جیل میں ایک چھوٹی سی غلطی
میں 1981 کے موسمِ خزاں اور 1982 کے اوائل میں پابندِ سلاسل کر دیا گیا تھا۔ میں اس جیل میں مقید تھا جو شاہِ ایران کے دور میں عقوبت کدے کے طور پر استعمال ہوتا تھا۔ خمینی کی اسلامی حکومت نے اس کے در دوبارہ وا کر دیے تھے۔ جہاں میں قید تھا وہاں بہت سی عورتوں کو بھی قید کیا گیا تھا۔ جیل کے برآمدے میں جو قیدی تھے ان کی آنکھوں پر پٹّی باندھ دی گئی تھی۔ وہ وہاں کھانا کھاتے تھے، سوتے تھے اور انتظار کرتے تھے۔ مجھے ان نامساعد حالات میں 22 دن رکھا گیا تھا۔ پھر مجھے اوپر والی منزل کی قیدِ تنہائی میں بھیج دیا گیا تھا اور میری آنکھوں سے پہلی بار پٹّی اُتاری گئی تھی، ایک مہینے بعد میری آنکھوں پر پھر پٹّی باندھی گئی اور مجھے کار میں بٹھا کر ایوین جیل بھیج دیا گیا۔ اس جیل میں ایک شام مندرجہ ذیل واقعہ پیش آیا۔
اس دن حسبِ دستور مجھے ایک کمرے میں دیوار کی طرف منہ کر کے بٹھایا گیا تھا اور مجھ سے بہت سے سوال و جواب کیے گئے تھے۔ سہ پہر کے وقت میری جرح ختم ہوئی تھی اور میں اس کا انتظار کر رہا تھا کہ میری آنکھوں پر پٹّی باندھی جائے گی، مجھے برآمدے میں لے جایا جائے گا، اور مجھ سے کہا جائے گا کہ اگلے قیدی کے شانے پر ہاتھ رکھوں اور مجھ سے پچھلے قیدی سے کہا جائے گا کہ وہ میرے کاندھے پر ہاتھ رکھے۔ پھر ہم سب قیدیوں سے کہا جائے گا کہ ہم نچلی منزل کے دالان کی طرف بڑھیں جہاں ایک بس ہماری منتظر ہوگی اور وہ بس ہمیں ہماری جیل کی کوٹھڑیوں تک لے جائے گی۔
جیل کے نگہبانوں کے آنے تک شام ہو چکی تھی۔ ایک نگہبان نے آتے ہی جلدی سے میری آنکھوں سے پٹّی باندھی۔ مجھے یوں محسوس ہوا جیسے نگہبان نے ایک اور قیدی کے ساتھ بھی یہی سلوک کیا ہو۔ پھ راس نے ہم دونوں کو برآمدے کی طرف چلنے کو کہا، اور دوسرے قیدیوں کے کندھوں پر ہاتھ رکھنے کا حکم دیا۔ مجھے بالکل اندازہ نہ تھا کہ وہاں کتنے قیدی تھے۔ مجھے نچلی منزل سے نگہبانوں اور پاسداروں کے چیخنے، چلّانے اور قیدیوں کو ڈرانے دھمکانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
مجھے آنکھوں پر پٹّی کے نیچے سے چند ویل چیئرز دکھائی دیں، جن میں وہ لوگ بیٹھے تھے جن کی ٹانگیں سوجی ہوئی اور پاؤں خون آلود تھے۔ مجھے سرگوشیوں اور ٹھنڈی آہوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ہمیں نچلی منزل کی طرف جانے کا حکم ہوا، لیکن چاروں طرف اتنی گہما گہمی تھی کہ چلنا دشوار ہو رہا تھا۔ میں نے اپنے سامنے کے شخص کے کندھے کو اور مجھ سے پچھلے قیدی نے میرے شانے کو زور سے پکڑا۔ ہمیں خطرہ تھا کہ ہم کہیں اس بھیڑ میں کھو نہ جائیں۔ مجھے یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے وہ رات پچھلی راتوں سے مختلف ہو۔ ہم بڑی مشکل اور محنت کے بعد نچلی منزل تک پہنچے۔
مجھے یوں لگ رہا تھا جیسے میرے چاروں طرف لاکھوں لوگ ہوں جو ہمیں دھکے دے رہے ہوں۔ اس دھکم پیل میں اگلے قیدی کے کندھے پر میرا ہاتھ اور میرے کندھے پر پچھلے قیدی کا ہاتھ لڑکھڑانے لگے۔ پھر یوں محسوس ہوا جیسے ہم تینوں قیدی قطار سے علیحدہ ہو گئے ہوں۔ اچانک مجھے محسوس ہوا کہ میرے کندھے کا ہاتھ غائب ہو گیا ہو اور ہم صرف دو رہ گئے ہوں جو ایک دوسرے کے ساتھ جُڑے ہوئے تھے لیکن باقی دنیا سے آنکھوں پر بندھی پٹّی کی وجہ سے کٹے ہوئے تھے، پھر میرا ہاتھ بھی اگلے قیدی کے شانے سے جُدا ہو گیا اور میں اس اندھیر نگری میں تنہا کھڑا رہ گیا۔
اس لمحے میں نے اپنے آپ سے پوچھا
کیا میں سٹیج پر کھڑا واحد اداکار ہوں جسے ناظرین بھول گئے ہوں؟
کیا یہ میری زندگی کے ڈرامے کا آخری سین ہے؟
اگر میں نابینا ہوں تو میری چھڑی کہاں ہے؟
کیا میں یونانی دیومالا کا ہزیمت زدہ نابینا اوڈیپس ہوں؟
میں نجانے وہاں کتنی دیر کھڑا رہا۔ پھر مجھے تحکمانہ انداز کی آواز آئی،
اپنا ہاتھ سامنے والے قیدی کے شانے پر رکھو اور چلنا شروع کرو،
وہ آواز سُن کر میری جان میں جان آئی اور میری اُمید بندھی کہ اب میں بیس منٹ میں اپنی جیل کی کوٹھڑی میں پہنچ جاؤں گا۔ پورے دن کی کوشش کے بعد مجھے یہ احساس ہوا تھا کہ میں نے اپنی جرح کرنے والے کو قائل کر دیا تھا کہ میں غدار نہیں ہوں۔ میں سوچ رہا تھا کہ اپنی کوٹھڑی میں جاکر میں اگلے دن کی جرح کی تیاری شروع کردوں گا۔
میں نے جلدی سے اپنا ہاتھ اٹھایا اور اپنے سامنے کے قیدی کے شانے پر رکھا اور مجھے پچھلے قیدی کا ہاتھ اپنے شانے پر محسوس ہوا، اور ہم سب آگے کی طرف بڑھنے لگے۔
موسم سرد تھا لیکن سردی میں شدت نہیں تھی۔ میں نے سوچا آسمان پر تارے چمک رہے ہوں گے اور اگر میری آنکھوں پر پٹّی نہ بندھی ہوتی تو میں ان کے حُسن سے محظوظ ہو سکتا۔ جب ہمیں چلنے کا حکم ملا تو ہم آگے کی طرف بڑھنے لگے۔ ہم سب قیدیوں کی کمریں مصائب اور دُکھوں کے بوجھ سے جھک گئی تھیں لیکن ہماری آنکھوں میں اس دن کی اُمید زندہ تھی جب ہم سیدھا کھڑے ہو سکیں گے اور سر اُٹھا کر فخر سے آسمان کی طرف دیکھ سکیں گے۔
پھر مجھے خیال آیا کہ بسیں کہاں ہیں؟ ہم اتنی دیر سے چل کیوں رہے ہیں؟ مجھے یوں لگا جیسے کوئی بڑی گڑبڑ ہو گئی ہو، چاروں طرف خاموشی اور تاریکی تھی۔ پھر آسمان سے روشنی آتی دکھائی دی جیسے ستارے ٹوٹ رہے ہوں یا جیل کی دیواروں پر بڑے بلب جل رہے ہوں۔ جب مجھے حالات کی سنگینی کا احساس ہوا تو میں نے ہَوا میں ایک سوال اُچھالا؛
وہ ہمیں کہاں لے جا رہے ہیں؟
میں نے پچھلے قیدی کے ہاتھ کا دباؤ اپنے شانے پر محسوس کیا لیکن میں نہ رُکا۔
میں نے سوال دہرایا
کہاں؟ وہ ہمیں کہاں لے جا رہے ہیں؟
کسی نے میرے سوال کا جواب نہ دیا اور خاموشی مزید گمبھیر ہو گئی۔
پھر مجھے ایک کتے کے بھونکنے اور کسی کے کھانسنے کی آواز آئی۔ ایک قیدی نے مجھ سے پوچھا
”کیا تم نہیں جانتے؟“
نہیں! میں نے جواب دیا۔ مجھے ہر روز جرح کے بعد بس میں بٹھا کر اپنی جیل کی
کوٹھڑی میں بھیج دیا جاتا ہے لیکن آج بس نہیں آئی اور ہم کافی دیر سے پیدل چل رہے ہیں۔
”آج ہم سب کمرۂ عدالت میں تھے اور اب ہم پھانسی گھاٹ کی طرف جا رہے ہیں۔“
کیا کہا؟ میں نے گھبرا کر پوچھا
کیا تم کمرہ عدالت میں نہیں تھے؟
نہیں! میں کمرہ عدالت میں نہیں تھا۔
مجھے لگتا ہے کوئی غلطی ہو گئی ہے۔ میں نے کسی غلط قیدی کے کندھے پر اور تم نے بھی غلطی سے میرے شانے پر ہاتھ رکھ دیا ہے۔ اس جگہ بہت افراتفری کا عالم تھا۔
ان ناگفتہ بہہ حالات میں مَیں بہت گھبرا گیا ہوں میرا ذہن ماؤف ہو گیا ہے۔ میں پاسبانوں کو بلانا چاہتا ہوں لیکن میری آواز میرے گلے میں گھٹ کر مر رہی ہے۔ میرا سراپا پسینے سے شرابور ہو گیا ہے۔ مجھے آواز آتی ہے
’کیا انہوں نے تمہارے پاؤں کی ایڑیوں پر کچھ لکھا ہے؟
کیا کہا؟
کیا انہوں نے تمہارے پاؤں کی ایڑیوں پر کچھ لکھا ہے؟
نہیں!
انہوں نے ہمارے پاؤں کی ایڑیوں پر نشان لگا کر اور کچھ لکھ کر پھانسی گھاٹ کی طرف روانہ کیا ہے۔
نہیں! میری ایڑیوں پر کوئی نشان نہیں ہے۔
پھر کس بات کا انتظار کر رہے ہو۔ چیخو اور نگہبانوں کو بتاؤ۔
چنانچہ میں چیخا ’نگہبانو! پاسدارو! کوئی غلطی ہو گئی ہے، میں آج کمرۂ عدالت میں نہیں تھا۔ آؤ میرے پاؤں کی ایڑیوں کو دیکھو۔ ان پر کوئی لفظ نوشتہ نہیں ہے، کوئی نشان کندہ نہیں ہے۔
’بکواس بند کرو۔ خاموش رہو۔ حرامی‘ کافر ’اس کی آواز کی درشتی سے واضح ہے کہ وہ قیدی نہیں نگہبان ہے۔
قیدی نے میرا حوصلہ بڑھایا ’چیختے رہو‘ چلاتے رہو ’اور انہیں بتاتے رہو کہ وہ تمہارے پاؤں کی ایڑیاں دیکھیں۔ ‘
میں چیخ رہا ہوں۔ نجانے کیا کچھ کہہ رہا ہوں، اپنی جان بچانے کے لیے لڑ رہا ہوں۔
میرے ہمدرد قیدی کی پھر آواز آئی، اپنے جوتے اتارو، چیخو اور اُنہیں اپنی ایڑیاں دکھاؤ
میں سوچتا ہوں وہ قیدی کس قسم کا انسان ہے جو اپنی ذات سے زیادہ میری ذات کے بارے فکر مند ہے۔
’آؤ۔ میرے پاؤں دیکھو‘ میں پھر چیختا ہوں اور اپنے پاؤں سے جوتا اتارنے کی کوشش کرتا ہوں لیکن ایسا کرنا مشکل ہی نہیں ناممکن ہے کیونکہ میرا ہاتھ کسی کے کندھے پر اور کسی کا ہاتھ میرے کندھے پر ہے۔
میں اس اندھیرے میں کیسے کسی کو اپنا پاؤں دکھا سکتا ہوں۔ یہ ناممکن ہے۔ یہ ناممکن ہے ’میں خود کلامی کے انداز میں بڑبڑاتا ہوں۔
’ہمت نہ ہارو۔ چیختے رہو اور اپنی جان بچانے کے لیے چلّاتے رہو، وہ قیدی پھر مشورہ دیتا ہے۔ ہم تو اپنی جانیں کسی آدرش کی وجہ سے کھو رہے ہیں، لیکن تم کیوں مفت میں جان گنوا رہے ہو؟ چیختے رہو۔
میں پھر چیختا ہوں، اور سوچتا ہوں اس عظیم انسان کے ہمراہ جان دینا فخر کی بات ہوگی۔
پھر ایک پاسدار کی کرخت آواز آتی ہے ’تم حرامی دہریے۔ تم سمجھتے ہو کہ تم چیخ چلّا کر جان بچا لو گے۔ دس منٹ بعد میں تمہیں خود اپنے ہاتھوں سے قتل کروں گا۔
میں پھر چیخا ’آؤ میرے پاؤں کی ایڑیوں کو اپنی آنکھوں سے دیکھو۔ میں آج کمرۂ عدالت میں نہیں تھا۔ مجھ سے حاجی آغا حسینی سارا دن سوال جواب کرتا رہا۔ ابھی جرح پوری نہیں ہوئی۔ مجھے کل دوبارہ جانا ہے، تم میری باتوں پر اعتبار کیوں نہیں کرتے؟
’تھکو مت‘ چیختے رہو ’، میرے ہمدرد قیدی نے حوصلہ افزائی کی۔
میں پھر چیختا رہا۔
نگہبان گالیاں دیتا رہا۔ آخر ہم اپنی منزل پر پہنچے۔
اب ہم سب ہانپ رہے ہیں۔ اس علاقے میں بہت سی روشنیاں ہیں۔ بہت سے لوگ سرگوشیوں کے انداز میں باتیں کر رہے ہیں۔ شاید وہ جلاد ہوں۔ شاید کچھ تماشائی بھی ہوں۔ جو یہ دیکھنا چاہتے ہوں کہ اگر انہوں نے اپنے دوستوں سے غداری نہ کی تو ان کا انجام کیا ہو گا۔ وہ موت کا چہرہ دیکھنا چاہتے ہیں تاکہ مستقبل میں فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔
میں نے دھیمے لہجے میں کہا
’برادر نگہبان! مہربانی کر کے میرے قریب آؤ اور میرے پاؤں کی ایڑیوں کو دیکھو۔ تمہیں خود اندازہ ہو جائے گا کہ مجھے سزائے موت نہیں ہوئی۔ میں معصوم ہوں‘ ۔
’بکواس بند کرو!‘
ایک اور کرخت آواز خاموشی کے سینے میں اُتر گئی۔
مجھے دور سے ایک قیدی کی آخری خواہش کی آواز سنائی دی
’قتل کرنے سے پہلے میری آنکھوں سے پٹّی اُتارو، میں مرنے سے پہلے تہران کی خوبصورت رات کا منظر دیکھنا چاہتا ہوں۔ ’
’زیادہ شور مت کرو۔ خاموش رہو‘ ، ایک صاحبِ اختیار چیخا۔
مجھے دور سے دو مَردوں کے کراہنے کی آواز آئی۔ ایک کہہ رہا تھا
’خدایا! یہ میری زندگی کے آخری لمحے ہیں‘
ایک نگہبان ہمارے قریب آتا ہے اور مجھے دوسرے قیدیوں سے جُدا کرتا ہے، میں اپنے جوتے اتارتا ہوں، اور ننگے پاؤں کھڑا ہوجاتا ہوں اور انتظار کرتا ہوں۔
کوئی کسی سے پوچھتا ہے ’آٹھ یا نو‘ ؟
کوئی جواب دیتا ہے ’نو‘
’میری آنکھوں سے پٹّی ہٹاؤ‘ یہ اُس قیدی کی آواز ہے جو مرنے سے پہلے تہران کی خوبصورت رات دیکھنا چاہتا ہے۔
ایک اور آواز آتی ہے ’اس کی آنکھوں سے پٹّی ہٹاؤ‘
میں خاموشی سے کھڑا رہتا ہوں، ننگے پاؤں، اپنے مستقبل کا منتظر۔
پھر بجلیوں کے جلنے بُجھنے کا احساس ہوتا ہے۔ اور میں سوچتا ہوں شاید موت کے انتظار کا خوف موت کے خوف سے فزوں تر ہے۔ بجلیوں کی روشنی قریب آتی اور پھیلتی محسوس ہوتی ہے۔ ایک شخص جوتے اتارتا ہے۔ کوئی اسے جوتے پہننے کو کہتا ہے۔ مجھے جوتے پہننے کی آواز آتی ہے۔
پھر میری باری آتی ہے۔ میں پاسدار سے کہنا چاہتا ہوں کہ میرے پاؤں کی ایڑیوں کو دیکھو تاکہ جان لو کہ میں غلطی سے پھانسی گھاٹ لایا گیا ہوں، لیکن اس سے پہلے کہ میرا جملہ مکمل ہو، وہ چیختا ہے
’حسن! اس قیدی کو دوبارہ کمرۂ عدالت میں لے جاؤ، وہ اس کے پاؤں کی ایڑیوں پر نشان لگانا بھول گئے ہیں‘
میں دوبارہ جوتے پہن لیتا ہوں، کوئی میرا ہاتھ پکڑتا ہے۔ اور مجھے اپنی طرف کھینچتا ہے۔ وہ میری آنکھوں سے پٹّی نہیں اتارتا۔ وہ خود بھی بھاگتا ہے اور مجھے بھی بھاگنے کو کہتا ہے۔ ہم دونوں پہاڑی کی ڈھلوان کی طرف بھاگتے ہیں۔ وہ مجھ سے کوئی سوال نہیں کرتا لیکن میں اُسے بتانے کی کوشش کرتا ہوں کہ میں معصوم ہوں۔ مجھے یوں لگتا ہے کہ میں اپنی موت کی طرف سرپٹ بھاگے جا رہا ہوں۔
میری ایڑیوں پر چند الفاظ رقم ہونے کا مطلب موت ہے۔
چند الفاظ کتنے خطرناک ہوسکتے ہیں، میں نے پہلے کبھی ایسا سوچا نہ تھا۔
وہ شخص مجھے پتھریلی ڈھلوان پر بھگائے لیے جا رہا ہے۔ وہ خاموش ہے، وہ مجھے نہیں بتاتا کہ ہم نے کتنا فاصلہ طے کرنا ہے۔ میں بھی خاموش ہوجاتا ہوں۔
آخر ہم رُک جاتے ہیں اور کمرۂ عدالت میں داخل ہو جاتے ہیں۔ میرا سر چکرانے لگتا ہے اور مجھے متلی ہونے لگتی ہے۔
’یہاں کیا ہو رہا ہے؟‘ میں سوچتا ہوں، لوگ سوپ پی رہے ہیں۔
مجھے وہ دن یاد آتا ہے جب جرح کرنے میں دیر ہو گئی تھی اور ہمیں سوپ دیا گیا تھا۔
مجھے سوپ کے بارے میں وہ لطیفے بھی یاد آتے ہیں جو ہلٹن ہوٹل کے ہیڈ بیرے نے سنائے تھے، جسے قید کر دیا گیا تھا۔
میں زور زور سے چیخنے لگتا ہوں، میں معصوم ہوں۔ میں کمرۂ عدالت میں پہلے کبھی نہیں آیا تھا۔ حسن کسی کو بلاتا ہے کہ وہ میری ایڑیوں پر کچھ لکھے اور نشان لگائے،
وہ شخص قریب آتا ہے، میرا نام پوچھتا ہے
پھر وہ کسی فائل میں میرا نام تلاش کرنے کی کوشش کرتا ہے
’اس کو پکڑ کر رکھو‘ وہ یہ کہہ کر باہر چلا جاتا ہے۔
چند لمحوں کے بعد کمرۂ عدالت کے باہر افراتفری کا عالم پیدا ہوتا ہے۔ کوئی سب کو جوتے اتارنے کا حکم دیتا ہے۔
پھر مجھے تالی کی آواز آتی ہے۔ نہیں یہ تالی کی آواز نہیں، یہ کسی کے منہ پر طمانچہ مارنے کی آواز ہے۔ مجھے یوں لگتا ہے جیسے کسی کو زد و کوب کیا جا رہا ہو، کچھ لوگوں کے بھاگنے کی آواز آتی ہے۔
پھر کسی کو میرے سامنے دھکیلا جاتا ہے، ایک اور آواز آتی ہے
’اسے چھوڑ دو، اور اسے پکڑ لو‘
میری کلائی پر کسی کی گرفت کمزور ہوجاتی ہے
میں اس نئے شخص کے چہرے کو دیکھنا چاہتا ہوں۔ وہ میرے بجائے پھانسی گھاٹ کے پتھریلے راستے پر لے جایا جائے گا۔ وہ شخص ہانپ رہا ہے۔
وہ میرے سامنے چند لمحوں کو کھڑا رہتا ہے۔ مجھے اس کے منہ سے سوپ کی خوشبو آتی ہے۔
پھر ہم جدا ہو جاتے ہیں، میں اکیلا کھڑا رہتا ہوں۔
چند لمحوں کے بعد کوئی میرا ہاتھ پکڑتا ہے، مجھے ایک کونے میں لے جاتا ہے اور بیٹھنے کو کہتا ہے، مجھے آنکھ پر بندھی پٹّی کے نیچے سے سوپ کا پیالہ اور ایلمونیم کا چمچ دکھائی دیتا ہے۔ مجھے باقی لوگوں کے کھانے اور باتیں کرنے کی آواز آتی ہے۔ میرے قریب کھڑا شخص کچھ دیر انتظار کرتا ہے اور پھر کہتا ہے
’کھاؤ‘
میں چمچ اٹھاتا ہوں، سوپ سے بھرتا ہوں اور منہ کی طرف بڑھاتا ہوں۔
پھر مجھے گولیوں کے چلنے کی آواز آتی ہے اور میں چمچ کو سوپ کے پیالے میں واپس رکھ دیتا ہوں۔
۔
نوٹ: رضا براہینی 1935 میں ایران کے شہر تبریز میں پیدا ہوئے۔ وہ ایک شاعر بھی ہیں اور نثر نگار بھی۔ ان کے کئی ناول اور افسانوں کے مجموعے چھپ چکے ہیں۔ وہ تہران یونیورسٹی میں شعبہ انگریزی کے پروفیسر تھے۔ انہوں نے برطانیہ اور امریکہ کی یونیورسٹیوں میں بھی پڑھایا ہے۔ وہ شاہ ایران کے زمانے میں بھی اور خمینی کی اسلامی حکومت کے دور میں بھی قید کر دیے گئے تھے۔ رہائی کے بعد وہ کینیڈا چلے آئے جہاں وہ ایک زمانے میں
PEN CANADA
کے سابق صدر بھی رہ چکے ہیں۔ خالد سہیل


