فاطمہ ریپ کیس، شکریہ سوشل میڈیا

فاطمہ کیس میں گرفتار پیر اسد شاہ کی والدہ سے جب حویلی میں موجود نوکرانیوں کی تعداد کے بارے میں معلوم کیا گیا تو اس نے جواب دیا کہ سیکڑوں ہیں، آج تک کبھی گنی ہی نہیں ہیں۔
سندھی میں اس قسم کی نوکرانیوں کو ”ٻانھی“ کہا جاتا ہے، جن کا باقاعدہ کوئی معاوضہ مقرر نہیں ہوتا۔ بس روٹی کے دو ٹکڑوں پر ان کے والدین اپنی بچیوں کو حویلی چھوڑ جاتے ہیں کہ مرشد کی شفاعت سے جنت کا راستہ آسان ہو جائے گا۔
اب پیر صاحب، ان کی بیگمات اور حویلی میں موجود ملازمان، ان بچیوں کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں، یہ وہ راز ہیں جو حویلی کی حرم سراؤں تک ہی محدود رہتے ہیں۔ والدین کبھی پلٹ کر ان کی خبر تک نہیں لیتے کہ مرشد ناراض ہوا تو دین اور دنیا دونوں ہی ختم ہو جائیں گے۔
یہ سب کچھ صدیوں سے ایک منظم نظام کے تحت ہوتا آ رہا ہے اور اس میں سرکاری افسران، پولیس، ڈاکٹرز اور دیگر اہلکار اپنا حصہ وصول کر کے سہولت کاری فراہم کرتے ہیں۔
فاطمہ کیس میں بھی یہی ہوا۔ معصوم بچی کا ریپ ہوا، ایس ایچ او اور ڈاکٹر کی مدد سے تمام شواہد مسخ کیے گئے اور پوسٹ مارٹم کیے بغیر ہی لاش کو دفنا کر معاملہ نمٹا دیا گیا اور بچی کے والدین کو اس کی بیماری کا بتا کر چار پیسے دے کر خاموش کروا دیا گیا۔
یہ سب کچھ ایک بالکل نارمل اور معمول کی مشق کے تحت کیا گیا۔ کیونکہ ایسے کتنے ہی کیس ہیں، جو آج تک منظر عام پر ہی نہیں آ سکے۔ لیکن فاطمہ کی بات کسی نہ کسی طرح حویلی کی دیواروں سے باہر نکلی اور سوشل میڈیا پر آ گئی۔ جس کے نتیجے میں ایسا احتجاج ہوا کہ عدالتی حکم پر فاطمہ کی قبر کشائی کے احکامات جاری کیے گئے اور ڈی جی ہیلتھ سندھ کی جانب سے پوسٹ مارٹم کے لئے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا۔
میڈیکل بورڈ کی جاری کردہ ابتدائی پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق دس سالہ فاطمہ کے جسم پر قبل از مرگ تشدد اور جنسی زیادتی کی علامات ظاہر ہوئی ہیں۔ رپورٹ میں بچی کے جسم پر زخموں اور جسم کے دو طرفہ مخصوص حصوں پر غیر روایتی نشانات کی تصدیق کی گئی ہے۔ تاہم حتمی رپورٹ کے لئے اجزا کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق بچی کی موت پراسرار حالات میں ہوئی اور اسے میڈیکو لیگل جائزے کے بغیر ہی دفن کر دیا گیا۔
سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ سالوں پہلے رد کی گئی غلامی، آج بھی ہمارے ملک میں اس حالت کیوں برقرار ہے، کہ ملک کے کسی نہ کسی حصے سے کبھی کسی رضوانہ تو کبھی کسی فاطمہ کی جگر چھلنی کرنے والی خبر آجاتی ہے۔ اس کا سادہ سا جواب یہ ہے کہ ہم سب اس کے ذمہ دار ہیں۔ قوانین تو موجود ہیں، لیکن اس پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے۔ ہمیں اس جدید غلامی کی مکروہ شکل کو سب کے سامنے لانا ہو گا۔ اس کے تمام فائدہ اٹھانے والوں بمع سہولت کاروں کو بے نقاب کرنے کی ضرورت ہے۔ پھر اس میں چاہے بچوں کے والدین ہوں، کوئی جج ہو یا پھر کوئی پیر ہی شامل کیوں نہ ہو۔
سندھ کے ہر شہر میں پچھلے چند دنوں سے اس ظلم کے خلاف مختلف سیاسی اور سماجی تنظیموں کی طرف سے بھرپور احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ جس میں آئے دن اضافہ ہو رہا ہے اور اب صورتحال یہ ہے کہ جس حویلی کے اوپر کبھی نر پرندہ بھی پرواز نہیں کر سکتا تھا، آج وہاں پر پولیس پکٹ قائم کردی گئی ہے۔ حویلی مکمل طور پر ویران ہے، کیونکہ اس کے سارے مکین اپنی عورتوں سمیت فرار ہیں۔
پولیس کے مطابق حویلی کے چھ عدد پیروں سمیت، متعلقہ ایس ایچ او، ڈاکٹروں اور دیگر سہولت کاروں کو حراست میں لیا جا چکا ہے۔ جن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا رہی ہے۔ مشکوک افراد کے ڈی این اے کے نمونے حاصل کر کے لیبارٹری بھجوائے جا چکے ہیں۔ یہ سب ایسے با اثر افراد ہیں، جن کو سلاخوں کے پیچھے دیکھنے کا کبھی کسی نے تصور بھی نہیں کیا ہو گا۔
مناظر ایسے بدلیں گے، کبھی سوچا ہی نہیں تھا۔ امیدیں دم توڑ گئی تھیں۔ لیکن سوشل میڈیا کی بدولت آج ایسا ممکن ہو پایا ہے۔ شکریہ سوشل میڈیا، جس نے دھرتی کے خداؤں کو آج اس طرح پسپا ہونے پر مجبور کیا ہے ورنہ ان تاریک غلام گردشوں میں نجانے کتنی فاطمائیں بے گور و کفن ہی دفنا دی گئی ہوں گی۔

