دو حکایتیں: انسان یا بچھو اور زندہ آنکھ
پہلی حکایت: یہ انسان ہیں یا بچھو؟
برسوں پرانی بات ہے، میں اور مولوی عتیق، وہ انقلابی لڑکا جو اب جینٹلمین بینکر بن چکا ہے، اس کے ہاسٹل کے احاطے میں بیٹھے شام کی چائے چسکیاں لے کر پی رہے تھے، وہ یونیورسٹی کے دن تھے، سال کوئی 2002 ہو گا۔ مولوی کہنے لگا یہ بتا انسان اور آدمی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ میں نے کہا تو بتا۔ کہنے لگا اب کی بار میں چشتیاں گیا تو ایک اہل علم کی محفل میں بیٹھا تو انھیں ایک حکایت کہتے سنا۔
وہ کہنے لگے یہ دو پاؤں پر چلنے والی مخلوق صرف انسان نہیں ہوتی بلکہ کچھ ان میں سے آدمی ہوتے ہیں اور کچھ ان سے بھی کم تر۔ کچھ تو اس قدر گر جاتے ہیں کہ بچھو ان سے بھلے۔
حاضرین کی الجھن کو سمجھتے ہوئے وہ کہنے لگے، عزیزو، انسان اور آدمی میں فرق یہ ہے کہ وہ جس کے پاس ضرورت کی صرف ایک ہی چیز ہو مگر وہ اپنی ضرورت پر دوسرے کی ضرورت کو ترجیح دے تو وہ انسان ہے اور اپنے ہی پاس رکھے تو وہ آدمی ہے۔ انسان اور آدمی میں قربانی دینے کا فرق ہوتا ہے۔
توقف کے بعد پھر گویا ہوئے اور کہنے لگے آدمی اور چوپائے میں فرق یہ ہے کہ آدمی اپنی ضرورت سے زائد دوسرے کو دے دیتا ہے جبکہ چوپائے زائد ہونے کے باوجود دوسرے کی ضرورت سے بے نیاز رہتے ہیں۔ دو پائے اس حالت تک بھی رہیں تو اتنی فکر نہیں، مگر یہ گراوٹ یہاں رکتی کب ہے۔
کچھ تو ایسے ہیں جو کتے کی سطح تک گر جاتے ہیں۔ تم نے کتے کو کبھی دیکھا ہے، اپنے پاس ہونے کے باوجود دوسرے پر چھین لینے کی غرض سے بھونکتا ہے۔
افسوس، کچھ تو اتنے گر جاتے ہیں کہ درندے ہو جاتے ہیں یعنی اپنی ضرورت پوری کرنے کے لیے دوسروں کو چیر پھاڑ دیتے ہیں، خاص طور پر کمزور کو۔ درندوں میں بھی بھلائی کا ایک حصہ باقی رہتا ہے یعنی بلا ضرورت چیر پھاڑ نہیں کرتے۔
مگر تم ان کا کیا کرو گے جو ایک قدم چلتے اور ایک ڈنگ مارتے ہیں، وہ جو بلا ضرورت ڈستے پھرتے ہیں، وہی جو اتنا گر جاتے ہیں کہ بچھو بن جاتے ہیں۔
آخر میں کہنے لگے یہ سب دو پائے انسان نہیں ہوتے ان میں سے کچھ تو بچھو ہوتے ہیں۔
مولوی عتیق کہنے لگا، یار سندھو، اب تو کیا کہتا ہے؟ میں نے کہا اپنے اردگرد دو پائے اب مجھے اپنے اصل روپ میں دکھنے لگے ہیں۔ ان میں انسان تو ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملیں گے۔
اس حکایت نے پچھلے بیس سالوں سے مجھے اپنے آپ کو اور لوگوں پہچاننے میں مدد دی ہے، آپ بھی دیکھیں آپ کون ہیں اور اردگرد کون ہیں؟
دوسری حکایت: یہ زندہ انسانی آنکھ ہے
یہ 2000 کے دنوں کی بات ہے جب ہم ای 6 کیمپس کالونی، جامع پنجاب کے مکین تھے۔ ان دنوں ابھی جاگنگ ٹریک نہیں بنا تھا اور ہمارے مکان کے سامنے گندم کی فصل کاشت کی جاتی تھی۔ میں ان دنوں ہیلے کالج میں زیر تعلیم تھا اور اس کے ساتھ میں نے انگریزی بول چال بہتر کرنے کے لیے استاد محترم احمر سہیل صاحب کے سامنے زانوے تلمذ تہ کر رکھا تھا۔ وہاں ایک صاحب ندیم صاحب بھی آیا کرتے تھے، وہ محکمہ تعلیم کے دفتری امور سے منسلک تھے اور بیرون ملک جانے کے شدید خواہش مند تھے۔ انگریزی بول چال میں وہ اپنے آپ کو مشکل میں پاتے تھے اور بہتری کے لیے مشتاق تھے۔ ایک روز کہنے لگے اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں بول چال کی مشق کے لیے آپ کے ہاں آ جایا کروں، میں نے کہا شوق سے آ جایا کریں۔
وہ عام طور پر نماز عشاء کے بعد آ جاتے تھے، ہم کچھ دیر ہماری بیٹھک میں مشق کرتے اور پھر باہر سڑک پر دیر تک چہل قدمی کیا کرتے۔ ایک روز مجھے کہنے لگے آج آپ کو سنانے کے لیے ایک حکایت لایا ہوں، کیا آپ سنیں گے؟ میں کہا نیکی اور پوچھ پوچھ، سنائیے میں شوق سے سنوں گا۔
کہنے لگے پچھلے اتوار چرچ گیا تو پادری کو ایک حکایت کہتے سنا، حاضرین پر ایک سحر طاری تھا۔ پادری گویا ہوئے، یہ پرانے وقتوں کی بات ہے ایک بوڑھے میاں بیوی نے فیصلہ کیا کہ اب وہ شہر چھوڑ کر باقی عمر جنگل میں گزاریں گے۔ وہ جنگل میں رہنے لگے۔ کچھ عرصے بعد میاں اپنی بیوی سے کہنے لگا کہ مجھے لگتا ہے کہ اب میں بہت نہیں جیوں گا۔ جب میں کہوں تو تم میرے کہنے پر عمل کرنا۔ چند دنوں بعد بوڑھے نے بڑھیا سے کہا کہ خنجر گرم کر کے لاؤ۔
اس نے اطاعت کی، جب وہ آئی تو میاں نے کہا ایسا کرو کہ میری ایک آنکھ نکال لو اور صبح جب میں مر جاؤں تو مجھے دفنانے کے بعد یہ آنکھ شیشے کی ڈبیا میں رکھ کر حاکم وقت کے سامنے پیش ہوجانا۔ جب وہ سبب پوچھے تو اسے اپنے حالات بتانا اور اس آنکھ کے بدلے وزن میں جو آ سکے وہ مانگنا۔ اس طرح تمھاری باقی کی زندگی بھلی گزر جائے گی۔ بیوی آنکھ نکالنے کے عمل سے پہلے تو خوف زدہ ہوتے ہوئے ہچکچائی مگر پھر میاں کے شدید اصرار پر اس نے اطاعت کی۔
خاوند کے دنیا سے رخصت ہو جانے کے بعد وہ شہر پہنچی اور حاکم وقت کے در پر دستک دی۔ رسائی پا کر اس نے مدعا بیان کیا۔ حاکم نے ترازو لانے کو کہا اور حکم دیا کہ جتنی اشرفیاں اس آنکھ کے بدلے وزن رکھتی ہیں وہ بڑھیا کو دے دی جائیں۔
ترازو کے ایک پلڑے میں آنکھ رکھی گئی اور دوسرے میں اشرفیاں، مگر بہت ساری اشرفیاں رکھنے کے باوجود آنکھ کا پلڑا بھاری رہا۔ کچھ دیر بعد ایک طرف حاکم کا سارا خزانہ تھا اور دوسری طرف آنکھ، مگر پھر بھی آنکھ کا پلڑا بھاری تھا۔ بھرے دربار میں حاکم کی جگہ ہنسائی ہونے کو تھی۔ سب حیران تھے۔ اتنے میں حاکم نے وزیر دانا کو طلب کیا اور حل مانگا۔ وزیر دانا نے غور کرنے کے بعد راکھ لانے کا حکم دیا۔ راکھ حاضر کی گئی، وزیر نے راکھ آنکھ پر ڈال دی۔
جیسے ہی راکھ آنکھ پر ڈالی گئی آنکھ کا پلڑا اوپر اٹھ گیا اور خزانہ بھاری ہو گیا اور معاملہ دو چار اشرفیوں پر آ گیا۔ سب پھر حیران ہوئے اور وزیر دانا کی طرف دیکھنے لگے۔ حاکم نے وجہ دریافت کی تو وزیر کہنے لگا حضور والا یہ زندہ انسانی آنکھ تھی اور زندہ انسانی آنکھ کی طلب کو کل دنیا کا خزانہ بھی نہیں بھر سکتا، ہمارا خزانہ تو کوئی چیز بھی نا تھا۔ میں نے جونہی راکھ ڈالی آنکھ بجھ گئی اور پھر وہ ہر چیز سے بے نیاز ہو کر اسی وزن پر آ گئی جو اس کا تھا۔
حکایت کہنے کے بعد پادری کہنے لگے میرے بچو یہ لذتیں موت ختم کردے گی لہذا اپنی خواہشوں کو لگام دو۔
میں اور ندیم صاحب اس روز پھر کچھ اور نہیں بولے اور گھروں کو لوٹ آئے۔ ندیم صاحب سے ملے اب کوئی بیس برس ہو گئے ہیں مگر یہ حکایت ان کی یاد بھی دلاتی اور عبرت بھی۔


