جنگلات اور پہاڑوں کی کٹائی: ماحولیاتی جرائم کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟


ماحولیاتی جرائم سے مراد وہ سرگرمیاں جو ہمارے سیارے کو پائیدار مستقبل کے مواقع سے محروم کر رہے ہیں۔ اس کی بہت ساری مثالیں ہیں جیسے کہ معدنیات کا عدم تحفظ ہونا یا اسے غیر قانونی طریقے سے نکالنا، غیر قانونی زمین صاف کرنے اور جنگلات کی کٹائی سے لے کر۔ یہ سب ایک منظم جرائم کے حصے ہیں، جس میں بڑی ملٹی نیشنل کمپنیاں، افراد اور دیگر مافیاز شامل ہیں۔ جنگلات کی کٹائی کی وصف ماحولیاتی جرائم میں شامل ہوتی ہے۔ ہم عام طور پر جنگلات کی کٹائی کو ترقی اور ڈویلپمنٹ کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ مگر یہ سرگرمیاں ماحولیاتی جرائم کے مرتکب اپنی آمدنی کو بڑھانے کے لیے مالیاتی اور غیر مالیاتی شعبے پر زیادہ انحصار کرتے ہیں۔ اگر ہم دنیا میں ماحولیاتی جرائم کا سروے کریں گے تو ہمیں پتا چلے گا کہ ماحولیاتی جرائم دنیا میں سب سے زیادہ منافع بخش رقم پیدا کرنے والے جرائم میں شمار ہیں، جو ہر سال $ 110۔ 281 بلین کے درمیان کہیں بھی پیدا کرتے ہیں۔ فضلہ کی اسمگلنگ، جنگلات کے جرائم اور غیر قانونی عمل 66 فیصد ہے۔

مگر ڈویلپمنٹ سیکٹر نے ہمیشہ اس بات کی نفی کی ہے، مختلف اخباروں میں ہم سرکاری اشتہارات شایع ہوتے ہیں جیسے کہ ابھی کچھ ہفتے پھلے کارونجھر کی کٹائی کے حوالے سے اشتہارات سامنے آئے کہ کارونجھر سے بڑے پیمانے پر گرینائٹ نکالنے کی نیلامی کا اشتہار اخباروں میں آیا۔ جس پر کسی بھی تحقیقی ادارے یا ماحولیاتی تحفظ کے ادارے نے کوئی بھی نوٹس نہیں لیا، مگر سندھ کے باشندوں نے اس کٹائی اور کارونجھر کی نیلامی پر شدید ردعمل دیا اور احتجاج بھی کیا۔ جس کے بعد وہ نیلامی کا اعلان واپس لیا گیا۔ مگر ابھی بھی اس بات کی کوئی گارنٹی نہیں ہے کہ مستقبل میں کیا ہو گا۔ کارونجھر صحرائے تھر کا ایک خوبصورت پھاڑی سلسلہ ہے۔ تھر کی خوبصورتی کا راز کارونجھر ہے۔ جب تک لوگ درختوں کی کی کٹائی اور پہاڑوں کی کٹائی کو اپنے زندگی سے نہیں جوڑے گے تب تک ایسے فیصلے اور اعلان ہوتے رہیں گے۔ ہندستان کے ایک گاؤں میں چپکو موومنٹ کا آغاز ہوا تھا۔ گاؤں میں درختوں کی کٹائی کو روکنے کے لئے عورتوں نے درختوں کے چوگرد بازوں کی زنجیر بنا لی۔ اور اس تحریک کا آغاز خواتین نے کیا۔ کیوں کہ فطرت کی تباہی انسانی آبادیوں کی تباہی ہے۔ اس کے علاوہ نقصان دہ ماحولیاتی اثرات اور مالی اخراجات کے علاوہ، یہ جرائم صحت عامہ اور انسانی سلامتی کے ساتھ ساتھ سماجی اور اقتصادی ترقی کے لیے تباہ کن اثرات مرتب کرتے ہیں۔

حال ہی میں شائع ہونے والی ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ، ”ماحولیاتی جرائم سے منی لانڈرنگ“ ، جس کے مطابق ماحولیاتی جرائم ایک وسیع تر مجرمانہ ادارے کا حصہ ہیں جو مجرمانہ سرگرمیوں جیسے کہ انسانی اسمگلنگ، منشیات کی سمگلنگ، بدعنوانی اور ٹیکس چوری کے ساتھ ساتھ دہشت گردی میں ملوث ہیں۔ ایف اے ٹی ایف نے یہ مطالعہ ماحولیاتی جرائم کے لیے مجرمانہ فوائد اور منی لانڈرنگ کی تیکنیکوں کے پیمانے اور نوعیت کے بارے میں عالمی سطح پر بیداری بڑھانے کے لیے کیا تھا۔

دنیا میں زیادہ تر ممالک نے اپنے قومی خطرے کے جائزوں میں ماحولیاتی جرائم سے لاحق منی لانڈرنگ کے خطرات پر غور نہیں کرتے۔ ماحولیاتی جرائم کی ’کم رسک‘ ، ’زیادہ انعام‘ کی نوعیت مجرموں کے لیے منافع بخش اور محفوظ ذریعہ آمدنی ہے۔ اس لیے یہ مجرم اپنی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ ایک یا زیادہ ماحولیاتی جرائم میں مہارت رکھتے ہیں، اور مصنوعات کو منتقل کرنے اور مالی بہاؤ کو آسان بنانے کے لیے کیش کوریئرز سے لے کر آف شور شیل کمپنیوں تک انتہائی خصوصی نیٹ ورکس پر رسائی کرتے ہیں۔ یہ عام طور پر ایک ریگولیٹری اور قانونی ماحول کی وجہ سے ہے جو عالمی سطح پر ہمیشہ یکساں نہیں رہتا ہے۔ ایف اے ٹی ایف ماحولیاتی جرائم اور متعلقہ منی لانڈرنگ سے ہونے والے نقصان کے دائرہ کار اور پیمانے کے بارے حقیقتیں بتاتا ہے۔

یہ اس بات کو بھی یقینی بنانا چاہتا ہے کہ ہر ملک ماحولیاتی جرائم کے ذریعے پیدا ہونے والے فنڈز کے غیر قانونی کارروائیوں کی نشاندہی کرے۔

غیر قانونی لاگنگ؛ ملکی اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی میں لکڑی کی کٹائی، پروسیسنگ، نقل و حمل، خرید یا فروخت شامل ہے۔ غیر قانونی لینڈ کلیئرنگ سے مراد ؛کھیتی باڑی، عمارت یا رئیل اسٹیٹ کے کاروبار کے لیے زمین کا غیر قانونی حصول اور کلیئرنس ہے۔ جنگلات کا جرم؛ جنگلات کے شعبے میں مجرمانہ سرگرمیاں کٹائی اور نقل و حمل سے لے کر پروسیسنگ اور فروخت تک، بشمول غیر قانونی لاگنگ اور زمین کی منظوری تک پوری سپلائی چین کا احاطہ کیا جاتا ہے۔

ماحولیاتی جرائم کے ذریعے منی لانڈرنگ سے متعلق حالیہ رپورٹ کے پیش نظر جن میں غیر قانونی لاگنگ، غیر قانونی لینڈ کلیئرنگ، غیر قانونی کان کنی اور فضلہ کی اسمگلنگ شامل ہے، پاکستان میں موجودہ ریگولیٹری فریم ورک اور سرگرمیوں کا جائزہ لینے کی سخت ضرورت ہے۔ ماحولیات اور جنگلات کے حوالے سے کام کرنے والے عالمی ادارے گلوبل فاریسٹ واچ کے مطابق، پاکستان میں 2001۔ 2020 کے درمیان سالانہ 9.68 کلومیٹر فی ہیکٹر درختوں کی کمی ہوئی، اور خیبر پختونخوا جنگلات کی کٹائی سے سب سے زیادہ متاثر ہوا جس کی وجہ غیر قانونی کٹائی اور مقامی حکام کی بدعنوانی ہے۔ آج کل اخبارات بہت سارے جعلی کلیئرنس سرٹیفکیٹ کے ساتھ فضلہ کی غیر قانونی اسمگلنگ کے اسکینڈلوں سے بھرے پڑے ہیں، جو کہ صحت عامہ اور حفاظت کے لیے ایک بڑی تشویش ناک بات ہے۔

مالی تحقیقات کے خطروں کے جائزوں میں کمی کی وجہ سے، ان مالی بہاؤ کا پتہ لگانے کے لیے حکومتی اقدامات اس مسئلے کے پیمانے قابل تعریف نہیں ہیں۔ ماحولیاتی جرائم کے زمینداروں کو مجرم قرار دینے کے لیے قانون سازی کی گئی ہے، مثال کے طور پر لکڑی اور لاگوں کی غیر قانونی کٹائی، قدرتی وسائل کا غیر قانونی استحصال، جنگلی حیات کی غیر قانونی تجارت کے اقدامات۔ تاہم، قانون سازی اور ضوابط مختصر طور پر تیار کیے گئے ہیں مگر یہ قانونی کمزوریاں رشوت خوری، بدعنوانی، بے کار بیوروکریٹک، پیچیدہ کارپوریٹ ڈھانچے، رعایتی لائسنسوں کے ساتھ ساتھ اصل سرٹیفکیٹ کی جعلی سازی کے ساتھ سیاسی اثر رسوخ کی وجہ سے بڑھ جاتے ہیں۔ پاکستان کو ان حالات میں اس حقیقت کا ادراک ہونا چاہیے کہ اسے عالمی قانون کے معیارات کی روشنی میں قوانین اور ضوابط متعارف کروانے ہوں گے، ایف اے ٹی ایف کی طرف سے تسلیم شدہ سیکٹر مخصوص ماحولیاتی جرائم کو سنجیدگی سے لیا جائے۔ متعلقہ محکموں اور قانون نافذ کرنے والے ادارے اور ماحولیاتی تحفظ کے ادارے ممکنہ خطرات کی نشاندہی، پتہ لگانے اور ان کو کم کرنے میں مدد فراہم کریں۔ دیکھا جائے تو مختلف ممالک میں جرائم سے نمٹنے کے لیے قوانین اور ضوابط پہلے سے موجود ہیں، مگر ان کے نفاذ میں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اہم کردار ادا کیا۔

رپورٹ کے مطابق، ماحولیاتی جرائم دنیا میں سب سے زیادہ منافع بخش اور آمدنی پیدا کرنے والی سرگرمی ہے، اور اس شعبے سے جرائم پیشہ افراد کے ذریعے تقریباً 110 سے 281 بلین امریکی ڈالر کمائے جاتے ہیں۔ ورلڈ بینک کی سروے کے مطابق حکومتوں کو صرف غیر قانونی لاگنگ سے ٹیکس ریونیو میں 6 سے 9 بلین امریکی ڈالر سالانہ کا نقصان ہوتا ہے۔ غیر قانونی کان کنی کا حصہ تقریباً 12 سے 48 بلین امریکی ڈالر سالانہ ہے جبکہ سونے کی غیر قانونی پیداوار کی مالیت کا تخمینہ 2005 میں 84 ملین امریکی ڈالر سے 2014 میں 1 بلین سے زیادہ ہے جبکہ کچرے کی غیر قانونی اسمگلنگ سے سالانہ تخمینہ 10۔ 12 بلین امریکی ڈالر پیدا ہوتا ہے۔ ایک وکیل کی حیثیت میں قوانین کو مدنظر رکتے ہوئے اعلیٰ عدالتوں کے معزز ججز کو ایف اے ٹی ایف کی رپورٹ، ماحولیاتی جرائم سے منی لانڈرنگ کی اس رپورٹ کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔ زمین کے غیر قانونی حصول کے حوالے سے مقدمات کا فیصلہ کرتے وقت ماحولیاتی جرائم کی تعریف اور غیر قانونی زمین صاف کرنے کی وضاحت کو ذہن میں رکھنا چاہیے۔ عدالتوں کے فیصلے قانون کی بنیاد پر ہونے چاہئیں تاکہ ماحولیاتی جرائم سے بچا جا سکے۔

Facebook Comments HS