محترم یاسر پیرزادہ کے فرمودات کے جواب میں


مذہب ایسا ہی کرتے ہیں۔ ساری دنیوی تاریخ میں بس صرف انسان کو صاحب نظر ادراک ہونا چاہیے۔ یہاں مظلوم عیسی علیہ سلام کی پیروی کے دعوے دار اور وہاں مظلوم احمد مجتبی ﷺ کے پیروی کے دعوے سے سرشار۔ یہ صرف یہاں کا مسئلہ نہیں۔ دنیائے انسانیت کا مسئلہ ہے مذاہب مذہبوں کے ساتھ ایسا ہی کیا کرتے ہیں چنداں حیرانی کی کوئی بات نہیں ہونی چاہیے پس ان کے کارناموں کا بوجھ ریاست کو اٹھانا پڑتا ہے کہیں ایک عورت آ کے بہت خوش اسلوبی سے ان کے پیدا کردہ مسائل کو حل کر دیتی ہے اور کہیں کئی دانائی کے دعوے کرنے والے مرد اپنی نااہلی نالائقی سے معاملات مزید گنجلک کر دیتے ہیں۔

یاسر صاحب یہ مسئلہ مذہبوں کا ہے اور علاج ایک ہی ہے مگر وہ کتاب جنتر منتر اور مردوں کے لیے مختص کردی گئی ہے۔ زندوں کے لیے اس میں کچھ نہیں رکھا ہے انہوں نے۔ فسد الشیٔ کے معنی ہیں کسی چیز کا مضمحل ہو جانا، اس کا اپنی اصلی حالت پر باقی نہ رہنا۔ لحم فاسد، اس گوشت کو کہتے ہیں جو گل سڑ کر بد بو دار ہو گیا ہو، فساد، کے معنی ہیں توازن کا بگڑ جانا۔

بے ترتیبی پیدا ہو جانا، قرآن کریم میں مفسدین کے مقابلہ میں مصلحین کا لفظ استعمال ہوا ہے۔ (سورۃ البقرۃ۔ آیت ( 1 ) معاشی و معاشرتی معاملات کو تباہ کر دینے کو بھی فساد، قرار دیا ہے، (سورۃ البقرہ۔ آیت 205 ) ناپ تول پورا نہ رکھنا، اور دوسروں کی محنت کا پورا پورا معاوضہ نہ دینا، معاشی ناہمواریاں پیدا کرنا، لوگوں کے حقوق دبا لینا، یہ فساد ہے، (سورة الاعراف۔ آیت 85 ) فلاح عامہ کے نظام کو درہم برہم کر دینا، اور صحیح ترتیب کو الٹ دینا، (سورۃ یوسف آیت 73 ) فساد در حقیقت معاشرہ میں ناہمواریاں پیدا ہونے کا نام ہے خواہ اس کی شکل کوئی بھی ہو، اس سے معاشرہ کا توازن بگڑ جاتا ہے، دولت کے نشہ میں بد مست لوگ ایسا ہی کرتے ہیں، نیز حکمت فرعونی کا بھی یہی شیوہ ہے کہ، ملک میں مختلف گروہ اور طبقے پیدا کر کے معاشرہ کا توازن بگاڑ دیا جائے۔

(سورۂ القصص۔ آیت ( 4 ) اللہ نے انسان کے لئے جو نظام و قوانین بذریعہ وحی نازل کیے ہیں، ان کے خلاف عمل کرنا فساد ہے، اس سے انسان کی اپنی ذات میں انتشار پیدا ہوتا ہے، اور معاشرہ میں بد نظمی پیدا ہو جاتی ہے، کائنات کا یہ عظیم القدر اور محیر العقول سلسلہ اس نظم و ضبط اور حسن و خوبی سے اس لئے چل رہا ہے کہ اس میں صرف ایک اللہ کا قانون کارفرما ہے، اگر اس میں متعدد خداؤں کا اقتدار کار فرما ہوتا، تو اس میں فساد بپا ہو جاتا، لہذا انسانی زندگی بھی اسی صورت میں حسن و توازن سے بسر ہو سکتی ہے جب یہ خالصتاً اللہ کے دیے ہوئے ضابطہ قوانین کے تحت بسر کی جائے۔


Facebook Comments - Accept Cookies to Enable FB Comments (See Footer).

Subscribe
Notify of
guest
0 Comments (Email address is not required)
Inline Feedbacks
View all comments