بوسنیا کی چشم دید کہانی (45)


مسلمانوں کی سٹولک میں آباد کاری کے منصوبے کی ناکامی کے نتیجے میں انہوں نے تعمیرِ نو کے کام کا بائیکاٹ کر دیا۔ اس صورت حال کی وجہ سے ہمارے مانیٹرز بے حد پریشان تھے۔ اس پریشانی کی وجہ مسلمانوں سے کسی طرح کی ہمدردی نہ تھی بلکہ اصل وجہ یہ تھی کہ اب ان کے پاس گشت نامہ مرتب کرنے کےلیے کوئی مواد نہ بچا تھا۔ ابھی تک ہر گشت نامے میں تعمیر نو کے لیے آنے والے مسلمانوں کی تعداد، آمد کا وقت، ان کے لیڈر کا نام، ازونووچی میں قیام کا دورانیہ، الغرض سوائے اس بس نمبر کے جس میں سوار ہو کر وہ سٹولک آتے تھے، گشت نامے کو تسلی بخش حد تک طول دینے کے لیے ہر روز وہی لگی بندھی معلومات دہرائی جاتی تھیں۔ تعمیر نو کا کام تعطل کا شکار ہونے کی وجہ سے اب مقامی پولیس اسٹیشن اور نسلی سرحد کے دورے کے علاوہ پوری کوشش کے باوجود کوئی قابلِ ذکر موضوع ہی نہ ملتا تھا۔ اور تو اور ذونووی جس کا گشت نامہ Situation is calm but tense کے اختتامی جملے کے ساتھ ہمیشہ ڈیڑھ سے دو صفحوں پر ضرور پھیلا ہوتا تھا وہ بھی اب سُکڑ کر آدھے صفحے تک آ گیا تھا۔ یہ الگ بات کہ مدعا عنقا ہونے کے باوجود وہ اب بھی مقطع کے طور پر اسی فقرے کا انتخاب کرتا تھا۔
موسطار کے پورے ریجن میں موسطار شہر اور سٹولک ہی دو ایسے مقامات تھے جہاں مسلمانوں اور کروایٹوں کے متحارب مفادات یو این اداروں کی موجودگی کا جواز فراہم کرتے تھے۔
سٹولک میں اب مکمل خاموشی ان کے لیے لمحہِ فکریہ تھی۔ لیکن گوروں نے سٹولک میں بہرحال ایک دل چسپ افسانہ ڈھونڈ ہی لیا۔
سٹولک سے جمہوریہ سربسکا کے قصبے بیرکووچی کی طرف جانے والی سڑک پر واقع نسلی سرحد کہ جہاں دوسری نسلی سرحدوں کی طرح جنگ کے دوران منقسم ہونے والے خاندان ہر ہفتہ اور اتوار کو آپس میں ملتے تھے، وہاں سرب علاقے میں لکڑی کے کھوکھوں میں پہلے پہل چند کیفے بار قائم ہوئے۔ یہ کیفے بار ملاقات کی غرض سے آنے والے خاندانوں کے لیے اچھے سائبان ثابت ہوتے تھے۔ ان کیفے باروں کے قیام کے بعد ہر ہفتہ اور اتوار کو کچھ لوگ دونوں اطراف سے سستی اشیاء لا کر یہاں عارضی ڈیرے ڈالتے اور شام ہوتے ہی واپس لوٹ جاتے۔ اس کے بعد یہاں اکا دکا کاروں کی خرید و فروخت کا کام بھی ہونے لگا۔ دیکھتے ہی دیکھتے یہ جگہ ایک اچھی خاصی مارکیٹ میں بدل گئی۔ اب ہفتے اور اتوار کو خرید و فروخت کی غرض سے یہاں لائی جانے والی کاروں کی تعداد میں اس قدر اضافہ ہوا کہ یہاں سے گزرنا محال ہو گیا۔ عام دنوں میں بھی یہاں اچھا خاصا رش رہنے لگا جب کہ اختتامِ ہفتہ تو ایسے لگتا تھا جیسے میلہ لگا ہو۔ یہ جگہ دریائے بریگاوا کے کنارے کچھ اونچائی پر واقع تھی۔ بشمول پینے کے پانی کے سٹولک کی تمام آبی ضروریات بریگاوا کے پانی ہی سے پوری ہوتی تھیں۔ یہاں اب بکھرے ہوئے کوڑا کرکٹ سے دریا کا پانی آلودہ ہو رہا تھا۔ بلدیہ سٹولک نے یہ فیصلہ کیا کہ اس مقام پر صفائی کا مناسب انتظام کرنے کے لیے نسلی سرحد کی طرف جانے والی ہر کار پر 3 کُونے ٹیکس لگا دیا جائے۔ اس ٹیکس کے نفاذ سے قبل مئیر سٹولک پیروراگوش نے مقامی پولیس، ہماری اور IFOR کی ایک میٹنگ بلائی اور اس فیصلے کا اعلان کیا۔ پیروراگوش دورانِ جنگ سٹولک پولیس کا سربراہ رہ چکا تھا۔ اس نے اپنے آپ کو پیشہ ور سپاہی کے بجائے نسلی وفادار کروایٹ ثابت کیا تھا۔ بلدیہ کا موجودہ اعلیٰ ترین عہدہ اسی وفاداری کا صلہ تھا۔ راگوش نے ٹیکس کے نفاذ کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی واضح کر دیا کہ اس نے ہمیں اس اجلاس میں یہ معاملہ زیرِ بحث لانے کے لیے نہیں بلکہ اپنے فیصلے سے آگاہ کرنے کےلیے بلایا ہے۔
یو این کے حکام بالا سٹولک کے حوالے سے کسی ایسی خبر کے لیے پہلے ہی دام شنیدن بچھائے بیٹھے تھے۔ بس اب کیا تھا۔ یو این کے اعلیٰ حکام نے بلدیہ کے اس فیصلے کو آزادی نقل و حرکت کے منافی ایسا قدم قرار دیا جو ڈیٹن معاہدہ امن کی کھلم کھلا خلاف ورزی تھی۔ ہمارے فرانسیسی ڈسٹرکٹ کمانڈر سٹیفن رولانڈ کے نزدیک تو نسلی سرحد پر ہونے والا تمام کاروبار بلیک مارکیٹنگ کی تعریف میں آتا تھا، اور اس کے فروغ کی تمام تر ذمہ داری سٹولک کی انتظامیہ پر عائد ہوتی تھی۔
موسطار میں معمول کی ہفتہ وار میٹنگ جس میں تمام اسٹیشنوں سے کمانڈر اور ڈپٹی کمانڈر شرکت کیاکرتے تھے، یہاں باقی تمام معاملات کو پس پشت ڈال کر اس موضوع پر خوب بحث ہوتی تھی۔ ان تمام اجلاسوں کی صدارت سٹیفن رولانڈ ہی کیا کرتا تھا۔ وہ سینیر عہدے کا ایک خوش شکل اور سمارٹ پولیس افسر تھا۔ نہ معلوم کیا وجہ تھی کہ صدرِ اجلاس کے طور پر وہ جب بھی کسی موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگتا تو اس کے چہرے پر ایک ہلکی سی شرمیلی سی سُرخی کچھ یوں پھیل جاتی جیسے وہ کوئی غیر شرعی بات کرنے لگا ہو۔ ایسے تمام اجلاسوں میں صرف میری رائے باقی تمام شرکاء سے مختلف ہوتی تھی۔ میرا نکتہِ نظر یہ تھا کہ نسلی سرحد پر سربوں اور کروایٹوں کا میل جول ڈیٹن معاہدہ امن کے اغراض کی تکمیل کا باعث بن رہا ہے نہ کہ خلاف ورزی کا۔ یہ معاہدہ بوسنیا اور جمہوریہ سربسکا کو دو علیحدہ مملکتوں کے طور پر تسلیم ہی نہیں کرتا۔ ایک ہی ملک کو نسلی بنیاد پر تقسیم کرنے والی لکیر چوں کہ بین الاقوامی سرحد نہیں ہے۔ لہٰذا یہاں ہونے والا کاروبار سمگلنگ کی تعریف میں نہیں آتا۔ رہا سوال بلدیہ سٹولک کے کاروں پر لگائے جانے والے ٹیکس کا تو اس پر بھی ہمارا اعتراض بلا جواز ہے۔ کیوں کہ ایک تو یہ ٹیکس بلا امتیازِ نسل سب سے وصول کیا جاتا ہے اور دوئم اس کا محرّک سیاسی نہیں بلکہ انتظامی ہے۔ ڈسٹرکٹ کمانڈر سے لے کر ریجنل کمانڈر تک کی زیرِ صدارت منعقد ہونے والے مختلف اجلاسوں میں یہ دلائل میں نے کئی مرتبہ دہرائے۔ سب نے انھیں غور سے سنا لیکن تیسری دنیا کے ایک پلسیۓ کا نکتہ نظر قابلِ توجہ نہ ٹھہرا۔ یوں ہمارے اعلیٰ حکام اس معاملے میں اپنی ہٹ دھرمی پر قائم رہےا

یہ شدید سردی کے دن تھے۔ تقریباً سارا یورپ برف کی دودھیا چادر میں لپٹا ہوا تھا۔ یہ موسم یورپ کے کسی بھی ملک کی سیر کے لیے موزوں نہ تھا۔ چنانچہ فروری کی ماہانہ چھٹیاں ہم نے ایشور کی طرح سٹولک میں زیادہ سے زیادہ سو کر گزاردیں۔ مارچ کی چھٹیوں کے دوران ہم نے سرحد پولیس کے دو ڈی ایس پی ساتھیوں گل افضل اور عبدالرشید کا مہمان بننے کا پروگرام بنایا۔ وہ اب سرب علاقے کے پہاڑی اسٹیشن نیوے سینیا سے تبدیل ہو کر کروایٹ علاقے Kieslik میں تعینات تھے۔ رہائش کے لیے انھوں نے مسلم اکثریتی قصبے وسوکو کا انتخاب کیا تھا۔ یہ بوسنیا کے صدر عالی جاہ بیگویچ کا آبائی قصبہ تھا، جس کا شمار بوسنیا کی قدیم آبادیوں میں ہوتا تھا۔ مارچ کی چھٹیوں کے دوران ہم نے انگلینڈ کا ویزا بھی حاصل کرنا تھا جو زغرب میں واقع سفارت خانے سے ملتا تھا۔ ہم نے سٹولک سے زغرب تک بذریعہ بس رات کا سفر اختیار کیا اور صبح ابھی برطانوی سفارت خانہ کھلا ہی تھا کہ ہم اس کے استقبالیہ پر موجود تھے۔ ابھی تک کسی بھی یورپی ملک کے ویزے کے حصول کا ہمارا تجربہ ہمیشہ خوش گوار رہا تھا۔ ویزا اتنی جلدی اور آسانی سے مل جاتا تھا کہ لگتا تھا وہ بہ زبان قتیل شفائی نہ معلوم کب سے ہمیں پکار رہا تھا کہ

میں کھلے در کے کسی گھر کا ہوں ساماں پیارے
تو کسی روز دبے پاؤں چُرا لے مجھ کو

لیکن برطانوی ویزے کے حصول کے معاملے کو ہم نے کسی قدر مختلف پایا۔ استقبالیہ پر جب اپنی آمد کا مدّعا بیان کیا تو ایک ضخیم فارم تھما دیا گیا۔ اس میں کچھ اس قدر تفصیلی معلومات کا اندراج مطلوب تھا کہ ان کی بنیاد پر با آسانی ایک سوانح عمری لکھی جا سکتی تھی۔ میں اور اقبال نے باہمی مشورے سے بڑی احتیاط کے ساتھ فارم پُر کر کے استقبالیہ پر جمع کروا دیا تو ارشاد ہوا کہ گیارہ بجے ایک انٹرویو کے لیے تشریف لائیں۔ گیارہ بجے مقامی خاتون افسر نے ہمارا علیحدہ علیحدہ انٹرویو لیا۔ پھر ایک دوسرے انٹرویو کے لیے تین بجے کا وقت دے دیا۔ یہ انٹرویو سفارت خانے کی بوڑھی کونسلر نے لینا تھا۔ کونسلر صاحبہ جس سوال پر اٹک گئیں وہ یہ تھا کہ آخر ہم نے بوسنیا میں پورے سال کے قیام کے دوران مشن کےاختتام کے قریب کے وقت ہی کو دورۂ برطانیہ کے لیے کیوں منتخب کیا۔ اس سوال کے پیچھے جو اندیشہ ہائے دور دراز پوشیدہ تھے، ان کو سمجھنا کچھ ایسا مشکل نہ تھا۔ ہمارا جواب سیدھا سادا تھا۔ سوائے موزوں موسم کے کوئی اور وجہ نہیں ہے۔

اگر ایسا ہی ہے تو 15 اپریل تا 15 مئی لندن کا موسم بہت خوش گوار ہوتا ہے اور یہ آپ کی خواہش کے مطابق ہی ہو گا۔ لہٰذا میں اس عرصے کے لیے آپ کو ویزا دینے کے لیے تیار ہوں۔ کونسلر نے کہا

ہم نے کسی حجّت سے پرہیز کیا۔ تھوڑی ہی دیر بعد میں اور اقبال ویزے کے ساتھ اپنے اپنے پاسپورٹ سنبھالتے ہوئے سفارت خانے سے باہر آ رہے تھے. یار انگریز کی خو دوسرے گوروں کے مقابلے میں کتنی مختلف ہے۔ میں نے اقبال سے کہا، حاکم اور محکوم کا تعلق رشتے کی حد تک بدل بھی جائے، رویے کی حد تک کم ہی بدلتا ہے۔ اقبال نے بہت مدبّرانہ بات کی۔ عام طور پر وہ سنجیدہ بات کم ہی کرتا تھا، لیکن جب کرتا تو لاجواب کر دیتا تھا۔

Facebook Comments HS