نگران حکومت اپنی غیر جانبداری کو یقینی بنائے!
وزارت قانون نے اداروں کے خلاف مہم جوئی پر سیاسی پارٹیوں کو متنبہ کیا ہے۔ یہ انتباہ مبینہ طور سے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق کے خلاف تحریک انصاف کی سوشل میڈیا مہم کے تناظر میں جاری کیا گیا ہے۔ اس دوران کراچی میں پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے تحریک انصاف کی طرف سے عمران خان سے اظہار یک جہتی کے لئے نکالی جانے والی موٹر سائیکل ریلی ناکام بنانے کی کوشش کی اور متعدد افراد کو گرفتار کر لیا۔
یہ دونوں خبریں ملک میں سیاسی گھٹن کے ماحول کا پتہ دیتی ہیں۔ ملک میں نگران حکومتیں انتخابات کے انعقاد کے لئے قائم کی گئی ہیں۔ ان حکومتوں کے بارے میں یہ تاثر ہوتا ہے کہ وہ غیر جانبداری سے صرف انتخابات کے پرامن انعقاد پر توجہ مبذول رکھیں گی اور دیگر سیاسی معاملات میں مداخلت کی کوشش نہیں کی جائے گی۔ ایسا نہیں ہے کہ نگران حکومت قائم ہونے کے بعد ملک میں امن و امان کی صورت حال پر توجہ نہ دی جائے اور لاقانونیت کا سد باب نہ ہو۔ لیکن نگران حکومت کو نہ تو سیاسی جماعتوں کو ہراساں کرنے کے لئے بیان جاری کرنے چاہئیں اور نہ ہی نگران دورانیے میں کوئی ایسا طرز عمل دیکھنے میں آنا چاہیے جس سے کسی ایک سیاسی جماعت کو نشانہ بنانے کا تاثر ملتا ہو۔
وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کی نامزدگی حیران کن اور اچانک ہوئی تھی۔ نگران وزیر اعظم کی جو فہرستیں میڈیا میں سامنے آ رہی تھیں، ان میں کہیں پر ان کا نام نہیں تھا۔ انہیں امور حکومت کا کوئی خاص تجربہ ہے اور نہ ہی وہ کسی پوزیشن میں کام کرنے کی وجہ سے کسی انتظامی تجربہ کے حامل ہیں۔ لیکن اس کے باوجود لمحہ بھر میں اپوزیشن لیڈر کے طور پر راجہ ریاض نے ان کا نام تجویز کیا اور وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنی تجاویز پر مشتمل فہرست لپیٹ کر جیب میں رکھ لی اور انوار الحق کاکڑ کو نگران وزیر اعظم بنا دیا گیا۔ اس نامزدگی کے بعد یہ تاثر قوی ہوا ہے کہ کاکڑ کی نگرانی میں جو حکومت قائم کروائی گئی ہے وہ ملک پر فوج کی بالواسطہ حکومت کا دوسرا نام ہے۔ یہ تاثر تصادم، پریشانی اور عوامی بے چینی کے موجودہ ماحول میں انتہائی افسوسناک ہے۔
یہ کہنے میں بھی مضائقہ نہیں ہونا چاہیے کہ کسی حکومت، عہدیدار یا صورت حال کے بارے میں قائم کیا جانے والا تاثر یا قیاس ہمیشہ درست نہیں ہوتا۔ سیاسی مقاصد کے لئے بھی بعض خبریں پھیلائی اور منوائی جاتی ہیں تاکہ حکمران عناصر کو دباؤ میں لاکر انہیں من مانی پر مجبور کیا جائے۔ اس لئے خبروں، تبصروں اور تجزیوں میں ہونے والے ان مباحث سے قطع نظر کہ انوار الحق کاکڑ کو اس عہدے کے لئے اسٹبلشمنٹ نے چنا تھا، انہیں اپنی غیر جانبداری ثابت کرنے کے لئے مستعدی سے کام کرنے کی ضرورت ہے۔ تاہم اس کے برعکس اگر نگران حکومت کے تحت کام کرنے والی وزارتیں سیاسی جماعتوں کو ہراساں کرنے کے بیانات جاری کریں گی یا ملک کے بعض حصوں میں محض احتجاج کرنے پر گرفتاریاں عمل میں آئیں گی تو ایک غلط تاثر بھی قوی ہو سکتا ہے۔ انوار الحق کاکڑ کو امور حکومت طے کرتے ہوئے خاص طور سے اس پہلو کو پیش نظر رکھنا چاہیے تھا۔
تاہم حکومت کے چند ہی ہفتوں کے دورانیہ میں ملاحظہ کیا جا رہا ہے کہ کاکڑ انتظامیہ قانونی و انتظامی معاملات پر گرفت سخت کرنے کا ارادہ رکھتی ہے اور قلیل المدت اقدامات کرنے اور محض انتخابات پر فوکس کرنے کی بجائے قانون سازی سے لے کر فیصلہ سازی تک میں دور رس اثرات پر مبنی فیصلے دیکھنے میں آئے ہیں۔ نگران حکومت نے غیر ضروری طور سے بعض ایسے متنازعہ قوانین کے سوال پر متنازعہ پوزیشن اختیار کی جن کے بارے میں موجودہ حکومت کا کوئی رول نہیں ہونا چاہیے تھا اور نہ ہی اسے کوئی واضح موقف اختیار کرنے کی ضرورت تھی۔ یہ صورت حال چند دن پہلے صدر عارف علوی کی طرف سے آرمی ایکٹ اور آفیشل سیکرٹس ایکٹ میں ترمیمی بلوں پر دستخط نہ کرنے کے اعلان کے بعد دیکھنے میں آئی۔ موجودہ حکومت کو اس تنازعہ کا حصہ بننے کی ضرورت نہیں تھی۔ لیکن صدر کے ایکس پر پیغام سامنے آنے کے فوری بعد وزیر قانون و وزیر اطلاعات نے ایک پریس کانفرنس میں صدر کو غلط ثابت کرنا ضروری سمجھا اور واضح کیا کہ وہ جن دو بلوں پر دستخط نہ کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، وہ تو پہلے ہی قانون بن چکے ہیں کیوں کہ صدر نے دس دن کی مقررہ مدت میں ان پر دستخط نہیں کیے تھے۔
یہ دونوں قوانین فوج کے اختیارات میں اضافہ کرتے ہیں اور سرکاری مشینری کو سیاسی لیڈروں کے خلاف اقدامات کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ ان دونوں قوانین میں ترامیم شہباز حکومت نے اپنے آخری چند ہفتوں کے دوران منظور کروائی تھیں اور پارلیمنٹ میں ان کی شدید مخالفت بھی کی گئی تھی۔ ایک موقع پر تو سینیٹ میں ہونے والی نکتہ چینی کے سبب حکومت نے ترامیم کا بل واپس لے کر اسے چند تبدیلیوں کے ساتھ دوبارہ پیش کیا تھا۔ اس بارے میں عمومی اتفاق رائے موجود ہے کہ ان ترامیم سے عوام کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے ہیں اور فوج سمیت سرکاری اداروں کو ایسے وسیع اختیارات حاصل ہو گئے ہیں جو اس سے پہلے انہیں حاصل نہیں تھے۔ تاہم اس کی تمام ذمہ داری سبک دوش ہونے والی اتحادی پارٹیوں کی حکومت پر عائد ہوتی تھی۔ نگران حکومت کو اس میں فریق نہیں بننا چاہیے تھا۔ لیکن صدر کے بیان کے بعد دیکھا گیا کہ نگران حکومت نہ صرف فریق بن گئی بلکہ اس بات پر اصرار کیا گیا کہ یہ تمام ترامیم اب قانون بن چکی ہیں اور صدر کا موقف قابل قبول نہیں ہے۔ یہ معاملہ صدر اور ان کے پرنسپل سیکرٹری سے منسوب ایک بیان کے بعد خبروں کے منظر نامہ سے غائب ہو گیا ہے لیکن اس معاملہ میں ایک واضح اور دو ٹوک پوزیشن لے کر نگران حکومت نے اپنی غیر جانبداری کو مشکوک کیا ہے۔
شہریوں کے حقوق محدود کرنے والی متنازعہ ترامیم پر نگران حکومت دو ٹوک موقف اختیار نہ کرتی تو عام لوگوں اور سیاسی جماعتوں کے اعتماد میں اضافہ ہوتا۔ اور یہ تفہیم عام ہوتی کہ سابقہ حکومت کی غلطیوں، صدر کی لغزشوں یا کسی دوسری وجہ سے اگر کوئی ناجائز قوانین منظور، نافذ یا موثر ہوئے ہیں تو ان سے موجودہ حکومت کا کوئی تعلق نہیں ہے کیوں کہ وہ تو صرف عبوری طور سے انتخابات کی نگرانی کے لئے اقتدار میں آئی ہے۔ جوں ہی انتخابات منعقد ہوتے ہیں، موجودہ سیٹ اپ بھی سمیٹ لیا جائے گا۔ اس کے برعکس دیکھنے میں آیا کہ آفیشل سیکرٹس ایکٹ میں ترامیم ’منظور‘ ہوتے ہی شاہ محمود قریشی کو گرفتار کر لیا گیا اور نئے قانون کے تحت انہیں سائفر کے معاملہ میں سرکاری راز افشا کرنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ اسی الزام میں اسد عمر اور تحریک انصاف کے مقید چیئرمین عمران خان پر بھی مقدمہ قائم کیا گیا ہے۔ حتی کہ ان معاملات کا فیصلہ کرنے کے لئے ایک خصوصی عدالت بھی قائم کردی گئی ہے۔
نگران حکومت کو ایک سیاسی پارٹی کے لیڈروں کے خلاف ایسے یک طرفہ اور متعصبانہ طرز عمل کا حصہ نہیں بننا چاہیے تھا تاکہ اس کا یہ احترام و اعتماد قائم رہتا کہ موجودہ نگران حکومت سب سیاسی پارٹیوں کو یکساں واجب الاحترام سمجھتی ہے۔ لیکن اس کا اہتمام کرنا ضروری نہیں سمجھا گیا۔ حالانکہ جہاں تک سائفر تنازعہ کا تعلق ہے تو اس معاملہ سے اب قومی مفاد کو مزید کوئی نقصان پہنچنے کا اندیشہ نہیں ہے۔ بلکہ اس معاملہ کو اچھال کر اور بار بار اس تنازعہ کو زندہ کر کے سیاسی بے چینی پیدا کی جا رہی ہے۔ ملک کی موجودہ سیاسی صورت حال میں ایسی بے چینی مہلک اور نقصان دہ ہو سکتی ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ گزشتہ چند روز کے دوران بجلی کے بلوں کے خلاف ہونے والے احتجاج کی صورت میں دیکھا بھی جا چکا ہے۔
وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ کو اس مسئلہ کی سنگینی کی وجہ سے آج خصوصی اجلاس طلب کرنا پڑا لیکن بجلی کی قیمت میں کمی کا کوئی میکنزم تلاش نہیں کیا جا سکا۔ جوں جوں نگران حکومت کے بارے میں جانبداری کا تاثر قوی ہو گا، عوام میں بے چینی بڑھے گی اور مختلف طریقے سے اس کا اظہار بھی دیکھنے میں آئے گا۔ انتخابات کے مسلسل التوا اور الیکشن کمیشن کی طرف سے کوئی واضح پوزیشن لینے سے گریز کی صورت حال بھی مسائل کی شدت میں اضافہ کرے گی۔ ملک پر بالواسطہ طور سے فوجی آمریت مسلط کرنے کا شبہ یقین میں بدلنے لگے گا اور جب ایک غیرمنتخب حکومت عوام کی مشکلات حل کرنے میں بھی ناکام ہوگی تو اسے انتخابات کو جان بوجھ کر مؤخر کرنے یا متوقع انتخابات کے دوران دھاندلی کی سرپرستی کے الزامات کا سامنا بھی کرنا پڑے گا۔
ان مسائل سے بچنے کا آسان ترین طریقہ یہی ہے کہ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ نہ صرف خود متوازن اور غیر سیاسی طرز عمل اختیار کریں بلکہ اپنی کابینہ کو ایسے معاملات میں بیان بازی سے باز رکھیں۔ صوبائی حکومتوں کو بھی سیاسی سرگرمیوں کی حوصلہ شکنی میں ملوث نہ ہونے کی ہدایت دی جائے۔ ملک میں ایسا ماحول پیدا کیا جائے جس میں امید پیدا ہو کہ موجودہ حکومت یا ان کے درپردہ سرپرست، انتخابات کے بروقت انعقاد میں رکاوٹ نہیں بنیں گے۔ اس مقصد کے لئے جلد از جلد انتخابی شیڈول کا اعلان عوامی شبہات کو کم کرنے میں معاون ہو سکتا ہے۔ اس کے برعکس اگر سرکاری اداروں کو عوام پر دست درازی کی کھلی چھٹی دی گئی اور ایک خاص پارٹی کے لیڈروں کو مسلسل انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بنایا جاتا رہا تو مسائل سے گھرے پاکستان میں امید کے تمام دروازے بند ہونے لگیں گے۔ سیاسی حبس کا یہ ماحول کسی بھی انہونی کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے۔


