ملک میں عام انتخابات ،دیوانے کا خواب
پاکستان میں نگران حکومت برسر اقتدار آ چکی ہے اور نگراں حکومت کی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ 90 دن میں منصفانہ انتخابات یقینی بنائیں۔ الیکشن کے انعقاد کے لئے انفرا اسٹرکچر، امن و امان کی صورتحال سمیت دیگر اہم امور صحیح سمت میں متعین ہوں۔ گزشتہ دنوں پاکستان کے سابق وزیر اعظم شہباز شریف نے ایک نجی ٹی وی کو بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ الیکشن کا انعقاد نئی ڈیجیٹل مردم شماری کہ تحت ہو گا۔ شہباز شریف کہ اس بیان نے ایک اور پینڈورا باکس کھول دیا آخر دو ہفتے میں ایسے کیا حالات و واقعات پیش آئے کہ حکومت کو پرانی مردم شماری کہ بجائے نئی مردم شماری کے تحت انتخابات کروانے کی ضرورت پیش آ گئی ہے؟
سابق وزیراعظم کے بیان اور سی سی آئی اجلاس میں نئی مردم شماری کی منظوری کے بعد اب الیکشن کمیشن آف پاکستان نے بھی اس بات کا اعلان کیا ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد پرانی حلقہ بندیوں پر انتخابات نہیں ہوسکتے، اب نئی حلقہ بندیوں کا عمل دسمبر تک مکمل ہو گا اور اس کے بعد ہی عام انتخابات کا انعقاد ہو سکتا ہے۔
اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ آئین آرٹیکل ( 1 ) 224 کہ تحت اگر اسمبلیاں مدت پوری ہونے سے قبل تحلیل کردی جائیں تو اس کے بعد 90 دن میں الیکشن کروانے لازم ہیں، مگر موجودہ حالات کے تناظر میں انتخابات کا انعقاد ایک دیوانے کا خواب معلوم ہوتا ہے کیونکہ نہ ہی پاکستان میں معاشی استحکام ہے اور نہ امن و امان کی صورتحال اس بات کی اجازت دیتی نظر آ رہی ہے۔ نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ جن کا تعلق (BAP) سے ہے (جو کے بڑوں کی قریبی جماعت سمجھی جاتی ہے ) اس کے ساتھ ہی حالیہ کی گئی قانون سازی بھی بڑی اہمیت کی حامل ہے، جس میں ملکی تاریخ میں پہلی بار کسی نگراں حکومت کو معیشت کے حوالے سے پالیسی بنانے کا اختیار بھی سونپا گیا ہے۔
بظاہر اس کا مقصد آئی ایم ایف کے ساتھ سابقہ حکومت کے ہونے والے تین ارب ڈالرز اسٹینڈ بائی معاہدے کو نئی حکومت آنے تک برقرار رکھنا ہے، آئی ایم ایف کے معاہدے کا کم از کم ایک جائزہ نگراں حکومت کے دورانیے کے دوران ہی ہو گا اور اگر انتخابات التواء کا شکار ہوتے ہیں تو اس کی تعداد میں اضافہ بھی ہو سکتا ہے۔ اگر نگراں سیٹ اپ کی مدت میں اضافہ ہوتا ہے تو اقتصادی ایمرجنسی، پی ٹی آئی کی پیدا کردہ سیاسی افراتفری، امن و امان کی بگڑتی ہوئی صورتحال سمیت دیگر معاملات زیادہ سے زیادہ بیورو کریسی کے زیر اثر رہیں گے جو کہ ہمارے ملک کا 75 سال پرانا وتیرہ رہا ہے۔
بقول فیض
تو نیا ہے تو دکھا صبح نئی شام نئی۔ ورنہ ان آنکھوں نے دیکھے ہیں نئے سال کئی
پاکستان میں شفاف جمہوری نظام نفاذ کرنے میں ابھی وقت درکار ہے۔ حقیقی جمہوری عمل کا قیام اسی صورت میں ممکن ہے جب نگراں حکومت مقررہ مدت میں صاف و شفاف انتخابات کا انعقاد یقینی بنائے، اس سلسلے میں نگراں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات مرتضی سولنگی کا بیان قابل ستائش ہے جس میں انھوں نے کہا نگراں کابینہ حلف کے تحت آئین و قانون کے مطابق فرائض انجام دینے کی بھر پور کوشش کرے گی، نیز نگراں حکومت آزادانہ، منصفانہ انتخابات کروانے میں الیکشن کمیشن کی مکمل معاونت کرے گی۔
اگر نگراں حکومت اپنا وعدہ وفا کرتی ہے اور 90 دن کے اندر انتخابات کا انعقاد کرواتی ہے تو یہ پاکستان کے مستقبل کے حق میں ایک بہترین قدم ثابت ہو گا۔ کیونکہ حقیقی جمہوری نظام ہی مضبوط پاکستان کی ضمانت ہے۔ اس کے لیے لازمی عمل یہ ہے کہ جمہوریت حقیقی ہو، منتخب نمائندے عوامی ہو ورنہ گزشتہ دہائیوں کی طرح سیاسی جماعتوں کی جانب سے کھیلے جانے والے جمہوریت کارڈ کو پاکستان کی پبلک بری طرح مسترد کردے گی۔


