گجرات اسٹیٹ، علا ؤالدین خلجی سے نریندر مودی تک


اب ہم دہلی سے چل کر ہریانہ، یوپی، سی پی، آندھرا پردیش، تلنگانہ، کر ناٹکا اور مہاراشٹرا سے ہوتے ہوئے گجرات سے گزر رہے تھے، اس طرح یہ ساتویں اسٹیٹ تھی۔ سورت گجرات کا پہلا شہر تھا۔ آگے بڑھنے سے پہلے میں آپ کو گجرات کے ایک ایسے شہر کے بارے میں بتاؤں گا جہاں سینکڑوں کی تعداد میں مختلف کیمیکلز بنانے کے پلانٹ لگائے گئے۔ میرے علم کے مطابق کسی ایسے شہر میں جو بہت بڑا بھی نہ ہو اور جہاں آبادی بھی دو لاکھ سے کم ہو، اتنی بڑی تعداد میں کیمیکلز کے پلانٹ، بہت ہی انوکھی بات ہے۔

بھارت کے مغربی ساحل پر واقع گجرات اسٹیٹ کا ساحل سولہ سو کلو میٹر لمبا ہے۔ یاد رہے پاکستان کا ساحل سمندر قریباً ایک ہزار کلو میٹر ہے۔ کاٹھیاوار بھی اسی علاقے میں شامل ہے۔ گجرات کی آبادی چھ کروڑ سے زائد ہے اور یہ بھارت کی پانچویں بڑی ریاست ہے۔ اگر آپ نقشے میں دیکھیں تو آپ جان جائیں گے کہ اس کے شمال میں راجستھان، جنوب میں مہاراشٹرا، مشرق میں مدھیہ پردیش، مغرب میں صوبہ سندھ اور بحیرہ عرب واقع ہے۔ اس کا صدر مقام گاندھی نگر ہے اور اس کا سب سے بڑا شہر احمد آباد ہے۔

اس اسٹیٹ میں گجراتی زبان بولی جاتی ہے اور وہی اس کی سرکاری زبان بھی ہے۔ یہاں پر گجراتی لوگوں کی اکثریت ہے۔ پاکستان میں بسنے والے میمن حضرات کی اکثریت کا تعلق گجرات سے ہی ہے۔ گجرات کا جی ڈی پی 210 بلین ڈالر کے قریب ہے۔ ) پاکستان کا جی ڈی پی 280 بلین ڈالر ہے (۔ معاشی لحاظ سے یہ بھارت کی تیسری مضبوط ریاست ہے۔ اس علاقے میں رہنے والے لوگوں کی فی کس آمدنی تین ہزار ڈالر کے قریب ہے جبکہ پاکستان میں فی کس آمدنی بارہ سو ڈالر کے قریب ہے۔

سر مورٹیمر ویلر کی کتاب The Indus Civilization کے مطابق گجرات بھی وادیٔ سندھ کی تہذیب سے منسلک رہا ہے اور اسے وادیٔ سندھ کی تہذیب کا حصہ ہی سمجھا جاتا ہے۔ کہتے ہیں کہ دنیا کی پہلی بندرگاہ جس کا نام لوتھل تھا بھی، وہ بھی اسی علاقے میں واقع ہے۔ یہاں پر ایسی کئی بندرگاہیں واقع ہیں جنہیں دنیا کی قدیم ترین بندرگاہوں میں شمار کیا جاتا ہے۔ ایک خوبصورت بات یہ ہے کہ گجرات ان چار ریاستوں میں شامل ہے جہاں پر شراب بیچنے پر پابندی ہے۔ یہاں پر شیروں کی افزائش نسل کے لیے ایک پارک بھی موجود ہے۔ گجرات کا نام گجر سے مصدق ہے، جو یہاں پر ساتویں اور آٹھویں صدی میں حکومت کرتے رہے ہیں۔ پاکستان میں بھی ایک گجرات ہے لیکن یہ ایک شہر کا نام ہے جبکہ بھارت میں یہ ایک بہت بڑے علاقے کا نام ہے۔

سر مورٹیمر ویلر نے یہ بھی لکھا ہے کہ مدراس کبھی سندھ تہذیب کا حصہ تھا۔ اب گجرات سے متعلق بھی یہی کہا جاتا ہے کہ یہ بھی سندھ تہذیب کا حصہ رہا ہے اور آثار قدیمہ سے ملنے والی چیزیں اس بات کا ثبوت ہیں۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ زمانہ قدیم میں لوگ اس علاقہ سے مصر، بحرین، ایران اور افریقی ممالک تک آتے جاتے تھے۔ یہاں پر زیادہ تر ہندو اور بدھ مت کے لوگ ہی حاکم رہے۔ چندر گپت موریا، آشوک اور اس طرح کے بہت سے مشہور حکمران خاندانوں کی باقیات اس علاقے میں پائی جاتی ہیں۔

آٹھویں صدی میں جب بنو امیہ کی حکومت تھی اور ان کی سلطنت بہت دور تک پھیلی ہوئی تھی تو اسی دور میں محمد بن قاسم نے سندھ پر حملہ کیا۔ اس کے ساتھ عرب مسلمانوں نے گجرات کے علاقوں پر بھی حملے کیے لیکن وہ یہاں پر اپنی حکومت قائم نہ کر سکے۔ یہ بات میرے لیے بالکل نئی تھی۔ مقامی ہندوؤں نے مل کر ان کا مقابلہ کیا اور عربوں کو اپنے علاقے میں آنے سے روکا۔ اس ہندو راجہ کو تاریخ میں بہت بڑے خطاب سے نوازا جاتا ہے جس نے ہندوؤں اور عربوں کے درمیان جنگ میں ہندوؤں کی قیادت کی تھی۔ نواساری (Navasari) کے مقام پر ایک تاریخی جنگ ہوئی، جس میں عربوں کو بہت نقصان ہوا۔

جب مسلمانوں نے ایران کو فتح کیا تو بہت سے آتش پرست ایران سے جان بچا کر گجرات کے علاقے میں آ گئے۔ یہاں انھیں پارسی کہا جانے لگا۔ پارسی کا لفظ فارس سے نکلا ہے۔ علا الدین خلجی نے جب مختلف علاقوں کو فتح کرنا شروع کیا تو اس نے 1297 ء میں اس علاقہ کے راجہ کو بھی شکست دی اور اس کے بعد یہ علاقہ سلاطین دلی کے زیر تسلط آ گیا۔ سلاطین دلی کے خاتمے کے بعد مغل حکمرانوں نے اسے اپنی سلطنت میں شامل کر لیا اور ان کا یہ دور یورپین اقوام کے حملوں اور قبضے تک برقرار رہا۔

ستیش مشرا کی کتاب The Rise of Muslim Power in Gujarat: A History of Gujarat from 1298 to 1442 میں لکھا ہے کہ 1197 ء میں قطب الدین ایبک نے بھی اس علاقے پر حملہ کیا لیکن وہ کامیاب نہ ہو سکا۔ اس دوران مختلف مسلمان گجرات کے علاقے میں عرب اور ایران سے آ کر رہنے لگے۔ اس طرح مسلمانوں کی آبادی بڑھتی گئی لیکن اس وقت بھی حکومت ہندو راجاؤں کی تھی۔ علا الدین خلجی نے تین سال مسلسل کوشش کی اور 1300 ء میں مقامی ہندو راجہ کو شکست دے کر علاقے پر قبضہ کر لیا۔ کچھ مدت بعد سلطان ناصر الدین محمود شاہ تغلق کے دور میں امیر تیمور نے دلی پر قبضہ کر لیا جس سے سلاطین دلی کمزور ہو گئے۔ جیسے ہی مرکز کمزور ہوا تو دور دراز کے علاقوں کے حکمرانوں نے بھی اعلان آزادی کر دیا۔ گجرات میں بھی ایسا ہی ہوا۔

یہاں کے ایک راجپوت حکمران جس کا نام سلطان احمد شاہ تھا نے اپنی ایک مقامی ریاست کا اعلان کر دیا اور احمد آباد کو اپنا دارالحکومت بنایا۔ ایک طرح سے وہ اس علاقے کا راجہ بن بیٹھا۔ جیسا کہ میں نے پہلے بتایا کہ یہاں پر عرب اور ایران کے مسلمانوں کی بہت بڑی تعداد پہلے سے رہ رہی تھی اس وجہ سے نئی ریاست کو کوئی مشکل پیش نہ آئی۔ اس ریاست کے دور میں دلی کی بجائے عربوں، ترکوں، ایرانیوں اور مصر کے لوگوں کے ساتھ ساتھ یورپیوں سے بھی تعلقات قائم ہو گئے۔ اسی ریاست نے مغلوں کے خوف سے پرتگیزیوں کو رہنے کی جگہ دی تھی۔ یہ اس علاقے میں کسی بھی غیر ملکی کالونی کا نقطۂ آغاز تھا۔

Facebook Comments HS