کلائمیٹ چینج مسئلے پر عمل درآمد اب کرتار پور میں بھی

میرے محسن و قابل احترام دوست وقار مصطفٰی سپرا صاحب جو کہ عہد لمز یونی ورسٹی میں ملتے تھے۔ وقار سپرا ایک محترک لکھاری و صحافی و سماجی کارکن ہیں جو کہ گزشتہ ایک دہائی سے کام کر رہے۔ اک دن وقار صاحب مجھے کہنے لگے وسیم صاحب آپ کو سائیکل ریلی پر لے کے جانا ہے جو کہ لاہور سے ڈی ایچ اے سے واہگہ بارڈر کی طرف جانا طے پائی تھی۔
میں سائیکل کا نام سن کر بڑا حیران ہوا آج کے دور میں سائیکل کہاں سے آئے۔ لیکن وقار بھائی کے ساتھ جانے کا وعدہ کر لیا۔ جب ڈی ایچ اے پہنچے تو وہاں منظر ہی حیران کن تھا ایسے جیسے سارا لاہور ہی سائیکل پر سوار ہو کر آ گیا ہو۔ وقار بھائی نے مجھے بتایا کہ کلیمیٹ چینج اک بہت بڑا مسئلہ ہے ماہرین کا ماننا ہے اگر انسا نوں نے نیچرل ریسورس کا بے دریغ استعمال نہ چھوڑا تو خدانخواستہ کرہ ارض کا وجود مٹ سکتا ہے۔
یہ لاہور والے ہوا میں کاربن کی مقدار کو کم کرنے کے لئے آج سائیکل پر سوار ہو کر دنیا کو بتا رہے ہیں کہ سب سے پہلے ہم نے آنے والی نسلوں کے لیے کرہ ارض پر ہوا کی آلودگی کو کنٹرول کرنے کے لیے پرعزم ہیں اور اس کا عملی مظاہرہ کر رہے ہیں۔
اسی دن سے دل میں خواہش پیدا ہوئی کہ ایسا کام نارووال میں بھی ہونا چاہیے۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی یونیورسٹی آف پنجاب (آئی ٹی یو) میں دوران ایم ایس پروفیسر ڈاکٹر سید اکمل حسین سے کلیمیٹ چینج مسئلے کو احسن طریقے سے سمجھنے کا موقع ملا۔
آج کل میں الشفا انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز نارووال میں چیف ڈیجیٹل افسر کی خدمات دے رہا ہوں۔ اس یوم آزادی کے موقع پر ڈائریکٹر الشفا انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز نارووال جناب سعید رسول صاحب سے اجازت لی کہ ہم بھی سائیکل ریلی کا انعقاد کریں گے جو نارووال سے کرتا پور جائے گی۔ جس کی اجازت انہوں نے فوری دے دی۔ الشفا انسٹیٹوٹ کی طرف سے ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن کو پیغام پہنچایا گیا کہ ہمیں ریلی کے انعقاد میں سیکورٹی دی جائے۔ ڈسٹرکٹ ایڈمنسٹریشن جناب ڈی سی چوہدری محمد اشرف صاحب نے اس آئڈیا کو بے حد پسند کیا۔
طہ یہ پایا کہ اب سائیکل ریلی ڈی سی آفس سے نکلے گی۔ ڈیلی کے شرکا کو گارڈ آف آنر دیا گیا۔ ڈی سی صاحب نے خود سائیکل پر سوار ہو کر ریلی میں شرکت کی اور فول پروف سیکیورٹی انتظامات کے ساتھ ریلی کرتار پور کی طرف روانہ کر دی۔ ریلی میی موجود سائیکل سوار جو کہ الشفا انسٹیٹیوٹ ہیلتھ سائنسز نارووال کے سٹوڈنٹس تھے نے خوب انجوائے کیا۔ کرتار پور سیکیورٹی پروٹوکول کے ساتھ پہنچنے پر سیکیورٹی اہلکاروں کا شکریہ ادا کیا اور کرتار پور کی سیر کی 76 پاونڈ کا کرتار پور میں کیک کاٹنے کی تقریب میں شرکت کی۔ کرتار پور میں نہ صرف انڈیا بلکہ دنیا بھر سے آئے ہے سیاحوں نے سائیکل ریلی کے شرکا کو خوب داد دی اور ان کے ساتھ سیلفیاں بنائیں۔
نوجوانوں نے انڈیا سے آئے ہوئے سکھ یاتر یوں کو ریلی کے بارے میں اور کلیمیٹ چینج کے بارے میں بتایا جس پر وہ کافی حیران ہوئے اور انڈیا میں بھی ایسی ایکٹویٹی کروانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ الشفا انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز نارووال اور ڈی سی ناروال سمیت اس پروگرام کو کامیاب کروانے پر شکریہ۔


