طاقت کا دیوتا اور پیادے


طاقت کا دیوتا ایک ہی ہوتا ہے جہاں سے سب کو طاقت ملتی ہے۔ طاقت کے دیوتا کی مرضی وہ جس کو چاہے جتنی چاہے طاقت عطا کر سکتا ہے لیکن دیوتا کبھی بھی کسی کو اپنی پوری طاقت نہیں دیتا اور نہ ہی اس کو طاقت کے تمام داؤ پیچ سکھاتا ہے۔ اگر کوئی دیوتا زیادہ مہربان ہو بھی جائے تو وہ اس کو طاقتور اتنا ہی بناتا ہے جتنی طاقت کا بوجھ وہ خود برداشت کرے کیونکہ زیادہ طاقت کا بوجھ برداشت کرنا صرف دیوتا کا کام ہے اور عام انسان اس کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتا اگر کوئی کر بھی لے تو زیادہ دیر زندہ نہیں رہ سکتا۔

طاقت کے دیوتا نے اب تک صرف ہرکولیس کو اپنی طاقت کا صرف 20 فیصد حصہ دیا تھا تو ہرکولیس نے اسی طاقت کے خمار میں دیواروں کے پلر اکھاڑنا شروع کر دیے تھے۔ جب دیوتا نے دیکھا ہرکولیس میری عطا کی طاقت کا ضرورت سے زیادہ غلط استعمال کر رہا ہے تو دیوتا نے فوراً ہرکولیس سے اپنی طاقت واپس لے لی۔ پھر وہی ہرکولیس جو کبھی اپنے طاقت کے زور پر پوری پوری بلڈنگ گرا دیتا ہے اکیلے کئی آدمی کا مقابلہ کر لیتا تھا وہی ہرکولیس اب زندان کے کونے میں دبک کر بیٹھا ایک گرم اور تازہ روٹی کی فریاد کر رہا ہے۔

جو دیوتا طاقت دیتا ہے اسی سے ٹکرانے کا انجام کیا ہوتا ہے وہ سقراط بھی جانتا تھا اور میکسیمس بھی جانتا تھا۔ تاریخ کے ہر دور میں طاقت کے دیوتا بدلتے رہے ہیں لیکن پاکستان میں طاقت کا دیوتا ایک ہی ہے۔ وہ تھوڑی تھوڑی طاقت سب کو تقسیم کرتا ہے اس کو معلوم ہے اگر میں ایک ہی شخص کو ساری طاقت دے دوں گا تو یہ سب سے پہلے اپنے تمام مخالفین کو ختم کرے گا پھر میرے ساتھ ٹکرائے گا۔ اس لیے وہ ضرورت کے مطابق ہی طاقت تقسیم کرتا ہے۔

ذوالفقار بھٹو، بینظیر اور نواز شریف آج کل کے نئے نئے انقلابیوں کے لئے کھلی مثالیں ہیں۔ ذوالفقار بھٹو نے طاقت کے دیوتا کو ٹکر دی تو پھانسی ملی، بینظیر بھٹو نے ٹکر دی تو گولی ملی، نواز شریف نے ٹکر دی تو دس سالہ جلاوطنی پھر نا اہلی ملی۔ آج بھی جلاوطن ہیں۔ عمران خان کے لئے یہ تینوں شخصیات بہت بڑی تھیں لیکن عمران خان نے تاریخ سے سبق نہیں سیکھا۔ آج خود تاریخ کے کسی کونے میں پڑے ہیں۔ جو وقت کی قدر نہیں کرتا، وقت اس کو میلوں پیچھے اٹھا کر پھینک دیتا ہے۔

عمران خان آخری آپشن تھا اور شہباز شریف آنکھ کا تارا تھا دونوں ہی اسی غلط فہمی میں ڈوبے واپس اپنے اپنے آبائی گھروں کو لوٹ گئے ہیں۔ آج کل یہ جوش وزیرستان کے ایک نوجوان منظور پشین کو چڑھا ہے۔ یہاں ذوالفقار بھٹو، بینظیر بھٹو، نواز شریف اور عمران خان جیسی شخصیات نہیں ٹک سکی تو آپ تو ابھی ان کے سامنے بچے ہیں۔ ابھی تو دیوتا نے منظور پشتین کو رتی برابر طاقت بھی عطا نہیں کی پھر موصوف دیوتا سے ٹکرانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔

پاکستان میں زیادہ دیوتا ہوتے تو شاید سب پیادے اپنے الگ الگ دیوتا بنا لیتے لیکن کیا کریں اب پاکستان میں طاقت کا دیوتا ایک ہی ہے اور سب نے اسی سے طاقت لینی ہے تو کیوں نہیں سب ایک ہی ہو جاتے اور مل کر دیوتا کی مرضی سے چلتے۔ طاقت کے دیوتا نے جب اپنی طاقت کا مظاہرہ کیا تو سب نے وہ منظر اپنی آنکھوں سے دیکھا۔ اگر دیوتا پرسکون ہو کر بیٹھ جاتا ہے جس کا وہ اعلان بھی کرتا ہے لیکن پھر کوئی اچانک آتا ہے، دیوتا سے ٹکرانے نکل پڑتا ہے۔ جب دیوتا اس کو پچھاڑ کر مارتا ہے تو اس کو ہوش آتا ہے تو پتہ چلتا ہے وہ پھر بیس سال پیچھے چلا گیا ہے۔

پھر اسی دیوتا سے معافیاں مانگی جاتی ہیں۔ ٹکرانے سے پہلے خود کو اس خمار میں مبتلا کیے رکھتے ہیں کہ عوام ہمارے ساتھ ہیں تو ہم دیوتا کا بھی مقابلہ کر سکتے ہیں جب پیچھے مڑ کر دیکھتے ہیں تو میدان صاف نظر آتا ہے اور دیوتا کا مقابلہ کرنے کے لئے اکیلے رہ جاتے ہیں اس لیے بھلائی اسی میں ہے اگر دیوتا آپ کو تھوڑی سی طاقت دے کر خود گوشہ نشینی چاہتا ہے تو اسی سے گزارا کریں اور دیوتا کا مقابلہ کرنے کی غلطی بار بار مت دہرائیں۔ تاریخ دیوتاؤں سے ٹکرانے والوں کے انجام سے بھری پڑی ہے اس سے سبق سیکھ لیں۔

Facebook Comments HS