کیا کائنات کے پیچھے کوئی ذہین ڈیزائنر ہے؟

(یہ مضمون میری کتاب A Mysterious Universe (Oxford University Press 2023 ) سے ماخوذ ہے۔)
یہ ایک پراسرار حقیقت ہے کہ کائنات زندگی کے ظہور کے لیے موزوں ہے۔ فطرت کے قوانین کچھ ایسے ہیں جن کی بدولت ہم جیسی زندگی ممکن ہو سکی۔ ایک مبصر کے طور پر ہماری موجودگی کے بغیر کائنات کے وجود کا تصور کرنا ناقابل فہم ہے۔ ایک بنیادی سوال جس پر سائنس دانوں، فلسفیوں اور مذہبی اسکالرز نے توجہ دی ہے وہ یہ ہے کہ کیا یہ کائنات کسی ذہین ڈیزائن کے نتیجے میں وجود میں آئی ہے یا یہ خود ہی وجود میں آ گئی؟
ایک ذہین ڈیزائنر کی موجودگی کو اکثر خدا کے وجود سے منسلک کر دیا جاتا ہے۔ ذہین ڈیزائنر کی قبولیت کسی نہ کسی طرح خود بخود خدا میں اور نتیجتاً ایک منظم مذہب کی قبولیت میں تبدیل ہو جاتی ہے۔ اس طرح، اس کائنات کے وجود سے متعلق ایک فلسفیانہ سوال خدا، موت کے بعد کی زندگی، جنت اور جہنم، معجزات اور صحیفوں جیسے تصورات کے ضمنی عقائد میں تیار ہو جاتا ہے۔
حالانکہ ذہین ڈیزائنر کا تصور بہت مبہم ہے اور اصولی طور پر انسانی تخیل اور فہم سے بالاتر ہے۔ اسے کسی تخلیق کار کے انسانی تصورات کے اندر رکھنے کی کوئی بھی کوشش محض بے سود ہے۔ اگر یہ مان بھی لیا جائے کہ کائنات خود بخود وجود میں نہیں آئی، تو اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ کائنات کا وجود کسی خاص مذہب سے وابستہ خدا کے تصور سے منسلک ہے۔ ذہین ڈیزائن کی موجودگی یا عدم موجودگی سے متعلق بحث بنیادی طور پر ایک فلسفیانہ بحث ہے۔ ایک ذہین ڈیزائنر کی موجودگی کے سوال کو منظم مذہب کی موجودگی یا غیر موجودگی کے تصور سے الگ رکھا جائے۔
اس مضمون میں، میں اس سوال کو خالصتاً سائنسی نقطہ نظر سے پیش کرتا ہوں۔ اس کائنات کے وجود اور اس میں ہماری موجودگی کے پیچھے ایک ذہین ڈیزائن کی حمایت اور مخالفت میں مضبوط دلائل موجود ہیں۔
ذہین ڈیزائن کی حمایت میں سب سے اہم دلیل یہ ہے کہ کائنات میں ہمارے وجود کی موجودگی قدرت کی انتہائی نزاکت کا مظہر ہے۔ قوانین فطرت اتنے نازک ہیں کہ ان سے تھوڑا سا انحراف بھی زندگی کی موجودگی کو ناممکن بنا دیتا۔ یہاں ان اتفاقات کی ایک جزوی فہرست ہے جنہوں نے ہماری زندگی کے وجود کو یقینی بنایا اور ان قوانین پر غور و فکر کی دعوت دیتے ہیں جو اس کائنات کے ارتقا کا بہت خوبصورتی سے تعین کرتے ہیں۔
فطرت کی دو سب سے بنیادی قوتیں کشش ثقل اور برقی مقناطیسی قوتیں ہیں۔ کشش ثقل دو اشیا کے درمیان ایک پرکشش قوت ہے اور اس زمین پر ہمارے وجود کی ذمہ دار ہے۔ ہمارے اور زمین کے درمیان کشش کی قوت ہی زمین پر ہماری موجودگی یقین بناتی ہے۔ اگر کشش ثقل نہ ہوتی تو ہم سمیت کسی چیز کا زمین پر ٹکنا ناممکن ہوتا۔ برقی مقناطیسی قوت دو چارجز کے درمیان ہوتی ہے۔ یہ مخالف چارجز کے درمیان ایک پرکشش قوت ہوتی ہے مگر ایک ہی جیسے چارجز کو ایک دوسرے سے دور لے جاتی ہے۔ سب سے چھوٹے چارجز پروٹون اور الیکٹرون ہوتے ہیں۔ پروٹون پر مثبت چارج ہوتا ہے اور الیکٹرون پر منفی چارج۔ ثقلی قوت برقی مقناطیسی قوت کے مقابلے میں انتہائی کمزور ہے۔ یہ دونوں قوتیں ستاروں اور کہکشاؤں کو برقرار رکھنے کی ذمہ دار ہیں۔ دو پروٹون کے درمیان برقی مقناطیسی قوت اور کشش ثقل کی طاقت کا تناسب تقریباً (1 کے بعد 36 صفر) ہے۔ یہ انتہائی بڑا فرق ہے۔ لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اگر یہ تناسب صرف تھوڑا سا مختلف ہوتا، تو کائنات ستاروں اور کہکشاؤں کے بننے سے پہلے ہی منہدم ہو چکی ہوتی۔
تمام اشیا ایٹموں سے بنی ہیں۔ ایٹم کا مرکزی حصہ نیوکلیئس کہلاتا ہے جو پروٹون اور نیوٹران پر مشتمل ہوتا ہے۔ نیوٹران پر کوئی چارج نہیں ہوتا۔ نیوکلیئس الیکٹرانوں سے گھرا ہوتا ہے۔ نیوکلیئس میں موجود نیوٹران کا وزن پروٹون کے مقابلے میں تھوڑا سا زیادہ ہوتا ہے۔ اگر نیوٹران اور پروٹون کا تناسب جو 1.00137841931 کے برابر ہے، پلٹ دیا جائے اور پروٹون کو نیوٹران سے زیادہ بھاری بنا دیا جائے تو ایٹموں کا ہونا ممکن نہ ہوتا۔ اس صورت میں کائنات اور زندگی کا وجود ناممکن ہوتا۔
کائنات میں دو متقابل قوتیں ہیں، ایک کائنات کی توسیع کی ذمہ دار ہے اور دوسری کشش ثقل جو اسے روکنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ توازن موجودہ شکل میں کائنات کے وجود کا ذمہ دار ہے۔ اسٹیفن ہاکنگ کے مطابق، اگر بگ بینگ کے ایک سیکنڈ کے بعد کائنات کے پھیلنے کی شرح سو ہزار ملین ملین میں ایک حصہ سے بھی کم ہوتی تو کائنات اپنے موجودہ سائز تک پہنچنے سے پہلے ہی منہدم ہو چکی ہوتی۔
اگر نیوکلیئس کے اندر موجود تمام پروٹون کو برقی مقناطیسی قوت سے جوڑنے والی جوہری مضبوط قوت ایک کے مقابلے میں ایک ہزار کھرب حصے سے بھی کم ہوتی تو کوئی ستارہ نہیں بن سکتا تھا۔
اگر الیکٹران کا برقی چارج صرف تھوڑا سا مختلف ہوتا تو ستارے چمکنے کے قابل نہیں ہوتے، اس صورت میں ہائیڈروجن ایٹم فیوژن پراسس کے ذریعے ہیلیم میں تبدیل نہ ہو سکتے۔ یہ پراسس سورج اور ستاروں میں پیدا ہونے والی روشنی اور حدت کا سبب ہے، جو زندگی کے لیے ضروری ہیں۔
اگر کائنات کی کثافت بگ بینگ کے ایک سیکنڈ کے بعد، ایک ہزار ارب میں ایک حصہ زیادہ ہوتی تو کائنات دس سال بعد منہدم ہو جاتی۔ دوسری طرف، اگر اس وقت کائنات کی کثافت اسی مقدار سے کم ہوتی تو کائنات بنیادی طور پر ستاروں اور کہکشاؤں سے خالی ہوتی۔
یہ ایسے اتفاقات کا بہت چھوٹا نمونہ ہے، جو اس کائنات کی موجودہ شکل اور اس میں زندگی کی موجودگی کے لیے ضروری ہیں۔ سائنس دان، نہ صرف طبیعیات اور فلکیات میں بلکہ سائنس کی دیگر شاخوں میں بھی، بہت بڑی تعداد میں ایسے اتفاقات سامنے لائے ہیں، جو کائنات میں زندگی کی موجودگی کا سبب ہیں۔ ان میں سے بہت سے یہاں درج فہرست سے بھی کہیں زیادہ ڈرامائی ہیں۔
یہ کیونکر ہے کہ کائنات کے قوانین اتنے نازک ہیں کہ ان سے بہت معمولی انحراف زندگی کی موجودگی کو ناممکن بنا دیتا؟ خاص طور پر، ہم جیسی زندگی کے لیے کائنات کی مناسبت ہمیں یہ سوچنے پر مجبور کرتی ہے کہ آیا یہ ایک خوش قسمت اتفاق ہے یا اسے اس طرح ڈیزائن کیا گیا ہے۔ بہر حال، ہمارے بغیر، کائنات میں شعوری مبصرین نہیں ہوتے سوائے اس امکان کے کہ بہت دور سیاروں پر زندہ اجسام موجود ہیں۔
میں زمین پر زندگی کے وجود کی مشکلات کو سمجھنے کے لیے ایک سادہ سی مثال دیتا ہوں۔ اگر ہم randomly ایک dice 3 بار پھینکتے ہیں اور ہر بار ہمیں 6 ملتا ہے، تو اسے مشکل لیکن قابل فہم سمجھا جائے گا۔ تاہم اگر ہم ایک ٹریلین بار ڈائس پھینکتے ہیں اور ہر بار ہمیں 6 ملے تو اسے ایک خوش کن اتفاق نہیں سمجھا جائے گا۔ ہمیں بیرونی مداخلت کا یقین ہو گا۔ قوانین فطرت سے وابستہ تمام پیرامیٹرز کی مناسب ویلیو اور کائنات میں زندگی کے وجود کے لیے موزوں قوتوں کی موجودگی اوپر کی مثال میں ہر بار 6 حاصل کرنے کے امکانات سے بہت کم ہے۔ لہٰذا فائن ٹیوننگ دلیل زبردست انداز میں ذہین ڈیزائن کے مفروضے کی حمایت کرتی ہے۔
تو ہم اس زبردست ثبوت کے سامنے ڈیزائنر کی عدم موجودگی پر کیسے بحث کریں گے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں اپنی کائنات کی کوئی خاص حیثیت ختم کرنی ہو گی۔
بہت سے کاسمولوجسٹ اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ واقعی کائناتوں کی لامحدود تعداد موجود ہے، ہر ایک کے پیرامیٹرز کے مختلف سیٹ اور قوتوں کی مختلف طاقتیں ہیں۔ ہماری کائنات ان چند کائناتوں میں سے ایک ہے جو زندگی کو برقرار رکھ سکتی ہے۔ کثیر تعداد میں موجود کائناتوں کا یہ مفروضہ ہماری کائنات کے لیے کوئی خاص حیثیت چھین لیتا ہے اور اب ہماری کائنات کی تخلیق کے پیچھے کسی ذہین ڈیزائنر کی ضرورت نہیں رہی۔
دونوں طرف کے ان دلائل سے، ایک بات واضح ہے : ایک ذہین ڈیزائنر کے وجود کا سوال فزکس (یا عام طور پر سائنس) کے دائرے میں نہیں ہے۔ یہ مابعد الطبیعیات کے دائرے میں ہے۔ کثیر الجہتی دلیل میں، کائناتیں ایک دوسرے کے ساتھ تعامل نہیں کرتی ہیں۔ وہ سب آزادانہ طور پر تیار ہوتی ہیں۔ اس لیے ہماری اپنی کائنات کے علاوہ کسی دوسری کائنات کے وجود کی تصدیق کا کوئی امکان نہیں ہے۔ ایسا نہیں لگتا کہ انسان کبھی اس سوال کا جواب دے سکیں گے کہ کائنات کی تخلیق کے پیچھے کوئی ڈیزائنر ہے یا کائنات خود سے وجود میں آئی ہے۔
یہ بحث کچھ اہم سوالات کو جنم دیتی ہے۔
زندگی کی ابتدا ایک خلیے سے ہوئی۔ ایسا کیسے ہوا کہ بے جان مادے سے زندگی وجود میں آ گئی۔ اس بارے میں سائنسدان کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ زندگی کی اس ابتدائی شکل سے ارتقا کرتے ہوئے زمین پر زندگی کی موجودہ صورت حال تک پہنچے۔ تاہم، ہم انسان زندگی کی بہت سی شکلوں میں سے ایک ہیں۔ لاکھوں دیگر زندگی کی شکلیں بھی ہیں جنہوں نے ارتقاء کا ایک مختلف راستہ اختیار کیا۔ سوال یہ ہے کہ کیا ہماری اس کائنات میں زندگی کی دوسری شکلوں کے مقابلے میں کوئی خاص حیثیت ہے؟
ایک اور اہم اور متعلقہ سوال اس کائنات کے مقصد کے بارے میں ہے، چاہے کوئی ڈیزائنر ہو یا نہ ہو۔ یہ کائنات کیوں موجود ہے؟ یہ تمام سیارے، ستارے اور کہکشائیں، کیوں موجود ہیں اور کس کے لیے ہیں؟ ہم کس مقصد کے لیے موجود ہیں؟
یہ سوالات ہماری عقلی صلاحیتوں سے ماورا نظر آتے ہیں۔ حتمی جواب یقینی طور پر ہماری پہنچ میں نہیں ہے اور اس بات کا قوی امکان ہے کہ یہ ہمیشہ کے لیے ایک پراسرار کائنات رہے گی۔ یہاں تک کہ اگر اس کائنات کی تخلیق کے پیچھے کوئی منصوبہ ہے، تو ہمیں منصوبہ ساز کی نوعیت کے بارے میں قطعی طور پر کچھ نہیں معلوم۔
آخر میں، اس بات کا امکان موجود ہے کہ کوئی کائنات نہیں ہے۔ یہ سب انسانی ذہن کی اختراع ہے۔ یہ وہ نقطہ نظر ہے جس کی کوانٹم میکانکس کے قوانین سے تائید ہوتی ہے۔ کوانٹم میکانکس کے قوانین کے تحت کوئی حقیقت کسی چیز کے ساتھ اس وقت تک منسلک نہیں ہو سکتی جب تک اس کی پیمائش نہ کی جائے۔ چاند موجود نہیں جب تک ہم اسے نہیں دیکھتے۔
اس سے بھی زیادہ حیرت انگیز یہ امکان ہے کہ ماضی کا تعین اس بات سے ہوتا ہے کہ ہم حال میں کس قسم کی پیمائش کرتے ہیں۔ اگر یہ سچ ہے، تو کائنات کا ارتقا اس کی تخلیق کے بعد سے ان قوانین کے مطابق ہوا جو اب ہمارے اعمال اور انتخاب کے مطابق ہیں۔ یہ واقعی ایک عجیب و غریب نتیجہ ہے۔
یہ کائنات یقیناً انتہائی پراسرار ہے۔
ڈاکٹر سہیل زبیری ٹیکساس یونیورسٹی میں کوانٹم سائنس کے Distinguished Professor ہیں اور اس ادارے میں کوانٹم آپٹکس کے شعبہ میں Munnerlyn-Heep Chair پر فائز ہیں۔


