سعودی نیوکلیئر پروگرام


سعودی عرب کو جس طرح کے خطرات لاحق ہیں انہی کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ اپنے دفاعی نظام کو وسعت دینے کی کوششیں کر رہا ہے جس میں اب نیوکلیئر پروگرام بھی شامل ہے۔ جس کے لئے اب اس کے کسی حتمی معاہدے کے لئے بات چیت فرانس، روس اور چین کے ساتھ چل رہی ہے۔ اب ظاہر ہے اس معاہدہ کی بنیاد ایک مخصوص کاروباری معاہدات کی طرز پہ ہوگی لہذا سود و زیاں کا حساب لگایا جا رہا ہے۔ یہ ایک سویلین نیوکلیئر پروگرام ہو گا اس سلسلہ میں عرصۂ دراز سے بات چیت امریکیوں کے ساتھ چل رہی تھی مگر انہوں نے ہمیشہ کی طرح بازو مروڑنے کے انداز میں ایک نہایت درشت شرط رکھی کہ پروگرام تمہیں تب ملے گا کہ پہلے اسرائیل کو تسلیم کرو۔

دنیا میں تیل کا سب سے بڑا کاروبار سعودی عرب کا ہی ہے اور اسرائیل کو تسلیم کرنے سے صدر جو بیڈن کو ایک بہت اہم کامیابی مل سکتی ہے جو اسے اپنے ووٹروں کے ہاں مقبولیت کی نئی منازل طے کروا سکتی ہے ورنہ تو بیڈن کا جانا ٹھہر گیا ہے اور اسے کوئی معجزہ ہی اگلا الیکشن جتوا سکتا ہے۔ اب سعودی حکومت کسی قسم کی پیشگی شرائط کے بغیر اس پروگرام کا معاہدہ کرنا چاہ رہی ہے اور ان کا خیال بھی خاصا مناسب ہے اس ٹیکنالوجی میں جو مہارت اور تجربہ امریکا کا ہے کوئی اس کا مقابل نہیں مگر وہ کسی قسم کی کڑی شرائط ماننے کو تیار نہیں۔

ایرانیوں اور سعودیوں کے مابین دوستی بحالیٔ تعلقات کے بعد سعودی چینی دوستی میں ایک نئی گرمجوشی پیدا ہوئی ہے جو ایک قدرتی عمل ہے کیونکہ سعودی عرب کا سب سے بڑا کاروباری پارٹنر بھی چین ہے جس کی کاوشوں سے حال ہی میں سعودی عرب کو دنیا کی ابھرتی ہوئی معیشتوں کی تنظیم برکس BRICKS کی تنظیم میں مکمل ممبرشپ ملی ہے اور اس کا سارا کریڈٹ چین کے سر ہی ہے۔ اس سارے پیش منظر نامے میں یہ حقیقت ہے کہ سعودی دفاعی نظام امریکی امداد اور اس کے بنائے ہوئے نین نقش پہ مشتمل ہے اور سعودی عربی پالیسی بھی اسرائیل کے حوالے سے قریباً قریب الاختتام ہے کہ وہ اس کو تسلیم کر لے مگر اس کی خواہش ہے کہ امریکی دفاعی حصار اس کو زیادہ حدت و شدت سے میسر رہے۔

اسرائیلی حکومت بھی اس سلسلے میں کچھ روز قبل یہ عندیہ دے چکی ہے کہ اسے سعودی نیوکلیئر پروگرام سے کوئی خاص خار نہیں اور ہم ایک پرامن پروگرام کی حمایت جاری رکھیں گے ہاں شرط ایک ہی ہے کہ سعودی ہمیں تسلیم کر لیں۔ اسرائیلیوں کو مصر اور متحدہ عرب امارات کے نیوکلیئر پروگرام سے بھی کوئی فکر متردد نہیں کرتی لہذا سعودی پروگرام سے بھی اسے کسی قسم کا کوئی مسلٔہ نہیں ہو گا۔

کچھ برس پہلے جب ایرانی ایٹم بم کی بازگشت پورے عالم میں گونج رہی تھی تو سعودی عرب نے ترکی بہ ترکی جواب دینے کا عندیہ دیا کہ اگر ایران نے ایٹمی ہتھیاروں کا پروگرام شروع کیا اور یہ کسی رکاوٹ کے بغیر جاری رہا تو ہم بھی یہی کچھ کر گزریں گے۔ لیکن تازہ امن معاہدے اور بحالیٔ تعلقات کے بعد شاید یہ دوڑ بھی رک جائے۔ آئندہ کچھ ہفتوں میں صورتحال زیادہ واضح ہو جائے گی۔ سعودی اس وقت اپنا امیج دنیا کے سامنے ایک پرامن اور ترقی یافتہ ممالک کی طرح متعارف کروانا چاہتا ہے اور اس سلسلہ میں نے نئے شہر آباد کرہاً ہے، کھیلوں کی بھرپور پذیرائی کی جا رہی ہے اور فٹبال، باکسنگ، ریسلینگ اور فارمولا ون کے میچ کروا کر اور رقص و موسیقی کے پروگرام کروا کر اپنا مقام بنانے کی سعی کرہاً ہے۔ معاشرے میں شدت پسندی کو کم کرنے کے لئے بھی تعلیمی نظام کی اصلاحات کر رہا ہے۔

Facebook Comments HS