جب یادوں کا قصہ کھولوں تو۔۔۔


موسم نے اچانک ہی اپنے تلخ اور گرمی کی شدت بھرے رویے میں خوشگوار تبدیلی کا مژدہ سنایا ہے۔ ایسے میں گھر کے اندر کی بجائے عقبی عرشہ پر نیلے گگن تلے فلک کے نیچے چھوٹی چھوٹی سرمئی بدلیاں ایک دوسرے سے گلے ملنے اور بچھڑنے کے کھیل میں مگن، میں گرم گرم کافی کے ساتھ اپنے ارد گرد درختوں کے جھرمٹ میں زندگی کے بیتے ادوار میں کہیں کھو گیا ہوں۔ تازہ کافی کی بھینی بھینی مہک، پرندوں کی چہک اور یاد ماضی۔

یاد ماضی اک خواب ہے یا رب۔ لوٹا دے پھر سے گزرا زمانہ میرا ( شاعر سے معذرت کے ساتھ)

زندگی ایک احساس، ایک ناول، ایک فلم، ایک تھیٹر، ایک ڈرامہ جس میں ہم کتنے ہی کردار بغیر کسی اسکرپٹ اور ہدایت کار کے مختلف بہروپ اور زاویوں کے ساتھ بہت خوبصورتی سے نبھاتے ہیں۔

بچپن کو دیکھیں تو زندگی کے فکر و غم، پریشانیوں سے انجان معصوم زمانہ۔ نہ کسی سے شکوہ، نہ گلہ، نہ غیبت، نہ عداوت۔

ساون بھادوں کی بارشوں میں کچھا پہن کے خوب خوب موج مستی، کاغذ کی ناؤ بنا کر بہتے پانی میں چھوڑنا، کوئی کوئی ناؤ تو دو چار غوطے کھا کر شہید ہو جاتی اور کوئی کوئی دور تک بہاؤ کے ساتھ دائیں بائیں ہچکولے کھاتی کسی نالے کی نذر ہو جاتی۔

وہ کاغذ کی کشتی وہ بارش کا پانی۔ مجھے یاد آ رہی ہے گزری وہ زندگانی

اور پھر لڑکپن کی شرارتیں، اٹکھیلیاں اور دوستوں کی محفلیں، موج مستیاں، دریا چناب کی سیر، کشتی رانی، مچھلی کا شکار۔

دور گگن تلے میرا بھی تھا ایک گاؤں۔ پربتوں کے سائے تلے چناروں کی تھی چھاؤں

حصول تعلیم اور بانکپن میں ہائی اسکول بھی مکمل ہو گیا۔ اور ہائی اسکول سے الوداعی سپاس نامہ نم ناک آنکھوں سے پیش کرنے کے بعد کالج کی زندگی کا آغاز۔ ہائی اسکول سے جتنی سہانی یادیں ذہن پر نقش ہیں شاید پوری زندگی کی یادیں ان کی جگہ نہ لے پائیں گی۔ کتنے ہی پیارے دوست ہمیشہ کی لیے بچھڑ گئے اور کچھ ایسے کے پھر ملاقات ہی نہیں ہو سکی، تو کچھ دوست فیس بک کے بدولت پینتالیس سال بعد ملے۔

یہ وقت کو بھی تو دیکھو کتنا ہرجائی ہے۔ کبھی تھیں برپا محفلیں اب عالم تنہائی ہے

ایک کالی گلہری جی ہاں یہاں کالی گلہری بھی پائی جاتی ہے کو بڑی دیر سے دیکھ رہا ہوں آتی ہے، سوکھی بیریوں کو منہ میں بھرتی ہے اور پھر تیزی سے درختوں کے جھنڈ میں غائب ہو جاتی ہے۔ یہ آنے والے سرد موسم سے پہلے ہی اپنی خوراک ذخیرہ کر لیتی ہے۔ خالق نے اپنی مخلوق کو آنے والے وقتوں کی منصوبہ بندی کرنے کا ادراک بخشا ہے۔

باد نسیم کی ہلکی ہلکی تھپکیوں سے درختوں کے پتے دھیمے سروں میں خوش الحانی کرتے ہوئے محبتوں کے راگ الاپ رہے ہیں اور میں تصور میں سیدنا داود علیہ سلام کی خوش الحانی کا ساتھ دیتے نجم و شجر کا سماں کیسا خوبصورت اور دلکش ہوتا ہو گا کا سوچ کر ہی ایک وجد کی کیفیت۔

زندگی کی ایک نئی کہانی کالج سے رقم ہوتی ہے، سوچ کا محور بدلتا ہے۔ مستقبل کے سہانے سپنے، کچھ ادھورے رہ جاتے ہیں اور کچھ اپنی راہیں بدل لیتے ہیں۔ وقت کا پہیہ اپنی رفتار سے گھومتا رہتا ہے، اور بے شمار سنہری یادیں ماضی کا بھولا ہوا افسانہ۔

وہ بچپن کی شرارتیں اور جوانی کی کی شوخیاں۔ اپنی ہی زندگی کی کہانی میں کیوں بھولتا ہوں
زندگی میں پیار و محبت کی بہار بھی ہے تو غم کی آندھیاں بھی۔ وگرنہ بے کیف زندگی جینے کی تمنا کون کرے
زندگی صحرا بھی ہے اور زندگی گلشن بھی ہے۔ پیار میں کھو جاؤ گے تو زندگی مدھو بن بھی ہے۔

سبز ہریالی پتے زردی مائل ہونے شروع ہو چکے ہیں جو موسم خزاں کی امد کا نقارہ بجا رہے ہیں۔ چند ہی دنوں میں یہ ہرے بھرے درخت مختلف رنگوں کا بہت ہی دلکش نظارہ پیش کریں گے۔ اور پھر تمام پتے پت جھڑ کی نظر۔ کل تک جن پتوں کی سرسراہٹ سے محبت کے گیتوں کا احساس ہوتا تھا، مدھر سروں کا سرگم چھڑتا تھا وہاں اب ایک سکوت مرگ طاری، زندگی کی رمق سے محروم۔

سہ پہر کے سائے دراز ہونے شروع ہو چکے۔ اپنی زندگی کی کتاب کے پنوں سے اپنے ماضی کی یادیں ایک فلم کی طرح نظروں میں گھوم رہی ہیں۔

میں نے بی کام کا سنگ میل بھی خوش اسلوبی سے طے کر لیا، اور پھر کراچی کا رخت سفر۔ وہاں فورڈ، روڈز، رابسن، مارو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹس سے منسلک ہو گیا۔ اسی دوران امریکا میں مختلف یونیورسٹیز میں داخلہ کی کوشش شروع کر دی۔ تین سال کی تگ و دو کے بعد مشی گن اور شکاگو سے داخلہ کے نوٹس ملے اور پھر اٹھائیس دسمبر انیس سو بیاسی کی برفانی شام کو شکاگو کی یخ بستہ ہواؤں میں امریکا کی سرزمیں پر قدم رکھا اور ایک نئی زندگی کا آغاز۔ جنوری سے پہلے سمیسٹر کا آغاز ہوا، قیام اور طعام کیمپس سے ملحق ہوسٹل میں ہوا جو کہ دو ماہ سے زیادہ نہ رہ سکا۔ پھر دو لڑکوں نے مل کر اپارٹمنٹ کرایہ پر لے لیا۔ چند دنوں کے اندر نئے ماحول کے ساتھ ڈھل گیا۔ دن ہفتوں ہفتے مہینوں اور مہینے سال میں بدل گئے۔ دو سال میں ڈگری بھی مکمل ہوئی۔ پردیس کی زندگی نے بہت کچھ سکھا دیا۔ تعلیم کے ساتھ نوکری، گھر کے کام، سودا سلف لانا، خود سے پکانا، کبھی رات کی نوکری تو دن کی کلاسز اور کبھی شام کی کلاسز اور دن کی نوکری۔ صبر اور شکر زندگی کا حصّہ بن گئے۔

انیس سو تراسی میں پہلا رمضان جولائی میں شروع ہوا، اور پہلے روزہ میں مرغ پلاؤ پکانے کا جنوں سوار ہوا۔ سترہ گھنٹے کا طویل روزہ، رات کی جاب سے گھر آیا، دوپہر کے وقت مرغی کے گوشت کو خوب دھویا، آنکھوں میں آنسو کہ پیاز بھی کاٹے، گوشت کو خوب بھونا، چاول اچھی طرح دھو کر گوشت میں ڈال دیے، مصالحے بھی خوب ڈالے، کچھ خوشبو بھی آنے لگی، بہت خوش کے آج پلاؤ سے روزہ کھولوں گا۔ اس دوران کالج جانے کا وقت کہ شام کی کلاس بھی تھی۔ گھر واپسی پر روزہ ٹرین میں کھولا کہ کھجور ساتھ رکھ لی تھی۔ گھر آ کر پلاؤ نکالا تو۔

میں نے تو یوں ہی پلاؤ میں چلایا تھا چمچہ۔ دیکھا جو غور سے تو کھیر بن گئی

پھر جلدی سے آملیٹ بنایا اور پہلا روزہ افطار کیا۔ اس دن کے بعد سے آج تک پھر چکن پلاؤ کا کبھی سوچا ہی نہیں۔

یہ کیا، اچانک ہی سیاہ گھنیرے بادل اور گرج چمک، میں گھر کے اندر چلا آیا۔ اور مجھے شکاگو کی ایک سہانی شام یاد آ گئی۔ یہ 1983 کی ایک سہانی شام، اپنے کیمپس کی لابی سے جھیل مشی گن جو کے میرے کیمپس کے عین سامنے واقع ہے قدرت اور انسانی تخلیق کے نظاروں سے لطف اندوز ہو رہا تھا۔ جھیل کے کنارے بل کھاتی لیک شور ڈرائیو، اور وسیع و عریض رنگ برنگے پھولوں، درختوں اور پودوں سے لدا خوبصورت پارک، اور مشی گن ایونیو پر بلند و بالا عمارات، عقب میں اس وقت دنیا کی بلند ترین عمارت سیئرز ٹاور، پارک میں سب بہت بلند فوارہ جو کے ملکہ برطانیہ نے تحفہ دیا، اور رات کے وقت بے شمار رنگوں سے مزین لائٹس سے یہاں کا حسن دوبالا ہوجاتا ہے، ایک بہت ہی رومانوی ماحول، مقامی اور سیاحوں کا جم غفیر۔ جھیل کا نیل گوں پانی، اور بے شمار چھوٹی اور بڑی کشتیاں، آبی پرندے، وقت گزرنے کا احساس بھی نہیں ہوتا۔ اچانک موسلا دھار بارش شروع ہو گئی، ایک سماں سا بندھ گیا۔ تیز بارش لیکن بہترین نکاسی کی وجہ سے سڑکوں پر پانی جمع نہیں ہو رہا تھا۔ طوفانی بارش شاید میری اداسی میں شریک ہونے آئی تھی۔ اس لمحے اس شعر کی تخلیق ہوئی۔

کالی بدلی ساون دی جدوں وسدی اے۔ ہنجو بھری اکھ ساڈے دل دی کہانی دسدی اے

وقت اپنی اڑان اڑ رہا ہے، نشیب و فراز کی زندگی اپنی آخری منزل کی جانب رواں دواں۔ جو وقت مل جائے وہی غنیمت اور خدائی تحفہ۔ ایک دن اس کا آخری سین مکمل اور پھر۔ پردہ گرے گا۔ اور گھپ اندھیرا۔

محبت کرنے والے کم نہ ہوں گے۔ تیری محفل میں لیکن ہم نہ ہوں گے

Facebook Comments HS