ڈولی آپریشن
مقامی لوگوں کو زندگی بسر کرنے کے لئے کوئی نہ کوئی قرینہ اختیار کرنا پڑتا ہے جب ذرائع آمد و رفت محدود ہوں تو پھر ڈولی سے سفر کرتے ہیں یوں ندی نالے اور دریا کے اس پار وہ پہنچ پاتے ہیں۔ ایسے علاقوں میں سفر کا تعین میلوں میں وقت کی مقدار کے حساب سے کیا جاتا ہے۔ لوگ صبح سویرے گھر سے نکل کر روانہ ہو جاتے ہیں اور شام تک اگر وہ کچھ کر کے واپس لوٹ آئیں تو اسے کامیابی گردانا جاتا ہے۔ ڈولی عین درمیان میں پھنس گئی۔ کئی گھنٹوں کے بعد امدادی کارروائیاں شروع ہوئیں اور پھر کئی گھنٹوں کے بعد کامیابی ملی۔ اس کا سہرا بھی ملکی رواج ہے مطابق کئی لوگوں کے سر باندھا گیا۔ ناکامی کی صورت میں یہی ہونا تھا ہر کوئی دوسرے کو مورد الزام ٹھہراتا بہرحال ایک مشکل ترین صورتحال سے خدا خدا کر کے جان چھوٹی۔
اس واقعے نے بہت کچھ سوچنے سمجھنے کے در وا کر دیے۔ ان علاقوں کی قسمت کب کھلے گی، کب سڑک، اسپتال، سکول اور دیگر بنیادی مراعات ان تک پہنچیں گے۔ ڈولی میں پھنسے کچھ بچے اپنا نویں جماعت کا رزلٹ لینے جا رہے تھے۔ اس علاقہ میں ذرائع آمد و رفت بھی محدود ہیں اور ان کے پاس انٹرنیٹ وغیرہ کی بھی کوئی سہولت میسر نہیں ہے۔ اب ان سے مقابلے کے امتحانات میں مقابلہ آرائی کی کس طرح توقع کر سکتے ہیں لہذا یہ بچے صرف آپ کے کلرک اور دفتری ہی بننے پہ مجبور ہوتے ہیں۔ ذہانت و فطانت کی آن میں کوئی کمی نہیں۔ اس ڈولی آپریشن کے دوران ضلعی انتظامیہ اور پولیس بھی محض بے بس تماشائی ہی دکھائی دی۔ میڈیا والے بھی کسی خبر کی تلاش میں ہمہ وقت مصروف عمل نظر آتے ہیں مگر کل نجانے ان کے ڈرون کیمرے کہاں گم گئے تھے وہاں کے مناظر ٹی وی سکرین پر ایسے دکھائے جاتے رہے کہ وہ بہت دور کا مبہم سا منظر دکھائی دیتا تھا۔ شاید یہ ہماری اجتماعی غفلت اور بے حسی یا بے بسی کا نوحہ تھا۔
سوچنا ہو گا ایک قوم جس نے ابھی ابھی اپنی 77 ویں سالگرہ منائی تھی یہ حال کب تک قابل قبول ہے۔


