ہو رہے گا کچھ نہ کچھ۔۔۔
اتحادی حکومت 16 ماہ کی مقررہ مدت پوری کر کے گھر جا چکی، نئی مردم شماری کے نوٹیفیکیشن کے بعد کچھ پتہ نہیں کہ عام انتخابات کب ہوں گے۔ اتحادی حکومت کی کوششوں سے آئی ایم ایف کا قرض تو منظور ہو گیا اور فی الحال ملک ڈیفالٹ سے بھی بچ گیا لیکن آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کے پیش نظر مہنگائی آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے۔ ڈیزل، پٹرول اور گیس کی قیمتیں عام آدمی کی قوت خرید سے باہر۔ بجلی کے بل اپنی ان انتہاؤں پر جن کی ادائیگی عام آدمی تو کجا متوسط طبقے کے بس سے بھی باہر۔ معیشت کا پہیہ اگر رکا نہیں تو چل بھی نہیں رہا۔ ان حالات میں پوری قوم کو ”ملک بچاو¿ مہم“ پر نکلنا چاہیے لیکن ہمارے رہنما ابھی سیاست بچاؤ مہم پر نکلے ہوئے ہیں۔ نواز لیگ کا دعویٰ ہے کہ اس نے ریاست بچانے کی خاطر اپنی سیاست داو¿ پر لگادی۔ حقیقت بھی یہی ہے کہ مہنگائی کے اس طوفان میں نواز لیگ کے ووٹ بنک کو بہت دھچکا لگا ہے۔
عمران خاں نے اپنے ساڑھے تین سالہ دورحکومت میں تباہیوں اور بربادیوں کی داستانیں رقم کیں۔ سوال مگر یہ کہ کیا ملک و قوم کو سنبھلنے کا موقع مل پائے گا جبکہ تاحال عمران خاں کی سیاست کو سہارا دینے کے لیے کئی ملکی و بین الاقوامی قوتیں برسرپیکار ہیں۔ اقوام متحدہ میں اسرائیلی مندوب کی انسانی حقوق کی آڑ میں عمران خاں کے حق میں تقریر نے اس تاثر کو ہوا دی ہے کہ عمران اور جمائما کی شادی اس ”گریٹ گیم“ کا حصہ تھی جس کا ذکر ڈاکٹر اسرار احمد اور حکیم سعید کرتے رہے۔ عمران خاں کا دور حکومت گواہ ہے کہ اس تمام عرصے میں ملک و قوم کی بہتری کے لیے کوئی ایک کارنامہ بھی سرانجام نہیں دیا گیا۔ یہ بھی عین حقیقت کہ اس دور میں پاکستان کے کل قرضے کا 75 فیصد حاصل کیا گیا لیکن ترقیاتی کام ندارد۔ اسی دور میں آئی ایم ایف سے قرض وصول کر کے اس کی شرائط کو جوتے کی نوک پر رکھا گیا اور اقوام عالم میں پاکستان کو تنہا کرنے کی بھرپور کوشش کی گئی۔ اسی دور میں سی پیک پر کام بند ہوا اور چین جیسے مخلص دوست کو ناراض کیا گیا۔ سعودی عرب کی پاکستان سے دوستی کسی بھی شک و شبہ سے بالاتر ہے لیکن نہ صرف ولی عہد محمد بن سلیمان کے دیے گئے تحفے بیچ کر ناراض کیا گیا بلکہ سعودی عرب کو تنہا کرنے کی کوشش بھی کی گئی۔ اب بشریٰ بی بی کی مبینہ ڈائری کے ہوشربا انکشافات سامنے آئے ہیں جن میں انکشاف ہوا کہ عمران خاں بشریٰ بی بی کے اشارہ¿ ابرو کے منتظر رہتے تھے۔ تاریخ پاکستان میں بشریٰ بی بی کی ڈائری اور سپریم کورٹ کا 11 اگست کا فیصلہ ہمیشہ تنقید کی زد میں رہے گا۔
بشریٰ بی بی کے اپنے ہاتھوں سے لکھی گئی مبینہ ڈائری یہ ثابت کرنے کے لیے کافی ہے کہ عمران خاں ان کے مکمل قبضہ¿ قدرت میں ہے۔ اس ڈائری میں وہ عمران خاں کو سیاسی ڈکٹیشن کراتی نظر آتی ہے۔ وہ یہاں تک بتاتی ہے کہ پی ٹی آئی کی سیاسی حکمت عملی کس وقت کیا اور کیسی ہوگی، حکومت، اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کو کیسے دباو¿ میں لانا ہے اور عدلیہ، فوج اور حکومت پر کون کیسے اور کب دباو¿ ڈالے گا۔ ڈائری میں جنرل قمرجاوید باجوہ کو ”ماموں“ کے کوڈ سے لکھا گیا ہے۔ ڈائری کے مطابق اگر گورنر راج لگتا ہے تو شہر بند کرنے کی تیاری کی جائے اور اتنا پریشر بنایا جائے کہ کوئی نیگیٹو فیصلہ نہ دے پائے۔ پریشر دینے کا مطلب یہ کہ عدالت میں بہت سے لوگ ہونے چاہئیں اور صبح سے عوامی فضا بنا دینی ہے کہ عدالت کوئی منفی فیصلہ نہ کرسکے۔ ڈائری میں عمران خاں کو مسلط فیصلے پارٹی قیادت سے چھپانے کی ہدایت ہوتی رہی اور کہا جاتا رہا کہ پہلے اعلان نہیں کرنا اور پارٹی کو بھی نہیں بتانا کہ عمران خاں کتنے دنوں کے لیے آرہے ہیں۔ وکلا کی ٹیم کو بھی بشریٰ بی بی باقاعدہ ہدایات دیتی رہی۔ اس ڈائری میں اور بھی بہت کچھ لکھا گیا ہے اور اگر اس کے مندرجات درست ہیں تو کہا جا سکتا ہے کہ ایٹمی پاکستان پر عمران خاں نہیں، بشریٰ بی بی 3 سال 8 ماہ 21 دن حکومت کرتی رہی۔ اس ڈائری سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ 9 مئی کے واقعات کی پلاننگ یقیناً بشریٰ بی بی نے ہی کی ہوگی۔ اس کی سیاسی معاملات میں مداخلت کی گواہی تو جنرل قمرجاوید باجوہ بھی دے چکے۔ اس کے علاوہ اس کی لیک ہونے والی آڈیوز سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ وہ سیاسی معاملات میں بھرپور مداخلت کرتی رہی ہے۔ کسی بھی خاتون کا سیاسی معاملات میں مداخلت یا مشورہ کوئی بری بات نہیں لیکن یہ مداخلت مثبت ہونی چاہیے منفی نہیں جبکہ بشریٰ بی بی کی ڈائری میں ساری سیاست منفی رویے اپنائے ہوئے ہے۔ مثلاً عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کو دباو¿ میں لانے کے طریقے اور عدالتوں میں بھرپور عوامی نمائندگی تاکہ ججز دباو¿ میں رہیں۔ یہ سب کچھ ہماری آنکھوں کے سامنے ہوتا بھی رہا۔ اس کے باوجود فیصلہ کن گھڑی وہی ہوگی جب اس ڈائری کے مندرجات کی مکمل انکوائری ہوگی اور یہ ثابت ہو جائے کہ یہ سب کچھ بشریٰ بی بی ہی کے ہاتھ کا لکھا ہوا ہے۔
11 اگست کو سپریم کورٹ نے ریویو آف آرڈرز اینڈ ججمنٹس ایکٹ کو کالعدم قرار دے دیا۔ یہ فیصلہ چیف جسٹس عمرعطا بندیال کی سربراہی میں جسٹس اعجازالاحسن اور جسٹس منیب اختر پر مشتمل 3 رکنی ہم خیال بنچ نے 19 جون کو محفوظ کیاتھا اور جونہی اتحادی حکومت کا خاتمہ ہوا فیصلہ سنا دیا گیا۔ اس فیصلے سے صاف ظاہر ہوتا ہے کہ یہ میاں نواز شریف کی وطن واپسی کی راہ میں روڑے اٹکانے کی ایک کوشش ہے۔ میاں نواز شریف کو سیاست سے باہر رکھنے کے لیے ایک انتہائی متنازع فیصلے کے ذریعے سپریم کورٹ کے 5 رکنی بنچ نے نا اہل قراردیا۔ اس کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے آرٹیکل 62۔ 1 F کے تحت تاحیات نا اہل قرار دے دیا حالانکہ اس آرٹیکل میں نا اہلی کی مدت کا تعین بھی نہیں کیا گیا۔ تاحیات نا اہلی والا بنچ بھی ہم خیال ہی تھا کیونکہ فیصلے کے وقت جسٹس سجاد علی شاہ موجود ہی نہیں تھے۔ یہ فیصلہ موجودہ چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے تحریر کیا۔ طرفہ تماشا یہ کہ فیصل واوڈا تاحیات نا اہلی کیس میں چیف جسٹس عمرعطا بندیال نے ہی تاحیات نا اہلی کو ظالمانہ قانون قرار دیتے ہوئے نا اہلی کی مدت 5 سال کر دی تھی۔ گویا فیصل واوڈا کی تاحیات نا اہلی ظالمانہ اور میاں نواز شریف کی تاحیات نا اہلی بالکل درست، جو چاہے آپ کا حسن کرشمہ ساز کرے۔ ویسے سابق وزیرقانون اعظم نذیر تارڑ کے مطابق اس فیصلے سے میاں نواز شریف کے انتخابی اکھاڑے میں اترنے پر کوئی اثر نہیں پڑے گا کیونکہ الیکشن ترمیمی ایکٹ میں نا اہلی کی مدت پہلے ہی 5 سال قرار دی جا چکی ہے۔ عرفان قادر کے خیال میں اس فیصلے میں کئی آئینی سقم ہیں اور سب سے بڑا سقم تو یہ ہے کہ پریکٹس اینڈ پروسیجر ایکٹ کے تحت یہ بنچ ہی غیرآئینی ہے، اسی وجہ سے مستقبل کے چیف جسٹس قاضی فائزعیسیٰ اور جسٹس طارق مسعود نے 9 رکنی بنچ میں بیٹھنے سے انکار کر دیا تھا۔ گویا پاکستان کا سیاسی مستقبل مخدوش اور ”ہو رہے گا کچھ نہ کچھ“۔


