ہماری معیشت اور ٹرک کی بتی
ہماری حکمران اشرافیہ نے خصوصی سرمایہ کاریوں کا جو کبوتر اپنے پرانے ہیٹ سے دوبارہ برآمد کیا ہے، تاریخی حقائق کی روشنی میں دیکھا جائے تو، بظاہر یہ بہت زیادہ بلند بانگ اور اتنا ہی ناقابل عمل دکھائی دیتا ہے لیکن اس سب کے باوجود ٹرک کی اس بتی کا پیچھا کرتے رہنے میں کوئی حرج نہیں!
ان کا تازہ ترین ترپ کا پتا، جس کا بہت زیادہ ڈھول پیٹا جا رہا ہے، وہ ایس آئی ایف سی (Special Investments Facilitation Council) ہے، بھلے ہی یہ خیال نیک نیتی سے اپنایا گیا ہو لیکن شاید اسے اختیار کرنے کی عجلت کا نتیجہ ہے کہ ماضی میں کی جانے والی حماقتوں / غلطیوں کی نشان دہی اور انہیں درست کرنے کے متعلق کچھ نہیں سوچا گیا۔ ایس آئی ایف سی کے قیام کا باضابطہ اعلان اس برس جون میں کیا گیا۔ وزیر اعظم اس کونسل کے سربراہ اور آرمی چیف اس کی ایپکس کمیٹی کے رکن ہیں اور اس کے نفاذ/ آپریشن کا کنٹرول بھی فوج ہی کے پاس ہے۔
آئیے سلسلہ وار ان شعبوں کے حقائق کا جائزہ اور تجزیہ کریں جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک کی کایا کلپ کی جا سکتی ہے۔
کان کنی اور معدنیات
پاکستان نے گزشتہ چالیس برس کے عرصے میں کان کنی کے چار بہت بڑے منصوبوں میں سرمایہ کاری کی ہے۔ اس حوالے سے نمایاں ترین منصوبہ ریکو ڈک ہے، ہماری حکمران اشرافیہ نے نہایت ہی بھونڈے انداز میں اس منصوبے کو چلایا ہے، 1991 ء میں اس برے طریقے سے یہ منصوبہ بنایا اور اس پر عمل درآمد کیا گیا کہ آج تک اس منصوبے سے ایک اونس تانبا یا سونا حاصل نہیں کیا جا سکا۔ چلی کی انٹا فوگسٹا اور کینیڈا کی برک گولڈ کمپنی سے عدالت سے باہر معاملہ طے کرنے سے پہلے ہم 32 برس ضائع کر چکے تھے۔
ذرا تصور تو کیجیے کہ ریکو ڈک ذخائر پاکستان جیالوجیکل سروے نے 1972 ء میں دریافت کیے تھے اور آخر کار اس سے توقع وابستہ کی جا رہی ہے کہ 2028 ء تک اس سے پیداوار کا آغاز ہو جائے گا، اس منصوبے کے حوالے سے نصف صدی سے زائد کا عرصہ برباد کیا جا چکا ہے۔ ہماری وژنری اشرافیہ ان تمام برسوں میں کیا کرتی رہی ہے؟ اس پر بھی مستزاد یہ کہ اب تک پاکستان، عدالت سے باہر معاملات طے کرنے میں، قانونی اخراجات اور جرمانوں کی مد میں تقریباً ایک ارب ڈالر ادا کر چکا ہے اور یہ سب کچھ فوج کی سرپرستی میں ہوا ہے۔
اب یہ منصوبہ ایک بار پھر توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے، اگرچہ اس بار اس حوالے سے سعودیوں کا نام سنائی دے رہا ہے جو بظاہر ان پچاس فیصد حصص میں سے کچھ حصہ خریدنے کی کوشش کریں گے جو وفاقی اور بلوچستان حکومتوں کی ملکیت ہیں۔ برک گولڈ، جو بقایا پچاس فیصد حصص کی ملکیت رکھتی ہے پہلے ہی یہ بات واضح کر چکی ہے کہ وہ سعودیوں سمیت کسی کو بھی اپنے ملکیتی حصص بیچنے میں دل چسپی نہیں رکھتی، اس کی وجہ بہت سادہ ہے کہ ان کے لیے یہ منصوبہ بہت نفع بخش ہے۔ حتیٰ کہ برک گولڈ نے عالمی حصص منڈیوں سے آئی پی او (Initial Public Offering) کے ذریعے فنڈ جمع کرنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔ ہماری حکمران اشرافیہ کو برک گولڈ سے یہ سبق سیکھنا چاہیے کہ کس طریقے سے تانبے اور سونے کے علاوہ خاندانی چاندی کی بھی حفاظت کی جاتی ہے۔
بہت زیادہ امکان ہے کہ اب تمام متوقع فوائد معمولی قیمت اور شرائط پر سعودیوں کی جھولی میں ڈال دیے جائیں گے. اگر اس حوالے سے کوئی شکوک ہوں تو گزشتہ بیس برسوں میں سیندک کے حوالے سے چینیوں کی سرمایہ کاری کی تاریخ پرکھ لیں یا ان اسباق کو دوہرا لیں جو ریاست نے پی ٹی سی ایل/ یو فون کی متحدہ عرب امارات کو فروخت کے حوالے سے دیے تھے، انہوں نے سترہ برس بعد بھی اب تک ان اداروں کی فروخت کے اسی کروڑ ڈالر کے بقایا جات ادا نہیں کیے حالانکہ 2006 ء میں خرید و فروخت کے معاہدے کے بعد انہوں نے ہمارے قومی ٹیلی کام نیٹ ورک کا کنٹرول سنبھال لیا تھا۔
ریکو ڈک منصوبے کی کم از کم زندگی 40۔ 56 برس کے دورانیے پر محیط ہے، آج کی قیمتوں کے حساب سے اس منصوبے سے ہر برس تین سے چار ارب ڈالر کا خالص منافع حاصل ہو سکتا ہے۔ بطور سرمایہ کار پاکستان کا اس منافع میں حصہ ایک سے ڈیڑھ ارب ڈالر سالانہ بنتا ہے اس کے علاوہ بھی سالانہ تقریباً تین ارب ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔ اب جبکہ تمام رکاوٹیں دور کر دی گئی ہیں اور پاکستان اس میں سے اپنا حصہ وصول کرنے اور کھانے کے قابل ہوا ہے تو سعودی بیچ میں کود پڑے ہیں۔ سرمایہ کاری کے پہلے مرحلے میں پاکستان کے حصے کا تخمینہ تقریباً ایک ارب ڈالر کے آس پاس ہے، 2028 ء میں پیداوار حاصل کرنے کے لیے درکار بقایا تین ارب ڈالر کی سرمایہ کاری برک گولڈ نے جمع کرنی ہے، سونے سے بھرپور ایک طویل مدتی منصوبے کے لیے یہ سرمایہ کاری اونٹ کے منہ میں زیرے کے مساوی ہے۔
ذرا تصور تو کیجیے کہ اگلے 56 برس میں ریکو ڈک کے منصوبے سے ایک کھرب چھپن ارب ڈالر زر مبادلہ کمایا جا سکتا ہے، خالص منافع کی مد میں ملنے والے 77 ارب ڈالر اس کے علاوہ ہیں۔ شاباش۔
کیا پاکستان نے کبھی کسی ایک منصوبے سے اتنا بڑا نفع اور فائدہ کمایا ہے؟ ضرورت صرف یہ ہے کہ اس منصوبے کو قومی مفاد کو ذہن میں رکھتے ہوئے اور پیشہ ورانہ انداز میں چلایا جائے۔
سعودی کان کنی کمپنی ”معدن“ کے حالیہ دنوں میں ہوئے معاہدے کی روشنی میں، اس معاہدے کی رو سے معدن نے، مدینہ کے قریب جبل سید کاپر پراجیکٹ کے 50 % حصص اکیس کروڑ امریکی ڈالر کے عوض خریدے ہیں، اس بات کا بڑا امکان ہے کہ ریکو ڈک کے اثاثے، حتیٰ کہ پیداوار شروع ہونے سے قبل ہی، لگ بھگ آٹھ ارب ڈالر کے ہوں گے۔
اگر دوبارہ سے اس معاملے کو بدترین انداز میں چلایا گیا تو یہ لوٹ مار کا ایک آئیڈیل کیس ہو گا لیکن یہ بھی دیکھنا ہو گا کہ کیا ہم سعودی مطالبات کے سامنے کھڑے ہونے کی سکت بھی رکھتے ہیں۔ یہ وقت ہی بتائے گا۔ اس حوالے سے اگلے چند ماہ بہت اہم ہیں۔
آگے بڑھتے ہیں، سیندک میٹلز لمیٹڈ (ایس ایم ایل) 1995 ء میں 13 ارب پچاس کروڑ روپے (اس زمانے کے بیالیس کروڑ امریکی ڈالر) سے قائم کی گئی تھی اور تادم تحریر وفاقی حکومت اس منصوبے پر 29 ارب روپے کی سرمایہ کاری کر چکی ہے۔ 1995 ء میں اس منصوبے کی تکمیل کے بعد ہماری فیصلہ سازاشرافیہ نے نہایت بے رحمی کے ساتھ غلط انداز میں اس منصوبے کو استعمال کیا اور بغیر کسی آڈٹ یا سٹیٹ بینک اور ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کو رپورٹ کرنے کی شرط عائد کیے بغیر اسے چینیوں کو لیز پر دے دیا گیا۔ چینی یہاں سے نکلنے والا ( 98 ٪ خالص) آبلئی تانبا اپنی کاپر ریفائنریوں میں لے جاتے ہیں اور پاکستان کو ڈھائی کروڑ ڈالر کے سالانہ صوابدیدی منافع پر ٹرخا دیا جاتا ہے۔
لطف کی بات تو یہ ہے کہ سیندک منصوبہ 1995۔ 2001 کے دوران تیس کروڑ روپیے سالانہ خسارے کا شکار تھا اور اس کی بڑی وجہ عالمی منڈی میں تانبے کی قیمتوں پر آنے والا دباؤ تھا، 2002 ء میں یہ منصوبہ چینی کمپنی ایم سی سی کے حوالے کر دیا گیا۔ ٹھوس معدنی دولت کے حامل اس منصوبے کو پھینک دینے کی کیا جلدی تھی جب کہ پی آئی اے، سٹیل مل اور بجلی کے شعبے میں ہونے والے سالانہ نقصانات 700 سے 2200 ارب روپے کی حد کو پہنچ جاتے ہیں، ہماری اشرافیہ ان تمام مذکورہ شعبوں کوب ھی لیز پر یا نجی شعبے کے حوالے کیوں نہیں کر سکی؟
سیندک میٹلز ہماری وزارت پٹرولیم کا ایک شعبہ ہے، اس کے دس سے بھی کم باقاعدہ ملازمین ہیں اور اس کے اثاثوں کو 2002 ء سے چینی استعمال کر رہے ہیں، اس کے لیے انہوں نے صرف آٹھ کروڑ نوے لاکھ امریکی ڈالر کی سرمایہ کاری کا وعدہ کیا اور گزشتہ فروری ہی میں ان کی لیز کے معاہدے میں مزید پندرہ برس کی توسیع کر کے اسے 2037 ء تک کے لیے بڑھا دیا گیا ہے۔ قصہ کوتاہ، پاکستان نے یہ سارا پلانٹ اپنی سرمایہ کاری کے ساتھ تعمیر کیا تھا اور اس کے بعد اس کے سارے آپریشن 35 برس کے لیے چینیوں کو سونپ دیے گئے۔
یہ منصوبہ حقیقی معنوں میں اس صلاحیت کا حامل ہے کہ اس کے موجودہ یا تاریخی منافع کو چار گنا تک بڑھا یا جا سکتا ہے اس کے لیے صرف یہ کرنے کی ضرورت ہے کہ چینیوں پر مزید شفافیت، منصفانہ اور موثر نگرانی کا نظام لاگو کیا جائے کہ وہ پیداوار کے معیار میں شفافیت اور اس میں بہتری لائیں۔ سیندک جیسے نفع بخش منصوبے پر سرکار کا ایک ارب ڈالر خرچ کر کے اس سے سالانہ ڈھائی کروڑ نفع حاصل کرنا مجرمانہ ہے۔ بیس برس کے بعد بھی سیندک اس قابل نہیں ہوا کہ خود پر خرچ ہوئی رقم ہی پوری کر سکے۔ اگر مستقبل کے حوالے سے ہماری اشرافیہ ہمارے لیے ایسی ہی منصوبہ بندی کر رہی ہے تو بہتر ہے کہ پاکستان کے قیمتی قدرتی وسائل کی بے رحمانہ لوٹ مار نہ ہی کی جائے۔
سیندک منصوبے میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ سالانہ بیس کروڑ ڈالر نفع کما سکتا ہے، جب کہ پاکستان سرمایہ کاری بورڈ کے مطابق اب تک پاکستان نے چینیوں سے جو حاصل کیا ہے وہ ”بیس برسوں میں چھیالیس اعشاریہ آٹھ کروڑ ڈالر“ ہیں۔ یہ اس منصوبے سے حاصل ہونے والے مجموعی نفع کا صرف دس فیصد بنتا ہے۔
سیندک منصوبے سے حاصل ہونے والا حقیقی اور قابل حصول نفع، اگر ہم اس کو اضافی الیکٹرو لائٹ ریفائنری کے ساتھ چلائیں، سالانہ پچاس کروڑ امریکی ڈالر تک پہنچ سکتا ہے۔ ہم نے اس منصوبے کی گزشتہ بیس برس کی پیداواری زندگی میں اس سے کم حاصل کیا ہے۔ صرف سیندک پر ہی ساڑھے نو ارب ڈالر کا خالص نقصان۔
کاپر کی پاکستان کی سالانہ درآمدات 14 کروڑ ڈالر کی ہیں، اور ہم آسانی کے ساتھ اپنا یہ قیمتی زر مبادلہ بچا سکتے تھے۔
گزشتہ دنوں میں نے اپنے ساتھی صحافی حامد میر کو سنا، وہ فاٹا کی ایک سونے اور تانبے کی کان کے حوالے سے ایک پرائم ٹائم شو کر رہے تھے، اس کان نے اپنی پیداوار کے تین برسوں میں اپنی پیداوار کا، 25 %خالص تانبا تین کروڑ ڈالر کے عوض برآمد کیا ہے۔ شمالی وزیرستان میں یہ منصوبہ بھی ایف ڈبلیو او (فرنٹیر ورکس آرگنائزیشن) کے ذریعے سے فوج ہی چلا رہی ہے۔ فی الحال یہ ایک کروڑ ڈالر سالانہ کی معمولی آمدن ہے۔ خالص منافع سالانہ تیس لاکھ امریکی ڈالر بنتا ہے۔
اعمال کا آہنگ الفاظ سے کہیں زیادہ بلند ہوتا ہے۔ اب تک پاکستان سیندک، ریکو ڈک اور شمالی وزیر ستان سے مجموعی طور پر دو اعشاریہ آٹھ کروڑ ڈالر سالانہ کما رہا ہے، یہ اس اثاثے کی آمدن ہے جس کی مالیت چالیس ہزار کروڑ ڈالر سے زائد ہے۔ بنیادی حساب سے بھی اندازہ قائم کیا جا سکتا ہے کہ گزشتہ بیس برس میں موجود صلاحیت کا صرف۔ 0008 % حاصل کیا گیا ہے۔ پھر تجدید شدہ دعووں پر کیسے بھروسا کیا جا سکتا ہے۔ پاکستان آرمی کا ادارہ ایف ڈبلیو او شمالی وزیر ستان سے سالانہ تیس لاکھ امریکی ڈالر حاصل کر رہا ہے جب کہ چینی اپنی صوابدید کے مطابق سیندک سے آبلئی تانبا نکال رہے ہیں۔
فوج اور سویلین ہر دو طرح کے ہمارے دور اندیش فیصلہ سازوں نے کبھی غور کرنے کی زحمت کی ہے کہ وزیر ستان کاپر پراجیکٹ، جس سے روزانہ 1500 ٹن کچ دھاتیں (ore) نکلتی ہیں اس سے ایک کروڑ ڈالر کی برآمدات ہوتی ہیں، سیندک سے روزانہ 16500 ٹن کچ دھاتیں (ore) نکلتی ہیں (بارہ گنا زیادہ پیداوار) جن سے نکلنے والا آبلئی تانبا پانچ گنا زیادہ خالص ہے اور گزشتہ بیس برسوں میں اس سے صرف ڈھائی کروڑ ڈالر سالانہ کی اوسط آمدنی ہوئی ہے۔ واقعی ششدر کر دینے والی بات ہے، کیا ایف ڈبلیو او اور سیندک کی انتظامیہ نے اپنے تجربات کبھی باہم سانجھے کیے ہیں، مجھے اس حوالے سے شبہ ہے کیونکہ آرمی اور سویلین اداروں کے مابین رازداری کی ایک دیوار موجود ہے۔ اب آرمی اور سویلین حکومت کیسے مل کر کام کریں گے؟
المیہ یہ ہے کہ جنرل پرویز مشرف نے 2002 / 2003 میں سینڈک اور لسبیلہ زنک/سیسہ کانوں کو نا اہلی کی حد کو پہنچے ہوئے مفادات کی خاطر چین کے حوالے کر دیا تھا۔ کیا جنرل عاصم منیر اس فیصلے کو تبدیل کریں گے؟ امکان تو نہیں دکھائی دیتا۔
جیسا کہ فروری میں چینی کمپنی ایم سی سی کے سیندک کان کے لیز میں توسیع دی گئی ہے۔ رواں برس ایم سی سی کو ایسی ہی توسیع ددر لسبیلہ زنک/سیسہ کان پراجیکٹ کے لیے بھی درکار ہے۔ دیکھنے والی بات یہ ہے کہ اس برس ہماری ایس آئی ایف سی اس حوالے سے کوئی سنجیدگی دکھاتی ہے یا معاملہ جوں کا توں ہی رہے گا۔
پاکستان کی زنک اور سیسے کی سالانہ درآمدات تقریباً بارہ کروڑ ڈالر ہیں اور لسبیلہ زنک پراجیکٹ مکمل طور پر یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ ہماری درآمدی طلب کو پورا کر دے اور اس کے بعد باقی بچ رہنے والی پیداوار کو برآمد بھی کیا جا سکتا ہے۔
پاکستان کی انجنئیرنگ کمپنیاں آسانی کے ساتھ کان کنی کے یہ سب منصوبے چلا سکتی ہیں لہٰذا یہ بات ہمارے قومی مفاد میں ہے کہ ہم اس برس اس لیز میں توسیع نہ کریں اور ایس آئی ایف سی کے تحت اس منصوبے کا کنٹرول خود سنبھال لیں۔ ان منصوبوں میں یہ صلاحیت موجود ہے کہ اس سے کم از کم ایک ارب ڈالر کا خالص نفع کمانے کے ساتھ ساتھ تین ارب ڈالر کا ریونیو زر مبادلہ کی صورت میں ہر برس حاصل کیا جا سکتا ہے اور مبادلے کی لاگت تقریباً نہ ہونے کے مساوی۔
قصہ مختصر پاکستان کو لازماً اپنے حصص کسی بھی قیمت پر کسی کے ہاتھوں بشمول سعودیوں کے فروخت نہیں کرنے چاہئیں اور اس کی بجائے برک کو قائل کرنا چاہیے کہ وہ 100 %خالص تانبے اور سونے کو پاکستان ہی میں ریفائن کرے تاکہ اس سے سالانہ دس ارب ڈالر سے زیادہ کا زر مبادلہ حاصل کیا جا سکے۔
مختصراً یہ کہ پاکستان کو ضرورت ہے کہ وہ اپنے معدنی خزانوں پر اپنا حق دوبارہ جتائے اور اس کے لیے پھیلے ہوئے کھڑاگ، دی ہوئی بڑی بڑی رعایتوں اور مکمل طور پر غیر شفاف کان کنی کے معاہدوں کو مسترد کرنے کی ضرورت ہے تاکہ کیے جانے والے دعووں کے مطابق اس شعبے کے معاملات میں سدھار پیدا کیا جا سکے۔ پاکستان کو میٹالرجیکل کان کنی کے شعبے میں چار ارب ڈالر سے کم کی سرمایہ کاری کی ضرورت ہے کہ وہ ایک فیصلہ کن اور شمولیت کے حامل نقطے سے نیا آغاز کر سکے۔ سیندک، ریکو ڈک اور لسبیلہ کی سیسہ/زنک کے لیے ایک ارب ڈالر کی ایکوئٹی احتیاط کے ساتھ پمپ کرنے اور بہتر منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ اس کے لیے آٹھ ارب ڈالر کے مجوزہ پاکستان خود مختار سرمایہ کاری فنڈ سے رقم آسانی سے حاصل ہو سکتی ہے۔
قصہ مختصر؛ پاکستان نے گزشتہ پچاس برسوں میں اپنے تانبے اور سونے کے منصوبوں پر دو ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور اب تک اس کا چوتھائی ہی واپس وصول کیا جا سکا ہے۔ اور اب ہم معجزوں کی منصوبہ بندی کرنے میں مصروف ہیں۔ خدا مستقبل کے متعلق ہماری سوجھ بوجھ اور سمت کے حوالے سے ہم پر رحم کرے۔
کان کنی کے شعبے میں ہمارا تاخیری لیکن نہایت قابل قدر تمغہ تھر کول کا منصوبہ ہے جو سندھ حکومت اور نجی سرمایہ کاروں نے بغیر فوج کی مداخلت کے مکمل کیا ہے۔
اب تک یہ منصوبہ قومی گرڈ میں 1650 میگا واٹ بجلی، چار اعشاریہ چار روپے فی یونٹ کے حساب سے شامل کر رہا ہے۔
ایس آئی ایف سی کو حقیقی تیز رفتاری سے چلنا پڑے گا اور تھر کے کوئلے کے اب تک استعمال نہ کیے گئے ذخائر کو تیزی سے نکالنا ہو گا قبل اس کے کہ گلوبل وارمنگ کی ڈیڈ لائن کے نتیجے میں کوئلے سے بجلی بنانے کے عمل میں سرمایہ کاری پر پابندیاں عائد ہو جائیں، اس حوالے سے سندھ حکومت کی قیادت کی تعریف اور سہولت کاری کی جانے کی ضرورت ہے۔
کوئلے سے چلنے والے موجودہ منصوبوں کے تحت ریل رابطے فوری طور پر سی پیک کے تحت تعمیر کیے جائیں اور کوئلے کی کان کنی میں توسیع کی جائے۔
آخر میں، چنیوٹ سے لوہا نکالنے کا خواب ادھورا ہی رہا جاتا ہے، اس کی تلاش کے لیے نجی سرمایہ کاروں کی مدد حاصل کی جا سکتی ہے۔
گزشتہ دنوں کاکول میں خطاب کرتے ہوئے ہمارے جنرل نے علامہ اقبال کا درست حوالہ دیا ہے :
موج ہے دریا میں اور بیرون دریا کچھ نہیں
اس معاملے میں دیکھا جائے تو وطن اور شمولیت پسندی ہی دریا ہے۔
مترجم: ثقلین شوکت
عمران باجوہ آل پاکستان نیوز پیپر سوسائٹی (اے پی این ایس) کے ایوارڈ یافتہ لکھاری ہیں اور انھوں نے یہ مضمون بزبان انگریزی لکھا ہے۔

