اسلامی تعلیمات اور جڑانوالہ: شرم تم کو مگر نہیں آتی
اللہ کا حکم تو یہ ہے کہ جب تم کسی کو اللہ کی آیات کا مذاق اڑاتے سنو تو ان کے ساتھ نہ بیٹھو یہاں تک کہ وہ دوسری باتوں میں مصروف ہو جائیں (سورہ النساء، آیت 140 ) ۔ کتنی عجیب بات ہے کہ آیات کا مذاق اڑانے والوں کی گردن اڑا دینے کا حکم دینے کی بجائے یہ حکم دیا جا رہا ہے کہ ایسے لوگوں کے ساتھ تب تک نہ بیٹھو جب تک کہ وہ موضوع نہ بدل لیں۔ تحمل اور برداشت کا سبق ملاحظہ فرمائیں کہ یہ تک نہیں کہا گیا کہ ایسے لوگوں سے عمر بھر قطع تعلق ہی کر لو کجا یہ کہ ان کو مارنے یا ان کی عبادت گاہوں کو مسمار کرنے کا حکم دیا جاتا۔ تو سوال یہ ہے کہ جڑانوالا میں ایک کے بعد ایک گرجا گھر جلانے، بائبلوں کو آگ لگانے اور مسیحی برادری کے گھروں کو گرانے اور لوٹ مار کرنے کا حکم کس نے دیا؟
اللہ کے حکم کے بر خلاف جو حکم دے وہ ابلیس کے سوا کون ہو سکتا ہے؟ تو پھر ہمیں ماننا پڑے گا کہ ابلیس ہمارے گھروں، محلوں یہاں تک کہ مسجدوں میں بھی موجود ہے جہاں سے ایسے فتوے دیے جاتے ہیں جن کے بعد کبھی جڑانوالا جیسے واقعات رونما ہوتے ہیں تو کبھی فرقہ واریت کے نام پہ قتل و غارت گری، کبھی توہین کے نام پر جلاؤ گھیراؤ ہوتا ہے تو کبھی توڑ پھوڑ اور مار دھاڑ۔ بس فساد ہی فساد اور وہ بھی اسلام کے نام پر ۔ اس واقعے میں بھی کسمپرسی کی حالت میں زندگی گزارنے والی مسیحی برادری کے گھروں کو لوٹا گیا، پیسہ زیور، یہاں تک کے جہیز کا سامان سب کا سب جہادی اسلام کے نام پر لے اڑے۔
مزید براں یہ سب لوٹ مار فجر کی نماز کے بعد ہوئی اور اس کا حکم مسجد کے منبر سے دیا گیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ اللہ کے حکم کی خلاف ورزی کر کے قرآن کی توہین کس نے کی؟ اسلام کے جیالوں میں سے کسی کو بھی اس میں توہین اسلام نظر کیوں نہیں آتی؟ کیا اس موقعہ پر کسی کو سنت رسول ﷺ کی خلاف ورزی دکھائی نہیں دیتی یا سب یہ بھول چکے ہیں کہ رسول پاک صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا ہے کہ ’خبردار جس کسی نے کسی اقلیتی فرد پر ظلم کیا یا اس کا حق غصب کیا یا اس کو اس کی استطاعت سے زیادہ تکلیف دی یا اس کی رضا کے بغیر اس سے کوئی چیز لی تو بروز قیامت میں اس کی طرف سے جھگڑوں گا‘ (سنن ابو داؤد) ۔
کیا عاشقان رسول کا یہ فرض نہیں ہے کہ اقلیتوں پر ظلم کرنے والوں کے خلاف کھڑے ہوں اور جہاں ایسا ظلم ہوتے دیکھیں اسے روکیں نہ کہ کھڑے ہو کر تماشا دیکھیں۔
یہ کوئی اکا دکا واقعات نہیں ہیں۔ توہین اسلام اور رسالت کے نعروں کو کتنے ظالمانہ طریقے سے خود اسلام کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے شاید ہم یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کیونکہ ہم نے سروں پر لوہے کی وہ ٹوپی پہن رکھی ہے جس کے بعد سمجھ بوجھ سب ماوف ہو جاتے ہیں۔ توہین اسلام اور رسالت کی آڑ میں ذاتی مفادات کو فروخت دینے کا اندازہ اس بات سے لگا لیں کہ شاید پاکستان میں اتنی اقلیتیں نہیں ہیں جتنے توہین اسلام کے کیس درج ہیں۔ بلکہ زیادہ تر کیسز تو مسلمانوں کے خلاف ہیں۔ ایسے واقعات کا رکارڈ نکال کر دیکھ لیں۔
کبھی توہین مذہب کا الزام کسی کی زمین ہتھیانے کے لیے لگایا گیا، کبھی پرانی دشمنی کی آڑ میں۔ کبھی اقلیتی گروہ سے تعلق رکھنے والی لڑکی کے چکر میں تو کبھی کسی غیر مسلم کے ماتحت کام کرنے کے حسد میں۔
تقریباً 10 سال پرانے ایک کیس میں یہ بھی انکشاف ہوا تھا کہ مسجد کے ایک مولوی نے خود قرآن کے اوراق کو آگ لگا کر ان صفحات کو ایک عیسائی لڑکی پر الزام لگانے کے لیے ثبوت کے طور پر استعمال کیا تھا۔
ایک اور کیس میں مسلمان ملازمین ایک غیر مسلم باس کی جان کے در پے اس وقت ہوئے جب اس نے نماز کے وقفے میں کئی گھنٹے کی غیر حاضری پر سوال اٹھایا تھا۔ ایک فیکٹری کے مالک سری لنکن باشندے کو کس بے دردی سے آگ لگا کر قتل کیا گیا تھا یہ ہم سب جانتے ہیں۔
اس طرح کے اور کتنے ہی خوفناک واقعات رونما ہو چکے ہیں جس کی مثال شاید پاکستان کے علاوہ کسی بھی مسلمان ملک میں نہیں ملتی۔ کیا سارے نام نہاد ’مومن‘ اور ’عاشقان رسول‘ بس پاکستان میں ہی موجود ہیں؟ توہین اسلام صرف پاکستان میں ہی اتنی تواتر سے کیوں ہوتی ہے، باقی مسلم ممالک میں ایسا کیوں نہیں ہوتا؟
سچ تو یہ ہے کہ اقلیتوں کے خلاف اس ظلم کے مرتکب کہیں نہ کہیں ہم سب ہیں جو کبھی تو اس ظلم پر خاموش رہتے ہیں تو کبھی اقلیتوں پر الزام تراشی میں پیش پیش ہوتے ہیں اور یہ کہتے نظر آتے ہیں کہ ’کچھ نہ کچھ تو کیا ہی ہو گا جو بات یہاں تک پہنچی‘ ۔ اگر کسی فرد واحد نے ایسا کوئی کام کیا بھی ہو تو یہ کہاں کا انصاف ہے کہ اس کی سزا پوری اقلیتی برادری کو دی جائے؟ ویسے ہم ہوتے کون ہیں سزا دینے والے؟ سزا دینے کا اختیار صرف اللہ کی ذات کو حاصل ہے یا پھر اسلام نے یہ حق ریاست کو دیا ہے، اس کے علاوہ کسی فرد واحد کو یہ حق کسی صورت حاصل نہیں ہے اور جو ایسا کرے گا پھر اسلام کے مطابق وہی فسادی ہے۔
خدارا اس ظلم کا حصہ مت بنیں اور اکسانے والے مولویوں اور سنی سنائی باتوں پر طیش میں آنے کی بجائے یہ سوچیں کہ روز حشر رحمت اللعالمین کو کیا منہ دکھائیں گے؟ کسی شر پسند کی باتوں پر یقین کرنے سے پہلے کم از کم اتنا تو سوچ لیں کہ اللہ کا حکم ہے کہ ’اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کر لیا کرو، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کیے پر پشیمان ہو‘ (سورہ الحجرات، آیت 6 ) ۔ یہ الگ بات ہے کہ اس آیت میں مومنوں کو مخاطب کیا گیا ہے یعنی صرف مومن کو ہی یہ توفیق ہوتی ہے کہ وہ تحقیق کے بغیر کسی نتیجے پر نہ پہنچے۔
پاکستان میں اقلیتوں کے خلاف بڑھتے ہوئے مظالم کو سامنے رکھتے ہوئے اب ریاست کو خاموش تماشائی بننے کی بجائے اپنا کردار نبھانا ہو گا اور خلیجی ریاستوں کی طرح مسجدوں کے منبروں کی نگرانی کرنی ہو گی اور وہاں ایسے اماموں کو تعینات کرنا ہو گا جو دین کی صحیح سمجھ بوجھ رکھتے ہوں اور جو مسجد کا غلط استعمال کرے اسے سخت سزا دے کر عبرت کا نشانہ بنانا ہو گا۔
مزید براں ہمیں سورہ النساء کی آیت 140 کو چھپانے کی بجائے تعلیمی نصاب میں شامل کرنا ہو گا کیونکہ اس آیت کے بعد توہین اسلام کے نام پر خون خرابہ کرنے کا ہر راستہ بند ہو جاتا ہے۔ اور اگر یہ بھی نہیں کیا جا سکتا تو کم از کم اسلامی جمہوریہ پاکستان سے ’اسلامی‘ کا لفظ اور پاکستان کے جھنڈے سے سفید رنگ نکال دیجیے۔


