لٹکتا پل


آزاد کشمیر اور شمالی علاقہ جات میں بہت سے دریا اور ندی نالے ہیں جن کو پار کرنا ایک عام سی بات ہے۔ اب ہر جگہ تو مناسب انتظامات نہ ہونے کے برابر ہوتے اکثر مقامات پہ لوگوں نے اپنی مدد آپ کے تحت کوئی نہ کوئی مقامی انتظام کیا ہوتا ہے۔ اس میں خطرناک ڈولی اور لٹکتے پل ہوتے ہیں۔ ڈولی کے عذاب سے تو پوری قوم کچھ دن پہلے اپنی ٹی وی سکرین پہ دیکھ کر ہی واقف ہو چکے ہیں۔ آج کا موضوع سخن لٹکتے پل کے بارے میں ہے لہذا کچھ اس بارے آپ کو متعارف کروا دوں۔ یہ لٹکتا پل بھی ایک بڑا امتحان گاہ ثابت ہوتا ہے۔ اس کا تصور ہی بڑا روح فرسا ہوتا ہے۔ اس کے اوپر سے گزرنے کی کوشش کریں تو ہر قدم پھونک پھونک کر رکھنا پڑتا ہے۔ ہر لحظہ محسوس ہوتا ہے گویا دریائی ریلا میرے لئے اور تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے ذرا سی لغزش سے پاؤں اگر پھسل گیا تو گیا سمجھو بچت کا پھر کوئی امکاں نہیں۔ پل پہ ہر قدم یہ محسوس ہوتا کہ یہ گیا ہی گیا۔ ہر اگلے قدم سے لگتا ہے کہ شاید یہ آخری قدم ہو۔

oماری بدقسمتی صرف نالہ پار کرنے تک محدود نہیں۔ قومی سیاست کا بھی کم و بیش یہی عالم ہے۔ جب بھی قومی اسمبلی بظاہر انتخابات کے بعد ترتیب پاتی ہے اکثر ہنگ پارلیمنٹ کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ کسی کو بھی یہ یقین نہیں ہوتا کہ اگلا قدم بھی ہو گا یا یہی شاید آخری قدم ہو۔ پھر کچھ پیشہ ور سیاستدان ہوتے ہیں جو ہمہ وقت حکومت کا ساتھ اپنے نرخ پہ دینے کے لئے تیار ہوتے ہیں۔ کچھ بخیہ گری کے بعد ایک ڈھیلا ڈھالا سا اتحاد قائم ہوجاتا ہے اور یوں کارخانۂ حیات رواں دواں ہونے کی اداکاری کرنا شروع کر دیتا ہے۔ کیونکہ ان دوستوں کی وجہ سے پچھلی حکومت کا نظام قائم تھا اب ان کے خلاف نئے حکمران چیں بچیں ہوتے ہیں مگر کسی حقیقی احتساب چاہتے ہوئے بھی نہیں کر سکتے اور یوں وقت گزرتا رہتا ہے اور کہنے کو تو پارلیمان ہنگ ہوتی ہے جب کہ درحقیقت قوم ہنگ ہو جاتی ہے۔ اسی طور ہم اسی سال کے ہونے کے باوجود طفل مکتب کی طرح لڑکھڑاتے ہوئے منزل حقیقی کے متلاشی ہیں۔

جب تک حقیقی نتائج کے تحت ایک مضبوط حکومت نہ آ جائے جانے کب تلک ہم لٹکتے پل کا سفر کرتے رہیں گے۔

Facebook Comments HS