پاکستان، بھارت، چین اور کشمیر پارٹ 2۔


(گزشتہ سے پیوستہ) ۔
کل جماعتی حریت کانفرنس کے چیئرمین مسرت عالم بٹ، شبیر احمد شاہ، محمد یاسین ملک، آسیہ اندرابی، نعیم احمد خان، ڈاکٹر عبد الحمید فیاض، انسانی حقوق کے کارکن خرم پرویز، صحافی آصف سلطان، فہد شاہ اور دیگر اہم شخصیات جیلوں میں نظربند ہیں۔ کل جماعتی حریت کانفرنس کے سینئر رہنما میر واعظ عمر فاروق بھی سرینگر میں گھر میں نظر بند ہیں۔ کالے قوانین کے تحت 4 ہزار سے زیادہ لوگوں کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مودی حکومت نے مقبوضہ کشمیر کی مسلم اکثریتی حیثیت کو تبدیل کرنے کے لئے ہزاروں بھارتی ہندؤوں کو مقبوضہ علاقے کے ڈومیسائل سرٹیفکیٹ جاری کیے ہیں۔

آر ایس ایس کی حمایت یافتہ مودی حکومت مقبوضہ علاقے میں اپنے ”ہندوتوا“ نظریہ کو آگے بڑھا رہی ہے۔ آزادی کشمیر کے حامی رہنماؤں کی جائیدادیں ضبط کی جا رہی ہیں تاکہ انہیں اپنے منصفانہ مقصد حیات سے دستبردار ہونے پر مجبور کیا جا سکے۔ ہندوؤں کو اسمبلی اور پارلیمان میں زیادہ سیٹیں دینے کے لیے مقبوضہ جموں و کشمیر میں اسمبلی اور بھارتی پارلیمنٹ کے حلقوں کی نئی حلقہ بندیاں کی گئی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق کشمیر میں گرفتاری کے بعد لاپتہ شہریوں کی تعداد 10 ہزار سے زائد ہے۔ کشمیر میں لوگوں کے لاپتہ ہونے کے واقعات اب بھی جاری ہیں۔ بھارت نے 27 اکتوبر 1947 ء کو کشمیر پر فوجی تسلط جمایا اور کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے مطالبہ کو دبانے کے لئے انہیں ہمیشہ ظلم و جبر کا نشانہ بنایا۔ مقبوضہ کشمیر میں آٹھ لاکھ سے زائد بھارتی قابض فوجی تعینات ہیں۔ بھارت نے 5 اگست 2019 ء کے بعد حریت کانفرنس کی پوری قیادت کو جیلوں اور گھروں میں نظربند کر رکھا ہے۔

تحریک آزادی کے قائد سید علی گیلانی ستمبر 2021 میں سرینگر میں اپنی رہائش گاہ پر نظربندی کے دوران انتقال کر گئے۔ کئی دیگر کشمیری قائدین بھی جیلوں میں ہی چل بسے۔ میرا مقبوضہ کشمیر میں کشمیری قیادت سے رابطہ رہا ہے۔ سید علی گیلانی سے حج کے دوران منیٰ میں قیام کے دوران طویل ملاقاتیں ہوئی ہیں۔ وہ میرے نام سے اس حد تک مانوس ہو گئے کہ جوں ان کی مجھ پر نظر پڑتی وہ مجھے میرا نام لے کر پکارتے سید علی گیلانی کا یہ آخری بیرون ملک دورہ تھا۔ حج سے واپسی پر نہ صرف ان کا نام ای سی ایل پر ڈال دیا گیا بلکہ ان کو اپنی رہائش گاہ پر نظر بند کر دیا گیا وہ اپنی زندگی کی آخری سانس تک قید رہے اور پھر ان کی میت کو فوج اور پولیس کی تحویل میں سپرد خاک کیا گیا ہزاروں کشمیریوں کو ان کی نماز جنازہ میں شرکت نہیں کرنے دی گئی۔

5 اگست 2019 ء کے غیر قانونی اقدام کے بعد مقبوضہ کشمیر کے متعدد بھارت نواز سیاست دانوں کو بھی گرفتار کر کے نظربند کر دیا گیا۔ اس وقت بھی مقبوضہ علاقہ میں ہزاروں افراد کالے قوانین کے تحت مقدمات کا سامنا کر رہے ہیں۔ 2019 سے مقبوضہ کشمیر میں 50 سرکاری ملازمین کو ریاست کی سلامتی کے لیے ”خطرہ“ کے الزامات پر برطرف کر دیا گیا ہے۔ جس قانون کے تحت انہیں برطرف کیا گیا وہ حکومت کو اجازت دیتا ہے کہ وہ بغیر کسی وضاحت کے ملازمین کو برطرف کرسکے۔

گزشتہ تین دہائیوں میں کشمیر میں فوجی کارروائیوں کے دوران گرفتار کیے گئے افراد میں سے 7 ہزار سے زائد کو دوران حراست قتل کیا گیا۔ عدالتوں کی جانب سے نوجوانوں کی رہائی کے فیصلوں کے باوجود ان پر عملدرآمد نہیں کیا جاتا جس سے انسانی حقوق کی صورتحال اور زیادہ ابتر ہوئی ہے۔ تحریک آزادی کے بعض کارکنوں کو پہلے ہی موت اور عمر قید کی سزائیں سنائی جا چکی ہیں۔ کشمیریوں کو انسانی حقوق کی پامالیوں اور ظلم و زیادتیوں کا نشانہ بنا کر خوفزدہ نہیں کیا جاسکتا۔ کشمیری بھارت کے خلاف اپنی جدوجہد آزادی کو منزل کے حصول تک جاری رکھیں گے۔

5 اگست 2019 ء کو مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت دینے والے آئین کے آرٹیکل 370 اور 35 اے کے خاتمے کے بعد بھارتی حکمران اب آزاد کشمیر پر حملے کی دھمکی دے رہے ہیں۔ کشمیر میں نام نہاد قانون ساز اسمبلی کے انتخابات سے قبل اسمبلی حلقوں کی نئی حد بندی کی گئی ہے تاکہ مستقبل میں کشمیر میں بھارتیہ جنتا پارٹی کی حکومت قائم کی جائے۔ بھارت سے ہندؤوں کو سرکاری سرپرستی میں کشمیر میں بسانے کے اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کے سخت گیر اقدامات سے خطے کے امن کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

کشمیر ایک بین الاقوامی تسلیم شدہ تنازعہ ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل قراردادوں میں کشمیری عوام سے وعدہ کیا گیا تھا کہ انہیں رائے شماری کا موقع دیا جائے گا جس پر عمل ہونا باقی ہے۔ بھارت کی طرف سے 2019 ء میں کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے باوجود مسئلہ کشمیر کا واحد حل اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق استصواب رائے ہی ہے۔ چین ہر بین الا قومی پلیٹ فارم پر کشمیریوں کے حق خود ارادیت کی حمایت کر رہا ہے۔

مودی سرکار کشمیریوں سے کیے گئے وعدوں سے مکر گئی ہے۔ بھارت آئین کے آرٹیکل 370 کی روح کے مطابق مقبوضہ کشمیر کو دیگر ریاستوں کے مقابلے میں خصوصی حیثیت حاصل تھی جسے ”ہندو توا“ ایجنڈے کے مطابق مقبوضہ کشمیر کو بھارت کو مکمل طور پر ضم کرنا ہے۔ اگر کسی مرحلے پر کشمیر پر رائے شماری کرانا ہی پڑے تو بھارت مقبوضہ کشمیر میں غیر کشمیری آباد کاروں کے ذریعے نتائج اپنے حق میں تبدیل کرنے کا منصوبہ ہے۔ بھارت مسلسل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے انکار کر رہا ہے۔

فار ہیومن رائٹس ان جموں و کشمیر کی 2019 ء کی رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی بھارت نے مقبوضہ کشمیر میں اپنا تسلط برقرار رکھنے کے لئے 36 سے زائد قوانین کو ختم کر دیا ایک رپورٹ کے مطابق پچھلے چار سال کے دوران مقبوضہ کشمیر میں 500 ارب روپے سے زائد کا کا کشمیریوں نقصان ہوا ہے۔ پچھلے چار کے دوران مقبوضہ کشمیر میں ہندو راج قائم کرنے کے لئے ”ویلج ڈیفنس کمیٹیوں“ کو ڈیفنس گارڈ کا درجہ دے دیا گیا ہے۔ 2023 کے پہلے سات ماہ کے دوران ڈیفنس گارڈز کو سوا لاکھ سے زائد اسلحہ لائسنس دیے گئے ہیں۔

لاقانونیت کا بازار گرم ہے۔ کشمیر کی جیلوں گنجائش ختم ہو گئی ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں 7 لاکھ سے زائد نئے ہندو ووٹرز کے اندراج کے بعد ہندؤوں کی تعداد بڑھا دی گئی ہے۔ اس طرح انہیں ووٹ ڈالنے اور انتخاب لڑنے کا حق دے دیا گیا ہے۔ وادی اور ریاست میں مسلمان کشمیریوں کی بہت بڑی تعداد آباد تھی جسے اقلیت میں تبدیل کیا جا رہا ہے اگرچہ میں اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرار دادوں کے ذریعے کشمیریوں کو استصواب رائے کے تحت اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا اختیار کیا گیا لیکن 75 سال گزرنے کے باوجود کشمیریوں کو ان کا حق خود ارادیت نہیں ملا بھارت مقبوضہ کشمیر میں نام نہاد دہشت گردی کے حوالے سے بارہا سلامتی کونسل میں پاکستان کے لئے مشکل صورت حال پیدا کرنے کی کوشش کرتا رہا ہے جس کی راہ میں ہمیشہ چین کی ویٹو پاور حائل رہی اس لحاظ سے اب سلامتی کونسل میں وہی ہمارا قابل اعتماد دوست رہ گیا ہے۔ (ختم شد) ۔

Facebook Comments HS