جدید دور کی غلامی
انسان اپنی اصل فطرت کے اعتبار سے تو آزاد پیدا کیا گیا ہے، جیسا کہ خلیفہ عادل حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص کے بیٹے سے فرمایا کہ ان (عوام ) کی ماؤں نے تو انھیں آزاد جنا، تم نے ان کو غلام کب سے بنالیا؟
اس لیے غلامی اصل میں فطرت انسانی کے منافی ہے، لیکن بسا اوقات بعض افراد یا خاندانوں یا قوموں کو غلام بنا دیا جاتا ہے اس لیے ان کی انسانیت میں بہت بڑا نقص آ جاتا ہے، جس کو دور کرنا ضروری ہوتا ہے تاکہ ان کی انسانیت کی تکمیل کی جا سکے۔ غلامی کی اگر تعریف کی جائے تو وہ کچھ اس طرح ہوگی کہ کسی انسان کو اس کی شخصی نفسی اور رضا مندی کے بغیر ایسے تکلیف دہ مراحل سے گزارنا یا رکھنا جس کی بدولت اس کے انسانی حقوق سلب ہو جائیں اور اس کی انسانی گروتھ نا صرف رک جائے بلکہ شخصی پوشیدہ پہلو بھی تبا ہو جائیں۔
غلامی دو طرح کی ہوتی ہے ایک وہ غلامی جس میں ایک انسان پر طاقت سے غلبہ پاکر اس کی سوچ اور مرضی کو کنٹرول کیا جاتا ہے، جس سے ایک انسان جسمانی طور پر تکلیف میں رہتے ہوئے اپنے آقا کے حکم کو پورا کرتا ہے۔ یہ غلامی کی وہ قسم ہوتی ہے، جس میں غلام کے اندر غلامی کا احساس کوٹ کوٹ کر بھرا ہوتا ہے اور وہ اس لمحے کو محسوس کرتا ہے۔ اور اس سے چھٹکارے کا طریقہ تلاش بھی کرتا ہے، جدوجہد بھی کرتا ہے، جیسا کہ آپ جانتے ہیں پہلے زمانے میں لوگ کرتے تھے۔
دوسری قسم کی غلامی وہ ہوتی ہے، جس میں اس غلام کو اس قدر خوب صورتی سے اور پر آسائش طریقے سے پابندی میں اور نگرانی میں رکھا جاتا ہے، جس میں کہ بہ ظاہر اس کی تمام ضروریات کو پورا کیا جاتا ہے اور وہ بہت خوش ہوتا ہے۔ یہ صورت غلامی کی بدترین صورت ہوتی ہے، کیوں کہ اس صورت میں سب سے مشکل کام غلام کو یہ باور کروانا ہوتا ہے کہ وہ غلام ہے، اس پر ظلم ہو رہا ہے اور ظلم کا یہ طریقہ اس کے مذہب کو استعمال کر کے ایجاد کیا گیا ہے۔ اس کے حقوق غصب کر لیے گئے ہیں۔ یہ غلامی اس کی زندگی کے ہر پہلو پر چھا چکی ہے اور اس کی سوچ کو محدود اور مختلف طریقوں سے جکڑ لیا گیا ہے، یہ بہت خطرناک غلامی ہے۔ خطر ناک اس لحاظ سے کہ اس میں شامل چاہے وہ ایک انسان ہو یا پھر اس سے جڑا خاندان یا ایک قوم، ان کی سوچ کو ایک پلاننگ کے ذریعے محدود رکھا جاتا ہے، تاکہ وہ انسانی ترقی کے اس درجہ تک نہ پہنچ سکیں، جہاں ان کے اخلاق اور کردار کی تکمیل کا سامان ہو سکے۔
یہاں پر نہایت باریک بینی سے سوچنے والی بات یہ ہے کہ یہ طریقہ کار اگر تمام کی تمام قوم پر اپنایا جائے پھر ایک قوم سے نکل کر اس کو بین الاقوامیت تک پھیلایا جائے تو اس کے نتائج اس قدر بھیانک ہیں کہ عام ذہن اس کا تصور بھی نہیں کر سکتا۔ اور ایسا بہ ظاہر آج کے AI دور میں نظر آ رہا ہے، جہاں غلامی کا ایسا نہ نظر آنے والا طوق تیار کر کے پہنایا جا رہا ہے، جس سے تمام کے تمام لوگ ایک ہی ڈائریکشن میں موڑے جا رہے ہیں۔ بہ ظاہر تو ہم کو آزاد انسان والی تمام آسائشیں آرام و سکون کسی حد تک مہیا کیا جا رہا ہے اور جس میں چھوٹا سا درمیانہ اور ایلیٹ طبقہ مطمئن نظر آتا ہے۔ کیوں کہ ان کی سوچ کو ان کے دائرے کے مطابق محدود کر دیا گیا ہے۔
آزادی کا یہ فریب جس کا تعلق انسان کی چند ضروریات تک محدود ہے، آنے والے وقت میں اس کی زیادتی نسل انسانی کو ایک مستقل اور نہ نظر آنے والی طاقت کے نرغے میں دھکیل سکتی ہے۔ اس تصویر کو اگر تھوڑا اور واضح کیا جائے تو ہم موجودہ دور کی غلامی کے چند نئے اور غیر محسوس حربوں کا بھی ذکر کرتے ہیں۔
1۔ ڈیجیٹل ٹولز کے ذریعے نگرانی کا حربہ
ہمارے ہاتھ میں موجود موبائل فون اس کو آئے روز اتنا اپڈیٹ کیا جاتا ہے کہ اس سے اکٹھا شدہ مواد انسانوں کے رویے، ان کے خیال اور ذہنی اپروچ کا پیمانہ ان موبائل فون کے ذریعے طے کیا جاتا ہے اور استعمال کنندہ کو اس کی ذہنی استطاعت کے مطابق صرف وہی مواد بذریعہ انٹرنیٹ مہیا کیا جاتا ہے، جس حد تک اس کے ذہن کو کیٹیگرائز کیا جاتا ہے۔ جب وہ اس مہیا کیے گئے مواد پر ری ایکشن بذریعہ ترتیب شدہ ایموجیز یا پھر الفاظی اظہار دیتا ہے تو اس کے ذہن اور اس طرح کے تمام اذہان کو فلٹر کر کے کیٹیگرائز کر لیا جاتا ہے۔ اور اس طرح کی کیٹگری اور ذہنی اپروچ کو محدود رکھنے کے لیے حکمت عملی ترتیب دی جاتی ہے۔ یہ عمل کسی ملک کی سوسائٹی کے مختلف طبقوں کے لیے مختلف طریقوں سے جاری رہتا ہے اور اس کے ذریعے ہی سامراج ان ہی لوگوں میں سے اپنے حامی اور حفاظتی طبقے پیدا کرتا ہے، تاکہ اس کے مفادات محفوظ رہ سکیں۔ یہی طریقہ سامراج تھرڈ ورلڈ کے ممالک اور ان کے تمام طبقوں پر اپلائی کرتا ہے اور ان کی انٹلیکچوئل فلٹریشن کے مطابق ان کو ڈائریکشن فراہم کرتا ہے۔
2۔ اس کا دائرہ اگر مزید وسیع کریں تو یہی حربہ استعمال کر کے وہ پوری کی پوری انسانی سوسائٹی کا رخ متعین کرتے ہیں۔ اور اپنے اہداف اسی قوم کے ذریعے اسی کی مرضی کی مطابق ڈھال کر پورے کیے جاتے ہیں۔
یہاں ایک باریک سا نقطہ سمجھنے کی ضرورت ہے کہ اس طرح کی مضبوط منصوبہ بندی جس کا سحر اس قدر خطر ناک ہو، اس میں اس چیز کو سمجھنا کہ کس طرح انسانوں کی مرضی کے مطابق ان کے ذہنوں کو محدود کر کے غلام بنایا جاتا ہے۔ انتہائی مشکل ہو گا کہ اس کو توڑا جا سکے۔ انسانوں کو غلام بنانے کے لیے روایتی طور طریقوں کی جگہ ٹیکنالوجی کا استعمال کیا گیا ہے۔ پاکستان میں اگر اس غلامی کو ایک نظر دیکھا جائے تو وہ ہمیں کچھ اس انداز سے نظر آئے گی اس میں اشرافیہ کا طبقہ مخصوص مراعات اور خاص قسم کے معاشرتی جھگڑوں کا حل کروا کر یا پھر معاشرے کے وہ اجتماعی فلاحی کام کر کے وہاں کے عوام کی رائے اپنے حق میں ہموار کرواتے ہیں اور پھر من چاہے فیصلے اور جرائم میں ان لوگوں کو ملوث بھی کر کے مالی فواد بٹورتے ہیں۔ اگر اسی لیول کو تھوڑا اوپر کیا جائے تو قومی سطح پر وسائل کا بحران پیدا کیا جاتا ہے پھر خود ہی مختلف طریقے استعمال کر کے ان لو حل کیا جاتا ہے اور سامراج کی گریٹ گیم کے لیے راہ ہموار کی جاتی ہے۔ اور عوام اور لوگوں کی توجہ کو سطحی مسائل میں اور ایشوز میں الجھا کر ان کے ذہنوں کو غلامی کے ایک خاص دائرے میں بند کر دیا جاتا ہے۔ تاکہ ایسے سہولت یافتہ کم فہم نا سوال کرنے والے گروہ کی طاقت کو اپنے حق میں استعمال کر سکیں۔
اس سارے ماحول میں ضرورت اس امر کی ہے کہ آج کے اس دجل و فریب کے ہتھکنڈوں اور سامراجی چالوں کے خلاف اپنے سیاسی اور عقلی شعور کی بلندی کے لیے محنت کی جائے، تاکہ رہنمائی کے اصولوں کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ سچے رہنماؤں کے اوصاف کو بھی اپنایا جا سکے۔

