراقی نژاد باشندوں نے قرآن کے اوراق جلائے جو اس سے پہلے بھی یہ حرکت کرچکے ہیں۔ سویڈن اس فعل کی مذمت کرتا ہے اور وہاں کی حکومت اس سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہے۔ لیکن حکام کا کہنا ہے کہ ملک میں آزادی رائے کے قانون کی وجہ سے وہ ایسی حرکت کرنے والوں کو روکنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ سوموار کو بھی یہی صورت حال درپیش تھی لیکن قرآن جلانے میں ملوث افراد کے خلاف احتجاج کے لئے عام شہری جمع تھے۔ انہوں نے جوابی نعروں کے ذریعے قرآن سوزی سے شہرت حاصل کرنے کی کوشش کرنے والوں کی آواز بلند نہیں ہونے دی۔
شہریوں کی طرف سے منظم کیے گئے اس احتجاج میں بعض لوگ فائر بریگیڈ کی جعلی وردیاں پہنے ہوئے تھے جن پر لکھا تھا کہ ’نفرت کی آگ کو بجھایا جائے‘ ۔ سویڈن کے شہری مذہب کے نام پر اس نفرت کو بجھانے کے لئے احتجاج کر رہے تھے جس کے شعلے اس سے کہیں زیادہ حدت کے ساتھ فیصل آباد کی تحصیل جڑانوالہ میں بلند ہوتے دیکھے گئے ہیں۔ سوچنا چاہیے کہ سویڈن یا ڈنمارک میں اسلام دشمن عناصر صرف نعرے لگا کر یا قانون کے دائرے میں رہ کر قرآن سوزی کے ذریعے ’احتجاج کرتے ہیں‘ جبکہ پاکستان میں حرمت مذہب کے نام پر املاک ہی نہیں بلکہ انسانوں کو بھی جلا دینے یا ہلاک کرنے سے گریز نہیں کیا جاتا۔ ایسے میں قرآن سوزی کے خلاف ہمارے احتجاج اور دلیل میں کیا وزن باقی رہ جاتا ہے؟


