مکلاوے کی رسم قبیح کا خاتمہ


کسی بھی معاشرے میں رسم و رواج کا تعلق اس معاشرے کے رہن سہن، تہذیب و تمدن اور ثقافت پر ہوتا ہے مذہب پر نہیں۔ مکلاوا بھی ایک ایسی ہی علاقائی رسم ہے جو مختلف قبیلوں اور خاندانوں میں تو موجود ہے لیکن اکثریت میں اس کا وجود عنقا ہے۔ بیان اس رسم کے بارے میں کچھ اس طرح ہے کہ یہ شادی بیاہ سے منسلک ہے۔ شادی کے بعد دلہن ایک دن کے لیے دلہا کے گھر میں آتی ہے اور ایک رات یہاں بسر کرنے کے بعد بالکل اسی حالت میں ان چھوئی ہی واپس چلی جاتی ہے۔

وہ حفاظتی تدابیر کے پیش نظر اپنے گھر سے دو افراد پر مشتمل باڈی گارڈز کا ایک دستہ اپنے ساتھ لے کر اپنے سسرال میں تشریف فرما ہوتی ہے۔ یہ حفاظتی دستہ ایک خاتون اور ایک مرد پر مشتمل ہوتا ہے۔ خاتون باڈی گارڈ ہر وقت دلہن کے ساتھ چپکی رہتی ہے۔ حتیٰ کہ رات کو سوتے وقت بھی وہ دلہن کے ساتھ ہی اسی کے بیڈ پر سوتی ہے۔ مبادا کہ کوئی ہبی نبی نہ ہو جائے۔ بلکہ رات بھر وہ کئی بار جاگ کر اس بات کی تسلی کرتی رہتی ہے کہ اس کے مال مقبوضہ میں نقب زنی کی کوشش تو نہیں کی جا رہی۔

چھوٹے چھوٹے مسائل سے نمٹنے کے لیے خاتون باڈی گارڈ اکیلی ہی کافی ہوتی ہے لیکن اگر مسئلہ الجھتا ہوا نظر آئے تو مرد باڈی گارڈ حسب حال بچ بچاؤ کے لیے اپنی طاقت کو استعمال میں بھی لا سکتا ہے۔ بہر حال ایک دن یہاں بخیر و عافیت گزارنے کے بعد دلہن صاحبہ اپنے میکے میں تشریف لے جاتی ہیں۔ اب دلہا بھائی کو اپنی دلہن کا مکلاوا لینے کے لیے سسرال جانا ہوتا ہے۔ وہاں وہ ہفتہ دس دن تک قیام کرتا ہے۔ اس دوران گاؤں بھر کی عورتیں اس کی سالیوں کی شکل میں اس کے ساتھ مذاق کرتی رہتی ہیں۔

بعض حلقوں میں تو یہ مذاق صرف مذاق کی حد تک فریقین کی لطف اندوزی کے لیے ہی کیا جاتا ہے۔ لیکن بعض اوقات یہ دلہا کے لیے بہت تکلیف دہ ہو جاتا ہے۔ گوبر ملا غلیظ اور بدبو دار پانی دلہا کے کپڑوں پر پھینک دینا، رنگ پھینکنا، جوتوں میں کیل اور کانٹے ڈال دینا کہ پہنتے وقت پاؤں زخمی ہو جائیں۔ سوتے وقت دلہا کی مختلف چیزوں کو غائب کر دینا اور پھر منتیں کروا کر اور مختلف شرائط پوری کروا نے کے بعد انہیں واپس کرنا عام رواج تھا۔

اور دلہا میاں ان ساری باتوں کے لیے ذہنی طور پر تیار ہو کر اپنے سسرال جایا کرتے تھے۔ ہمارے گاؤں میں ایک روایت سینہ بہ سینہ چلی آ رہی تھی کہ فلاں گاؤں کی لڑکیاں بہت شرارتی ہوا کرتی تھیں اور جب ایک دلہا میاں جو کہ مکلاوا لینے کے لیے گئے ہوئے تھے۔ ایک درخت کے نیچے بے خبر سو رہے تھے تو انہوں نے اس کی ایک ٹانگ کے ساتھ رسا باندھ کر بیل کے گلے میں باندھ دیا اور یہی عمل دوسری ٹانگ کے ساتھ دہرا کر بیلوں کو مخالف سمت میں ہانک دیا۔ اس کے بعد جو ہوا اس کا اندازہ بخوبی لگایا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسی تکلیف اور اذیت دینے والی جان لیوا حرکات کو مذاق کہنا بھی اس لفظ کی توہین ہے۔ بہرحال دلہا بھائی آٹھ دس دن تک اس قسم کے رنگین اور سنگین حالات میں گزار کر اپنی دلہن کو لے کر اپنے گھر پہنچ جاتے اور پھر

ازدواجی زندگی کا آغاز کر کے ایک نئے خاندان کے ادارے کی بنیاد رکھ دیتے۔ دلہن کو دوبارہ لینے کے لیے سسرال جانا اور وہاں پر آٹھ دس دن تک پیش آنے والے واقعات کی بھٹی میں تپ کر کندن بن جانا اور آخر کار اپنی دلہن کو اپنے گھر لے کر آنے کے اس تمام عمل کو مکلاوا کہا جاتا تھا۔ مکلاوے کی مدت کا تعین عموماً نکاح کی تاریخ طے کرتے وقت ہی کر لیا جاتا تھا۔ یہ مدت عموماً چار چھ ماہ سے لے کر سال دو سال بھی ہو سکتی تھی۔

ولیمے کے فوراً بعد ہی دلہا دلہن کو اپنے گھر لانے کے لیے سسرال جانا ساتھ کا مکلاوا کہلاتا تھا۔ جو عموماً معیوب سمجھا جاتا تھا۔ نکاح اور روانگی کے درمیان چار چھ ماہ کا دورانیہ ایک معمولی بات تھی۔ مکلاوے کی یہ رسم قبیح ہمارے ہاں بھی کسی نہ کسی شکل میں موجود تھی۔ ایک رات تمہارے ساتھ اپنے گھر میں گزارنے کے بعد ہم بھی اس رسم کی ادائیگی کے لیے تمہارے ساتھ اپنے سسرال گئے۔ لیکن خدا کا شکر ہے کہ وہاں پر مکلاوے کی مذکورہ روایات سے مکمل پرہیز کیا گیا اور ایک دن وہاں قیام کرنے کے بعد تمہارے ساتھ بخیر و عافیت گھر پہنچ کر اپنی ازدواجی زندگی کا آغاز کیا۔ سکون و اطمینان اور مسرت و شادمانی سے بھر پور زندگی جس میں تمہارے سنگت نے مجھے اپنی کم مائیگی کا احساس تک بھی نہیں ہونے دیا اور ساتھ ہی مکلاوے کی رسم قبیحہ کے خاتمے کا اعلان کر دیا۔

Facebook Comments HS