زبان یار من ترکی ( حصہ دوئم)
ہم ایک بڑی اور پر تعیش کشتی پر سوار آبنائے فاسفورس کے نیلے پانیوں پر استنبول کے بیچوں بیچ محو سفر تھے۔ دنیا کے مختلف خطوں سے آئے سیاح کشتی کی چھت پر ایستادہ رنگین کرسیوں پر براجمان تھے اور استنبول کے دلکش نظاروں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ میرے سامنے والی سیٹ پر ایک خوش لباس سیاہ فام جوڑا موجود تھا۔ میں نے آدمی کو کیمرا دے کر تصویر بنانے کے لیے کہا تو اس نے بخوشی میری کئی تصاویر بنا دیں۔ گفتگو کا سلسلہ شروع ہوا تو علم ہوا کہ وہ ساؤتھ افریقہ میں یونیورسٹی پروفیسر ہے اور کسی کانفرنس میں شرکت کے لیے استنبول آیا ہے۔
خاتون نے مجھ سے آسٹریلیا کے بارے میں کئی سوالات کیے۔ انھیں آسٹریلیا جانے کی خواہش تھی جبکہ مجھے جنوبی افریقہ جانے کی تمنا تھی۔ طے یہ ہوا کہ اپنے اپنے ملک میں ہم ایک دوسرے کی میزبانی کریں گے۔ وہ سہ پہر ہم نے اکٹھے گزاری اور ہماری دوستی کا پودا پروان چڑھنے لگا۔ ہماری کشتی کے بائیں جانب یورپ اور دائیں جانب ایشیا تھا اور ہمارے سامنے سمندر پر ایک بلند اور طویل پل ایشیا اور یورپ کو ملاتا تھا۔ ہمارے بائیں جانب یورپ والا حصہ عمومی طور پر قدیم، قدرے فرسودہ مگر تاریخی دلچسپیوں سے معمور تھا جبکہ ہمارے دائیں جانب سمندر کے کنارے حسین ڈھلوانوں پر بنے انتہائی گراں قدر مکانات اور ان کے گردوپیش کا علاقہ جدید اور قابل دید مناظر کا حامل تھا۔
پروفیسر جیکب نے مسکراتے ہوئے کہا ”یہاں ایشیا یورپ سے کہیں آگے اور دلکش نظر آتا ہے“ میں نے کہا ”ہاں لیکن یہ نفسیاتی اور کاغذی تقسیم ہے ورنہ یہ ایک ملک اور ایک شہر ہے جس میں ایک جیسے لوگ رہتے ہیں۔ ہاں طبقاتی تقسیم ہو سکتی ہے جو ہر شہر میں ہوتی ہے“ پروفیسر جیکب مسکرایا ”ہاں یہ مصنوعی لکیریں انسانوں نے خود ہی کھینچ رکھی ہیں۔“
ایشیا اور یورپ کی تقسیم کے علاوہ بھی ترکی میں مزید کئی لکیریں، کئی قسمیں اور کئی رنگ نظر آتے ہیں۔ جیسے ان کا سب سے بڑا شہر استنبول قدیم و جدید کا مجموعہ ہے۔ یہاں مختلف قدیم تہذیبوں سے متعلق مقامات، آثار، نشانات اور باقیات کا لا متناہی سلسلہ ہے جس کی وجہ سے تاریخ اپنے بھرپور رنگ و روپ کے ساتھ جلوہ گر نظر آتی ہے۔ تاہم جتنا اس کا تاریخی پہلو تابناک اور قابل توجہ ہے اتنا ہی جدید شہر اور خصوصاً یورپین تہذیب کا رنگ بھی نمایاں نظر آتا ہے۔
ایک جانب صدیوں قدیم پتھروں سے بنی عمارتوں کے درو دیوار شان و شوکت سے استادہ ہیں تو دوسری جانب سیمنٹ اور شیشے کے رنگ و روپ لیے جدید عمارتیں بھی شانہ بشانہ نظر آتی ہیں۔ ایک جانب سمندر کے کنارے مہنگے ترین مکانات اور ان کے باہر کھڑی جدید ترین گاڑیاں اور لگژری کشتیاں نظر آتی ہیں تو دوسری جانب تنگ گلیوں اور خستہ پتھروں سے بنی رہائشی عمارتیں بھی دکھائی دیتی ہیں۔ ایک جانب سمندر کے اندر بنے مہنگے ریستوران میں سوٹڈ بوٹڈ گاہک بیٹھے نظر آتے ہیں تو دوسری جانب فٹ پاتھوں پر موجود ٹھیلوں سے سمت ( گول سوکھی بریڈ) اور مکئی کے بھٹے خرید کر پیٹ بھرنے والے بھی بے شمار ہیں۔
لیکن اس شہر خاص کے باسیوں بلکہ ترکوں کو بحیثیت مجموعی میں نے خوش لباس، خوش خوراک اور زندگی سے لطف اندوز ہونے والا پایا ہے۔ یہاں دکانوں، بازاروں اور ریستورانوں کا شمار نہیں۔ شہر چھوٹا ہو یا بڑا، ریستوران گاہکوں سے بھرے نظر آتے ہیں۔ کباب، پیزا، سینڈوچ، قیمے والی روٹی، لسی اور ترکش چائے ہر جگہ موجود ہے۔ چائے تو یہ اس قدر پیتے ہیں کہ دکان ہو یا گھر ان کے ہاتھ میں ہر وقت چھوٹی سی پیالی نظر آتی ہے۔ ازمیر میں میرے ہوٹل کے استقبالیہ کلرک نے مجھے بتایا کہ اس کی ماں روزانہ ساٹھ ستر کپ چائے پیتی ہے۔
یہ چائے دودھ کے بغیر ہوتی ہے اور اس کے ساتھ چینی کے کیوب ( مکعب ٹکڑے ) رکھے ہوتے ہیں جو ہر کوئی حسب ضرورت ڈالتا ہے۔ اس چائے کی عادت مجھے بھی پڑ گئی جو آسٹریلیا واپس آنے کے بعد بھی برقرار ہے۔ میں ایک ترکش شاپ سے چائے خرید کر لایا ہوں اور گھر میں روزانہ یہ شوق پورا کرتا ہوں۔ کبھی کبھی مقامی ترکش ریستوران میں یہ چائے نوش کرنے جاتا ہوں۔ ترک سگریٹ نوشی کے کے انتہائی شائق ہیں۔ لگتا ہے نناوے فیصد مرد و زن سگریٹ نوشی کے عادی ہیں۔
یہ عام سگریٹ نوشی نہیں ہے بلکہ اکثریت چین اسموکر ہے۔ ٹیکسی ڈرائیور، دکاندار، خاکروب اور کاریگر ہر ایک کے ہاتھ میں جلتی سگریٹ ہوتی ہے۔ ایک دکان سے میں نے کچھ خشک میوہ جات خریدے۔ یہ اشیا تولتے ہوئے حسب معمول دکان دار سگریٹ پی رہا تھا او راس کی راکھ ان اشیا میں گر رہی تھی۔ ٹیکسی ڈارائیور مسافر سے پوچھے بغیر سگریٹ سلگا کر کش پہ کش لینے لگتے ہیں۔ ان ڈرائیوروں کو ٹوکتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہ وہ سگریٹ تو نہیں پھینکیں گے کہیں مسافر کو ہی نہ اتار دیں۔
انتالیہ میں ہماری خاتون گائیڈ نے بتایا کہ وہ روزانہ چار پیکٹ سگریٹ پی لیتی ہے۔ ہماری وین پانچ منٹ کے لیے کہیں رکتی وہ مسلسل دو سگریٹ پی کر گاڑی میں بیٹھتی۔ کچھ لوگوں نے بتایا کہ یہاں ناؤ نوش اور دیگر ہر قسم کا نشہ بھی عام ہے۔ شبینہ کلب، بار اور شراب کی خرید و فروخت بھی سر عام ہے۔ اسی طرح اکثر خواتین مغربی لباس زیب تن کرتی ہیں۔ ادھر تصویر کا دوسرا رخ بھی ہے۔ وہ یہ کہ کچھ خواتین حجاب بھی پہنتی ہیں اور مسجدیں نمازیوں سے آباد ہیں۔ گویا ترکی مشرق و مغرب دونوں تہذیبوں کے درمیان جھول رہا ہے۔ موجودہ صدر طیب اردگان کا رجحان چونکہ مذہب کی جانب ہے لہذا مذہب پرست بھی کم نہیں ہیں۔ دیکھیے مستقبل میں ترکی کا یہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے اور کون سا ترکی دنیا کے سامنے جلوہ گر ہوتا ہے عثمانیہ سلطنت والا یا پھر مصطفی اتا ترک والا۔
اس مضمون کے حصہ اول، میں نے اپنے موبائل کی گمشدگی کا ذکر کیا۔ بے شمار لوگوں نے پوچھا کہ موبائل کا کیا بنا۔ دراصل وہ میرے تین ہفتے کے سفر کا سب سے اہم واقعہ ہے۔ میرا موبائل سنکی قسم کے ڈرائیور کی ٹیکسی میں رہ گیا تو میں ہکا بکا رہ گیا اور سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ کیا کروں گا۔ کیونکہ میرے سفر کی تمام تفصیل، بکنگ اور اگلے ملکوں کے ویزہ جات اسی موبائل میں تھے۔ اس کے بغیر میں سفر جاری نہیں رکھ سکتا تھا حتی کہ واپسی بھی مشکل تھی کیونکہ فلائٹ بکنگ بھی اسی میں درج تھی۔
میرے پاس ٹیکسی کا نمبر تھا نہ ڈرائیور کا نام۔ لہذا میں پریشانی کی حالت میں ہوٹل کے اندر داخل ہوا۔ استقبالیہ کلرک نے پریشانی کی وجہ دریافت کی۔ میں نے بتایا تو اس نے کہا اپنا نمبر بتائیں۔ میں نے نمبر بتایا اس نے فوراً ڈائل کیا۔ اگلے ہی لمحے اس نے کسی سے ترکی زبان میں گفتگو شروع کر دی۔ فون بند کر کے اس نے بتایا۔ مبارک ہو آپ کا موبائل مل گیا۔ وہ ٹیکسی ہی میں تھا اور ڈرائیور لے کر آ رہا ہے۔ میری تو جیسے جان میں جان آئی۔
باہر نکلا تو دیکھا کہ وہی ڈرائیور ٹیکسی سے نکل رہا ہے موبائل اس کے ہاتھ میں تھا۔ اس نے ہاتھ آگے بڑھایا تو میں نے اس کا ہاتھ ایسے چوم لیا جیسے ارطغرل ڈرامے میں چھوٹے بڑوں کا ہاتھ چومتے ہیں۔ تھوڑی دیر قبل جو سنکی لگتا تھا اب یہی ڈارائیور مجھے فرشتہ محسوس ہو رہا تھا۔ میں نے اسے سو لیرا انعام دیا اور موبائل کو ایسے سینے سے لگایا جیسے گمشدہ خزانہ مل گیا ہو۔


