پاکستان کا عروج و زوال
ہم اور پاکستان تقریباً ہم عمر ہیں۔ جب تک ہم اخبار بینی کے رسیا ہوئے پاکستان بھی بنیادی (اور خوفناک) مسائل پر قابو پاکر پاؤں پاؤں چلنے لگا تھا۔ چنانچہ جو ہم عرض کریں گے وہ انکھوں دیکھا حال یا تقریباً آپ بیتی ہی سمجھیں۔ ہم نے اس ملک کو تیزی سے ترقی کرتے دیکھا اور ہر بات میں ہر شعبے میں اپنے جڑواں۔ ہندوستان۔ سے آگے نکلتے پایا۔ دونوں ملکوں کے درمیان آمد و رفت کافی تھی۔ ہماری طرف کے اکثر لوگ تو ہندوستانی فلمیں دیکھنے جاتے تھے۔
ہم ان لوگوں سے کرید کر وہاں کی باتیں پوچھتے۔ پتہ چلا کہ لتا اور رفیع کے سوا اور کوئی چیز بھی ہم سے بہتر نہیں۔ ( وہ بھی مہدی حسن کے آنے تک) ۔ ریلوے ہماری شاندار سڑکیں ہماری بہتر۔ روپیہ ہمارا مضبوط۔ کاریں ہماری اچھی۔ صنعتی ترقی ہماری قابل رشک۔ چھ سے۔ سات فیصد سالانہ ترقی نے ہمیں سوویز سے مشرق میں سب سے بہتر ترقی پذیر ملک کا خطاب دلوایا۔ پی آئی اے ہماری دنیا میں چوتھے نمبر پر ۔ جیکولین کینیڈی کے الفاظ میں دنیا بھر میں پہلے درجے کی۔
مشرق میں واحد اور پہلی ائر لائن ( جاپان ائر لائن سے بھی پہلے ) جس نے جیٹ جہاز اپنے بیڑے میں شامل کیا۔ کراچی کو ایشیا کا بڑا فضائی مرکز بنایا۔ کوئی چھتیس دوسری ائر لائنز کو بنایا اڑایا سکھایا۔ ہمارے ڈپلومیٹ دنیا کے بہترین۔ فلسطینی مسلمانوں کا مقدمہ یو این میں لڑا اور خوب لڑا۔ کشمیر کے مقدمے میں ملزم سے مدعی۔ بنے۔ لیبیا اور تیونس کی آزادی فقط اور فقط ہمارے ڈپلومیٹ کی کوشش اور ترکیب کا نتیجہ تھی بیوروکریٹ ہمارے ایماندار لائق اور محنتی۔
ایک صاحب یو این کے ڈپٹی سیکریٹری جنرل رہے۔ دوسرے کی خدمات منت تر لے کر کے حاصل کیں کہ صومالیہ کا گورنر جنرل لگانا ہے۔ ورنہ وہ ملک برباد ہو جائے گا۔ صنعتی ترقی ہماری قابل رشک۔ (آئرن اور سٹیل میں البتہ ان کی بنیاد مضبوط تھی۔ ) ملوں کی مشینری ہماری جاپانی سوئس اور یورپین۔ جبکہ ان کے ہاں روسی کروڈ ٹیکنالوجی جسے وہ ”بنی ہوئی تو اپنے ملک میں ہے“ کے جذباتی اور وطن پرست نعرے کی آڑ میں چھپانے کی کوشش کرتے۔
سقوط ڈھاکہ کے فوراً بعد کلکتہ کے انڈسٹریلسٹس نے مکتی باہنی کی حفاظت میں سب ٹیکسٹائل اور جیوٹ ملوں کی مشینری کلکتہ شفٹ کی۔ کہ مغربی پاکستانی کا مال ہے۔ ملوں پر ملیں لگ رہی تھیں۔ پی آئی ڈی بی اور پکک انڈسٹری لگوانے کے لیے دیوانوں کی طرح قرضے بانٹ رہے تھے۔ تمام بنیادی صنعتیں لگ چکی تھیں۔ مشین ٹول فیکٹری بن چکی تھی۔ شپ یارڈ سمندری جہاز بنا رہا تھا۔ نیشنل شپنگ کے پاس پچاس سے زیادہ جہاز تھے۔ بوئنگ ہوائی جہازوں کی سروس کا نظام کراچی میں پی آئی اے کے تحت تھا۔
مرکزی سخت گیر منصوبہ بندی کے تحت مربوط ترقی ہو رہی تھی۔ ملائشیا کے تنکو ہم سے سیکھنے آتے تھے۔ شاہ ایران منگلا ڈیم دیکھنے آئے۔ کوریا والوں نے درخواست گزاری کہ ہمیں بھی ترقی کے گر بتائے جائیں۔ چنانچہ پلاننگ کمیشن کے ایک ممبر کا مجسمہ بطور کوریا کے محسن کے سیول میں لگا ہوا ہے۔ زرعی ترقی نے ہمیں صدیوں سے گندم کی کمیابی والے زون سے نکال کر گندم ایکسپورٹ کرنے والے معدودے چند ممالک میں شامل کر دیا۔ جرمنی نے برادرانہ درخواست کی کہ ہمیں پانچ لاکھ پاکستانی بھیجے جائیں جو ایوب خان نے اس لیے رد کر دی کہ ان پڑھ مزدور ملک کی اچھی نمائندگی نہ کر سکیں گے اس پر جرمنی نے درخواست کہ چلو دونوں ملکوں کے درمیان ویزہ ہی ختم کر دیں یہ منظور ہوئی اور 1970 میں ملتان میں ہیضہ پھوٹنے تک دونوں ملکوں میں ویزہ کی پابندی نہ تھی۔
یہ ساری باتیں ہم کسی ریکارڈ سے نہیں فقط یادداشت سے لکھ رہے ہیں۔ چنانچہ یہ تفصیل مکمل نہیں۔ فقط ایک درد کا اظہار ہے۔ ہاں یاد آیا عین جب ہم اس اقتصادی جنگ میں کامیابی کی طرف بڑھ رہے تھے۔ سن 1960 میں قوم کو ایک اور تحفہ قدرت کی طرف سے ملا۔ یہ روم اولمپک میں ہندوستان کو ہاکی میں ہرا کر گولڈ میڈل لینا تھا۔ پھر ایک لمبا عرصہ یہ نوزائیدہ کم وسیلہ ملک دنیا میں تین کھیلوں ( ہاکی سکواش اور کرکٹ) میں بلند ترین سطح پر رہا۔
اب آتے ہیں زوال کی طرف۔ لیکن میرے پیارے ہم وطنو ذرا رکو۔ کیا اس کی تفصیل کے بیان کی کوئی حاجت ہے؟ کیا یہ دلخراش کہانی کہیں چھپی ہوئی ہے؟ کیا ہم اس کی ہر تفصیل سے بخوبی واقف نہیں؟ جس قعر مذلت میں ہم گر چکے ہیں اور روز بروز مزید اتھاہ گہرائیوں کی طرف پھسلتے جا رہے ہیں کیا ہم سب پر عیاں نہیں؟ ایسا عروج اور ایسا زوال!
میری پیاری قوم ذرا سوچو ہم سے کیا خطا ہوئی کہ قدرت نے نہ صرف شفقت کا ہاتھ کھینچ لیا بلکہ خفگی کا مورد بنا دیا۔ اور کوئی خفگی سی خفگی۔ یوں لگتا ہے کہ ہم مغضوب علیھم میں شامل ہو گئے ہیں۔ بقول اقبال: ثریا سے زمیں پر آسماں نے ہم کو دے مارا۔
میرے پیارو غور کرو تو اس زوال کی ابتدا ستر کی دہائی میں ہوئی اس کے بعد زوال نے دم نہیں لیا۔ آج ہم اگلی کئی نسلوں کو گروی رکھ کے روٹی کے محتاج ہو رہے ہیں۔ ملکی اور قومی سطح پر بے عزتی پر بے عزتی ہو رہی ہے۔ کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ سچے دین کے جھوٹے داعیوں نے ہمیں گمراہ کر دیا۔ یہ کہا ایسا کرو تو رب راضی ہو گا اور دودھ اور شہد کی نہریں بہنے لگیں گی۔ عزیزو کسی قول کا سچ جھوٹ اس کے نتیجہ سے بھی پتہ چل جاتا ہے۔ آج پچاس برس کے بعد دودھ شہد تو کیا پانی کی نہریں بھی خشک ہو رہی ہیں۔ کھلم کھلا ملک کے ٹوٹنے کی باتیں ہو رہی ہیں۔ خدارا سوچو۔ خدارا غور کرو۔ ابھی بھی وقت ہے۔ قوم یونس کی طرح توبہ تلا اور گریہ و زاری ہی کام آسکتے ہیں


