کہانی ایک ادارے کی
لاہور ملک کا دوسرا بڑا اور صوبہ پنجاب کا سب سے بڑا شہر ہے جس کی آبادی سوا کروڑ سے تجاوز کر چکی ہے۔ لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی اس شہر کی پلاننگ، نئی اسکیموں کی منظوری و نگرانی، کمرشلائزیشن اور ترقیاتی کاموں کی تعمیر و تکمیل کی ذمہ دار ہے جبکہ عوام کو سب سے زیادہ شکایات بھی اسی ادارے سے ہیں۔ آئے روز اس ادارے کے افسران اور سٹاف کے خلاف نیب اور اینٹی کرپشن میں مقدمات درج ہوتے ہیں اور پھر سر پرستی کرنے والے طاقتور ہاتھ ان زیر عتاب افسران کی بریت اور پرکشش سیٹوں پر دوبارہ تعیناتی کو ممکن بناتے ہیں۔ گزشتہ چند برسوں میں ملکی رواج اور ضروریات کے مطابق تعیناتیوں اور دوسرے کاموں کے لئے رشوت کے ریٹ بڑھ گئے تو ایل ڈی اے میں بھی کرپشن کے نئے ریکارڈ بننے شروع ہو گئے۔ نجی رہائشی اسکیموں کی کی منظوری اور پلازوں کی تعمیر وغیرہ کا کام گزشتہ چند برسوں میں سب سے زیادہ منافع بخش کاروبار بن چکا ہے جس کا براہ راست تعلق ایل ڈی اے کے ساتھ ہے اس لیے سیاسی و کاروباری با اثر افراد متعلقہ شعبوں میں اپنی مرضی کے افسران تعینات کرواتے ہیں جو ان کے مفادات کا خیال رکھتے ہیں۔
دلچسپ بات ہے کہ کنٹرول ایریاز میں عملے کی ملی بھگت سے قواعد و ضوابط کی خلاف ورزیاں ہوتی ہیں، غیر قانونی تعمیرات ہوتی ہیں بعد ازاں متعلقہ شعبہ حرکت میں آتا ہے بھاری جرمانے عائد کر کے اپنا حصہ وصول کر کے معاملات طے کر لیے جاتے ہیں۔ گزشتہ نگران حکومت میں بطور وزیر اس وقت کی ڈی جی ایل ڈی اے سے میں نے پوچھا کہ بھیڑ والے علاقوں میں ملٹی اسٹوری پلازوں کی تعمیر میں پارکنگ اسپیس کا خیال کیوں نہیں رکھا جاتا تو ان کا جواب تھا گنجائش کے مطابق پارکنگ نقشے میں رکھی جاتی ہے مگر باہر ٹریفک کی روانی متاثر ہونے سے متعلق ان کے پاس کوئی جواب نہیں تھا۔
ایل ڈی اے کا چیئر مین وزیر اعلٰی، وائس چیئر مین حکمرانوں کا سیاسی رفیق یا قریبی تعلق والا ہوتا ہے جبکہ انتظامی امور ڈی جی کے پاس ہوتے ہیں جو حکومتی پارٹی کا پسندیدہ افسر ہوتا ہے۔ گورننگ باڈی یا بورڈ میں چند دوسرے سرکاری محکموں کے اعلٰی افسران اور پرائیویٹ سیکٹر سے چند لوگوں کو لگایا جاتا ہے جن کی تعیناتی قابلیت یا میرٹ پر نہیں بلکہ تعلق یا مفادات کے تحت کی جاتی ہے۔ ایسی گورننگ باڈی سے توقع نہیں کی جا سکتی کہ وہ ادارے یا حکومت کے کسی بھی منصوبے کی شفافیت سے متعلق سوال کر سکیں یا اعتراض اٹھا سکیں۔ اگرچہ ترقیاتی ادارے کے سربراہ اور اہم سیٹوں پر تعینات افسران کا تعلق براہ راست اوپر تک ہوتا ہے مگر صوبائی ہاؤسنگ کی وزارت کا عمل دخل اور کسی حد تک کنٹرول بھی ایل ڈی اے اور دوسرے ترقیاتی اداروں پر ہوتا ہے اور یہی وجہ ہے کہ ہاؤسنگ منسٹری ہمیشہ حکمرانوں کے قریبی ساتھیوں کو بطور انعام تفویض کی جاتی ہے۔
عوام کی شکایات پر کچھ سال پہلے ون ونڈو سیل قائم کیا گیا اور اوورسیز پاکستانیوں کی جائیدادوں اور پراپرٹی کے معاملات کے لئے اس سیل میں خصوصی فسلیٹیشن ڈیسک بھی قائم کیا گیا جس کی افادیت کہیں نظر نہیں آتی۔ برطانیہ میں رہائش پذیر ایک با اثر پاکستانی نے چند سال قبل اپنے قریبی دوست ”درویش صفت معصوم“ وزیر اعلٰٰی سے پراپرٹی ٹرانسفر میں حائل مشکلات حل کروانے میں مدد چاہی جس پر وزیر اعلٰی نے فوری عملدرآمد کا حکم جاری کیا مگر جب کام نہ ہوا تو اس اوورسیز پاکستانی کو متعلقہ شخص نے بتایا کہ ہم رشوت لیے بغیر کام نہیں کریں گے کیونکہ ہمیں سیٹ پر رہنے کے لئے بھاری رقم اوپر تک ہر صورت پہنچانی ہوتی ہے۔ ناچار اس شخص نے پیسے دے کر خاموشی سے اپنا کام کروا لیا۔ اچھے برے لوگ ہر جگہ ہر محکمے میں ہوتے ہیں اور ایل ڈی اے میں بھی یقیناً بہت سے نیک نام افسران اور دوسرا اسٹاف موجود ہے جو لوگوں کی مشکلات دور کرنے کے لئے دن رات کوشاں ہے مگر عوام میں یہ تاثر قائم ہو چکا ہے کہ رشوت دیے بغیر یہاں کوئی کام نہیں ہوتا۔
پنجاب کے نگران وزیر اعلٰی بھی عوام کو سہولیات فراہم کرنے کے لئے اور ایل ڈی اے کے معاملات کی درستگی کے لئے اس ادارے کے متعدد دورے کر چکے ہیں۔ انھوں نے عوام کی مشکلات کو مد نظر رکھتے ہوئے ون ونڈو سیل کے اوقات رات نو بجے تک کر دیے ہیں تاکہ لوگ دفتری اوقات کے بعد آ کر اپنے کام کروا سکیں۔ اس کے علاوہ انھوں نے شہر میں اربوں روپے مالیت کے ترقیاتی منصوبوں پر کام شروع کروا دیا ہے جن سے شہر میں ٹریفک کی روانی میں بہتری آئے گی۔ ایل ڈی اے، واسا، ویسٹ مینجمنٹ، پی ایچ اے اور ان جیسے دیگر سرکاری ادارے معاشی مشکلات کا شکار حکومت سے اربوں روپے وصول کرتے ہیں، ان کے اعلٰی افسران کی گاڑیاں اور مراعات دیکھیں تو افسوس ہوتا ہے۔ ایسے گمبھیر اور مشکل حالات میں حکومت کو چاہیے فنانشل ایمرجنسی ڈکلیئر کر کے تمام بڑی گاڑیاں واپس لے لی جائی، سرکاری ٹی اے ڈی اے اور سرکاری پیٹرول کا کوٹہ ختم نہیں تو آدھا کر دیا جائے، مفت بجلی، پانی، گیس کی سہولت واپس لے لی جائے۔ قرض لے کر ہم کب تک وزیروں اور سرکاری افسران کے خرچے برداشت کرتے رہیں گے خصوصاً ان حالات میں جب عوام میں مزید نچڑنے کی سکت نہیں رہی۔
(صاحب مضمون سابق نگران وزیر اطلاعات پنجاب ہیں )

