معاشرتی بے حسی


اکثر و بیشتر ہم اپنے ملک کے حالات پر بڑے تبصرے کرتے نہیں تھکتے اصلاح کی حسب منشا تجاویز بھی دیتے رہتے ہی یہ بھی حقیقت ہے ہمارے ملک میں ایک عام آدمی بھی اپنے ناکردہ گناہوں کی سزا بھگت رہا ہے وہ اس طرح کہ سزا کے طور پر وہ مختلف ٹیکسز بھی ادا کر رہے ہیں یا ان سے وصول کیے جا رہے ہیں جن کا شاید عوام کو شعور و آگہی بھی نہیں ہیں کہ یہ بھی سہولتیں ہمارے ملک میں کسی کو حاصل ہیں اور کس انعام و و اکرام کے طور پر دی گئی ہیں ان ہی وجوہات کی بنا پر ایک مکمل مایوسی کی سی کیفیت ہمارے ملک میں تیزی سے پھیل رہی ہے جس کی وجہ سے ہماری ملکی تاریخ کی بد ترین نقل مکانی ہو رہی ہے ہر طبقہ، ہر عمر کا پاکستانی، ہر مرد و عورت اس ملک کے معاشی حالات کا مقابلہ کرتے کرتے تھک گیا ہے اور راہ فرار حاصل کرنا چاہتا ہے دنیا کے دیگر کئی ممالک میں بھی معاشی حالات خراب ہوئے ہیں اور ہوتے رہتے ہیں لیکن اتنی بڑی تعداد میں نقل مکانی کا نہیں سوچا جا سکا اور نہ یہ سو چا جاسکتا نہ ہی سوچا جانا چاہیے۔

یہاں ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم خود اپنی ذات سے اصلاح کا آغاز کریں مانا کہ مہنگائی کا طوفان ہماری ساری تدابیر کو بہا کہ لے جا رہا ہے لیکن اخلاقی بد حالی تو ہمارے اپنے اختیار میں ہے جس معاشرے میں شادی ہال میں ایک انسان کی لاش سامنے رکھی ہوئی ہو اور سب لوگ شادی کا کھانا مزے لے کر کھا رہے ہوں وہاں کی انسانیت اور اخلاقی اقدار کی کیا ہی بات کی جائے اخلاقی بد حالی کی صرف یہی نہیں کئی اور مثالیں ہم آئے روز سنتے رہتے ہیں یہاں سڑک پر اگر کوئی حادثہ ہو جائے تو فوری طور پر وڈیو تو بنائی جاتی ہے لیکن اس انسان کو اسپتال نہیں پہنچایا جاتا اور اگر کوئی ہمت کر بھی لے تو اسے نشان عبرت بنا دیا جاتا ہے کہ آئندہ آنے والی نسلیں بھی کبھی کسی کی مدد کی ہمت نہ کر سکیں۔ اور انسان کو اور انسانیت کو سڑک ہی پر تڑپ تڑپ کر مرنے کے لئے چھوڑ دیا جائے۔

اخلاقی بد حالی کا یہ معیار کہ جہاں اپنے بچے تو پھولوں کی طرح اور ایک غریب بچہ نہ صرف زرخرید غلام بلکہ وہ غلام کہ جس کی زندگی اور موت بھی اپنے ہی اختیار میں سمجھا جانے لگا ہے اس کی تا زہ مثال رضوانہ کیس ہے اور اس کی اس سے بھی زیادہ بدترین ظلم ان کے والدین کی مجرمانہ غفلت بھی ہے اور معاشی بد حالی اور اس کا معاشرتی استحصال بھی کہ ایک غریب اور لا چار خاندان کس طرح اپنی ہی اولاد کو اسی کی زندگی پروان چڑھانے کی ذمہ داری ڈال دیا کرتا ہے اور یہ ایک واقعہ یا سانحہ نہیں ہے بلکہ آئے دن بیشتر گھروں کی یہی کہانی سننے کو ملتی ہی رہتی ہے پھر بھی مجال ہے کہ کوئی آواز بلند ہو جائے یہی معاشرتی بے حسی ہے کہ جس کو ہم سب ہی مستقل نظر انداز کیے جا رہے ہیں۔

ایک اور اہم ذمہ داری کہ جس کہ ہم سب بری طرح منہ موڑتے نظر آرہے ہیں وہ ہے گھر کے بزرگوں کو ناقابل برداشت سمجھنے کا رجحان جس کی تازہ مثال اولڈ ایج ہومز کی ضرورت کا شدت سے مطالبہ بڑھتے ہوئی تعداد ایسے بزرگوں کی جنھیں یا تو ان کی اولاد نے گھر سے نکال دیا ہے یا وہ خود اولاد کے رویے سے تنگ آ کر گھر چھوڑنے پر مجبور ہوئے ہوں اور اس ضرورت کو محسوس کرتے ہیں اس پر قانون سازی بھی ہو چکی ہے یہ بھی ایک اسلامی فلاحی ریاست میں قابل ندامت عمل ہے جس کو محسوس کیا جانا ضروری ہے ورنہ خاندانی نظام بکھر کر رہ جائے گا۔

اب آ کر میں جس تکلیف دہ واقعے یا سانحے کا ذکر کرنا چاہوں گی وہ انسانیت کی تمام تر تعلیمات کے نہ صرف منافی بلکہ کسی طور بھی قابل معافی نہیں ہے یہاں میں واضح کردوں کہ میں نے یہاں لفظ انسانیت استعمال کیا ہے اسلامی نہیں کیونکہ نام تو ہم اسلام ہی کا لیتے ہیں اور کام سارے غیر اسلامی جب افعال اسلامی نہ ہوں تو پھر انسانیت ہی کی بات کی جائے کہ کم از کم انسانیت کی حدود میں ہی رہنا سیکھ لیں اور دوسرے انسانوں کو جینے کا ہی حق دے دیں معصوم فاطمہ کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ کسی بھی طرح کسی بھی مذہب، معاشرے اور قانون میں قابل برداشت نہیں ہے درندگی کے خلاف ہر محاذ، ہر سطح، ہر طبقے کو اپنا احتجاج ریکارڈ کروانے کی ضرورت ہے اس مسئلے کو ایک مہم کی طرح ہر وقت ہر طبقہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے انسان کو جا ری رکھنا ہو گا کیونکہ اسی میں ہماری بقا ہے ورنہ کتنی ہی رضوانہ اور فاطمہ ہمارے معاشرتی درندوں کے بھینٹ چڑھتی رہیں گی کتنے ہی مزدور کسی بھی وقت کسی بھی تقریب میں بطور لاش رکھے جائیں گے اور کتنے ہی بزرگ بوجھ سمجھ کر گھروں سے نکال کر اولڈ ایج ہومز پہنچا دیے جائیں گے ہمیں اپنی ذات سے اس اصلاحی تحریک کا آغاز کر نا ہو گا ہمیں اپنی اخلاقی اور انسانی اقدار کو بہتر عمل درآمد سے نکھارنا ہو گا ورنہ کوئی بعید نہیں کہ آنے والے وقت میں ہم بھی کسی معاشرتی بے حسی کا شکار ہو کر خبر کا حصہ بن جائیں گے ایسی خبر کہ جسے پڑھ کر نظر انداز کر دیا جائے گا۔

Facebook Comments HS