ہم شرمندہ ہیں – مکمل کالم


اگر کسی کا خیال ہے کہ جڑانوالہ میں مسیحی بھائیوں کے مکانوں اور گرجا گھروں کو آگ لگانے والوں کو قرآن و حدیث کے حوالے دے کر قائل کیا جا سکتا ہے کہ انہوں نے غلط اور خلافِ اسلام کام کیا تو یہ اُس کی خام خیالی ہے۔ ہم سب نے وہ ویڈیوز دیکھی ہیں جن میں ’مشتعل ہجوم‘ نجی اور سرکاری املاک کو آگ لگا رہا ہے، اِس ہجوم میں شامل لوگوں میں سے شاید کوئی ایک آدھا شخص ہی باقاعدگی سے نماز پڑھتا ہو اور وہ بھی جمعے کی، باقیوں کے بارے میں یہ بات تقریباً قطعیت سے کی جا سکتی ہے کہ انہوں نے کبھی قرآن و حدیث کی کتابیں کھول کر بھی نہیں دیکھی ہوں گی۔

یہ تو اُن لوگوں کی بات ہوئی جو ہجوم کا حصہ تھے، جن لوگوں نے مساجد سے اعلان کیا اور لوگوں کے جذبات بھڑکائے اور انہیں اشتعال دلایا کہ وہ گرجا گھروں کی چھتوں پر چڑھ کر صلیبیں توڑ دیں اور مسیحوں کے گھر اور عبادت گاہیں نذر آتش کر دیں، اُن مولویوں نے بھی کبھی قرآن کو مکمل ترجمے کے ساتھ نہیں پڑھا ہو گا۔ اگر انہوں نے پورا قرآن بمعہ ترجمہ پڑھا ہوتا تو انہیں پتا ہوتا کہ قرآن میں اللہ کے نبیوں، بشمول حضرت عیسی ؑ، اور اُن پر نازل کی گئی مقدس کتب کے بارے میں کیا کہا گیا ہے۔

ایسی کم از کم پانچ آیتیں تو مجھے یاد ہیں۔ ”جس نے آپ پر حق کے ساتھ اِس کتاب کو نازل فرمایا جو اپنے سے پہلے کی تصدیق کرنے والی ہے اسی نے اِس سے پہلے تورات اور انجل کو اتارا تھا۔“ (آلِ عمران، آیت 3 ) ۔ ”اور ہم نے ان کے پیچھے عیسیٰ بن مریم کو بھیجا جو اپنے سے پہلے کی کتاب یعنی تورات کی تصدیق کرنے والے تھے اور ہم نے انہیں انجیل عطا فرمائی جس میں نور اور ہدایت تھی اور اپنے سے پہلے کی کتاب تورات کی تصدیق کرتی تھی اور وہ سراسر ہدایت و نصیحت تھی پارسا لوگوں کے لیے۔ “ (المائدہ، آیت 46 ) ۔

”آپ کہہ دیجیے کہ اے اہل ِکتاب! تم دراصل کسی چیز پر نہیں جب تک کہ تورات و انجیل کو اور جو کچھ تمہاری طرف تمہارے رب کی طرف سے اتارا گیا ہے قائم نہ کرو، جو کچھ آپ کی جانب آپ کے رب کی طرف سے اترا ہے وہ ان میں سے بہتوں کو شرارت اور انکار میں اور بھی بڑھائے گا ہی تو آپ کافروں پر غمگین نہ ہوں۔“ (المائدہ، آیت 68 ) ۔ ”ان کے بعد پھر بھی ہم اپنے رسولوں کو پے درپے بھیجتے رہے اور ان کے بعد عیسیٰ بن مریم کو بھیجا اور انہیں انجیل عطا فرمائی اور ان کے ماننے والوں کے دلوں میں شفقت اور رحم پیدا کر دیا۔ “ (الحدید، آیت 27 ) ۔ ”جب کہ اللہ تعالیٰ ارشاد فرمائے گا کہ اے عیسیٰ بن مریم! میرا انعام یاد کرو جو تم پر اور تمہاری والدہ پر ہوا ہے جب میں نے تم کو روح القدس سے تائید دی۔ تم لوگوں سے کلام کرتے تھے گود میں بھی اور بڑی عمر میں بھی جب کہ میں نے تم کو کتاب اور حکمت کی باتیں اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی۔“ (المائدہ، آیت 110 ) ۔

اِن پانچ آیتوں کے علاوہ بھی قرآن میں جگہ جگہ تورات اور انجیل کی تصدیق کی گئی ہے اور اِن کتب کو مقدس قرار دیا گیا ہے لیکن جیسا کہ میں نے عرض کیا کہ جس ہجوم نے مسیحوں کے چرچ اور گھر جلائے وہ بس اندھی تقلید میں پاگل ہوئے جا رہے تھے اور اسلام سے اپنے ’عشق‘ کا اظہار اِس پاگل پن کے ذریعے کر رہے تھے۔ سوال مگر یہ ہے کہ اُن کے پاگل پن کا کون ذمہ دار ہے؟

سب سے پہلے ذمہ دار تو وہ خود ہیں، کسی بھی عاقل و بالغ شخص کو یہ رعایت نہیں دی جا سکتی کہ وہ کہے کہ میں بہکاوے میں آ کر لوگوں کے گھروں اور عبادت گاہوں کو آگ لگانے پہنچ گیا تھا، یہ سنگین اور نا قابل معافی جُرم ہے جس کا کوئی جواز نہیں۔ دوسرے ذمہ دار وہ تمام افراد ہیں جنہوں نے معاشرے میں انتہاپسندانہ سوچ کو پروان چڑھایا، یہ لوگ علما میں بھی شامل ہیں اور کالم نگاروں میں بھی، یونیورسٹیوں کے اساتذہ بھی ہیں اور سیاستدان بھی۔

آپ اِن کے بیانات اٹھا کر دیکھ لیں، تحریریں پڑھ لیں، لیکچر سُن لیں یا مساجد میں دیے گئے اِن کے خطبات کا جائزہ لے لیں، آپ کو ایک منٹ سے بھی پہلے اندازہ ہو جائے گا کہ کس طرح سستی شہرت کی خاطر یہ دین کا لبادہ اوڑھ کر لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ آج یہ سب لوگ بھی مذمتی بیان جاری کر رہے ہیں اور اِس امر پر افسوس کا اظہار کر رہے ہیں کہ جڑانوالہ میں مسیحی بہن بھائیوں کے ساتھ ظلم ہوا ہے حالانکہ یہ اِس جُرم میں برابر کے شریک ہیں۔

ایسے موقعوں پرایک اور بات بھی بڑی شد و مد سے کی جاتی ہے کہ ہمارے آئین میں اقلیتوں کو برابر کے حقوق حاصل ہیں اور ریاست اقلیتوں کے ساتھ کھڑی ہے۔ یہ باتیں اب کھوکھلی لگنے لگ گئی ہیں اور اِس کی وجہ اقلیتوں کے ضمن میں ہمارا منافقانہ رویہ اور دہرا معیار ہے۔ چلیے ایک تجربہ کر کے دیکھیں۔ ایک ماہ کے لیے اپنا شہر چھوڑ کر کسی ایسے علاقے میں چلے جائیں جہاں آپ کو کوئی نہ جانتا ہو، اپنا نام بدل لیں اور خود کو مسیحی بتائیں، نوکری تلاش کریں، اور پھر دیکھیں کہ کیا آپ کے ساتھ لوگوں کا رویہ بالکل ویسا ہی ہے جیسا بطور مسلمان تھا یا اُس میں کچھ فرق آ گیا ہے !

اسی طرح اگر ریاست اقلیتوں کے ساتھ کھڑی ہے تو اِس موقع پر ریاست کو چاہیے کہ جڑانوالہ میں مسیحی برادری کے مکانوں اور گرجا گھروں کو پہنچنے والے نقصان کا تخمینہ لگائے اور اُس کا فی الفور مکمل ازالہ کرے۔ دوسرا کام ریاست یہ کرے کہ اِس واقعے کے تمام مجرمان کا مقدمہ خصوصی عدالت میں چلائے اور مقدمے کا فیصلہ تین ماہ کے اندر کیا جائے۔

اب کچھ بات پولیس کی ہو جائے۔ جس وقت لوگ جڑانوالہ میں یہ فساد برپا کر رہے تھے پولیس موقع پر موجود تھی مگر تماشا دیکھ رہی تھی، ایسے موقعوں پر اکثر پولیس کو سانپ سونگھ جاتا ہے، اِن کے پاس ایک گھڑا گھڑایا بہانہ ہوتا ہے کہ ’لوگوں کے جذبات مشتعل تھے اور انہیں روکنا ممکن نہیں تھا‘ سو اِس قسم کے حساس معاملے میں پولیس کے ہاتھ پاؤں پھول جاتے ہیں اور وہ دور کھڑے ہو کر اِس بات کا انتظار کرتی ہے کہ کب مشتعل ہجوم کے جذبات کو قرار آئے اور کب وہ سینہ تان کر شہر میں فلیگ مارچ کرنے کے لیے نکلیں۔

اصل میں ہم نے ایک لفظ سیکھ لیا ہے ’حساس‘ اور یہ لفظ ہم کہیں بھی استعمال کر کے اپنے فرائض سے بری الذمہ ہو جاتے ہیں۔ مجھے ٹھیک سے یاد نہیں، شاید آٹھ دس ماہ پرانی بات ہے، سندھ کے کسی علاقے میں ایسے ہی چند لوگ توہین مذہب کی آڑ میں توڑ پھوڑ کرنے نکلے، متعلقہ ایس پی کو پتا چلا تو وہ موقعے پر پہنچا اور لاٹھی چارج کر کے صورتحال قابو میں کرلی۔ سندھ کا ایک ایس پی اگر یہ کام کر سکتا ہے تو باقی پولیس فورس کیوں نہیں کر سکتی!

ہمارا دعویٰ ہے کہ ہم جڑانوالہ کے اپنے مسیحی بھائی بہنوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔ اِس دعوے کی صداقت جاننی ہو تو ایک خیالی تجربہ کر کے دیکھیں اور سوچیں کہ اگر خدانخواستہ مسیحی ہجوم نے مسلمانوں کے مساجد پر حملے کیے ہوتے اور اُن کے گھروں کو آگ لگائی ہوتی تو کیا ہوتا، اُس صورت میں ہم مسلمانوں کا رد عمل کیسا ہوتا، کیا ہم اتنے ہی غم و غصے کا اظہار کرتے جتنا اب کر رہے ہیں؟ اگر اِس بات کا جواب ناں میں ہے تو سمجھ لیں کہ ہم مسیحوں کو برابر کا شہری نہیں سمجھتے۔ اِس دہرے معیار کی حامل سوچ کا مداوا کرنے کی ایک صورت یہ ہے کہ پنجاب کے مدارس ایک مشترکہ فنڈ قائم کریں اور اُس میں عطیات جمع کر کے جڑانوالہ سانحے کے متاثرین کو پیش کریں اور کہیں کہ ہم شرمندہ ہیں۔ اگر ہم یہ بھی نہیں کر سکتے تو پھر باقی سب خالی خُولی باتیں ہیں، اگلے سانحے کا انتظار کریں!

Facebook Comments HS

یاسر پیرزادہ

Yasir Pirzada's columns are published at Daily Jang and HumSub Twitter: @YasirPirzada

yasir-pirzada has 610 posts and counting.See all posts by yasir-pirzada