مہنگائی: نگران حکومت کے لئے اصل چیلنج


پاکستان کی سیاست کا مطالعہ ’مشاہدہ اور تحقیق کر لیں سیاسی استحکام کے لئے حکومتوں کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے اور وقت پر ملک کے دستور کے مطابق انتخابات کا انعقاد ضروری ہے جن ممالک میں بھی جمہوریت رائج ہے وہاں مسائل کے حل کے لئے اور سیاست‘ معیشت کو دوام بخشنے کے لئے جہاں حکومتیں اپنی آئینی مدت پوری کرتی ہیں وہیں بر وقت انتخابات کو یقینی بنایا جاتا ہے۔ پاکستان کا شمار آزادی کے 76 برس گزرنے کے باوجود ترقی پذیر ممالک کی صف میں ہوتا ہے اور المیہ یہ ہے کہ ملک میں آج تک آزادانہ ’منصفانہ اور بر وقت انتخابات نہیں ہوئے ملک کے ادارے آزاد ہیں نہ ہی ملک کی معیشت کو دوام مل سکا کرپشن‘ بدعنوانی ’مہنگائی‘ بے روزگاری ’انصاف کی عدم دستیابی‘ توانائی بحران ’دہشتگردی جیسے مسائل ملک کی بنیادوں کو دیمک کی طرح چاٹ رہے ہیں۔

ملک کی سیاسی تاریخ ایسے تلخ واقعات سے لتھڑی ہوئی ہے جس کے باعث یہ ملک ترقی کرنے کے بجائے زوال کی طرف گامزن ہے اب تو حالات ایسے ہیں کہ ملکی معیشت کا دھڑن تختہ ہو گیا ہے عام آدمی کی زندگی معاشی ناہمواری نے اذیت سے دوچار کر دی ہے۔ پی ڈی ایم کی حکومت اپنی آئینی مدت مکمل کر چکی ہے اور پاکستان کے دستور کے مطابق نوے روز میں انتخابات ہو جانے چاہیے لیکن شدید سیاسی و معاشی بحران کے باوجود الیکشن میں تاخیر کا عندیہ دیا جا رہا ہے جب کہ سیاسی ماہرین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ملک میں آزادانہ‘ منصفانہ انتخابات وقت کی ضرورت ہے ایک منتخب حکومت ہی مشکل فیصلوں کے ذریعے ملک کو سیاسی و معاشی دلدل سے نکال سکتی ہے۔

ملک میں اس وقت حالات ایسے نازک ہیں کہ پر تشدد سیاسی تصادم ’عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ کے درمیان کشمکش نے بحران کو مزید پیچیدہ کر دیا ہے جس کے باعث انتخابات میں التوا کے خدشات سر ابھار رہے ہیں لیکن اس وقت ضروریات اس امر کی ہے کہ وقت پر انتخابات کو یقینی بنایا جائے اس سلسلے میں سول سیاسی ادارے اور غیر جمہوری قوتوں کو مداخلت کا موقع نہ دیا جائے۔ پی ڈی ایم کی سولہ ماہ کی حکومت نے پہلے ہی آئی ایم ایف پروگرام لینے میں تاخیر کی جو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی کا باعث بنا اور اس کے ساتھ زر مبادلہ کے ذخائر بھی کم ہوئے اس کے اثرات عام آدمی پر مزید مہنگائی کی صورت میں پڑے جس سے اس کی معاشی حالت غیر ہو گئی اور دو وقت کی روٹی کا حصول اس کے لئے چیلنج بن گیا۔

اخبارات اٹھا کر دیکھ لیں یا نیوز چینلز دیکھ لیں حالات کی سنگینی کی خبر دے رہے ہیں مستقبل میں کیا ہونے والا ہے ابھی تک تو اس سمت کا تعین نہیں ہو پا رہا ہی عوام میں ملک کے مستقبل کے حوالے سے ایک ہیجان پیدا ہو گیا ہے بے یقینی کی صورتحال نے کاروبار زندگی تلپٹ کر کے رکھ دیا ہے۔ اس ملک میں مہنگائی کی شرح تاریخ کی بلند ترین سطح پر ہے اور دوسرے معاشی اشاریے بھی گراوٹ کا شکار ہیں جہاں ڈالر کی قیمت میں سولہ ماہ میں سو روپے سے زائد اضافہ ہوا بجلی‘ گیس اور تیل کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں۔

پی ڈی ایم حکومت جب آئی ایم ایف کے دباؤ پر آخری دنوں میں توانائی کے نرخوں میں اضافہ کر رہی تھی تو یہ خیال کیا جا رہا تھا کہ نگران حکومت مزید قیمتوں میں اضافہ نہیں کرے گی اس دلیل کے پیچھے ماضی کی عبوری حکومتوں کا ذکر کرنا ضروری ہے۔ تحریک انصاف کی حکومت میں مہنگائی کو کنٹرول کیا گیا اور تحریک انصاف کی حکومت کے اختتام پر مہنگائی کی شرح 12.7 فیصد تھی جو پی ڈی ایم کے دور حکومت میں 29 فیصد پر جا پہنچی تحریک انصاف کے اقتدار میں آنے سے قبل جون 2018 ء میں ڈالر کی قیمت 139 روپے ’مہنگائی آٹھ فیصد‘ اسٹیٹ بنک کے پاس زرمبادلہ کے ذخائر 14 ارب ڈالر ’برآمدات 52 ارب ڈالر جب کہ برآمدات کا حجم 23 ارب ڈالر تھا۔

گزشتہ پانچ سالہ ابتر معاشی صورتحال کے تناظر میں آئی ایم ایف کی طرف سے قرضوں کے اجراء کی شرائط سخت واقع ہوئی ہیں جس کے باعث مہنگائی کی شرح میں اضافہ سے عام آدمی پر براہ راست اس کے اثرات پڑے ہیں اور عام آدمی کی قوت خرید تک جواب دے گئی ہے۔ پاکستان میں مہنگائی میں برق رفتاری کے ساتھ اس قدر اضافہ ہوا ہے کہ حکومت کے اعداد و شمار خود اشارہ کر رہے ہیں مہنگائی میں اس قدر اضافہ کی اصل وجہ پٹرول و ڈیزل اور ڈالر کی قیمت میں بے مہار اضافہ ہے پاکستان توانائی اور غذائی ضروریات کے لئے درآمدات پر انحصار کرتا ہے جو ڈالر مہنگا ہونے کی وجہ سے مزید مہنگی ہوں گی۔

پاکستان میں مہنگائی ایک وجہ گورننس کی کمزوریاں بھی ہیں کیوں کہ پرائس کنٹرول کا نظام زمین بوس ہو چکا ہے اور مقامی سطح پر پرائس کنٹرول کا کوئی نظام موجود نہیں جو ناجائز منافع خوری کی روک تھام کر سکے۔ اب چونکہ پی ڈی ایم کی حکومت رخصت ہونے کے بعد وفاق اور صوبوں میں نگران حکومتیں آ چکی ہیں اس لئے ضروری ہے نگران حکومت مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے کوئی پیمانہ طے کرے اور مقامی سطح پر پرائس کنٹرول کا ایک ایسا مربوط نظام وضع کرے تاکہ منافع خور مافیا عوام کو دونوں ہاتھوں سے نہ لوٹ سکے۔

بے روزگاری کی شرح میں اس حد تک خوفناک اضافہ ہو چکا ہے کہ لاکھوں افراد روزگار کے لئے بیرون ممالک چلے گئے ہیں اور جو پاکستان میں بیرون ممالک جانے کی استطاعت نہیں رکھتے وہ روزگار نہ ہونے کی وجہ سے ہوشربا مہنگائی کی چکی میں روز پس رہے ہیں۔ ملکی معیشت جہاں خطرناک موڑ پر ایڑیاں رگڑ رہی ہے وہیں عام آدمی کے لئے دو وقت کی روٹی سونے کا نوالہ بن چکی ہے ملک میں خودکشیوں کی شرح میں بھی اضافہ ہو رہا ہے جو کہ خطرناک الارمنگ ہے عام آدمی معاشی طور پر مکمل ڈیفالٹ کر چکا ہے۔

ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ نگران حکومت کو چاہیے مہنگائی کے ستائے عام طبقہ کو زیر بار لانے کی بجائے ٹیکس نیٹ میں اضافہ اور مراعات یافتہ افراد سے سہولتیں واپس لی جائیں یہی حالات کا تقاضا ہے۔ نگران حکومت کے پاس ایک اچھی معاشی ٹیم ہے جو مہنگائی کی چکی میں پسے عوام کے لئے آسانیاں پیدا کر سکتی ہے اس کے لئے مراعات یافتہ طبقے کو بجلی‘ گیس اور پٹرول کی مفت فراہمی کا سلسلہ ختم کرنا ہو گا مہنگائی کو مزید بڑھنے سے روکنا ہی نگران حکومت کے لئے اصل چیلنج ہے۔

Facebook Comments HS