علامہ اقبال کا فلسفہ خودی


علامہ اقبال کی شاعری اور فکر کو جو عالمگیر پذیرائی ملی ہے۔ اس سے ان کے کلام کی قوت پرواز دنیا کے کونے کونے میں جلوہ گر ہوتی ہے۔ ان کی شاعری ایک عہد، زمانے یا ایک علاقے کا سوال نہیں بلکہ یہ انسان کے بنیادی سوالات پر روشنی ڈالتی ہے۔ اور زمینی حقائق سے آفاقی بلندیوں کا سفر کرنے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ اس سارے عمل میں خود آگہی کا سفر علم کو محدود سے لا محدود کی طرف لے چلتا ہے۔ اور زندگی اپنے رسمی الفاظ سے ہٹ کر گہرے اور جامع معانی اور تناظر دکھلانا شروع کر دیتی ہے۔ اور بنی انسان کی تخلیقی، فکری اور فنی صلاحیتیں انسانی کردار کو جلا بخشتی ہیں۔

علامہ اقبال پر لکھے جانے والے مضامین پڑھ کر اندازہ ہوتا ہے کہ چاہنے والوں کا نکتہ نظر اور زندگی کو سمجھنے کے زاویے نے قوس و قزح کے مختلف رنگ بکھیرے ہیں۔ ہمیں علامہ اقبال کے خیالات اور افکار پڑھتے ہوئے اپنی بے بسی کا شدت سے احساس ہوتا ہے اور بے کسی کے لمحات وارد ہوتے ہیں کہ ہم نے ان کے کلام کی روح کو کتنا تھوڑا سمجھا۔ چنانچہ ہم نے مربی سے مدد چاہی کہ اقبال کے کلام میں خودی کے موضوع پر کچھ روشنی ڈالیں۔

بقول مربی اقبال کے تصور خودی میں انسان کو اپنے اختیار کی معنویت کا بھرپور احساس ہے کہ دنیا کی ہر صورتحال میں میرا اختیار اور اس کی اہمیت میرے لئے معنی رکھتی ہے۔ اللہ رب العزت نے ہر اچھے اور مشکل وقت میں بھی مجھے انتخاب کرنے کا اختیار دے رکھا ہے جو بہت اہمیت کا حامل ہے۔ تصور خودی انسان کو ہر قسم کی ذہنی اور جسمانی غلامی سے انفرادی اور اجتماعی طور پر اس طرح آزاد کر دیتی ہے کہ وہ شعوری طور پر اپنی زندگی میں قطرے سے گہر ہونے کے سفر پر گامزن ہو جائے۔ ٰآج کا انسان اور بالخصوص مسلمان اس وقت احساس مظلومیت اور احساس غلامی کا شکار ہے۔ اس کا یہ کہنا کہ میری کیا بساط ہے اور میرے کرنے سے کیا ہو گا؟ اس شکست خوردہ ذہنیت کی نشان دہی کرتا ہے جس کی وجہ سے ہماری امت کی خودی ایک ابابیل کی خودی سے بھی کم نظر آتی ہے۔ جس کی چونچ میں کنکر موجود تھے۔

علامہ اقبال کہتے ہیں۔
خودی کی موت سے مغرب کا اندروں بے نور
خودی کی موت سے مشرق ہے مبتلائے جزام

مغرب نے خودی سے منہ موڑ کر اپنا نور بجھا دیا اور مشرق نے خودی سے ایسی بے اعتنائی برتی کہ جزام کی وہ کیفیت ہے کہ دوسرے ہم سے خوف کھاتے ہیں اور ہم بھی اپنے آپ سے ڈرتے ہیں۔ ہماری اس ظاہری حالت نے ہمیں خودی کے سوز سے نکال کر زمانے کے سوز میں مبتلا کر دیا۔ خودی کی اس موت کے باعث ہم اپنی ہستی میں خدا کے وجود کا مان اور احساس کو زندہ رکھنے میں ناکام ہو گئے۔ انسانی زندگی میں خودی کے شعلے کو جو روح خدائے بزرگ و برتر نے بخشی تھی اس کا ادراک کرنے کے لیے جس احساس ذمہ داری اور خود مختاری کی ضرورت تھی اسے ہم نے سلا دیا۔ اب ہم مارے مارے پھرتے ہیں۔ شاعر اسی لئے کہتا ہے۔

کشتیاں ٹوٹ گئی ہیں ساری
اب لیے پھرتا ہے دریا ہم کو

خودی انسان کو خدا سے جوڑتی ہے اور وہ قوت فراہم کرتی ہے جو ہر قسم کی صورتحال میں انسان کے اندر امید اور اختیار کی وہ لو روشن رکھتی ہے جہاں عمل کی جوابدہی کا احساس دل میں زندہ رہتا ہے۔ اور انسان کبھی بے سہارا محسوس نہیں کرتا۔ خودی انسان کی پوشیدہ صلاحیتیں بیدار کر کے خدا کی مرکزیت کا وہ محور دکھا دیتی ہیں جہاں انسان اور خدا کا تعلق انسانیت کی معراج چھو لیتا ہے۔ اور نظام کائنات خودی کے تابع ہو جاتے ہیں۔ شاید اسی لئے اقبال نے کہا ہے۔

تیری خودی میں اگر انقلاب ہو پیدا
عجب نہیں ہے کہ چار سو بدل جائے

کتاب روشن مسکراتی ہے اور آیات جھلملاتی ہیں۔ اور نگاہ اس نشانی کا تعاقب کرتی ہے جسے علامہ اقبال نے اپنے فلسفہ خودی کا محور قرار دیا ہے۔

اور تم ان لوگوں کی طرح نہ ہو جاؤ جنہوں نے اللہ کو بھلا دیا۔ تو اس نے انہیں اپنے نفس بھلا دیے۔ یہی لوگ فاسق ہیں (سورۃ حشر۔ آیت 19)

Facebook Comments HS