ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام۔ ہاں یا نہیں؟

مقدسات یعنی کسی بھی سماج کے اندر پائی جانے والی ایسی چیزیں جو تنقیدی رویوں سے بالا تر مانی جاتی ہوں، جن کا بے حد احترام کیا جاتا ہو۔ جنہیں «فروگزاشت کرنے » کی گنجائش معاشرے میں موجود نہ ہو۔
کسی بھی چیز کو سماجی لحاظ سے تقدس کا درجہ کیسے ملتا ہے؟ اس سوال کا جواب اسی سماج کے تاریخی پس منظر، ثقافتی اقدار اور تہذیبی رویوں میں ڈھونڈنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اتنا ضرور ہے کہ ہر معاشرے میں چاہے وہ تقدس گریزی کی مثال قائم کرنے کے درپے ہو، پھر بھی کچھ نہ کچھ اتنا مقدس ضرور بن جاتا ہے کہ وہ اس پر سر دھڑ کی بازی لگا دیتا ہے۔ مثال کے طور پر مغربی معاشرے میں جہاں ہر مشرقی قدر بے قیمت محسوس ہوتی ہے، وہاں آزادی بیان اتنی قداست پا لیتا ہے کہ اس کے لیے ہزاروں بلکہ لاکھوں لوگوں کے احساسات بے وقعت ہو جاتے ہیں۔ البتہ اسی معاشرے میں یہودی برادری کے احساسات کا خیال رکھتے ہوئے ہولوکاسٹ پر بولنا ممنوع قرار دے دیا جاتا ہے، اور اسے آزادی بیان کے خلاف نہیں سمجھا جاتا۔
اس لیے قداست ایک نسبی [Relative]امر ہونے کے ساتھ ساتھ عمومی مسئلہ بھی ہے، یعنی ہر سماج کی قداستیں اس کے سطح شعور کے حساب سے ہیں۔
تقدس کے بت کدے میں رکھی اشیاء اتنی آسانی سے نہیں ٹوٹتیں۔ اس لیے اصل مسئلہ مقدسات کے احترام یا کم از کم ان کی توہین نہ کرنے کا ہے۔
قابل غور امر ہے کہ کیا مقدسات کا احترام کرنے سے وہ چیزیں واقعی تقدس کا درجہ پا لیتی ہیں یا ان کے تقدس کی بقاء میں مدد ملتی ہے؟
یہ بھی سوچنے کی بات ہے کہ کیا ان کی توہین اور بے احترامی سے ان کا تقدس ختم ہو جاتا ہے؟
میرا خیال ہے ان میں سے کوئی بھی چیز یقینی نہیں ہے، کیونکہ ہو سکتا ہے کہ مقدس چیز کو تقدس بخشنے والے سماجی طبقے کے اندر آنے والی نسلیں اجتماعی آگہی کے طفیل خود بخود اس نتیجے تک پہنچ جائیں کہ یہ مقدس نہیں ہیں۔ پس آپ کے احترام سے ضروری نہیں ہے کہ وہ چیز مقدس باقی رہ جائے۔
اور یہ بھی عین ممکن ہے کہ توہین کا نتیجہ بالکل الٹ نکلے، پاکستانی معاشرہ تو ایسے کئی ایک تجربات سے گزر چکا ہے، جہاں پر کچھ کہانیاں صرف اس لیے معاشرے میں سنائی گئیں کیونکہ دوسرے طبقے کے لوگ ان کہانیوں کے برعکس سناتے تھے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ بہت سے لوگوں کے ہاں بنی امیہ کے حکمراں بھی قداست حاصل کرنے لگ گئے۔ پس یہ بھی ضروری نہیں کہ آپ کی بے احترامی سے کسی چیز کی قداست پر حرف آ جائے۔
مغرب میں توہین آمیز خاکوں کی کہانی تو سب کے سامنے ہے۔
نتیجہ یہ ہے کہ مقدسات کی بے احترامی سے بچنے کا مطلب نہ ہی اس کے تقدس کا اعتراف ہے، نہ ہی اس کی بقاء پر مہر تائید ہے، بالکل ویسے ہی جیسے مقدسات کی بے احترامی کا لازمی نتیجہ ان کے تقدس کا زوال نہیں ہے۔
مقدسات کے احترام کا ایک ہی مطلب ہے : اپنے سماج کے افراد کی ذہنیتوں کا احترام، اپنے ارد گرد بسنے والے لوگوں کے احساسات کی لاج رکھنا اور ان کے جذبات کا خیال رکھنا۔
پس ایک دوسرے کے مقدسات کا احترام سماجی بلوغ کی نشانی ہے، جو سماج فکری طور پر بالغ ہو جاتا ہے وہ اپنے جیسے دیگر انسانوں کو جینے کا پورا حق دیتا ہے، او ر جینے کا مطلب فقط کھانا پینا اور سانس لینا نہیں ہے، بلکہ جینے کا مطلب عقیدت اور جذباتی وابستگی رکھنا بھی ہے، اس لیے یہ حق سب کو یکساں طور پر حاصل ہے۔ اس لیے سب قداستوں کی سماجی پوزیشن ایک ہے، اگرچہ ان کی نظریاتی بنیادیں مختلف ہوں۔
یہاں سے اس احترام کا دائرہ کار بھی متعین ہو جاتا ہے۔ کیونکہ یہ تو ایک معمولی بچہ بھی جانتا ہے کہ گاوماتا کے تقدس کا خاتمہ اس کے پجاریوں کی آنکھوں کے سامنے اسے ذبح کر کے، روسٹ کباب کھانے سے نہیں ہو گا۔ بلکہ الجھن مزید بڑھے گی۔
معاشرے میں تفاہم یعنی ایک دوسرے کو سمجھنے کا فلسفہ خود قرآنی بنیادیں رکھتا ہے۔ «جعلناکم شعوبا و قبائل لتعارفوا۔ »یہ تفہیم و تفاہم کا عمل باہمی احترام کی فضا میں ممکن ہے۔ کیونکہ احترام سے اعتماد کی فضا بڑھتی ہے۔ اعتماد جب بڑھتا ہے تو تاثیر و تاثر بڑھتا ہے۔
اس لیے اگر کسی مقدس چیز کے تقدس میں تردید کرنی ہے تو جذبات کو الجھن میں ڈالنے کے بجائے، عقل و خرد کو متحرک کرنے کی ضرورت ہے۔ وہی کام جو انبیاء و مصلحین نے کیا، انہوں نے جذبات سے نہ کھیلا۔ ہاں ان سب کے باوجود بھی ہو سکتا ہے، آتش نمرود میں کودنا پڑے، یا قہر فرعونی سہنا پڑے، یا بظاہر صلیب رومی پر لٹکنا پڑے، یہ اقتدار کے کھیل ہیں، جس کی قیمت ہر حال میں سنت شکن لوگوں کو چکانی پڑتی ہے۔ اس لیے یہ کام انتہائی اعلی ظرفی کے ساتھ ساتھ حد درجہ شجاعت، ظرافت اور «کیاست» کا طالب ہے، اس کے لیے صبر ابراہیمی، عصائے کلیمی، دست مسیحائی اور قلب مصطفائی کی ضرورت ہے۔

