پہلی یادگار شہدا جنگ 65 میں دوران بمباری بنائی گئی
پاک فوج کی قربانیوں کی ایک تاریخ ہے جس کا اعتراف قوم ہمیشہ سے کرتی آ رہی ہے، ”شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے“ ، اپنے شہدا کو یاد رکھنا اور ان کو خراج عقیدت پیش کرنا زندہ قوموں کا شیوہ ہے، 6 ستمبر 1965 کی جنگ تاریخی اہمیت کی حامل ہے جس میں پاک فوج نے جرات اور بہادری کی نئی تاریخ رقم کی، 1965 کے شہدا کو خراج عقیدت پیش کرنے کے لئے ہر سال 6 ستمبر کو فوج کی بہادری اور قربانیوں کو بھرپور انداز میں منایا جاتا ہے، 6 ستمبر 1965 کو بھارت نے پاک دھرتی اپنے ناپاک قدم رکھنے کی جسارت کی تو پوری قوم پاک فوج کے شانہ بشانہ کھڑی ہو گئی، ہزاروں فوجی جوانوں، افسروں اور شہریوں نے جام شہادت نوش کیا، 6 ستمبر 1965 نے قوم کی متحد کر دیا
6 ستمبر 1965 کی جنگ کے شہدا اور جانبازوں کو قوم کا سلام پیش کرنے کے لئے یاد گار بنانے کا فیصلہ کیا گیا، پہلی یادگار شہدا چونڈہ کے قریب جنگ کے دوران تعمیر کی گئی جس کا ڈیزائن آرکیٹیکٹ سید اعجاز حسین کاظمی مرحوم نے کیا، مرحوم مینار پاکستان کا ڈیزائن کرنے والے آرکیٹیکٹ این مرات خان کے معاون طور پر بھی خدمات سر انجام دے چکے تھے، انہوں نے پاکستان کی متعدد اہم عمارتوں کے ڈیزائن بھی تخلیق کیے تھے، ان کا انتقال 10 مارچ 1999 میں لاہور میں ہوا
”نیا لاہور“ کے مصنف نعیم مرتضی نے سید اعجاز حسین کاظمی کا انٹرویو ان کی وفات سے چند روز قبل کیا تھا جس کو انہوں نے اپنی کتاب میں محفوظ کر لیا، آرکیٹیکٹ سید اعجاز حسین کاظمی مرحوم نے اپنے انٹرویو میں بتایا تھا کہ پہلی تعمیر ہونے والی یاد گار 26 فٹ اونچی ہے، یہ لاہور سے دس میل ایک فرلانگ کے فاصلے پر تھانہ مناواں کے قریب واقع ہے، انہوں نے کہا کہ چند اینٹیں چُن کر ایک یاد گار بنا دینا کوئی بڑی بات نہیں، اصل بات تو درخشاں پس منظر کی ہوتی ہے یاد گار ایسی ہو کہ اسے دیکھتے ہی اس کا پورا مفہوم سامنے آ جائے لہٰذا اسی کو میں نے ذہن میں رکھ کر شہدا کی یاد گار قائم کرنے کا منصوبہ بنایا تھا جیسے عوام نے بھی بے حد سراہا
آرکیٹیکٹ سید اعجاز حسین کاظمی مرحوم نے بتایا کہ یادگار شہدا کو جنگ کے دوران سیز فائر کے وقفوں ہی کے دوران تقریباً ایک ماہ میں یاد گار کو مکمل کیا گیا، ان کا کہنا تھا کہ ایک روز اپنے ایک ساتھی امیر حیدر کے ساتھ سکوٹر پر زیر تعمیر یادگار کی طرف جا رہے تھے کہ جونہی وہ تھانہ مناواں کے قریب پہنچے ان کے پیچھے دو گولے پھٹے وہ دونوں بھاگ کر بنکر میں پہنچے اور اپنی جان بچائی تاہم اس واقعہ کے بعد پاک فوج نے ان کے لئے حفاظتی اقدامات مزید مستحکم کر دیے۔
اعجاز حسیں کاظمی نے بتایا کہ یادگار کی تعمیر کے دوران بھارتی فوج بمباری شروع کر دیتی مگر ہم نے اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر اس یاد گار کی تعمیر جاری رکھی، یاد گار بنانے کا خیال انہیں کس طرح آیا اور یہ سلسلہ کس طرح آگے چلا، اس سوال کے جواب میں آرکیٹیکٹ سید اعجاز حسین کاظمی مرحوم نے بتایا کہ 65 کی جنگ شروع ہوئی تو قوم کا جذبہ دیدنی تھا، فوج تو محاذ جنگ پر لڑ رہی تھی جبکہ قوم کا ہر فرد اپنے اپنے شعبے میں اس جہاد میں شریک تھا، اس وقت عجیب فضا پیدا ہو گئی تھی، ایسا لگ رہا تھا کہ پوری قوم دشمن فوج سے لڑ رہی ہے، ایسی اضطرابی صورتحال میں ہر شخص کچھ نہ کچھ کرنے کے جذبے سے سرشار تھا، جنگ ستمبر میں میں نوجوان تھا اور میں پاک فوج کا حوصلہ بڑھانے کے لئے اکثر واہگہ بارڈر پر جایا کرتا تھا اس روز بھی ہم فوجی بھائیوں کے لئے کچھ کھانے پینے کا سامان لے کر بارڈر پر پہنچے تھے۔
بی آر بی کے کنارے میجر شفقت بلوچ اپنے یونٹ کے ہمراہ مورچہ زن تھے انہوں نے عمدہ تدابیر سے دشمن کو نہر کے پار روک رکھا تھا اس وقت یہاں کمانڈنگ افسر کرنل امین مرزا تھے، سیز فائر کے دوران ہم ان سے ملنے گئے، میں نے اپنا تعارف کرایا اور یوں گفتگو کا سلسلہ چل نکلا، اس دوران کرنل صاحب نے کہا کہ فاضل کا سیکٹر پر ہمارے جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ دے کر جو قابل فخر کارنامے سر انجام دیے ہیں اور جس کے نتیجے میں دشمن پسپا ہونے پر مجبور ہو گیا ہے میری خواہش ہے کہ اس محاذ پر شہدا کی یاد میں ایک یاد گار تعمیر کی جائے، ان کی بات سن کر میں نے وہاں بیٹھے بیٹھے اس مجوزہ یاد گار کا نقشہ تیار کر دیا، یاد گار میں میں نے ایک محراب بنائی جس کے اندر گولی دکھائی تھی، محراب چونکہ مسجد کا لازمی حصہ ہے جبکہ اس کے اندر گولی اس بات کی علامت ہے کہ مسلمان صلح جُو اور امن پسند قوم ہے لیکن اگر اسے چھیڑا جائے تو یہ اندر سے بارود کی گولی کی مانند ہے جو نشانے پر لگتی ہے
کرنل امین مرزا نے میرے ڈیزائن کو پسند کیا اور پوچھا کہ اسے کس جگہ تعمیر کیا جائے، میں نے انہیں بتایا کہ شالامار باغ کے قریب کوئی خالی قطعہ اراضی اس کے لئے موزوں رہے گا، ایک خیال یہ بھی تھا کہ یہ یادگار لاہور چھاؤنی کے قبرستان کے قریب دیگر شہدا کی قبروں کے پاس قائم کی جائے، بعد ازاں شالامار باغ کے قریب اس یاد گار کی تیاری کا منصوبہ بنا کر کرنل امین مرزا کے ساتھ طے پایا کہ جگہ کی منظوری کے لئے کمشنر لاہور سے ملاقات کی جائے گی، ہم ڈپٹی کمشنر سے ملے تو انہوں نے بتایا کہ یہ جگہ اوقاف کی ملکیت ہے لہٰذا اس کے حصول کے لئے دفتری امور طے کرنا ضروری ہیں مگر کرنل صاحب دفتری کارروائیوں کے طویل مراحل میں الجھنا نہیں چاہتے تھے۔
وہ وہاں سے خاموشی سے اٹھ آئے، اس کے بعد وہ مجھے لے کر محاذ پر آ گئے، یہاں تھانہ مناواں کے قریب چند شہدا کی قبور بھی تھیں، کچھ دیر تک سوچنے کے بعد کرنل صاحب نے پوچھا کہ یہ جگہ یاد گار کے لئے کیسی رہے گی؟ میں نے جواب دیا کہ جگہ تو مناسب ہے مگر یاد گار کی تعمیر کے لئے یہاں سے درختوں کا جھنڈ کٹوانا پڑے گا، کرنل صاحب مسکرا کر بولے یہ بھی کوئی مسئلہ ہے، انہوں نے اسی وقت ایک صوبیدار میجر کو بلایا اور انہیں کہا کہ صبح تک تمام درخت یہاں سے صاف کر دیے جائیں
اس کے بعد وہ مجھے کہنے لگے آپ کل سے یہاں یادگار کی تعمیر کا کام شروع کر دیں، تمام سامان آپ کو انشا اللہ مہیا کردوں گا، ساتھ ہی وہ ہنس کر کہنے لگے بس کل آتے ہوئے میرے لئے مزنگ سے ٹکیاں اور نان لیتے آئیے گا، اگلے روز میں وہاں پہنچا تو دیکھا کہ بہت سے درخت کٹ چکے ہیں، چنانچہ یادگار کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہو گیا، خوشی کی بات یہ ہے کہ یادگار کی تعمیر میں لوگوں نے دل کھول کر حصہ لیا، کوئی اینٹیں لئے آ رہا ہے تو کسی نے سیمنٹ اور سریے کا بندوبست کر دیا، مخیر حضرات نے اس کام میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا،
لیفٹیننٹ سکندر شاہین کی مساعی اور میجر قمر الاسلام کی نگرانی میں بھی بہت سا تعمیر اتی سامان جمع کر لیا گیا۔ یادگار کی تعمیر پر حکومت اور فوج کو کچھ بھی خرچ نہیں کرنا پڑا فوج نے اس کام کے لئے صرف سٹیل کی وہ چادریں مہیا کیں جو محراب کی دونوں جانب لگوائی گئیں، باقی سامان عوام نے مہیا کیا تھا،
آرکیٹیکٹ سید اعجاز حسین کاظمی مرحوم نے بتایا کہ چونڈہ کے شہدا کی یادگار اور عزیز بھٹی شہید کے مجوزہ مزار کی چھت شیشے کی بنائی گئی تھی، چھت کا زاویہ اس طرح رکھا گیا تھا کہ سورج کی کرنیں خاص رخ سے مقبرے پر پڑیں تاہم سیاست اس منصوبے کو بھی نگل گئی، حکومت نے دیگر یادگاروں کی تعمیر پر بھی توجہ نہ دی اور یہ سلسلہ رُک گیا بعض مزارات پاک فوج نے بنوائے جبکہ حکومتیں اس معاملے میں خاموشی سادھے رہیں۔
انہوں نے بتایا کہ شہدا کی ایک اور یاد گار چھوٹی سی چاردیواری کے اندر گھاس کے ہرے بھرے قطعے میں تعمیر کی گئی ہے، سنگ مرمر کے چبوترے پر سنگ قطعے میں تعمیر کی گئی ہے، سنگ مرمر کے چبوترے پر سنگ مرمر سرخ سے چاند بنایا گیا ہے، اس پر سنگ مرمر کا ایک پنچ کونہ ستارہ ہے جس کے پہلوؤں پر شہدا اور زخمیوں کے نام کندہ ستارہ ہے جس کے پہلوؤں پر شہدا اور زخمیوں سے نام کندہ ہیں، سنگ مرمر کے ستارے کے وسط سے ایک گولی نما ستون اٹھایا گیا ہے جس پر ”فرسٹ بٹالینٍ“ اور اس کے نشان کندہ ہیں، اس پر ایک محراب ہے جو اسلامی تعمیر کی آئینہ دار ہے
ہر سال 6 ستمبر کے موقع پر مسلح افواج کے اعلیٰ افسران اور عوام یادگاروں پر پھول چڑھاتے اور فاتحہ خوانی کرتے تھے، 2006 میں آرکیٹیکٹ سید اعجاز حسین کاظمی مرحوم کی ڈیزائن کردہ یادگاریں جی ٹی روڈ (لاہور، امرتسر) کی توسیع کے دوران انہیں ختم کر دیا گیا جن کی جگہ 2011 میں مناواں پولیس اسٹیشن کے سامنے لب سڑک 3 یادگاریں تعمیر کی گئی ہیں۔
آرکیٹیکٹ سید اعجاز حسین کاظمی مرحوم کو اس بات کا رنج رہا کہ انہیں شہدا کی یادگار کی تعمیر پر کسی قسم کے سرکاری اعزاز سے نوازنا تو در کنار حکومت نے کبھی ان کے فن کا اعتراف بھی نہیں کیا۔ وہ مینار پاکستان کی تیاری میں بھی نمایاں کام کرتے رہے لیکن کسی نے ان کی خدمات کو درخور اعتنا نہیں جانا، وہ زندگی کے آخری لمحات تک اس بے اعتنائی کا شکوہ کرتے رہے۔
1965 سے لے کر 2023 تک کئی حکومتیں آئیں اور چلی گئیں مگر کسی بھی حکومت نے پاکستان کی شناخت بننے والی یادگاروں کے خالق کو قومی ایوارڈز سے نوازنے کی زحمت نہ کی، اب تو یہ بات عام کہی جاتی ہے ایوارڈ سفارش پر ملتے ہیں ایسے میں ملکی خدمات سرانجام والوں کے لئے ایوارڈز کی توقع رکھنا بے معنی ہے۔


